بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ السجدة — Surah Sajdah
آیت نمبر 21
کل آیات: 30
قرآن کریم السجدة آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ السجدة islamicurdubooks.com ↗
وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا اِنہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں
اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
اور ہم انہیں (قیامت والے) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں۔
اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

21ا۔-1عذاب ادنی (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں۔ تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔ 21ا۔-2یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) {وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى …:} یعنی ہم اس بڑے عذاب سے پہلے، جس کا ابھی ذکر ہوا انھیں ایک ادنیٰ عذاب ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا عذاب ہے، جیسا کہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے: ”اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ توبہ کر لیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوَ لَا يَرَوْنَ اَنَّهُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ يَذَّكَّرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۱۲۶ ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بے شک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ }» [ الروم: ۴۱ ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آ جائیں۔“ کفار مکہ کے لیے اس سے مراد وہ قتل بھی ہے جس سے وہ جنگ بدر میں دو چار ہوئے اور وہ قحط سالی بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے ان پر مسلط ہوئی۔بعض مفسرین نے {” الْعَذَابِ الْاَدْنٰى “} سے مراد عذابِ قبر لیا ہے، مگر آیت کے آخری الفاظ {” لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ “} (تاکہ وہ پلٹ آئیں) سے ظاہرہے کہ یہ تفسیر درست نہیں، کیونکہ عذابِ قبر کے بعد توبہ اور واپس پلٹنے کا کوئی موقع نہیں۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →