بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 194
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 194
آیت نمبر: 194 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
عَلٰی قَلۡبِکَ لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾
تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں
آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں
تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ،
تاکہ آپ (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والوں میں سے ہو جائیں۔
تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہو جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مبارک کتاب ٭٭

سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے ‘۔ روح الامین سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل علیہ السلام پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس قرآن کو بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کر سکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچ اس کے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ اٹھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہو گی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے } فرمان ہے آیت «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏}۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے ان کی زبان میں ترجمہ کر دیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

194-1دل کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ حواس باختہ میں دل ہے سب سے زیادہ ادراک اور حفظ کی قوت رکھتا ہے۔ 194-2یعنی نزول قرآن کی علت ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 194) ➊ { عَلٰى قَلْبِكَ:} دوسری جگہ فرمایا: «{ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ }» [ البقرۃ: ۹۷ ] ”کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے۔“ یعنی اس قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام نے کانوں کے ذریعے سے آپ کو سنانے کے بجائے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اگرچہ کانوں نے بھی دل ہی کو بات پہنچانی ہے، مگر بلاواسطہ دل پر نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے سمجھنے میں اور یاد رکھنے میں کوئی کمی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى (6) اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ }» [ الأعلٰی: ۶، ۷ ] ”ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تُو نہیں بھولے گا، مگر جو اللہ چاہے۔“ اور دیکھیے سورۂ قیامہ (۱۶ تا ۱۹)۔ ➋ { لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ:} یہ کہنے کے بجائے کہ ”تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے“ فرمایا ”تاکہ تو انبیاء و رسل کی عظیم الشان جماعت میں شامل ہو جائے“ کیونکہ اس میں آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہے۔ اگرچہ رسول ”نذیر“ بھی ہوتے ہیں اور ”بشیر“ بھی، مگر یہاں ”منذر“ ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس سورت کا سارا بیان ہی انبیاء کے اپنی اقوام کو ڈرانے پر مشتمل ہے اور جیسا کہ پہلے گزرا کہ جب تک کسی شخص یا قوم کو اپنے غلط راستے پر چلنے کے خوفناک نتائج سے آگاہ نہ کیا جائے اس کا راہِ راست پر آنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ہر پیغمبر نے اپنی بات کا آغاز {” اَلَا تَتَّقُوْنَ “} سے فرمایا۔
← پچھلی آیت (193) پوری سورۃ اگلی آیت (195) →