بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ السجدة — Surah Sajdah
آیت نمبر 20
کل آیات: 30
قرآن کریم السجدة آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ السجدة islamicurdubooks.com ↗
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾
اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو
رہے وہ جو بے حکم ہیں ان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانا آتش دوزخ ہے وہ جب بھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اسی آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے۔
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے، جب کبھی چاہیں گے کہ اس سے نکلیں اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیک و بد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و کرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکار برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:21] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کر رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کر دیں گے؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کر دیں؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کر دیں؟ ‘ اور آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے ‘۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ ’ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالاخانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہو گی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہو گی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے ‘۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں ”واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔‏‏‏‏“

عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہو جائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”چاند کا شق ہو جانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:128/5:صحیح] ‏‏‏‏ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکے کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کر جائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟ ‘ قتادۃرحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بے عزت بے وقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔‏‏‏‏“ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے ‘۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بے وجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ’ ہم مجرموں سے بازپرس کریں گے اور ان سے پورا بدلہ لیں گے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28298:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

۔-1یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے پھر جہنم کی گہرائیں میں دھکیل دیں گے۔ 20-2یہ فرشتے کہیں گے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت و رسوائی کا جو سامان ہے وہ چھپا ہوا نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ {وَ اَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ:” الَّذِيْنَ فَسَقُوْا “} سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ {”مَاْوَاهُمْ “} کی خبر{” النَّارُ “ } معرف باللّام آنے کی وجہ سے کلام میں حصر پید اہو گیا کہ ”ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے۔“ یعنی کفار کی جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ ➋ { كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِيْدُوْا فِيْهَا …:} ظاہر ہے جہنم سے کفار کے نکلنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں، تو وہ آگ سے نکلنے کا ارادہ کیسے کریں گے۔ اس کا اندازہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کا ذکر فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں دکھائیں۔ ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَانْطَلَقْنَا إِلٰی ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّوْرِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَ أَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوْا حَتّٰی كَادَ أَنْ يَخْرُجُوْا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِيْهَا، وَ فِيْهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ مَنْ هٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْ… وَالَّذِيْ رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ ] [ بخاري، الجنائز، باب: ۱۳۸۶ ] ”پھر ہم ایک سوراخ کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا، اس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا کھلا تھا۔ اس کے نیچے سے آگ بھڑک رہی تھی، جب وہ اوپر قریب آتی تو وہ اوپر اٹھ آتے، یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہو جاتے، جب وہ ماند پڑتی تو واپس اسی میں لوٹ جاتے۔ میں نے کہا: ”یہ کون ہیں؟“ تو دونوں فرشتوں نے کہا: ”آگے چلو۔“… (تمام مشاہدات کے بعد ان فرشتوں نے بتایا) ”تم نے اس سوراخ میں جو کچھ دیکھا وہ زانی لوگ تھے۔“ واضح رہے کہ ایک ہی حال میں رہنے میں تکلیف کی وہ شدت نہیں ہوتی جو بار بار اس کے دہرانے سے ہوتی ہے۔ جہنمیوں کے لیے آگ کے ماند ہونے پر ہر مرتبہ اس کی تیزی اور بڑھا دی جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا }» [ بني إسرائیل: ۹۷ ] ”ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔“ اور فرمایا: «{ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا }» [ الحج: ۲۲ ] ”جب کبھی ارادہ کریں گے کہ سخت گھٹن کی وجہ سے اس سے نکلیں، اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔“
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →