بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 3
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾
پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں
پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی
پھر ان جماعتوں کی، کہ قرآن پڑھیں،
پھر ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والی ہستیوں کی قسم۔
پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والی ہیں!

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے } }۔۱؎ [صحیح مسلم:522] ‏‏‏‏ مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: { تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں }۔ ہم نے کہا وہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:430] ‏‏‏‏ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔

ربیع بن انس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے «فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا عُذْرًا أَوْ نُذْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [77-المرسلات:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے ‘۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود بر حق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کر کے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے «رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ۱؎ [55-الرحمن:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) {فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا:} اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء پر ذکر نازل کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کا خیال ڈالتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا (5) عُذْرًا اَوْ نُذْرًا» ‏‏‏‏ [ المرسلات: ۵، ۶ ] ”پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والے ہیں۔ عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے۔“
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →