بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
السجدة
سورۃ السجدة — 30 آیات
قرآن کریم Surah 32
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا ل م
مولانا محمد جوناگڑھی
الم
احمد رضا خان بریلوی
الم
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، میم۔
عبدالسلام بن محمد
الم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٭٭

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ البقرہ کے شروع میں کر چکے ہیں، یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقیناً اللہ کی طرف سے ہے اس لیے اترا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا، تاکہ وہ حق کی اتباع کر کے نجات حاصل کرلیں۔
تفسیر احسن البیان

الف لام میم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ فِيْ صَلاَةِ الْفَجْرِ: «‏‏‏‏الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» ‏‏‏‏ [ السجدة] وَ: «{ هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ }» [الدهر ] ] [ بخاري، الجمعۃ، باب ما یقرأ في صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ: ۸۹۱ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔“ (آیت 2،1) {الٓمّٓ (1)تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ:” الٓمّٓ “} کے متعلق دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔ {” الْكِتٰبِ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ {” مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ ” تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ “} کی خبر ہے۔ جملہ {” لَا رَيْبَ فِيْهِ “} معترضہ ہے یا {” الْكِتٰبِ “} کی صفت، یا اس سے حال ہے۔ آیت میں قرآن مجید کے متعلق دو باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے، دوسری یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کوئی شک نہ ہونے سے مراد یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ ہر بات یقینی ہے، کسی بات میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ اس کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے، فرمایا: «{ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۳ ] ”اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس کی مثل ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔“ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا، جس کے مقابلے سے پوری مخلوق عاجز ہے۔
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس کتاب کی تنزیل بلا شبہ رب العالمین کی طرف سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
کتاب کا اتارنا بیشک پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلا شک و شبہ یہ کتاب (قرآن) کی تنزیل تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں، جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٭٭

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ البقرہ کے شروع میں کر چکے ہیں، یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقیناً اللہ کی طرف سے ہے اس لیے اترا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا، تاکہ وہ حق کی اتباع کر کے نجات حاصل کرلیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی جمعہ کے دن فجر نماز میں الَمَّ السَّجْدَہ (اور دوسری رکعت میں) (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ) (سُوْرَۃ دہر) پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری) اسی طرح یہ بھی سند سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل سورة الم السجدہ اور سورة ملک پڑھا کرتے تھے (ترمذی892 مسند احمد أ34 2-1مطلب یہ ہے کہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے آسمانی کتاب ہدایت ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ۚ بَلۡ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا کہتے ہیں ان کی بنائی ہوئی ہے بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس (رسول(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے ، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ راہ پائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٭٭

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ البقرہ کے شروع میں کر چکے ہیں، یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقیناً اللہ کی طرف سے ہے اس لیے اترا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا، تاکہ وہ حق کی اتباع کر کے نجات حاصل کرلیں۔
3-1یہ بطور توبیخ کے ہے کہ کیا رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اسے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ لیا ہے؟ 3-2یہ نزول قرآن کی علت ہے۔ اس سے معلوم ہوا (جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزر چکی ہے) کہ عربوں میں نبی پہلے نبی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت شعیب ؑ کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس اعتبار سے قوم سے مراد پھر خاص قریش ہوں گے جن کی طرف کوئی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نہیں آیا۔
(آیت 3) ➊ { اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ:اَمْ “} سے پہلے عموماً ایسا جملہ موجود یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں مقدر جملہ ظاہر کریں تو عبارت یہ ہو گی: {” أَهُمْ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ أَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرَاهُ “} یعنی ”کیا یہ لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو کر ایمان لاتے ہیں، یا یہ کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے؟“ کئی مفسرین نے اس {” اَمْ “} کو منقطعہ قرار دے کر {” بَلْ“} کے معنی میں قرار دیا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا: ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔“ اس{ ” بَلْ “} سے پہلے بھی ایک عبارت محذوف ہے کہ یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے بجائے یہی کہتے ہیں کہ اس نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۴، ۵) اور مدثر (۱۸ تا ۲۵)۔ ➋ { بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ:} فرمایا، ان کا یہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود صریح غلط اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔ ➌ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ:} مراد قوم عرب ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ سب سے پہلے خطاب فرمایا اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے پہلے اگرچہ عرب میں اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام مبعوث ہو چکے تھے، مگر ان کی بعثت کو مدتیں گزر چکی تھیں۔ ان کے بعد تورات و انجیل نازل ہوئیں، مگر عرب میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے آخری نبی ان میں مبعوث فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (155) اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ }» [ الأنعام: ۱۵۵ تا ۱۵۷ ] ”اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔“ مزید تفصیل مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ اس مقام پر کئی مفسرین نے اسماعیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو ہزار یا اڑھائی ہزار سال کا عرصہ بیان کیا ہے، مگر اس کا کوئی قابل اعتماد حوالہ نہیں دیا، اس لیے ہمارے پاس اس لمبی مدت کی تعیین کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ➎ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یہاں {”لَعَلَّ“ ”كَيْ“} کے معنی میں ہے ”تاکہ وہ ہدایت پائیں“ اور اگر ”ترجی“ کے معنی میں ہو، یعنی ”امید ہے، یا شاید“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ہے کہ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں، اس امید پر کہ وہ ہدایت پا جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ہر بات کا علم ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے یا نہیں، تو اسے ”شاید“ یا ”امید ہے“ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیۡعٍ ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا، اُس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مدد گار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہوکر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا اس کے سوا نہ تمہارا کوئی سرپرست ہے اور نہ کوئی سفارشی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، اس کے سواتمھارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے ٭٭

تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گزرچکی ہے۔ مالک و خالق وہی ہے ہرچیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہرچیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو، دوسروں پربھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا؟ وہ برابری سے، وزیر و مشیر سے شریک و سہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے علاوہ کوئی پالنہار ہے۔ نسائی میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں { میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا۔ مٹی ہفتے کے دن بنی، پہاڑ اتوار کے دن، درخت سوموار کے دن، برائیاں منگل کے دن، نور بدھ کے دن، جانور جمعرات کے دن، آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2789] ‏‏‏‏ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلول بتلایا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
4-1اس کے لئے دیکھئے (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) 7۔ الاعراف:54) کا حاشیہ یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔ 4-2یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کرسکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی سفارشی ہی ایسا ہوگا جو تمہاری سفارش کرسکے۔ 4-3یعنی اے غیر اللہ کے پجاریو اور دوسروں پر بھروسہ رکھنے والو! کیا پھر تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
(آیت 4) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ:} قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے حق ہونے کے بیان کے بعد اس اہم ترین مسئلے کا ذکر فرمایا جس کی طرف دعوت دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تمام رسولوں کو بھیجا گیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دلائل کا بیان۔ چنانچہ فرمایا: ”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو، زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔“ ان دنوں سے مراد معروف دن نہیں، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ان کا وجود ہی نہیں تھا، ہو سکتا ہے وہ دن ہزاروں یا لاکھوں سال کے ہوں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) اور حٰم السجدہ (۹ تا ۱۲)۔ ➋ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴)، یونس (۳) اور طٰہٰ (۵)۔ ➌ {مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا شَفِيْعٍ:} یہ اس باطل خیال کا رد ہے کہ بے شک آسمان و زمین اور ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی زبردست یا اللہ کی محبوب ہیں جو سفارش کر کے اس کی گرفت سے چھڑا لیں گی۔ فرمایا، یاد رکھو! اگر وہ تمھیں عذاب دینا چاہے تو اس کے مقابلے میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہو گا جو اس کے عذاب سے تمھیں چھڑا سکے اور نہ کوئی سفارشی، جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کر سکے۔ ➍ { اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ:} یعنی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ عرش سے فرش تک اس کی حکومت ہے، اس کے پیغام اور پیغمبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے؟
یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ آسمان سے زمین تک دُنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اُوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر معاملہ کی تدبیر کرتا ہے اور پھر ہر معاملہ اس کی بارگاہ میں اس دن پیش ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ۱؎ [65-الطلاق:12] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے ‘۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتنا ہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کر لیتا ہے۔ اسی لیے فرمایا ’ ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہرچیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔
5-1آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا ہے یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ، اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔ 5-2یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں جسے فرشتے لے کر جاتے ہیں اور صعود کا یا آنے جانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اس یوم کی تعیین و تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے امام شوکانی نے1516اقوال اس ضمن میں ذکر کیے ہیں اس لیے حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں توقف کو پسند فرمایا اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کردیا ہے۔ صاحب ایسر التفاسیر لکھتے ہیں کہ قرآن میں یہ تین مقامات پر آیا ہے اور تینوں جگہ الگ الگ دن مراد ہے۔ (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ) 22۔ الحج:48) میں یوم کا لفظ عبارت ہے اس زمانہ اور مدت سے جو اللہ کے ہاں اور سورة معارج میں جہاں یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے یوم حساب مراد ہے اور اس مقام زیر بحث میں یوم سے مراد دنیا کا آخری دن ہے جب دنیا کے تمام معاملات فنا ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔
(آیت 5) ➊ { يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ …:} اس آیت کی تفسیر میں اہلِ علم کا بہت اختلاف ہے، حتیٰ کہ بعض نے اس کی تفصیل اللہ کے علم کے سپرد کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی ہے، کیونکہ ہر تفسیر میں ایک طرح کی کمی اور اعتراض کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہاں ان میں سے دو تفسیریں نقل کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرماتا ہے اسے آسمان سے زمین کی طرف نافذ فرماتا ہے، پھر اس کے نافذ ہونے کی خبر اوپر اس کی طرف ایک ایسے دن میں جاتی ہے جس کی مقدار آسمان سے زمین پر اترنے اور پھر اس کی طرف چڑھنے میں دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے، کیونکہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، چنانچہ اترنے اور اوپر جانے کا فاصلہ ہزار سال ہے۔ ابن جریر طبری نے فرمایا: ”یہ سب اقوال سے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے معانی میں سب سے ظاہر اور قرآن کے ظاہر الفاظ سے زیادہ ملتا ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کے ساتھ مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول نقل فرمایا ہے: ”(اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر) فرشتے کا اترنا پانچ سو سال کے فاصلے میں ہوتا ہے اور اس کا چڑھنا بھی پانچ سو سال کے فاصلے میں ہوتا ہے، لیکن وہ اسے آنکھ جھپکنے میں طے کر لیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ }» [ السجدۃ: ۵ ] ”ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔“ (ابن کثیر) قاسمی، ابن جزی صاحب التسہیل، بغوی، سعدی اور بہت سے مفسرین نے یہی معنی بیان فرمایا ہے، یا اس کو ترجیح دی ہے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں {” يَوْمٍ “} کا لفظ پچاس ہزار سال کی مدت کے لیے بھی آیا ہے اور ہزار سال کے لیے بھی، دنیا کے عام دنوں کے لیے بھی اور وقت کے چھوٹے سے چھوٹے جز کے لیے بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ }» [ الرحمٰن: ۲۹ ] ”اس سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ یہاں ”ہر دن“ سے مراد ہر لمحہ ہے۔ مقصد اس آیت کا یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے لاتعلق نہیں ہو گیا کہ اس کے چلانے کا کام کوئی اور کر رہا ہو، بلکہ آسمان سے لے کر زمین تک، بڑے سے لے کر چھوٹے تک، ہر کام کی تدبیر وہ خود کرتا ہے۔ وہ اپنے ہر حکم پر عمل کی بھی مکمل خبر رکھتا ہے اور زمین و آسمان کے درمیان ہزار برس کے فاصلے کے باوجود اس کے حکم سے یہ سب کچھ لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ اس آیت میں ان جاہل صوفیوں اور مشرکین کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عالم کا نظام اپنے پیاروں کو دے کر فارغ ہو چکا ہے اور اب سارا نظام وہی چلا رہے ہیں۔ پھر ان حضرات نے اس کے لیے باقاعدہ عہدے بنا رکھے ہیں، جن کے مطابق ان کا کوئی ولی قیّوم کے مرتبے پر ہے، کوئی قطب ہے، کوئی غوث ہے، کچھ ابدال ہیں اور کچھ اوتاد، اور یہی حضرات دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔ اس کے مطابق انھوں نے شیخ عبدالقادر جیلانی کو غوثِ اعظم (سب سے بڑا مددگار) کا عہدہ دے رکھا ہے۔ ایک اللہ کو پکارنے کے بجائے یہ لوگ کبھی کسی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور کبھی کسی کو۔ دراصل ان کی گمراہی کے پیچھے وہی فاسد عقیدہ ہے جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے کہ جو مالک لمحوں میں ہزار سال کے فاصلے سے ہر معاملے کی تدبیر کرتا اور اس کی پوری خبر رکھتا ہے، اس اکیلے کی عبادت اور اسی سے مانگنے کے بجائے کسی ایسے کی عبادت اور اس سے فریاد کیوں کی جائے جس کا کسی کام کی تدبیر میں کوئی دخل ہی نہیں۔ ➋ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے وقت سے لے کر آسمان سے اپنی مخلوق اور زمین کے ہر معاملے کی تدبیر کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ان کے فنا ہونے تک جاری رہے گا۔ پھر یہ تمام معاملات اس کی طرف اوپر جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے بارے میں ایک ایسے دن کے اندر فیصلہ فرمائے جس کی مقدار ہزار برس ہے، ان دنوں سے جو تم شمار کرتے ہو۔ مفسر المراغی، ابن عاشور، ابوبکر الجزائری صاحب ایسر التفاسیر، ابراہیم القطان صاحب تیسیرالتفسیر اور دوسرے کئی مفسرین نے یہی معنی بیان کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور کئی دوسرے مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے۔ اس معنی کو ترجیح دینے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر معاملے کے اور ہر انسان کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کا ذکر فرمایا ہے، فرمایا: «{ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ }» [ آل عمران: ۲۸ ] ، «{ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ }» [ البقرۃ: ۲۸ ] ، «{ وَ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ }» [ ھود: ۱۲۳ ] ، «{ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» [ الأنعام: ۶۰ ] اور فرمایا: «{ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ }» [ یونس: ۴ ] اس تفسیر میں ایک اشکال ہے کہ سورۂ معارج (۴) میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی ہے، جب کہ یہاں ایک ہزار سال کا ذکر ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہزار سال سے مراد محض کثرت ہے، کیونکہ عربی زبان میں سب سے بڑا عدد {”أَلْفٌ“} (ہزار) ہی ہے۔ اس سے زیادہ عدد کی ضرورت ہو تو دوسرے عدد ساتھ ملائے جاتے ہیں، مثلاً {”خَمْسُوْنَ أَلْفًا“} یا {”مِائَةُ أَلْفٍ“ } اور بعض اوقات کثرت کے اظہار کے لیے {”أَلْفٌ“} ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس لیے {” خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ “} اور {” اَلْفَ سَنَةٍ “} دونوں سے قیامت ہی کا دن مراد ہے اور دونوں عددوں سے کثرت کا اظہار مقصود ہے۔ ہو سکتا ہے اصل مدت اس سے کہیں زیادہ ہو جسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ (واللہ اعلم) بعض مفسرین نے یہ حل بیان فرمایا ہے کہ مصیبت کے ایام لمبے ہوتے ہیں، چنانچہ پچاس ہزار سال کی لمبائی کفار کے لیے ہو گی، جیسے فرمایا: { فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ (9) عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ } [ المدثر: ۹، ۱۰ ] ”تو وہ اس دن، ایک مشکل دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں۔“
ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، زبردست، اور رحیم
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت و رحمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا جو بڑا غالب ہے (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی غائب اور حاضر کو جاننے والا، سب پرغالب، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ۱؎ [65-الطلاق:12] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے ‘۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتنا ہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کر لیتا ہے۔ اسی لیے فرمایا ’ ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہرچیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) {ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ …:} یعنی وہ پروردگار جو خلق و تدبیر کا یہ سارا سلسلہ چلا رہا ہے، اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ تم سے غائب ہے یا حاضر، ماضی ہے یا حال یا مستقبل، سب کچھ اس کے علم میں ہے، قدرت اس کی اتنی بے پایاں ہے کہ وہ ہر ایک پر غالب ہے اور رحمت اتنی کہ ہر چیز کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس یہ علم ہے، نہ قدرت اور نہ رحمت، خواہ وہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ یا کوئی اور مخلوق، تو پھر کسی اور کی عبادت کیوں کی جائے؟
الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی اُ س نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی
احمد رضا خان بریلوی
وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے جو چیز بنائی بہترین بنائی اور انسان (آدم (ع)) کی خلقت کی ابتدائ گیلی مٹی سے کی۔
عبدالسلام بن محمد
جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین خالق بہترین مصور و مدور ٭٭

فرماتا ہے ’ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرچیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہرچیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کے ساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے ‘۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام مٹی سے پیدائے ہوئے، پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گزاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ «جَلَّ شَاْنُه وَ عَزَّاسْمُه»
7-1یعنی جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، وہ چوں کہ اس کی حکمت و مصلحت کا اعتدال ہے، اس لئے اس میں اپنا ایک حسن اور انفرادیت ہے۔ یوں اس کی بنائی ہوئی ہر چیز حسین ہے اور بعض نے اَ حْسَنَ کے معنی اَتْکُنَ و اَحْکَمَ کے کئے ہیں، یعنی ہر چیز مضبوط اور پختہ بنائی۔ بعض نے اسے اَ لْھَمَ کے مفہوم میں لیا یعنی ہر مخلوق کو ان چیزوں کا الہام کردیا جس کی وہ محتاج ہے۔ 7-2یعنی انسان اول آدم ؑ کو مٹی سے بنایا جن سے انسانوں کا آغاز ہوا اور اس کی زوجہ حضرت حوا کو آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
(آیت 7) ➊ { الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کائنات میں بے حد و حساب جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں اور جس مقصد کے لیے بنائی ہیں، انھیں اس کے لیے ایسی شکل و صورت عطا فرمائی ہے جس سے زیادہ خوب صورت اور عمدہ صورت کا تصور میں آنا محال ہے۔ ➋ {وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ:} اپنی پیدا کردہ ہر چیز کے حسن کے مشاہدے کے لیے انسان کو خود اس کی ذات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی کہ اس کے لیے تمھیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ نے تمھاری پیدائش کی ابتدا حقیر مٹی سے کی، جس میں زندگی کا نام و نشان نہ تھا۔ پوری زمین سے ایک مٹھی لے کر اپنے ہاتھوں سے ُپتلا بنا کر پہلا انسان پیدا فرما دیا۔ {” طِيْنٍ “ } میں تنوین تحقیر کی ہے۔
ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کی نسل رکھی ایک بے قدر پانی کے خلاصہ سے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کی نسل کو ایک حقیر پانی (نطفہ) کے نچوڑ سے قرار دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین خالق بہترین مصور و مدور ٭٭

فرماتا ہے ’ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرچیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہرچیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کے ساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے ‘۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام مٹی سے پیدائے ہوئے، پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گزاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ «جَلَّ شَاْنُه وَ عَزَّاسْمُه»
۔-1یعنی منی کے قطرے سے، مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جوڑا بنانے کے بعد، اس کی نسل کے لئے ہم نے یہ طریقہ مقرر کردیا کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں، ان کے جنسی ملاپ سے جو قطرہ آب، عورت کے رحم میں جائے گا، اس سے ہم ایک انسانی پیکر تراش کر باہر بھیجتے رہیں گے۔
(آیت 8){ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۱۲ تا۱۴) اور سورۂ حج (۵) یعنی پھر اس کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے آگے چلا دیا، جس سے لاتعداد انسان آگے پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نطفہ کو خلاصہ اس لیے فرمایا کہ اطباء کے مطابق یہ غذا کے چوتھے ہضم کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، جب کہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اعضائے بول سے نکلنے کی وجہ سے اسے {” مَهِيْنٍ “} قرار دیا۔ پھر منی کے اس قطرے میں لاکھوں جرثومے ہوتے ہیں جو طاقت ور خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتے، جن میں سے ہر جرثومہ رحم میں مکمل انسان بننے کی استعداد رکھتا ہے۔
ثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کو درست کیا (اس کی نوک پلک سنواری) اور پھر اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دی اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل (دماغ) بنائے مگر تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے رہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین خالق بہترین مصور و مدور ٭٭

فرماتا ہے ’ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرچیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہرچیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کے ساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے ‘۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام مٹی سے پیدائے ہوئے، پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گزاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ «جَلَّ شَاْنُه وَ عَزَّاسْمُه»
9-1یعنی اس بچے کی ماں کے پیٹ میں نشو و نما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔ 9-2یعنی ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم سننے والی بات کو سن سکو دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل و فہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔ 9-3یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔
(آیت 9) ➊ { ثُمَّ سَوّٰىهُ: ”سَوّٰي يُسَوِّيْ تَسْوِيَةً“} برابر کرنا، درست کرنا۔ پھر اس انتہائی چھوٹے سے جرثومے کو ماں کے رحم میں پیوست کیا اور علقہ اور مضغہ کی منزلوں سے بڑھاتے ہوئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر، اسے گوشت پوست پہنا کر، ہر عضو کو اس کی بہتر سے بہتر جگہ رکھ کر ہر طرح سے درست اور مکمل کر دیا۔ ➋ {وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ:مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ مراد اس سے اپنی پیدا کردہ روح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو {” لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ “} ہے، انسان کا شرف بیان کرنے کے لیے اس میں پھونکی جانے والی روح کو اپنی روح قرار دیا۔ کیونکہ ارواح جتنی بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، مگر انسان کی خصوصیت کے اظہار کے لیے اس کی روح کی نسبت اپنی طرف فرمائی، جیسا کہ تمام اونٹنیوں کا مالک اللہ ہے مگر صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو {”نَاقَةُ اللّٰهِ“} فرمایا، تمام مساجد اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، مگر کعبہ کو ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے اور بندے سب کے سب اللہ کے ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص شرف کے اظہار کے لیے فرمایا: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ }» [ بني إسرائیل: ۱ ] اور فرمایا: «{ وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ }» [ الجن: ۱۹ ] اور دوسرے مقامات پر انھیں اپنا بندہ قرار دیا۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲۹) کی تفسیر۔ ➌ { وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ:} اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا، روح پھونکنے سے جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم پیدا ہوئے تو کچھ نہ جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمھیں علم حاصل کرنے کے ذرائع عطا فرمائے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ }» [ النحل: ۷۸ ] ”اور اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔“ علم حاصل کرنے کے ذرائع میں سب سے پہلے سننے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے کان ہی اپنا کام شروع کرتے ہیں، اس کے بعد آنکھیں اپنا کام شروع کرتی ہیں، اور اس لیے بھی کانوں کا ذکر پہلے فرمایا کہ کانوں پر کوئی پردہ نہیں، وہ ہر وقت اپنا کام سرانجام دیتے ہیں، حتیٰ کہ سونے کی حالت میں بھی سخت آواز جگانے کا باعث ہوتی ہے، جب کہ آنکھیں بند کر لینے سے یا سوجانے سے دیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کا عمل ان دونوں کے بعد شروع ہوتا ہے، اس لیے {” الْاَفْـِٕدَةَ “} کا ذکر دونوں کے بعد فرمایا۔ ➍ {قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ:} یہ سب باتیں ایسی واضح ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
وَ قَالُوۡۤا ءَ اِذَا ضَلَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ بَلۡ ہُمۡ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ لوگ کہتے ہیں: "جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (کفار) کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں گم (ناپید) ہو جائیں گے تو کیا ہم از سرِ نو پیدا کئے جائیں گے بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں گم ہو گئے، کیا واقعی ہم ضرور نئی پیدائش میں ہوں گے؟ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور فرشتوں کا ساتھ ٭٭

کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں، اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہو جائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جا سکتے ہیں؟ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہو جا وہیں ہو گیا۔ اسی لیے فرما دیا کہ ’ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے ‘۔ ‎

اس کے بعد فرمایا کہ ’ ملک الموت جو تمہاری روح قبض کرنے پر مقرر ہیں تمہیں فوت کر دیں گے ‘۔ اس آیت میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک الموت ایک فرشتہ کا لقب ہے۔ براء کی وہ حدیث جس کا بیان سورۃ ابراہیم میں گزرچکا ہے اس سے بھی پہلی بات سمجھ میں آتی ہے اور بعض آثار میں ان کا نام عزرائیل بھی آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ ہاں ان کے ساتھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو جسم سے روح نکالتے ہیں اور نرخرے تک پہنچ جانے کے بعد ملک الموت اسے لے لیتے ہیں۔ ان کے لیے زمین سمیٹ دی گئی ہیں اور ایسی ہی ہے جیسے ہمارے سامنے کوئی طشتری رکھی ہوئی ہو، کہ جو چاہا اٹھا لیا۔ ایک مرسل حدیث بھی اس مضمون کی ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:332/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقولہ بھی ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ملک الموت میرے صحابی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آسانی کیجئے }۔ آپ نے جواب دیا کہ ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسکین خاطر رکھئے اور دل خوش کیجئے واللہ میں خود با ایمان اور نہایت نرمی کرنے والا ہوں۔ سنو! یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اللہ کی تمام دنیا کے ہر کچے پکے گھر میں خواہ وہ خشکی میں ہو یاتری میں ہر دن میں میرے پانچ پھیرے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کو میں اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں جتنا وہ اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقین مانئے اللہ کی قسم میں تو ایک مچھر کی جان قبض کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتاجب تک مجھے اللہ کا حکم نہ ہو“ }۔ حضرت جعفر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ملک الموت علیہ السلام کا دن میں پانچ وقت ایک ایک شخص کو ڈھونڈ بھال کرنا یہی ہے کہ آپ پانچوں نمازوں کے وقت دیکھ لیاکرتے ہیں اگر وہ نمازوں کی حفاظت کرنے والا ہو تو فرشتے اس کے قریب رہتے ہیں اور شیطان اس سے دور رہتا ہے اور اس کے آخری وقت فرشتہ اسے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کی تلقین کرتا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ابو شیخ فی العظمتہ:475:ضعیف] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر دن ہر گھر پر ملک الموت دو دفعہ آتے ہیں۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”ہر دروازے پر ٹھہر کر دن بھر میں سات مرتبہ نظر مارتے ہیں کہ اس میں کوئی وہ تو نہیں جس کی روح نکالنے کا حکم ہو چکا ہو۔‏‏‏‏“ پھر قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اپنے کئے کا پھل پانا ہے۔
10-1جب کسی چیز پر کوئی دوسری چیز غالب آجائے اور پہلی کے تمام اثرات مٹ جائیں تو اس کو ضلالت (گم ہوجانے) سے تعبیر کرتے ہیں ضَلَلُنَا فِیْ الْاَرْضِ کے معنی ہوں کے کہ جب مٹی میں مل کر ہمارا وجود زمین میں غائب ہوجائے گا۔
(آیت 10) ➊ { وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ …:} رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے حق ہونے اور توحید اور اس کے چند دلائل بیان کرنے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے قیامت اور اس پر کفار کے اعتراض اور اس کے جواب کا ذکر ہوتا ہے۔ {” وَ قَالُوْۤا “} میں ”واؤ“ کے ساتھ ان کے اس قول پر عطف ہے جو پہلی آیات سے ظاہر ہو رہا ہے، گویا کلام یوں ہو گا: {”قَالُوْا مُحَمَّدٌ لَيْسَ بِرَسُوْلٍ وَالإِلٰهُ لَيْسَ بِوَاحِدٍ وَقَالُوْا ءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ…“} یعنی انھوں نے کہا کہ محمد رسول نہیں ہے اور معبود ایک نہیں ہے اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم زمین میں گم ہو گئے…۔“ زمخشری اور طبری نے فرمایا: {” ضَلَّ الْمَاءُ فِي اللَّبَنِ “} اس وقت کہا جاتا ہے جب پانی دودھ میں اچھی طرح مل جائے اور غائب ہو جائے۔ یعنی کیا جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم ایک نئی پیدائش میں زندہ کر دیے جائیں گے؟ ہمزہ استفہام کے بعد پھر ہمزہ استفہام دوسری زندگی پر تعجب اور اس سے انکار کے لیے ہے، یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ➋ {بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ:} اس سے پہلے انسان کی مٹی اور پھر نطفے سے پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد کفار کے اس اعتراض کے جواب کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ ہم مٹی میں مٹی ہو گئے تو دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے، جواب ظاہر تھا کہ جس طرح پہلی مرتبہ اس مٹی سے پیدا ہوئے جب تمھارا نام و نشان نہ تھا، اب اسی مٹی میں مل گئے تو دوبارہ کیوں پیدا نہیں ہو سکتے۔ دیکھیے سورۂ یٰس (۷۹ تا ۸۱ اور ۱۲) اس لیے فرمایا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات تسلیم نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ وہ اپنی خواہش پرستی اور فسق و فجور کو چھوڑنا نہیں چاہتے، جو انھیں رب تعالیٰ کی ملاقات تسلیم کرنے کے بعد چھوڑنا پڑیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ (1) وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (2) اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ (3) بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ (4) بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ» ‏‏‏‏ [ القیامۃ: ۱ تا ۵ ] ”نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں! اور نہیں، میں بہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں! کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔“
قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو "موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہیں پورا پورا اپنے قبضے میں لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے تمھیں موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور فرشتوں کا ساتھ ٭٭

کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں، اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہو جائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جا سکتے ہیں؟ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہو جا وہیں ہو گیا۔ اسی لیے فرما دیا کہ ’ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے ‘۔ ‎

اس کے بعد فرمایا کہ ’ ملک الموت جو تمہاری روح قبض کرنے پر مقرر ہیں تمہیں فوت کر دیں گے ‘۔ اس آیت میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک الموت ایک فرشتہ کا لقب ہے۔ براء کی وہ حدیث جس کا بیان سورۃ ابراہیم میں گزرچکا ہے اس سے بھی پہلی بات سمجھ میں آتی ہے اور بعض آثار میں ان کا نام عزرائیل بھی آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ ہاں ان کے ساتھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو جسم سے روح نکالتے ہیں اور نرخرے تک پہنچ جانے کے بعد ملک الموت اسے لے لیتے ہیں۔ ان کے لیے زمین سمیٹ دی گئی ہیں اور ایسی ہی ہے جیسے ہمارے سامنے کوئی طشتری رکھی ہوئی ہو، کہ جو چاہا اٹھا لیا۔ ایک مرسل حدیث بھی اس مضمون کی ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:332/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقولہ بھی ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ملک الموت میرے صحابی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آسانی کیجئے }۔ آپ نے جواب دیا کہ ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسکین خاطر رکھئے اور دل خوش کیجئے واللہ میں خود با ایمان اور نہایت نرمی کرنے والا ہوں۔ سنو! یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اللہ کی تمام دنیا کے ہر کچے پکے گھر میں خواہ وہ خشکی میں ہو یاتری میں ہر دن میں میرے پانچ پھیرے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کو میں اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں جتنا وہ اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقین مانئے اللہ کی قسم میں تو ایک مچھر کی جان قبض کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتاجب تک مجھے اللہ کا حکم نہ ہو“ }۔ حضرت جعفر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ملک الموت علیہ السلام کا دن میں پانچ وقت ایک ایک شخص کو ڈھونڈ بھال کرنا یہی ہے کہ آپ پانچوں نمازوں کے وقت دیکھ لیاکرتے ہیں اگر وہ نمازوں کی حفاظت کرنے والا ہو تو فرشتے اس کے قریب رہتے ہیں اور شیطان اس سے دور رہتا ہے اور اس کے آخری وقت فرشتہ اسے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کی تلقین کرتا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ابو شیخ فی العظمتہ:475:ضعیف] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر دن ہر گھر پر ملک الموت دو دفعہ آتے ہیں۔‏‏‏‏“ کعب احبار رحمہ اللہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”ہر دروازے پر ٹھہر کر دن بھر میں سات مرتبہ نظر مارتے ہیں کہ اس میں کوئی وہ تو نہیں جس کی روح نکالنے کا حکم ہو چکا ہو۔‏‏‏‏“ پھر قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اپنے کئے کا پھل پانا ہے۔
11-1یعنی اس کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے تو وہ آکر روح قبض کرلے۔
(آیت 11) ➊ { قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ:} یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہو گئے۔ ایسا نہیں، بلکہ تم اصل میں ”جان“ (روح) ہو، جسے فرشتہ لے جاتا ہے، بالکل فنا نہیں ہوتے۔ (موضح) {” وُكِّلَ بِكُمْ “} کے لفظ سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وہی جان نکالتا ہے جس کا اسے حکم ہو، خود اس کا اختیار کچھ نہیں۔ ➋ { ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ:” اِلٰى رَبِّكُمْ “} پہلے لانے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے: ”پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ ➌ ملک الموت کا نام عام طور پر عزرائیل مشہور ہے، مگر کتاب و سنت میں یہ بات کہیں مذکور نہیں، محض اسرائیلی روایت ہے۔ دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ لوگوں کو ایک فرشتہ نہیں بلکہ کئی فرشتے فوت کرتے ہیں، جیساکہ فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ }» [ الأنعام: ۶۱ ] ”یہاں تک کہ جب تمھارے کسی ایک کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۹۷)، انعام (۹۳) اور سورۂ محمد (۲۷) اہلِ علم نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ روحیں قبض کرنے پر مقرر فرشتہ ایک ہی ہے جس کا یہاں ذکر ہے، لیکن اس کے ساتھ مدد کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو مختلف طرح سے اس کی مدد کرتے ہیں، جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی جان نکلنے کا ذکر ہے کہ ملک الموت جب میت کی روح نکالتا ہے تو دوسرے فرشتے اس کے ہاتھ سے تیزی کے ساتھ لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ [ دیکھیے مسند أحمد: 287/4، ح: ۱۸۵۶۱ ]
وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَ سَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اُس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) "اے ہمارے رب، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کہیں تم دیکھو جب مجرم اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا اور سنا ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور کاش! تم دیکھتے جب مجرم اپنے سر جھکائے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں (کھڑے) ہوں گے اور (عرض کریں گے) اے ہمارے پروردگار! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو (ایک بار دنیا میں) ہمیں واپس بھیج دے۔ (اب) ہم نیک کام کریں گے اب ہمیں یقین آگیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کاش! تو دیکھے جب مجرم لوگ اپنے رب کے پاس اپنے سر جھکائے ہوں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج، کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہو گئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لیے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہو جائیں گے، سب اندھا وبہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہو گیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ میں ہے، اسی لیے یہاں فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ‘، جیسے فرمان ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا ‘۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ ’ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو، اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے، اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ‘۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اور آیت میں بھی ہے «وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ آج ہم تمہیں بھول جاتے ‘ جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا جَزَاءً وِفَاقًا إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:24-30] ‏‏‏‏ ’ وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا ‘۔
12-1یعنی اپنے کفر و شرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔ 12-2یعنی جس کو جھٹلایا کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔ یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا، لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ 12-3لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا؟ اب تو اللہ کا عذاب ان پر ثابت ہوچکا جسے بھگتنا ہوگا۔
(آیت 12) ➊ { وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ:} پچھلی آیت میں جو فرمایا{” ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ “} (پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ {”نَكَسَ يَنْكُسُ“} (ن) کا معنی کسی چیز کو سر کے بل الٹا کرنا ہے، مراد ذلت، شرمندگی اور غم کے ساتھ سروں کو جھکانا ہے۔ {” الْمُجْرِمُوْنَ “} کے لفظ کے ساتھ ان کے اس انجام کا سبب صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ➋ {رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا:} یہاں {”يَقُوْلُوْنَ“} کا لفظ مقدر ہے، یعنی وہ سر جھکائے ہوئے یہ بات کہہ رہے ہوں گے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اگر انھیں دوبارہ واپس بھیج بھی دیا جائے تو اپنی پرانی روش ہی پر چلیں گے، فرمایا: «{ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (27) بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا يُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ }» [ الأنعام: ۲۷، ۲۸ ] ”اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ بلکہ ان کے لیے ظاہر ہو گیا جو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔“ کفار کے اس اظہارِ حسرت و ندامت کا ذکر متعدد آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳) اور مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔ ➌ { اِنَّا مُوْقِنُوْنَ:} مگر اس وقت یقین ہو جانے کا کیا فائدہ؟ جو وقت یقین کے فائدہ دینے کا تھا (یعنی دنیا میں) وہ تو انھوں نے گنوا دیا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۵)۔
وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفۡسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّیۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(جواب میں ارشاد ہو گا) "اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم (مشیتِ قاہرہ سے) چاہتے تو ہر متنفس کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات طے ہو چکی ہے کہ میں جہنم کو سب (نافرمان) جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہو چکی کہ یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہو گئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لیے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہو جائیں گے، سب اندھا وبہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہو گیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ میں ہے، اسی لیے یہاں فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ‘، جیسے فرمان ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا ‘۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ ’ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو، اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے، اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ‘۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اور آیت میں بھی ہے «وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ آج ہم تمہیں بھول جاتے ‘ جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا جَزَاءً وِفَاقًا إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:24-30] ‏‏‏‏ ’ وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا ‘۔
13-1یعنی دنیا میں، لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی، جس میں امتحان کی گنجائش نہ ہوتی۔ 13-2یعنی انسانوں کی دو قسموں میں سے جو جہنم میں جانے والے ہیں، ان سے جہنم کو بھرنے والی میری بات سچ ثابت ہوگی۔
(آیت 13) {وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا …:} یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ اب تم حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آؤ اور ہم تمھاری سزا موقوف کر دیں، یا تمھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں۔ اس طرح کی جبری ہدایت تو ہم تمھیں پہلے ہی دے سکتے تھے، مگر اس سے قیامت کی جزا و سزا بے نتیجہ ہو کر رہ جاتی اور امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا۔ اب تو ضروری ہے کہ میرا وہ قول پورا ہو جو میں نے ابلیس کے آدم کو سجدے سے انکار کے وقت اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا: «{ قَالَ فَالْحَقُّ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُ (84) لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ }» [ صٓ: ۸۴، ۸۵ ] ”فرمایا پھر حق یہی ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے۔“
فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اب چکھو مزا اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کر دیا ہے چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو
احمد رضا خان بریلوی
اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے ہم نے تمہیں چھوڑ دیا اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
علامہ محمد حسین نجفی
سو اس دن کی حاضری کو بھلا دینے کا (آج) مزا چکھو۔ (اب) ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کر دیا ہے اور اپنے برے اعمال کی پاداش میں دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
سو چکھو، اس وجہ سے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، بے شک ہم نے تمھیں بھلا دیا اور ہمیشگی کا عذاب چکھو، اس کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہو گئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لیے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہو جائیں گے، سب اندھا وبہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہو گیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ میں ہے، اسی لیے یہاں فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ‘، جیسے فرمان ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا ‘۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ ’ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو، اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے، اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ‘۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اور آیت میں بھی ہے «وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ آج ہم تمہیں بھول جاتے ‘ جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا جَزَاءً وِفَاقًا إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:24-30] ‏‏‏‏ ’ وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا ‘۔
14-1یعنی جس طرح تم ہمیں دنیا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔
(آیت 14) ➊ {فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا:} یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب سے ملاقات بھی ہونی ہے، اب اس بھولنے کا مزا چکھو۔ آیت کے آخر میں اس مزے کی صراحت فرما دی کہ اپنے عمل کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ ➋ { اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ:} یعنی جس طرح تم نے ہمیں بھلائے رکھا، آج ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔ انھیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑے رکھنے کو نسیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بھولنا ممکن ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى }» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۵۲ ] ”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲۴ تا ۱۲۶)۔
اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، السجدة۔۹
علامہ محمد حسین نجفی
ہماری آیتوں پر بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جن کو جب بھی ان (آیتوں) کے ساتھ نصیحت کی جائے تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں! ٭٭

’ سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ یعنی ’ میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے ‘۔ ’ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں ‘۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے، وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لیے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شعروں میں ہے ؎ «وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الصُّبْحِ سَاطِعُ» «أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ» «يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ» یعنی ہم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اس کی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کر دیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑ جاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضا مندی ہے میدان کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3536، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے }۔

{ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: { اسے روک رکھ }۔ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ! افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ { اس آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ» إلخ ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28240:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ { انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27237:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گزار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے }۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2250:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔

پھر فرماتا ہے“ ان کے لیے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بنا کر رکھی ہیں، اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا ‘۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، اس روایت میں «قُرَّةِ» کے بجائے «قُرَّاتِ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4779] ‏‏‏‏ اور روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لیے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3836] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ تک تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2825] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28256:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ ”اے باری تعالیٰ ادنٰی جنتی کا درجہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ ’ ادنٰی جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ ‘ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ ’ کیا تو اس پر خوش ہے؟ کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ ‘ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تیرے لیے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتنا ہی اور پانچ گناہ ‘۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں ‘۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں ‘۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:189] ‏‏‏‏

حضرت عباس بن عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہو گا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آ گیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ’ کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ‘۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔‏‏‏‏“ ابوالیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے، تیسری موتی کی، زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی، اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گزریں، پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روح الامین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے در گزر فرما لیا ‘۔

{ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، فرمایا { بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لیے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28255:ضعیف] ‏‏‏‏
15-1یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 15-2یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ 15-3یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سے سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں، سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعٰلٰی وَ بَحَمْدِہٖ وغیرہ کلمات پڑھتے ہیں۔ 15-4یعنی اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ اس لیے اہل ایمان کا معاملہ ان کے برعکس ہوتا ہے وہ اللہ کے سامنے ہر وقت عاجزی ذلت ومسکینی اور خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں۔
(آیت 15){ اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا …:} یعنی وہ لوگ جو تکبر کرتے ہوئے ہماری ملاقات ہی کو بھول گئے، وہ ہماری آیات پر کبھی ایمان نہیں لاتے۔ ہماری آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کی صفات اپنے رب کی ملاقات کو بھول جانے والوں سے بالکل جدا ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہوتی ہے کہ جب انھیں آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً حق قبول کرتے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے نفس کی کبریائی انھیں حق قبول کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مانع نہیں ہوتی۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: [ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ] ”پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اور تیری حمد کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ [ بخاري، الأذان، باب الدعاء في الرکوع: ۷۹۴ ]
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫ وَّ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(رات کے وقت) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ بیم و امید سے اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں! ٭٭

’ سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ یعنی ’ میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے ‘۔ ’ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں ‘۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے، وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لیے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شعروں میں ہے ؎ «وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الصُّبْحِ سَاطِعُ» «أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ» «يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ» یعنی ہم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اس کی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کر دیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑ جاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضا مندی ہے میدان کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3536، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے }۔

{ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: { اسے روک رکھ }۔ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ! افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ { اس آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ» إلخ ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28240:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ { انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27237:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گزار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے }۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2250:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔

پھر فرماتا ہے“ ان کے لیے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بنا کر رکھی ہیں، اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا ‘۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، اس روایت میں «قُرَّةِ» کے بجائے «قُرَّاتِ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4779] ‏‏‏‏ اور روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لیے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3836] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ تک تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2825] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28256:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ ”اے باری تعالیٰ ادنٰی جنتی کا درجہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ ’ ادنٰی جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ ‘ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ ’ کیا تو اس پر خوش ہے؟ کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ ‘ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تیرے لیے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتنا ہی اور پانچ گناہ ‘۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں ‘۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں ‘۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:189] ‏‏‏‏

حضرت عباس بن عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہو گا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آ گیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ’ کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ‘۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔‏‏‏‏“ ابوالیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے، تیسری موتی کی، زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی، اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گزریں، پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روح الامین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے در گزر فرما لیا ‘۔

{ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، فرمایا { بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لیے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28255:ضعیف] ‏‏‏‏
16-1یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ استغفار، تسبیح تحمید اور دعا الحاح وزاری کرتے ہیں۔ 16-2یعنی اس کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مؤاخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بےپرواہ ہوجائیں جیسے بےعمل اور بدعمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کرلیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہوجائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر و ضلالت ہے۔ 16-3یعنی انفاق میں صدقات واجبہ (زکوٰۃ) اور عام صدقہ و خیرات دونوں شامل ہیں، اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔
(آیت 16) ➊ {تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ …:} یعنی وہ نماز اور ذکر الٰہی کی خاطر اپنے آرام دہ بستر اور لذیذ نیند چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ تہجد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ (15) اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ (16) كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ (17) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [ الذاریات: ۱۵ تا ۱۸ ] ”بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقینا وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔ وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔ اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے۔“ اس کے علاوہ بھی قیام اللیل کی فضیلت میں بہت سی آیات و احادیث آئی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے: {يَبِيْتُ يُجَافِيْ جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِيْنَ الْمَضَاجِعُ} ”وہ رات اس حال میں گزارتا ہے کہ اپنا پہلو اپنے بستر سے الگ رکھتا ہے، جب مشرکین کے بستر انھیں نہایت بوجھل کیے ہوتے ہیں۔“ [ بخاري، التھجد، باب فضل من تعار من اللیل فصلّی: ۱۱۵۵ ] مگر یہاں ایک سوال ہے کہ یہ جو فرمایا کہ ہماری آیات پر ایمان صرف وہی لوگ لاتے ہیں جن میں یہ صفات پائی جائیں، تو کیا جو شخص تہجد نہ پڑھے اس کا اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بے شک ایمان کا اعلیٰ مرتبہ انھی لوگوں کا ہے جو فرائض کے علاوہ نفل قیام اللیل کا اہتمام کرتے ہیں، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ جو شخص مغرب کے بعد عشاء کے انتظار میں نہیں سوتا بلکہ عشاء جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہے، پھر فجر کے وقت آرام دہ بستر اور میٹھی نیند چھوڑ کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، وہ بھی اس فضیلت سے محروم نہیں رہتا۔ کیونکہ اس کا پہلو بھی نماز کی خاطر بستر سے جدا رہا ہے اور وہ سویا ہے تب بھی اس کے انتظار میں سویا ہے۔ عبدالرحمن بن ابی عمرہ کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور اکیلے بیٹھ گئے، میں ان کے پاس جا بیٹھا تو انھوں نے کہا، بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: [ مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّی اللَّيْلَ كُلَّهُ ] [مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشاء و الصبح في جماعۃ: ۶۵۶ ] ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ زیر تفسیر آیت: «{ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ }» کے بارے میں فرماتے ہیں: [ نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ هٰذِهِ الصَّلَاةِ الَّتِيْ تُدْعَی الْعَتَمَةَ ] [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ السجدۃ: ۳۱۹۶، و صححہ الألباني ] ”یہ آیت اس نماز کے بارے میں اتری جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔“ اور ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيْثَ بَعْدَهَا ] [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب ما یکرہ من النوم قبل العشاء: ۵۶۸ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔“ ➋ { يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا:} یعنی وہ اپنے رب کی گرفت کے خوف اور اس کی رحمت کی امید کے ساتھ اسے پکارتے ہیں۔ انھیں خوف ہے کہ ان کے اعمال رد نہ کر دیے جائیں اور امید بھی کہ وہ قبولیت کا شرف حاصل کر لیں گے۔ (دیکھیے مومنون: ۵۷ تا ۶۱) نہ بے جا امید، جو بے عمل یا بد عمل بنا دیتی ہے اور نہ اتنا خوف جو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دے اور آدمی کو کفر تک پہنچا دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض صوفیوں نے جو کہا: ”میرا دل چاہتا ہے کہ میں جہنم کو بجھادوں اور جنت کو جلا دوں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کسی ڈر یا لالچ سے نہ کریں بلکہ محض اس کی رضا کے لیے کریں۔“ اور بعض نے کہا: ”میں چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے، پھر خواہ مجھے جنت میں بھیج دے خواہ جہنم میں پھینک دے۔“ یہ فضول باتیں ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی صفت ہی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، پھر یہ بھی ان لوگوں کی جہالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو جنت اور جہنم سے الگ کر دیا، حالانکہ جنت اسے ملے گی جس پر وہ راضی ہو گا اور جہنم میں وہ جائے گا جس پر وہ ناراض ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا: [ كَيْفَ تَقُوْلُ فِي الصَّلاَةِ؟ ] ”تم نماز میں کیا کہتے ہو؟“ اس نے کہا: [ أَ تَشَهَّدُ وَ أَقُوْلُ، أَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّيْ لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ] ”میں تشہد پڑھتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ہاں! میں آپ جیسی اچھی گنگناہٹ نہیں کر سکتا اور نہ معاذ جیسی گنگناہٹ کر سکتا ہوں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب تخفیف الصلاۃ: ۷۹۲، و صححہ الألباني ] ”ہم بھی اسی کے گرد گنگنا رہے ہیں۔“ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی ساری تگ و دو جہنم سے بچنے اور جنت کے حصول کے لیے ہے، تو پھر ان سے بڑھ کر اللہ کی رضا چاہنے والا کون ہو گا۔ ہمارے ایک شاعر نے جو کہا ہے: واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے او بے خبر، جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے تو یہ اسی تصوف سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے جس کی تعلیمات بنیادی طور پر اسلام ہی کے خلاف ہیں۔ اسلام نے تو {” رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ“} کہنے کی تعلیم دی ہے۔ مسلمانوں نے جہاد چھوڑ کر دنیا کفار کے سپرد کر دی اور غلامی پر قانع ہو گئے، پھر عیش و عشرت میں پڑ کر عقبیٰ سے بھی گئے اور کچھ بے چارے راہبوں کی طرح رب کو راضی کرنے کے لیے دنیا کو چھوڑ کر خانقاہوں، جنگلوں اور کٹیاؤں میں ہُو، حق کے ورد کرتے رہے اور کفر کی یلغار اسلام اور مسلمانوں کو محکوم بناتی چلی گئی۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➌ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر۔
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا
علامہ محمد حسین نجفی
پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے (اچھے) اعمال کے صلہ میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کیا نعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں! ٭٭

’ سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے ‘۔ جیسے فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ یعنی ’ میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے ‘۔ ’ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں ‘۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے، وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لیے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شعروں میں ہے ؎ «وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الصُّبْحِ سَاطِعُ» «أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ» «يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ» یعنی ہم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اس کی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کر دیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑ جاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضا مندی ہے میدان کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3536، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے }۔

{ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: { اسے روک رکھ }۔ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ! افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ { اس آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ» إلخ ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28240:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ { انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27237:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گزار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے }۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:2250:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔

پھر فرماتا ہے“ ان کے لیے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بنا کر رکھی ہیں، اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا ‘۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں }۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، اس روایت میں «قُرَّةِ» کے بجائے «قُرَّاتِ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4779] ‏‏‏‏ اور روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لیے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3836] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [32-السجدة:16-17] ‏‏‏‏ تک تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2825] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28256:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ ”اے باری تعالیٰ ادنٰی جنتی کا درجہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ ’ ادنٰی جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ ‘ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ ’ کیا تو اس پر خوش ہے؟ کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ ‘ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ تیرے لیے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتنا ہی اور پانچ گناہ ‘۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں ‘۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں ‘۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:189] ‏‏‏‏

حضرت عباس بن عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہو گا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آ گیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ’ کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ‘۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔‏‏‏‏“ ابوالیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے، تیسری موتی کی، زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی، اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گزریں، پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روح الامین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:16] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے در گزر فرما لیا ‘۔

{ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ‏‏‏‏، فرمایا { بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لیے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28255:ضعیف] ‏‏‏‏
17-1نفس نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں کسی کان نے ان کو سنا نہیں نہ کسی انسان کے وہم و گمان میں ان کا گزر ہوا۔ 17-2اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔
(آیت 17) {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ …:} لفظ {” نَفْسٌ “} نکرہ ہے، جو عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی کوئی نفس نہیں جانتا، خواہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ، پھر خواہ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، غرض اللہ کے سوا کوئی ان نعمتوں کو نہیں جانتا جو اس نے مذکور اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں، جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے ان اعمال کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ اقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فلا تعلم نفس ما أخفي…» ‏‏‏‏: ۴۷۷۹۔ مسلم: ۲۸۲۴ ] ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [ السجدۃ: ۱۷ ] اس مقام پر ابن کثیر رحمہ اللہ نے جنت کی نعمتوں کے بیان میں کئی احادیث ذکر کی ہیں۔
اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾؃
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بھلا کہیں یہ ہو سکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے یہ برابر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تو کیا جو مؤمن ہے وہ فاسق کی مانند ہو سکتا ہے؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو؟ برابر نہیں ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏
18-1یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق و تفاوت ہوگا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے۔ اور اعزازو کرام کے مستحق اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ) 45۔ الجاثیہ:21) (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ) 38۔ ص:28) (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ) 59۔ الحشر:20) وغیرہ۔
(آیت 18){ اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا …: ”فِسْقٌ“} کا لفظ {”فَسَقَتِ الثَّمَرَةُ“} سے نکلا ہے، جب پھل پھٹ کر چھلکے سے نکل جائے، پھر اطاعت سے نکل جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ نافرمان مومن پر بھی بولا جاتا ہے اور کافر پر بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ }» [ النور: ۵۵ ] ”جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ اس آیت میں فاسق سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ مومن کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ کفار کے لیے عذاب کی وعید اور مومنوں کے لیے نعمتوں کی نوید کا ذکر آیا تو اس پر کوئی کج بحث کہہ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کیا کمی ہے، وہ چاہے تو جس طرح دنیا میں اس نے مومن و کافر سبھی کو اپنی نعمتیں دے رکھی ہیں، آخرت میں بھی دونوں کو نواز دے۔ فرمایا، یہ تو عدل و حکمت ہی کے خلاف ہے، بھلا ایک ماننے والا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نہ ماننے والا ہے؟ ایک مطیع و فرماں بردار شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان اور باغی ہے؟ دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے، نہ دنیا میں ان کی زندگی کا انداز ایک ہے، نہ موت کے وقت اور نہ آخر ت میں ایک ہو گا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ صٓ (۲۸)، حشر (۲۰) اور جاثیہ (۲۱) یہ آخرت کے ثواب و عقاب کی نہایت عمدہ دلیل ہے، کیونکہ اگر اس دنیا کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو نیک و بد سب یکساں ہو جائیں اور نیک و بد کا یکساں ہو جانا پروردگار عالم کی حکمت کے بالکل خلاف ہے۔
اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں، ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری
علامہ محمد حسین نجفی
پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل (بھی) کئے تو ان کے (اچھے) اعمال کے صلہ میں مہمانی کے طور پر ان کے (آرام) کے لئے جنتوں کی قیام گاہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے رہنے کے باغات ہیں، مہمانی اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19) ➊ {اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى:الْمَاْوٰى”أَوٰي يَأْوِيْ “} (ض) (جگہ پکڑنا، پناہ لینا، رہنا) سے ظرف یا مصدر میمی ہے، رہنے کی جگہ یا رہائش۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، دنیا کی طرح نہیں جو دارِ زوال ہے اور نہ ہی جہنم کی طرح جو جائے فرار ہے۔ ➋ {نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:نُزُلًا“} مہمان کی آمد پر اس کی خاطر تواضع کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے۔ جب مہمانی کا یہ عالم ہے تو مزید عنایتوں کا کیا حال ہو گا۔ ان کا کچھ اندازہ اس سے پہلی آیت: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» اور حدیثِ رسول: [ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ] [ مسلم: ۲۸۲۴ ] سے ہو سکتا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ کسی کے نیک اعمال کو اس کے لیے جنت کی مہمانی کا سبب بنا دے، ورنہ کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا، فَإِنَّهُ لَا يُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِمَغْفِرَةٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، الرقاق، باب القصد و المداومۃ علی العمل: ۶۴۶۷ ] ”سیدھے رہو، قریب رہو اور خوش خبری سنو، کیونکہ کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے مغفرت اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو
احمد رضا خان بریلوی
رہے وہ جو بے حکم ہیں ان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانا آتش دوزخ ہے وہ جب بھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اسی آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے، جب کبھی چاہیں گے کہ اس سے نکلیں اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏
۔-1یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے پھر جہنم کی گہرائیں میں دھکیل دیں گے۔ 20-2یہ فرشتے کہیں گے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت و رسوائی کا جو سامان ہے وہ چھپا ہوا نہیں۔
(آیت 20) ➊ {وَ اَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ:” الَّذِيْنَ فَسَقُوْا “} سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ {”مَاْوَاهُمْ “} کی خبر{” النَّارُ “ } معرف باللّام آنے کی وجہ سے کلام میں حصر پید اہو گیا کہ ”ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے۔“ یعنی کفار کی جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ ➋ { كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِيْدُوْا فِيْهَا …:} ظاہر ہے جہنم سے کفار کے نکلنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں، تو وہ آگ سے نکلنے کا ارادہ کیسے کریں گے۔ اس کا اندازہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کا ذکر فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں دکھائیں۔ ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَانْطَلَقْنَا إِلٰی ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّوْرِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَ أَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوْا حَتّٰی كَادَ أَنْ يَخْرُجُوْا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِيْهَا، وَ فِيْهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ مَنْ هٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْ… وَالَّذِيْ رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ ] [ بخاري، الجنائز، باب: ۱۳۸۶ ] ”پھر ہم ایک سوراخ کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا، اس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا کھلا تھا۔ اس کے نیچے سے آگ بھڑک رہی تھی، جب وہ اوپر قریب آتی تو وہ اوپر اٹھ آتے، یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہو جاتے، جب وہ ماند پڑتی تو واپس اسی میں لوٹ جاتے۔ میں نے کہا: ”یہ کون ہیں؟“ تو دونوں فرشتوں نے کہا: ”آگے چلو۔“… (تمام مشاہدات کے بعد ان فرشتوں نے بتایا) ”تم نے اس سوراخ میں جو کچھ دیکھا وہ زانی لوگ تھے۔“ واضح رہے کہ ایک ہی حال میں رہنے میں تکلیف کی وہ شدت نہیں ہوتی جو بار بار اس کے دہرانے سے ہوتی ہے۔ جہنمیوں کے لیے آگ کے ماند ہونے پر ہر مرتبہ اس کی تیزی اور بڑھا دی جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا }» [ بني إسرائیل: ۹۷ ] ”ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔“ اور فرمایا: «{ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا }» [ الحج: ۲۲ ] ”جب کبھی ارادہ کریں گے کہ سخت گھٹن کی وجہ سے اس سے نکلیں، اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔“
وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا اِنہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم انہیں (قیامت والے) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏
21ا۔-1عذاب ادنی (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں۔ تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔ 21ا۔-2یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
(آیت 21) {وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى …:} یعنی ہم اس بڑے عذاب سے پہلے، جس کا ابھی ذکر ہوا انھیں ایک ادنیٰ عذاب ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا عذاب ہے، جیسا کہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے: ”اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ توبہ کر لیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوَ لَا يَرَوْنَ اَنَّهُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ يَذَّكَّرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۱۲۶ ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بے شک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ }» [ الروم: ۴۱ ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آ جائیں۔“ کفار مکہ کے لیے اس سے مراد وہ قتل بھی ہے جس سے وہ جنگ بدر میں دو چار ہوئے اور وہ قحط سالی بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے ان پر مسلط ہوئی۔بعض مفسرین نے {” الْعَذَابِ الْاَدْنٰى “} سے مراد عذابِ قبر لیا ہے، مگر آیت کے آخری الفاظ {” لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ “} (تاکہ وہ پلٹ آئیں) سے ظاہرہے کہ یہ تفسیر درست نہیں، کیونکہ عذابِ قبر کے بعد توبہ اور واپس پلٹنے کا کوئی موقع نہیں۔
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس سے بڑا ظالم کون ہو گا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے (اور) پھر وہ ان سے روگردانی کرے۔ بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ یقینا ہم ان مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏
22-1یعنی اللہ کی آیتیں سن کر جو ایمان و اطاعت کی موجب ہیں، جو شخص ان سے اعراض کرتا ہے، اس سے بڑا ظالم کون ہے؟ یعنی سب سے بڑا ظالم ہے۔
(آیت 22) ➊ {وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ …:} یہ استفہام انکاری ہے کہ ”اس سے بڑا ظالم کون ہے؟“ یعنی کوئی نہیں، وہی بڑا ظالم ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ {” ثُمَّ “} (پھر) کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات بہت بعید اور تعجب والی ہے کہ آیاتِ الٰہی کے ساتھ نصیحت کے بعد بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ وہ آیات (نشانیاں) جن کے ساتھ آدمی کو نصیحت ہوتی ہے، کئی طرح کی ہیں، ایک آفاقی نشانیاں، جو کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، مثلاً سورج، چاند، ستارے، دن رات، ہوا، بارش، سمندر، کشتیاں اور زمین کی نباتات وغیرہ۔ دوسری وہ جو خود انسان کے نفس میں موجود ہیں، یعنی اس کی ساخت، اس میں رکھی گئی عجیب و غریب قوتیں اور استعدادیں اور اس کے اعضا کا حیران کن خود کار نظام۔ ان دونوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ }» [ حٰمٓ السجدۃ:۵۳] ”عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے۔“ تیسری وہ تاریخی واقعات جن سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے رسولوں اور اس کی آیات کو جھٹلایا، تو اللہ نے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ سورۂ ابراہیم کی آیت (۵): «{ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ }» اور سورۂ یوسف کی آیت (۱۱۱): «{ لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ }» میں ایسے ہی واقعات کے ساتھ نصیحت اور عبرت مراد ہے۔ چوتھی جو آزمائشوں اور مصیبتوں کی شکل میں ہر شخص اور ہر قوم کے سامنے آتی ہیں، تاکہ وہ پلٹ آئیں، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے۔ پانچویں قسم اللہ تعالیٰ کی وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں۔ ان آیات میں بھی گزشتہ چاروں قسم کی آیات پر غوروفکر کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دی جاتی ہے۔ ➋ { اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ:الْمُجْرِمِيْنَ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان مجرموں سے“ کیا گیا ہے، یعنی آیاتِ الٰہی کے ساتھ نصیحت کے بعد منہ موڑ لینے والے ان مجرموں سے ہم یقینا انتقام لینے والے ہیں، دنیا میں عذابِ ادنیٰ اور آخرت میں عذابِ اکبر کے ساتھ۔
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس سے پہلے ہم موسیٰؑ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیے اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بیشک ہم نے موسیٰ (ع)کو کتاب (توراۃ) عطا کی تھی۔ تو آپ کو ایسی کتاب کے ملنے پر شک میں نہیں پڑنا چاہیے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعۂ ہدایت بنایا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس تو اس سے ملنے کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شب معراج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

فرماتا ہے ’ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک و شبہ میں نہ رہ ‘۔ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی معراج والی رات میں۔‏‏‏‏“ حدیث میں ہے { میں نے معراج والی رات سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگھریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ و سفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں } پس ’ اس کی ملاقات میں شک و شبہ نہ کر ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28299:] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنا دیا ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی ‘۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت «وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:2] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہم نے موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنا دیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں ‘۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کر دئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتداء کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دین کے لیے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا ضروری ہے۔‏‏‏‏“ سفیان رحمہ اللہ سے علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ ”صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنا دیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ”چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنا دیا۔‏‏‏‏“ چنانچہ فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ (‏‏‏‏وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ) فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ» ۱؎ [45-الجاثية:17-16] ‏‏‏‏ ’ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضیلت دی ‘۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ ’ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا ‘۔
23-1کہا جاتا ہے کہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ ؑ نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھاـ 23-2' اس ' سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
(آیت 23) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآىِٕهٖ:لِقَآىِٕهٖ “} کی ضمیر {” الْكِتٰبَ “} کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور لفظ {” مُوْسَى “} کی طرف بھی۔ پہلی صورت میں وہی بات دہرائی ہے جو سورت کے شروع میں فرمائی تھی کہ اس لاریب کتاب کا نازل کرنا رب العالمین کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی، اب آپ کو کتاب ملی ہے، تو آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں۔ ہماری طرف سے کتاب کا عطا کیا جانا کوئی نئی بات نہیں، ہم پہلے بھی رسولوں کو کتابیں عطا کرتے رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ }» [ الأحقاف: ۹ ] ” کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔“ اس میں اگرچہ اول مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر مراد ہر سننے والا ہے کہ کوئی بھی سننے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ملنے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہے، آپ کو کتاب ملنا ایسے ہی ہے جیسے ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق {” الْكِتٰبَ “} سے مراد خاص تورات نہیں، جنس کتاب ہے، یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی تو آپ بھی کتاب ملتے ہی کوئی شک نہ کریں۔ اور {”لِقَاءٌ“} سے مراد کتاب کا ملنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ }» [ النمل: ۶ ] ”اور بلاشبہ یقینا تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے،سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قریب ترین پیغمبر اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، مگر ایک تو تمام بنی اسرائیل ان پر ایمان نہیں لائے اور ایک یہ کہ وہ بھی تورات ہی کے احکام پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بجائے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینے کا ذکر فرمایا۔ بعض مفسرین نے {” الْكِتٰبَ “} کی طرف ضمیر لوٹانے کی صورت میں یہ معنی کیا ہے کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملنے کے بارے میں شک نہ کریں۔ دوسری صورت میں یعنی جب {” لِقَآىِٕهٖ “} کی ضمیر موسیٰ علیہ السلام کی طرف جا رہی ہو تو معنی یہ ہو گا کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہیں، جو معراج کی رات بیت المقدس میں اور چھٹے آسمان پر ہوئی، جیسا کہ صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث میں مذکور ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ مُوْسٰی رَجُلاً آدَمَ طُوَالاً جَعْدًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَةَ، وَ رَأَيْتُ عِيْسٰی رَجُلاً مَرْبُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَةِ وَ الْبَيَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَ الدَّجَّالَ فِيْ آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللّٰهُ إِيَّاهُ، فَلاَ تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِنْ لِّقَائِهِ] [بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین و الملائکۃ في السماء…: ۳۲۳۹ ] ”میں نے اس رات جب مجھے رات کو لے جایا گیا، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، بہت لمبے گٹھے ہوئے جسم یا گھونگریالے بالوں والے، گویا وہ شنوء ہ قبیلے کے آدمیوں سے ہیں اور میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، میانہ قد، سرخی اور سفیدی کی طرف مائل سیدھے بالوں والے اور میں نے جہنم کے دربان مالک اور دجال کو دیکھا، من جملہ ان کئی اور نشانیوں کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں۔ (سورۂ سجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ) پس تو اس کی ملاقات کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ۔“ ➋ {وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:جَعَلْنٰهُ “} میں {”هٗ“} کی ضمیر کتاب کے لیے ہے، یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنا دیا۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورۂ بنی اسرائیل (۲) میں گزر چکی ہے۔
وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے جبکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان میں سے بعض کو ایسا امام و پیشوا قرار دیا تھا جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا تھا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان میں سے کئی پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شب معراج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

فرماتا ہے ’ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک و شبہ میں نہ رہ ‘۔ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی معراج والی رات میں۔‏‏‏‏“ حدیث میں ہے { میں نے معراج والی رات سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگھریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ و سفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں } پس ’ اس کی ملاقات میں شک و شبہ نہ کر ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28299:] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنا دیا ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی ‘۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت «وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:2] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہم نے موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنا دیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں ‘۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کر دئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتداء کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دین کے لیے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا ضروری ہے۔‏‏‏‏“ سفیان رحمہ اللہ سے علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ ”صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنا دیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ”چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنا دیا۔‏‏‏‏“ چنانچہ فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ (‏‏‏‏وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ) فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ» ۱؎ [45-الجاثية:17-16] ‏‏‏‏ ’ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضیلت دی ‘۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ ’ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا ‘۔
24-1اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے، صبر کا مطلب اللہ کے اوامر کے بجا لانے اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے پیروی میں جو تکلیفیں آئیں، انھیں خندہ پیشانی سے جھیلنا، اللہ نے فرمایا، ان کے صبر کرنے اور آیات الٰہی پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل و تحریف کا ارتکاب شروع کردیا، تو ان سے یہ مقام سلب کرلیا گیا، چناچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر ان کا عمل صالح رہا اور نہ اعتقاد صحیح۔
(آیت 24) ➊ { وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا:} اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ ایسے امام اور پیشوا بنائے جو لوگوں کی رہنمائی ہمارے حکم کے ساتھ کرتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کے حکم کے ساتھ رہنمائی وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس کا علم رکھتے ہوں، اس میں بنی اسرائیل کے انبیاء بھی شامل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءَ الزَّكٰوةِ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ }» [ الأنبیاء: ۷۳ ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ اور بنی اسرائیل کے وہ علماء بھی جو ہدایت پر قائم تھے اور لوگوں کو اللہ کے حکم کے مطابق اس ہدایت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ ہدایت اللہ کی کتاب تھی اور اس پر ایمان لانے والے دو طرح کے لوگ تھے، ایک وہ ائمہ جو اللہ کے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور دوسرے ان کے وہ پیروکار جو اس رہنمائی پر عمل کرتے تھے۔ پہلی قسم کے لوگوں کا مقام نبوت کے بعد سب سے بلند ہے، فرمایا: «{ يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ }» [ المجادلۃ: ۱۱ ] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ ➋ {لَمَّا صَبَرُوْا وَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ:} یعنی ان ائمہ کو پیشوائی کا یہ مقام دو وجہ سے حاصل ہوا، ایک صبر کی وجہ سے کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری پر باندھ کر اور اس کی منع کردہ چیزوں سے روک کر رکھا۔ وہ اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے اور اس کے لیے جہاد کرتے رہے اور انھوں نے اس راستے میں پیش آنے والی ہر مصیبت پر صبر کیا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کی وجہ سے کہ وہ دنیاوی فائدوں اور لذتوں میں پھسل جانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے وعدوں پر یقین رکھنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت کا مقام وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو صبر اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کے وصف سے آراستہ ہوں۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ان باتوں میں جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرا رب ہی قیامت کے دن ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شب معراج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

فرماتا ہے ’ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک و شبہ میں نہ رہ ‘۔ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی معراج والی رات میں۔‏‏‏‏“ حدیث میں ہے { میں نے معراج والی رات سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگھریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ و سفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں } پس ’ اس کی ملاقات میں شک و شبہ نہ کر ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28299:] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنا دیا ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی ‘۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت «وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:2] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہم نے موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنا دیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں ‘۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کر دئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتداء کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دین کے لیے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا ضروری ہے۔‏‏‏‏“ سفیان رحمہ اللہ سے علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ ”صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنا دیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ”چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنا دیا۔‏‏‏‏“ چنانچہ فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ (‏‏‏‏وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ) فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ» ۱؎ [45-الجاثية:17-16] ‏‏‏‏ ’ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضیلت دی ‘۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ ’ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا ‘۔
25-1اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلاف بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان کفر، اہل حق اور اہل باطل کے درمیان دنیا میں رہے اور ہیں دنیا میں تو ہر گروہ اپنے دلائل پر مطمئن اور اپنی ڈگر پر قائم رہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل کفر و باطل کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
(آیت 25) ➊ { اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ …:} پچھلی آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے کتاب اللہ پر عمل کیا، ان کے علماء اور ائمہ خود دین پر قائم رہے، دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور اس راستے میں اپنوں اور بیگانوں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے۔ بعد میں جب وہ دنیا پرستی اور طمع میں مبتلا ہو گئے، جانتے بوجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کے بجائے اس کی من مانی تاویل بلکہ اس میں تحریف کرنے لگے، ہر ایک نے اپنی مرضی کے مسائل ایجاد کر لیے تو وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو سچا قرار دیتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان کے ان اختلافات کے بارے میں تیرا رب ہی قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ ➋ بنی اسرائیل کے ان حالات و واقعات میں امت مسلمہ کے لیے سبق ہے کہ امامت کا مقام کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور کسی قوم کے عروج و زوال کا باعث کیا چیز ہوتی ہے۔
اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا اِن لوگوں کو (اِن تاریخی واقعات میں) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ اس میں بڑی نشانیاں ہیں، کیا یہ سنتے نہیں ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہیں اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اس بات سے بھی اللہ نے انہیں ہدایت نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا ہے جن کے مکانات میں یہ (آج) چل پھر رہے ہیں۔ بے شک اس میں (عبرت کیلئے) بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں، تو کیا یہ نہیں سنتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ کا خط ٭٭

کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ و بالا کر دیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بے پرواہی کی، اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ ’ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لیے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں ‘۔

’ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے نا آشنا ہیں؟ ‘ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف و کرم کو احسان وانعام کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہو جاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے ‘۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہو گئے ہوں زمین یبوست (‏‏‏‏خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بے شک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہرسال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان و رحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے۔

روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلا کر رضا مند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اس کا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فاتح مصر نے جواب دیا کہ ”یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کر سکتے۔‏‏‏‏“ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آ کر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود و باش ترک کر دیں۔ اب فاتح مصر کو خیال گزرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔‏‏‏‏“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ ”یہ خط اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔‏‏‏‏“

”بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد و قہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔‏‏‏‏“ یہ پرچہ لے کر امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا، ابھی ایک رات بھی گزرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہٰ کا خطہٰ سرسبز ہو گیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔ ۱؎ [کتاب السنہ للحافظ ابوالقاسم اللالکائی:ضعیف] ‏‏‏‏

اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے «فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ» ۱؎ [80-عبس:24] ‏‏‏‏، یعنی ’ انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے؟ ‘ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” «جُرُزِ» وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ زمین یمن میں ہے۔‏‏‏‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔‏‏‏‏“ ابن زید وغیرہ کا قول ہے ”یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔‏‏‏‏“ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:33] ‏‏‏‏، ’ ان کے لیے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کر دیتے ہیں ‘۔
26-1یعنی پچھلی امتیں جو جھٹلانے اور عدم ایمان کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ آج ان کا وجود دنیا میں نہیں، البتہ ان کے مکانات ہیں جن کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں۔ مطلب اس سے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی یہی ہوسکتا ہے، اگر ایمان نہ لائے۔
(آیت 26) {اَوَ لَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ …:} یہ بات مشرکین عرب کے متعلق فرمائی کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا، جن کے تباہ شدہ کھنڈرات اب بھی باقی ہیں، جن میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں اور ان کی ویرانی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ مراد عرب میں آنے والے پیغمبروں کی امتیں ہیں، یعنی قوم عاد، ثمود اور اہل مدین وغیرہ۔ اہلِ عرب ان کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان اقوام کے حالات زندگی اپنے بزرگوں سے سنتے بھی تھے، پھر بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے تھے، اس لیے فرمایا: «{ اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ }» تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں کہ پیغمبروں کی نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے؟
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں تو کیا انہیں سوجھتانہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی کو بہا لے جاتے ہیں پھر اس سے ایسی کھیتی اگاتے ہیں جس میں ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور خود بھی تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیںدیکھا کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا یہ نہیں دیکھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ کا خط ٭٭

کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ و بالا کر دیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بے پرواہی کی، اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ ’ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لیے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں ‘۔

’ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے نا آشنا ہیں؟ ‘ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف و کرم کو احسان وانعام کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہو جاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے ‘۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہو گئے ہوں زمین یبوست (‏‏‏‏خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بے شک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہرسال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان و رحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے۔

روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلا کر رضا مند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اس کا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فاتح مصر نے جواب دیا کہ ”یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کر سکتے۔‏‏‏‏“ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آ کر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود و باش ترک کر دیں۔ اب فاتح مصر کو خیال گزرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔‏‏‏‏“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ ”یہ خط اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔‏‏‏‏“

”بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد و قہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔‏‏‏‏“ یہ پرچہ لے کر امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا، ابھی ایک رات بھی گزرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہٰ کا خطہٰ سرسبز ہو گیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔ ۱؎ [کتاب السنہ للحافظ ابوالقاسم اللالکائی:ضعیف] ‏‏‏‏

اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے «فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ» ۱؎ [80-عبس:24] ‏‏‏‏، یعنی ’ انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے؟ ‘ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” «جُرُزِ» وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ زمین یمن میں ہے۔‏‏‏‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔‏‏‏‏“ ابن زید وغیرہ کا قول ہے ”یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔‏‏‏‏“ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:33] ‏‏‏‏، ’ ان کے لیے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کر دیتے ہیں ‘۔
27-1پانی سے مراد آسمانی بارش اور چشموں نالوں اور وادیوں کا پانی ہے، جسے اللہ تعالیٰ بنجر زمین کے علاقوں کی طرف بہا کرلے جاتا ہے اس سے پیداوار ہوتی ہے جو انسان کھاتے ہیں اور جو بھوسا چارہ ہوتا ہے وہ جانور کھاتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص زمین یا علاقہ مراد نہیں ہے بلکہ عام ہے۔ جر ہر بےآباد، بنجر اور چٹیل زمین کو شامل ہے۔
(آیت 27) {اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ …:} یہ توحید و رسالت کے ساتھ سورت کے تیسرے بنیادی مضمون کا تذکرہ ہے، یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بنجر زمین سے کھیتیوں کو پیدا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جن میں سے وہ بھی کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو دوبارہ زندگی بخش کر حساب کے لیے سامنے لا کر کھڑا کرے گا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷)، روم (۵۰) اور یٰس(۳۳ تا ۳۵)۔
وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ)
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ فتح (فیصلہ) کب ہوگا؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے ٭٭

کافر اعتراضاً کہا کرتے تھے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کر دیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لو گے وہ وقت کب آئے گا؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بے وقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈررہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ جب عذاب اللہ آ جائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:85-83] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے ‘، پوری دو آیتوں تک، اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریباً دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔

اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہیئے تھا کہ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانا مقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت «فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:118] ‏‏‏‏ ’ ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر ‘۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ۱؎ [34-سبأ:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ» ۱؎ [14-إبراھیم:15] ‏‏‏‏ ’ یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے ‘ آیت «وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [2-البقرة:89] ‏‏‏‏ ’ اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے ‘ اور آیت میں فرمان باری ہے «اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ۱؎ [8-الإنفال:19] ‏‏‏‏ ’ اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے بے پرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:106] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اس کی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں،چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بے سود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کر دئیے جائیں؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (‏‏‏‏نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہدو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ‘۔ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ السجدہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
28-1اس فیصلے (فتح) سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔
(آیت 28) {وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ …:} مشرکین جب قیامت قائم ہونے کے دلائل کے سامنے لاجواب ہوتے تو کہتے، اچھا بتاؤ، یہ فیصلہ کب ہو گا، قیامت کب آئے گی؟ اس سے ان کی جہالت واضح ہوتی ہے کہ جب ایک چیز کا آنا یقینی ہو تو صرف اس وجہ سے اس سے غفلت برتنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کے وقت کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۲ تا ۴۵) اور بنی اسرائیل (۴۹ تا ۵۱)۔
قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان سے کہو "فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے کہ فتح (فیصلہ) والے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے فیصلے کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا نہ ان کا ایمان لانا نفع دے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے ٭٭

کافر اعتراضاً کہا کرتے تھے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کر دیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لو گے وہ وقت کب آئے گا؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بے وقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈررہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ جب عذاب اللہ آ جائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:85-83] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے ‘، پوری دو آیتوں تک، اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریباً دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔

اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہیئے تھا کہ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانا مقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت «فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:118] ‏‏‏‏ ’ ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر ‘۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ۱؎ [34-سبأ:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ» ۱؎ [14-إبراھیم:15] ‏‏‏‏ ’ یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے ‘ آیت «وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [2-البقرة:89] ‏‏‏‏ ’ اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے ‘ اور آیت میں فرمان باری ہے «اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ۱؎ [8-الإنفال:19] ‏‏‏‏ ’ اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے بے پرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:106] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اس کی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں،چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بے سود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کر دئیے جائیں؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (‏‏‏‏نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہدو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ‘۔ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ السجدہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
29-1یوم الفتح سے مراد آخرت کا فیصلے کا دن، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کے دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن طلقاء کا اسلام قبول کرلیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی (ابن کثیر) طلقاء سے مراد وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن سزا و تعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کردیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چناچہ ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی تھی۔
(آیت 29) {قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِيْمَانُهُمْ …:} یعنی تمھارے اس سوال سے تمھیں کچھ حاصل نہیں، تم اس مہلت کو غنیمت سمجھو جو اس وقت تمھیں حاصل ہے۔ کیونکہ فیصلے کا وہ دن آگیا تو آنکھوں دیکھی حقیقت پا کر نہ تمھارا ایمان لانا تمھیں کچھ فائدہ دے گا اور نہ مزید مہلت ملے گی۔ دیکھیے سورۂ مومن(۸۴، ۸۵)۔
فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، اِنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں اور منتظر رہیں۔ یہ بھی منتظر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو بیشک انہیں بھی انتظار کرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
سو آپ ان سے بے اعتنائی کریں اور انتظار کریں۔ وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو ان سے منہ پھیر لے اور انتظار کر، یقینا وہ (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے ٭٭

کافر اعتراضاً کہا کرتے تھے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کر دیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لو گے وہ وقت کب آئے گا؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بے وقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈررہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’ جب عذاب اللہ آ جائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:85-83] ‏‏‏‏، یعنی ’ جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے ‘، پوری دو آیتوں تک، اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریباً دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔

اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہیئے تھا کہ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانا مقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت «فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:118] ‏‏‏‏ ’ ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر ‘۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ۱؎ [34-سبأ:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ» ۱؎ [14-إبراھیم:15] ‏‏‏‏ ’ یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے ‘ آیت «وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [2-البقرة:89] ‏‏‏‏ ’ اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے ‘ اور آیت میں فرمان باری ہے «اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ۱؎ [8-الإنفال:19] ‏‏‏‏ ’ اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے بے پرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:106] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اس کی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں،چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بے سود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کر دئیے جائیں؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (‏‏‏‏نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہدو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ‘۔ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ السجدہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
30-1یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا " اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو واعرض عن المشرکین " آپ خود اس طریقت پر چلتے ہیں رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔ 30-2یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے؟ یقینا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ 30-3یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہوجائے اور اس کی دعوت ختم ہوجائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل خوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنایا دیا۔
(آیت 30) ➊ { فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ:} جو لوگ قیامت کا انکار محض اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں اس کا وقت نہیں بتایا گیا، انھیں سمجھانا بے سود ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انتظار کریں کہ اللہ کا وعدہ کب پورا ہوتا ہے، جو ہر حال میں پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ ➋ {اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ:} یقینا وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں کہ آپ اور آپ کی یہ چھوٹی سی جماعت کب زمانے کی کسی گردش کا شکار ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۹۸) اور سورۂ طور میں فرمایا: «{ اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ (30) قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ }» [ الطور: ۳۰، ۳۱ ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“