بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 193
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 193
آیت نمبر: 193 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿۱۹۳﴾ۙ
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
اسے روح الا مین لے کر اترا
جسے روح الامین (جبرائیل) نے آپ کے دل پر اتارا ہے۔
جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مبارک کتاب ٭٭

سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے ‘۔ روح الامین سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل علیہ السلام پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس قرآن کو بحکم الٰہی جبرائیل علیہ السلام نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کر سکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچ اس کے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ اٹھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہو گی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے } فرمان ہے آیت «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏}۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے ان کی زبان میں ترجمہ کر دیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

193-1کفار مکہ نے قرآن کے وحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا (علیہم السلام) کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا؟ اس لئے یہ قرآن یقینا اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ جبرائیل ؑ لے کر آئے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 193) {نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ:الرُّوْحُ “} سے مراد فرشتہ ہے، اسے ”روح“ اس لیے کہا گیا ہے کہ فرشتے عالم اجسام کے بجائے عالم ارواح سے تعلق رکھتے ہیں۔ (ابن عاشور) {” الْاَمِيْنُ “} نہایت امانت دار، اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انبیاء تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے امین قرار دیا ہے۔ ان کی یہ صفت اور دوسری صفات سورۂ تکویر (۱۹ تا ۲۱) میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (192) پوری سورۃ اگلی آیت (194) →