بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ السجدة — Surah Sajdah
آیت نمبر 14
کل آیات: 30
قرآن کریم السجدة آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ السجدة islamicurdubooks.com ↗
فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پس اب چکھو مزا اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کر دیا ہے چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں"
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو
اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے ہم نے تمہیں چھوڑ دیا اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
سو اس دن کی حاضری کو بھلا دینے کا (آج) مزا چکھو۔ (اب) ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کر دیا ہے اور اپنے برے اعمال کی پاداش میں دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔
سو چکھو، اس وجہ سے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، بے شک ہم نے تمھیں بھلا دیا اور ہمیشگی کا عذاب چکھو، اس کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہو گئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لیے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہو جائیں گے، سب اندھا وبہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہو گیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ میں ہے، اسی لیے یہاں فرماتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ‘، جیسے فرمان ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-يونس:99] ‏‏‏‏ ’ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا ‘۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ ’ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو، اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے، اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ‘۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اور آیت میں بھی ہے «وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ آج ہم تمہیں بھول جاتے ‘ جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا جَزَاءً وِفَاقًا إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:24-30] ‏‏‏‏ ’ وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا ‘۔

📖 احسن البیان

14-1یعنی جس طرح تم ہمیں دنیا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) ➊ {فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا:} یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب سے ملاقات بھی ہونی ہے، اب اس بھولنے کا مزا چکھو۔ آیت کے آخر میں اس مزے کی صراحت فرما دی کہ اپنے عمل کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ ➋ { اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ:} یعنی جس طرح تم نے ہمیں بھلائے رکھا، آج ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔ انھیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑے رکھنے کو نسیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بھولنا ممکن ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى }» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۵۲ ] ”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲۴ تا ۱۲۶)۔
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →