بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 5
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ رَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ﴿۵﴾
وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں، اور سارے مشرقوں کا مالک
آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مَشرقوں کا رب وہی ہے
مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا
جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (سب کا) پروردگار ہے۔
جو آسمانوں اور زمین کا اوران دونوں کے درمیان کی چیزوں کا رب اور تمام مشرقوں کا رب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے } }۔۱؎ [صحیح مسلم:522] ‏‏‏‏ مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: { تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں }۔ ہم نے کہا وہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:430] ‏‏‏‏ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔

ربیع بن انس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے «فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا عُذْرًا أَوْ نُذْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [77-المرسلات:6،5] ‏‏‏‏ یعنی ’ وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے ‘۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود بر حق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کر کے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے «رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ۱؎ [55-الرحمن:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊{ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا:} مراد اس سے پوری کائنات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اپنے اکیلے رب ہونے کو اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ جب ہر چیز کا مالک اور رب میں ہوں اور تم بھی مانتے ہو کہ ہر چیز پیدا میں نے کی اور اس کی پرورش بھی میں ہی کرتا ہوں، تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو؟ داتا اور دستگیر کوئی اور کس طرح بن گیا؟ مصیبت کے وقت کسی اور کو پکارا کیوں جائے؟ ➋ {وَ رَبُّ الْمَشَارِقِ:الْمَشَارِقِ”مَشْرِقٌ“} کی جمع ہے، طلوع ہونے کی جگہ۔ سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ الگ ہوتی ہے، اس لحاظ سے سال بھر میں سورج کے ۳۶۵ مشرق ہوتے ہیں۔ پھر اس کائنات میں صرف سورج ہی گردش نہیں کرتا، چاند اور بے شمار سیارے طلوع و غروب ہوتے ہیں۔ ہر ایک کے طلوع ہونے کے اپنے اپنے مقامات ہیں، جن میں سورج کے مشرقوں کی طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے مشرقوں کی تعداد ہمارے حساب سے باہر ہے۔ یہاں صرف مشارق کے ذکر پر اکتفا فرمایا، کیونکہ ظاہر ہے کہ جو مشرقوں کا رب ہے مغربوں کا رب بھی وہی ہے۔ سورۂ معارج (۷۰) میں مشارق و مغارب دونوں کے رب کی قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رب المشارق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور ان تمام سیاروں کی نقل و حرکت کا مالک وہی ہے، کسی اور کا اس میں کچھ دخل نہیں۔ {” رَبُّ الْمَشَارِقِ “} میں ایک اور نکتہ بھی ہے کہ سورج اپنی روزانہ کی گردش میں اس زمین کے مختلف حصوں پر ایک دوسرے کے بعد پے در پے طلوع ہوتا ہے۔ جہاں زمین کا کوئی حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہی اس کا مشرق ہے۔ اس لحاظ سے بھی نہ مشرقوں کا شمار ہے نہ مغربوں کا۔ (الوسیط)
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →