بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 195
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 195
آیت نمبر: 195 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۹۵﴾ؕ
صاف صاف عربی زبان میں
صاف عربی زبان میں ہے
روشن عربی زبان میں،
یہ کھلی ہوئی عربی زبان میں ہے۔
واضح عربی زبان میں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مبارک کتاب ٭٭

سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے ‘۔ روح الامین سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل علیہ السلام پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس قرآن کو بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کر سکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچ اس کے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ اٹھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہو گی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے } فرمان ہے آیت «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏}۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے ان کی زبان میں ترجمہ کر دیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 195) ➊ { بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ:} معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف قرآن مجید کے مفہوم و معانی نازل نہیں ہوئے کہ آپ نے انھیں الفاظ کا جامہ پہنایا ہو، بلکہ یہ عربی زبان کے الفاظ کی صورت میں آپ پر نازل ہوا ہے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے ساتھ کلام کرنے کے منکر ہیں، یہ آیت اور دوسری بہت سی آیات ان کا رد کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جو اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے، ساری مخلوق جمع ہو کر بھی صرف معانی ہی نہیں اس کے الفاظ کی مثال لانے سے بھی عاجز ہے۔ ➋ { مُبِيْنٍ:} یعنی منکرین کا اس پر ایمان نہ لانا اس کے بیان میں کسی خامی کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ان کی نااہلی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ تمام زبانوں سے فصیح زبان عربی میں ہے اور اس عربی میں جو معمے یا پہیلی کی زبان نہیں بلکہ ”عربی مبین“ ہے، اس میں کوئی ایسا لفظ یا ایسی ترکیب نہیں جو عرب میں کثرت سے مستعمل نہ ہو، یا معنی کی ادائیگی میں اس کے اندر کوئی کمی ہو۔ جو لوگ اس پر ایمان نہیں لا رہے ان کے پاس یہ عذر ہر گز نہیں کہ ہم اسے سمجھ نہیں سکے۔
← پچھلی آیت (194) پوری سورۃ اگلی آیت (196) →