بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 4
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾
تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے
یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے
بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہے،
تمہارا الٰہ (خدا) ایک ہی ہے۔
کہ بے شک تمھارا معبود یقینا ایک ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے } }۔۱؎ [صحیح مسلم:522] ‏‏‏‏ مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: { تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں }۔ ہم نے کہا وہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:430] ‏‏‏‏ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔

ربیع بن انس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے «فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا عُذْرًا أَوْ نُذْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [77-المرسلات:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے ‘۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود بر حق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کر کے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے «رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ۱؎ [55-الرحمن:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کے لئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قسم میں جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) {اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ:} یعنی اللہ کے حکم سے کائنات کا نظام چلانے والے فرشتے، جو اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور جن کی ڈانٹ سے زمین و آسمان کے معاملات کی تدبیر ہوتی ہے اور جو پیغمبروں پر وحی نازل کرتے ہیں اور ذکر الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں، یہ سب فرشتے شاہد اور دلیل ہیں کہ کائنات کا معبودِ حقیقی ایک ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایک نہ ہو تو یہ کائنات ایک لمحے کے لیے قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہو جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا» [ الأنبیاء: ۲۲ ] ”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔“ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ نے ان تینوں آیات کی ایک اور بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: ”فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار ہو کر سننے کو حکم اللہ کا، پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جا لگتے ہیں، پھر جب اتر چکا، تو اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو سنانے کو۔“ (موضح) اگلی آیات میں اس دعوے کی مزید دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →