ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈراؤ۔ اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آجائے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آ جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ”دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو، گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو، جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ، میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔“ آیت «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [71-نوح:4] میں لفظ «مِّنْ» یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ «مِّنْ» زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے «قَدْ كَانَ مِنْ مَّطَرٍ» میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں «عن» کے ہو بلکہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ «مِّنْ» «إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ أَيْ يَغْفِر لَكُمْ الذُّنُوب الْعِظَام الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى اِرْتِكَابكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَام» کے لیے ہے یعنی ’ تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘ یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا۔ اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔} ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1908] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لیے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔‘
یقیناً ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (1) بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے (2)
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”آدم اور نوح علیھما السلام کے درمیان کتنی مدت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَشَرَةُ قُرُوْنٍ ] ”دس قرن۔“ [ صحیح ابن حبان، التاریخ، باب ذکر الإخبار عما کان…: ۶۱۹۰ ] حافظ ابن کثیر نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ [ البدایۃ والنہایۃ، جلد: ۱، قصۃ نوح ] ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [ كَانَ بَيْنَ نُوْحٍ وَ آدَمَ عَشَرَةُ قُرُوْنٍ كُلُّهُمْ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْحَقِّ فَاخْتَلَفُوْا فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيِّيْنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ ] [ مستدرک حاکم: 546/2، ح: ۴۰۰۹ ] ”آدم اور نوح کے درمیان دس قرن تھے اور وہ سارے کے سارے دین حق پر قائم تھے، پھر جب انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا (جو انھیں جنت کی) خوش خبری دیتے اور (عذاب سے) ڈراتے تھے۔“ محقق حکمت بن بشیر نے ابن کثیر میں سورۂ بقرہ کی آیت (۲۱۳) کے تحت کہا کہ یہ حدیث طبری میں بھی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شروع میں سب لوگ اللہ کی توحید پر قائم تھے اور شرک و بت پرستی کا وجود نہیں تھا، پھر جیسا کہ زیر تفسیر سورت کی آیت(۲۳) کی تشریح میں آرہا ہے کہ شیطان کے سکھانے سے بت پرستی شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں شرک سے منع کرنے اور اللہ واحد کی عبادت کی تبلیغ کے لیے نوح علیہ السلام کو بھیجا، آپ اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے۔ [ دیکھیے بخاري، الأنبیاء، باب: «ذریۃ من حملنا…» : ۴۷۱۲ ] رسالت ملنے کے بعد آپ علیہ السلام ساڑھے نو سو (۹۵۰) سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے، جب وہ نافرمانی سے باز نہ آئے تو انھیں پانی کے طوفان سے غرق کر دیا گیا۔ (دیکھیے عنکبوت: ۱۴) یہ پوری سورت نوح علیہ السلام کی دعوت، اس کے جواب میں قوم کے طرز عمل اور ان کے انجام کی تفصیل پر مشتمل ہے اور اس کا نام بھی اسی جلیل القدر پیغمبر کے نام پر ہے۔ (آیت 1){ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ …:} نوح علیہ السلام کی قوم جس شرک اور بت پرستی میں گرفتار تھی اس کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں عذابِ الیم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کاقاعدہ یہ ہے کہ وہ آگاہ کرنے اور ڈرانے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۵) سو اس عذابِ الیم سے ڈرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! میں تمہیں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ میں تمھیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ”دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو، گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو، جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ، میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔“ آیت «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [71-نوح:4] میں لفظ «مِّنْ» یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ «مِّنْ» زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے «قَدْ كَانَ مِنْ مَّطَرٍ» میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں «عن» کے ہو بلکہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ «مِّنْ» «إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ أَيْ يَغْفِر لَكُمْ الذُّنُوب الْعِظَام الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى اِرْتِكَابكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَام» کے لیے ہے یعنی ’ تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘ یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا۔ اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔} ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1908] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لیے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔‘
2۔ 1 اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔
(آیت 3،2){ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّيْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو تین باتوں کا حکم دیا، پہلی یہ کہ بت پرستی اور ہر قسم کا شرک چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، یعنی ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔ اس کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کرو۔ تیسری بات یہ کہ میرا حکم مانو، کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ کی عبادت بھی وہی قبول ہے جو میرے بتائے ہوئے طریقے پر ہو گی۔ تینوں کا خلاصہ توحید، شریعتِ الٰہی کی پابندی اور اطاعت رسول ہے۔
(تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو
احمد رضا خان بریلوی
کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
کہ تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اور اس (کی مخالفت) سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ”دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو، گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو، جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ، میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔“ آیت «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [71-نوح:4] میں لفظ «مِّنْ» یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ «مِّنْ» زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے «قَدْ كَانَ مِنْ مَّطَرٍ» میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں «عن» کے ہو بلکہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ «مِّنْ» «إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ أَيْ يَغْفِر لَكُمْ الذُّنُوب الْعِظَام الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى اِرْتِكَابكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَام» کے لیے ہے یعنی ’ تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘ یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا۔ اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔} ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1908] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لیے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔‘
2۔ 1 اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی کی عبادت کرو۔ 2۔ 2 اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاسکتے ہو، 2۔ 3 یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔
اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا کاش تمہیں اِس کا علم ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی
احمد رضا خان بریلوی
وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور ایک مقرر میعاد تک تمہیں مہلت دے گا بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (خدا) تمہارے (پہلے) گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے گا (باقی رکھے گا) بےشک جب اللہ کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اسے مؤخر نہیں کیا جا سکتا کاش کہ تم (اس حقیقت کو) سمجھتے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور ایک مقرر وقت تک تمھیں مہلت دے گا۔ یقینا اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے تو مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش کہ تم جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ”دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو، گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو، جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ، میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔“ آیت «يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [71-نوح:4] میں لفظ «مِّنْ» یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ «مِّنْ» زائد آ جاتا ہے جیسے عرب کے مقولے «قَدْ كَانَ مِنْ مَّطَرٍ» میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ معنی میں «عن» کے ہو بلکہ ابن جریر رحمہ اللہ تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ «مِّنْ» «إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ أَيْ يَغْفِر لَكُمْ الذُّنُوب الْعِظَام الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى اِرْتِكَابكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَام» کے لیے ہے یعنی ’ تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘ یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہو جائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا۔ اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔} ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1908] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نیک اعمال اس سے پہلے کر لو کہ اللہ کا عذاب آ جائے اس لیے جب وہ آ جاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔‘
4۔ 1 اس کے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔
(آیت 4) ➊ { يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ: ” مِنْ “} کا معنی عام طور پر ”بعض“ ہوتا ہے، اس صورت میں معنی ہو گا ”اور وہ تمھارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔“ مگر اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کچھ گناہ تو پھر بھی باقی رہ گئے، ان کا کیا بنے گا؟اس کا ایک جواب وہ ہے جو امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے دیا ہے کہ یہاں {” مِنْ “ ”عَنْ“} کی جگہ آیا ہے اور {”جَمِيْعٌ“} کا معنی دے رہا ہے، گویا {” يَغْفِرْ “} کے ضمن میں {”يَصْفَحُ“} اور {”يَعْفُوْ“} کا معنی ملحوظ ہے: {”أَيْ يَعْفُوْ لَكُمْ عَنْ جَمِيْعِ ذُنُوْبِكُمْ“} ”یعنی وہ تمھارے سب گناہ معاف کر دے گا۔“ دوسرا یہ ہے کہ {” مِنْ “ ” بَعْضٌ“} ہی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر تم میری دعوت قبول کرکے ایمان لے آؤ گے تو تمھارے پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے، کیونکہ اسلام پہلے سب گناہ مٹا دیتا ہے، البتہ آئندہ کے لیے گناہوں سے بچتے رہنا، یہ نہ سمجھنا کہ ایمان لانے سے پہلے پچھلے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ➋ { وَ يُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی طبعی موت کا ایک وقت مقرر ہے، وہ کفر کی وجہ سے یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ ہرمومن و کافر پر آتی ہے۔ وہ تو اپنے مقرر وقت پر آکر رہے گی، البتہ ایمان لے آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب سے جو کفر کے نتیجے میں آتا ہے، تمھیں محفوظ رکھے گا۔ ➌ { اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ …:} اس مقرر وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ کاش! تمھیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ وقت آنے پر مہلت ختم ہو جائے گی، پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا تو تم اس سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ۔
اُس نے عرض کیا "اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا
مولانا محمد جوناگڑھی
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ع) (نوح(ع)) نے کہا اے مرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! بلاشبہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن بلایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
5۔ 1 یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔
(آیت 5){ قَالَ رَبِّ اِنِّيْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّ نَهَارًا:} نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سیکڑوں برس کی تبلیغ کے باوجود جب چند قلیل آدمیوں کے علاوہ کسی نے ایمان قبول نہ کیا اور نوح علیہ السلام ان سے ہر طرح سے مایوس ہو گئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔ اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی، یعنی کوئی وقت نہیں چھوڑاجس میں دعوت نہ دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح علیہ السلام نے جتنا لمبا عرصہ مسلسل دعوت میں گزارا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہر داعی اور عالم کو اسی جذبے اور محنت سے دعوت دینی چاہیے۔
مگر میری دعوت نے ان کے فرار (گریز) میں اور بھی اضافہ کیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو میرے بلانے نے دور بھاگنے کے سوا ان کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
6۔ 1 یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔
(آیت 6) {فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِيْۤ اِلَّا فِرَارًا:} مگر ان پر الٹا اثر ہوا، وہ ایمان قبول کرنے کے بجائے اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔
اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور ہٹ کی اور بڑا غرور کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ (وہ اس لائق ہوں کہ) تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لئے اور (اپنی روش پر) اڑے رہے اور بڑا تکبر کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے،انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا،بڑا تکبر کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔
(آیت 7) ➊ { وَ اِنِّيْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ …:} اس آیت میں تھوڑا سا حصہ حذف ہے، یعنی میں نے جب بھی انھیں دعوت دی کہ (ایمان لے آئیں، تاکہ اس کے نتیجے میں) تو انھیں معاف فرما دے تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، منہ سرکپڑوں میں لپیٹ لیے اور اپنی بات پر اڑ گئے…۔ یعنی ان کے پاس نوح علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی آپ کے دلائل کا سامنا کرنے کی ہمت تھی، ادھر وہ شرک چھوڑنے پر بھی تیار نہیں تھے اور نہ اپنی بڑائی سے دستبردار ہونے پر تیار تھے۔ نوح علیہ السلام کی بات ماننے میں ان کی سرداری، بڑائی اور چودھراہٹ میں فرق آتا تھا، اس لیے ان کی کوشش یہ تھی کہ نہ نوح علیہ السلام کی بات کانوں میں پڑے اور نہ ان کی نظر ان پر پڑے۔ غرض کسی صورت بھی ان سے آمنا سامنا نہ ہونے پائے، مبادا وہ پھر تبلیغ شروع کر دیں، اس لیے جیسے بھی ہو سکے ہر صورت منہ سر چھپا کر ان کے پاس سے نکل جائیں۔ ➋ {وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا:} نوح علیہ السلام کی قوم کا تکبر یہ تھا کہ انھوں نے حق بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ: ۹۱ ] ”جس کے دل میں ایک ذرّے کے برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ تکبر نہیں) اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق سے انکار کر دینا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8) {ثُمَّ اِنِّيْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا …:} جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انھیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انھیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انھیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جا سکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔
پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی
احمد رضا خان بریلوی
پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا اور آہستہ خفیہ بھی کہا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر میں نے انہیں (ہر طرح دعوت دی) کھلم کھلا بھی اور چپکے چپکے بھی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک میں نے انھیں کھلم کھلا دعوت دی اور میں نے انھیں چھپا کر دعوت دی، بہت چھپا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
9۔ 1 یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرساً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔
میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ) میں نے (ان سے) کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا، قوم نے کس کس طرح اعراض کیا، کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو نوح علیہ السلام بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ ”الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے حق سے روگردانی کرتے رہے، یہاں تک ہوا کہ میں نے ان سے کہا آؤ رب کی سنو تاکہ رب تمہیں بخشے لیکن انہوں نے میرے ان الفاظ کا سننا بھی گوارا نہ کیا، کان بند کر لیے۔“ یہی حال کفار قریش کا تھا کہ کلام اللہ کو سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے جیسے ارشاد ہے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] یعنی ’ کافرو نے کہا، اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ پڑھا جاتا ہو تو شور غل کرو تاکہ تم غالب رہو۔ ‘ قوم نوح نے جہاں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں وہاں اپنے منہ میں کپڑوں سے چھپا لیے تاکہ وہ پہچانے بھی نہ جائیں اور نہ کچھ سنیں اپنے شرک و کفر پر ضد کے ساتھ اڑ گئے اور اتباع حق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس سے بےپرواہی کی اور اسے حقیر جان کر تکبر سے پیٹھ پھیر لی۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”عام لوگوں کے مجمع میں بھی میں نے انہیں کہا سنا با آواز بلند ان کے کان کھول دیئے اور بسا اوقات ایک ایک کو چپکے چپکے بھی سمجھایا غرض تمام جتن کر لیے کہ یوں نہیں یوں سمجھ جائیں اور اور یوں نہیں تو یوں راہ راست پر آ جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کم از کم تم اپنی بدکاریوں سے توبہ ہی کر لو وہ اللہ غفار ہے، ہر جھکنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے اور خواہ اس سے کیسے ہی بد سے بدتر اعمال سرزد ہوئے ہوں ایک آن میں معاف فرما دیتا ہے، یہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ تمہیں تمہارے استغفار کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور درد و دکھ سے بچا لے گا وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ یہ یاد رہے کہ قحط سالی کے موقعہ پر جب نماز استسقاء کے لیے مسلمان نکلیں تو مستحب ہے کہ اس نماز میں اس سورت کو پڑھیں، اس کی ایک دلیل تو یہی آیت ہے دوسرے خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فعل بھی یہی ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ بارش مانگنے کے لیے جب آپ نکلے تو منبر پر چڑھ کر آپ نے خوب استغفار کیا اور استغفار والی آیتوں کی تلاوت کی، جن میں ایک آیت یہ «فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:10] بھی تھی۔ پھر فرمانے لگے کہ بارش کو میں نے بارش کی تمام راہوں سے جو آسمان میں ہیں طلب کر لیا ہے یعنی وہ احکام ادا کئے ہیں، جن سے اللہ بارش نازل فرمایا کرتا ہے۔
10۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔ 10۔ 2 وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔
(آیت 10) {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ …:} چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، (ظاہر ہے ایمان لانے کے بعد ہی بخشش مانگنے کا مرحلہ آتا ہے) یقینا وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔ {” كَانَ “} دوام اور استمرار کے لیے ہے، یعنی بخشنا اور معاف کرنا ہمیشہ سے اس کی صفت رہی ہے، پھر کسی واسطے یا وسیلے سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے، اپنے رب سے خود ہی معافی مانگ لو، وہ تمھیں بخش دے گا۔ جب معافی مل گئی تو آخرت میں سزا سے بچ جاؤ گے۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
11۔ 1 بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورة نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر)
(آیت 12،11) {يُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے بخشش مانگنے سے صرف تمھاری آخرت ہی درست نہیں ہو گی بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بے شمار نعمتیں عطا فرمائے گا، وہ تم پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا، قسم قسم کے مالوں کے ساتھ اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں باغات اور نہریں عطا فرمائے گا۔ نوح علیہ السلام کے علاوہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیھم السلام نے بھی اپنی اپنی قوم کو ایمان و استغفار سے آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے علاوہ ان سے حاصل ہونے والی دنیوی برکتیں بھی بتائیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳، ۵۲)، مائدہ (۶۶) اور سورۂ اعراف (۹۶)۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ بارش کی ضرورت ہو یا مال و اولاد کی یا کسی بھی نعمت کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیے۔ اس مقام پر تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ لکھا ہوا ہے کہ وہ استسقا کے لیے نکلے تو انھوں نے استغفار سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور واپس آگئے۔ لوگوں نے پوچھا: ”امیر المومنین! ہم نے آپ کو بارش کی دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ تو فرمایا: ”میں نے آسمان کو حرکت دینے والی ان چیزوں کے ذریعے سے بارش طلب کی ہے جن کے ذریعے سے بارش کا سوال کیا جاتا ہے۔“ پھر یہ آیت اور سورۂ ہود کی آیت (۵۲): «وَ يَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ» پڑھی۔ تفسیر طبری میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ شعبی سے روایت کیا گیا ہے، جن کی ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس لیے یہ واقعہ پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا اور امیر المومنین سے امید بھی نہیں کہ وہ بارش کی دعا کے لیے نکلے ہوں اور مسنون طریقہ پر نماز اور دعا کے بغیر صرف استغفار کرکے واپس آگئے ہوں۔ صحیح بخاری (۱۰۱۰) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بارش کی دعا کرنا اور عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروانا موجود بھی ہے۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ دعائے استسقا میں بھی استغفار زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے، مگر ہر مقام پر استغفار اس طریقے سے کیا جائے گا جس طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں قرار دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں باغات عطا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کردے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
12۔ 1 یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال ودولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کی پروانہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
13۔ 1 یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
(آیت 13) {مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا: ” لَا تَرْجُوْنَ “ ”رَجَا يَرْجُوْ رَجَاءً“} (ن) امید رکھنا۔ اس کا معنی عقیدہ رکھنا اور ڈرنا بھی آتا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اور امید آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ امید اسی چیز کی ہوتی ہے جس کے موجود ہونے کا عقیدہ ہو اور امید کا مطلب ہی یہ ہے کہ خوف بھی موجود ہے۔ {” وَقَارًا “} کا معنی عظمت ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تمھیں کیا ہے کہ اپنے بتوں کی عظمت تو تمھارے دلوں میں بہت ہے، مگر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتے؟ دوسرا معنی ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ اگر تم اس کے وقار وعظمت کے معتقد ہوتے اور تمھیں اس کا خوف ہوتا تو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو کبھی شریک نہ بناتے جو اس کے مقابلے میں کوئی وقار اور کوئی عظمت نہیں رکھتیں۔
حالانکہ یقینا اس نے تمھیں مختلف حالتوں میں پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
14۔ 1 پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ (بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ښ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ) 21۔ الانبیاء:5)، (اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاۗءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَاۗءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ 68ۡ) 23۔ المؤمنون:68) وغیرھا میں تفصیل گزری۔
(آیت 14) {وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا:} یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے دلائل خود تمھاری ذات میں موجود ہیں، اس نے تمھیں مختلف اطوار میں پیدا فرمایا ہے۔ پہلے مٹی، پھر نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر ان پر گوشت، پھر بہترین شکل و صورت کا انسان، جس کا ہر روز نئے سے نیا طور (انداز) ہوتا ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، پھر موت، اتنے اطوار کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے!؟ اگر تم ایسے خالق کی عظمت کا خیال نہ کرو اور اس کے حضور پیش ہونے کو محال سمجھتے رہو تو کتنے تعجب کی بات ہے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورۂ حج (6،5) اور سورۂ مومنون (۱۴تا۱۶) میں بھی بیان ہوئی ہے۔ {” خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا “} کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمھیں مختلف انداز میں پیدا فرمایا کہ کوئی ایک شخص بھی شکل و صورت، قد و قامت، رنگ روپ، آواز اور ذہنی صلاحیت، غرض کسی بھی چیز میں دوسرے سے نہیں ملتا۔ یہی مفہوم سورۂ روم (۲۲) میں بیان ہوا ہے۔
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہہ بر تہہ بنا ئے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
15۔ 1 جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
(آیت 15تا20) {اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گردو پیش ان کی ضرورتوں کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیاکہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کر دیا اور تمھاری سہولت کے لیے اس میں گھاٹیاں اور کشادہ رستے بنا دیے۔ یہ تمام انتظام اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمھیں پہلے زمین سے پیدا کیا ہے اسی طرح زمین میں دفن کرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس کے علاوہ تمھاری ضرورت کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں، تمھارے معبودانِ باطلہ نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا، تم نے دونوں کو برابر کیسے سمجھ لیا؟
اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں چاند کو روشن کیا اور سورج کو چراغ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
16۔ 1 جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کرسکے۔
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں خاص طرح زمین سے اگایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھیں زمین سے اگایا، خاص طریقے سے اگانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔
پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا اور دبارہ نکالے گا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر تمہیں اس میں لوٹائے گا اور پھر اسی سے (دوبارہ) نکالے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر دوبارہ وہ تمھیں اس میں لوٹائے گا اور تمھیں نکالے گا، خاص طریقے سے نکالنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
18۔ 1 یعنی، مر کر پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔
اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے ہی تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے تمھارے لیے زمین کو ایک فرش بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
استغفار اور باران رحمت ٭٭
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
19۔ 1 یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔
یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘
انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭
پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔
20۔ 1 یعنی اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکے اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے جس کا انتظام کرکے اللہ نے انسانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔
نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اُنہوں نے میری بات رد کر دی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی اور ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا
علامہ محمد حسین نجفی
نوح(ع) نے(بارگاہِ خداوندی میں) عرض کیا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی ہے اور ان (بڑے) لوگوں کی پیروی کی ہے جن کے مال و اولاد نے ان کے خسارے میں اضافہ کیا ہے (اور کوئی فائدہ نہیں پہنچایا)۔
عبدالسلام بن محمد
نوح نے کہا اے میرے رب! بے شک انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اس کے پیچھے چل پڑے جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا اس کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم ٭٭
نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭
محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔
21۔ 1 لوگ میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے۔ یعنی ان کے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔
(آیت 21) {قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِيْ …:} یہ نوح علیہ السلام کی دوسری شکایت ہے کہ اے میرے رب! انھوں نے میرا کہنا نہیں مانا اور ان سرداروں اور مال داروں کے پیچھے لگ گئے جنھیں تو نے مال اور اولاد عطا فرمائی، مگر وہ مال و اولاد انھیں کوئی فائدہ پہنچانے کے بجائے ان کے لیے اور زیادہ خسارے کا باعث بن گئے، کیونکہ اس مال و اولاد کے غرور ہی کی وجہ سے انھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اسی مال و اولاد کو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرکے قوم کو بہکایا اور یہی مال خرچ کرکے لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کافروں کو جتنا مال و اولاد یا نعمتیں ملیں درحقیقت ان کے لیے عذاب ہی کا سامان ہے، کیونکہ اس سے وہ مزید غفلت و سرکشی اختیار کرکے جہنم کا ایندھن بنتے ہیں۔
نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭
محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔
22۔ 1 یہ مکر یا فریب کیا تھا بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح ؑ کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں آتیں؟ بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی بڑا مکر تھا۔
(آیت 22) {وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا: ” كُبَّارًا “} (باء کی تشدید کے ساتھ) میں {”كُبَارٌ“} (باء کی تشدید کے بغیر) سے زیادہ مبالغہ ہے اور{”كُبَارٌ“} میں {”كَبِيْرٌ“} سے زیادہ مبالغہ ہے، یعنی انھوں نے بہت ہی بڑی بڑی خفیہ تدبیریں کیں۔ {” مَكْرًا “} جنس ہے، اس سے صرف ایک ہی مکر مراد نہیں۔ یہ اسی قسم کے حربے تھے جو ہمیشہ کسی قوم کے چودھری اور مال دار لوگ اپنے اقتدار کی خاطر اہلِ حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ قرآن میں ان میں سے کئی حربے مذکور ہیں، مثلاً یہ کہ اگر نوح (علیہ السلام) اللہ کا نبی ہوتا تو فرشتہ ہوتا، یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس کے پیرو کار نیچ لوگ ہیں، اگر یہ رسول ہوتا تو اس کے پاس خزانے ہوتے، بڑے بڑے لوگ اس کے ساتھ ہوتے، یہ غیب جانتا ہوتا، یہ تو بس سرداری چاہتا ہے، یہ دیوانہ ہے وغیرہ۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ اعراف، سورۂ ہود اور سورۂ مومنون وغیرہ میں نوح علیہ السلام کے واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی یہی حربے استعمال کیے گئے۔
اِنہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے(عام لوگوں سے) کہا کہ (نوح(ع) کے کہنے پر) اپنے خداؤں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور نہ ہی وَد اور سُواع کو چھوڑو اور نہ ہی یغوث و یعوق اور نسر کو چھوڑو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوںکو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم ٭٭
نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭
محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔
23۔ 1 یہ قوم نوح ؑ کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح ؑ کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی (صحیح بخاری)
(آیت 23) ➊ {وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ …:} ساڑھے نو سو سال میں اللہ بہتر جانتا ہے کتنی ہی نسلیں ختم ہوئیں اور کتنی نئی پیدا ہوئیں، مگر ہر پہلا پچھلے کو جیتے جی اور مرتے وقت یہی تاکید کرتا رہا کہ دیکھنا! نوح کے کہنے پر وَدّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کی عبادت ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ وہ پانچ بت تھے جن کی عبادت قومِ نوح کرتی تھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ (بطور یادگار) جن مجلسوں میں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کے بت نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھ دو، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا تو اس وقت ان کی عبادت نہیں کی گئی، یہاں تک کہ جب وہ (بطور یاد گار بت نصب کرنے والے) فوت ہوگئے اور (کسی کو اس بات کا) علم نہ رہا تو ان بتوں کی عبادت ہونے لگی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «ودا ولا سواعا…» : ۴۹۲۰ ] اس روایت سے معلوم ہوا کہ بت پرستی کا اصل باعث اکابر کی محبت میں غلو اور ان کے مجسّمے بنا کر انھیں نصب کرنا تھا۔ شریعت میں تصویر کی حرمت کے دیگر اسباب کے علاوہ ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کی اسی روایت میں جو اوپر گزری ہے، مذکور ہے کہ یہی بت جو قوم نوح میں تھے بعد میں عرب کے اندر آگئے۔ ”وَدّ“ دومۃ الجندل میں کلب قبیلے کا بت تھا، ”سواع“ ہذیل کا تھا، ”یغوث“ مراد قبیلے کا پھر (اس کی شاخ) بنو غطیف کا تھا، جو سبا کے قریب وادیٔ جرف میں (آباد) تھے۔ ”یعوق“ ہمدان کا اور ”نسر“ حمیر کا تھا جو ذوالکلاع کی آل تھے۔ [ بخاري، أیضًا ] یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے طوفان کے بعد جس میں تمام مشرک غرق کر دیے گئے، وہ بت کیسے باقی رہ گئے اور دوبارہ ان کی پرستش کیسے شروع ہو گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان قدرتی طور پر اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کا شوق رکھتا ہے، چنانچہ علم تاریخ اسی شوق کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے ساتھ باقی بچنے والے اہلِ ایمان سے بعد والی نسلوں نے ان بزرگوں کی نیکی اور کرامتوں کے واقعات سنے، وقت گزرنے کے ساتھ جب جہالت کا غلبہ ہوا تو شیطان نے ان کے ہاتھوں آثار قدیمہ کے طور پر وہی بت نکلوا کر یا ان سے ان اکابر کے فرضی مجسّمے بنوا کر، جیسا کہ نصرانیوں نے مسیح اور مریم علیھما السلام کے فرضی مجسّمے بنا رکھے ہیں، دوبارہ ان کی عبادت شروع کروا دی۔ بہر حال یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان پانچوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور باقاعدہ ان کے آستانے موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث میں گزرا ہے۔ عرب میں عبد وَدّ اور عبد یغوث وغیرہ نام بھی ملتے ہیں۔ ➋ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”واقدی کا بیان ہے کہ {”وَدّ“} ایک آدمی کی شکل میں، ”سواع“ عورت کی شکل میں، ”یغوث“ شیر کی صورت میں، ”یعوق“ گھوڑے کی شکل میں اور ”نسر“ ایک پرندے کی صورت میں تھا، مگر یہ شاذ ہے۔ مشہور یہی ہے کہ یہ سب انسانی شکل میں تھے اور ان کی عبادت کے آغاز کا جو سبب بیان ہوا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔“ (فتح الباری) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی بات نوح علیہ السلام کے زمانے کے بتوں کے متعلق تو یقینا درست ہے، مگر بعد میں جب فرضی بت بنائے گئے تو ممکن ہے کہ ان جانوروں کی شکل پر بنائے گئے ہوں، جیسا کہ مشرک قوموں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو شرک سے بچانے کے لیے ان دروازوں کو بھی بند کرنے کا حکم دیا جہاں سے شرک داخل ہو سکتا ہے۔ قبر پرستی کے فتنے کی ابتدا قبروں پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے سے ہوتی ہے اور بت پرستی کی ابتدا تصویریں اور مجسّمے بنانے سے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں چیزوں سے منع فرمایا اور اونچی قبروں کو (دوسری قبروں کے) برابر کر دینے اور ہر تصویر کو مٹا دینے کا حکم دیا۔ ابو الہیاج اسدی فرماتے ہیں کہ مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ ] [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] ”کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر کرکے نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا؟ وہ یہ تھا کہ کوئی مورتی نہ چھوڑو مگر اسے مٹا دو اور نہ کوئی اونچی قبر مگر اسے برابر کر دو۔“
انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا اور تو ظالموں کو زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے (یا اللہ) تو بھی ان کی گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیااور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم ٭٭
نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭
محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔
24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا۔
(آیت 24) {وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا …:} یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔{” وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا “} (اور ان ظالموں کو گمراہی کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لیے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے آل فرعون کے حق میں یہی بددعا کی تھی: «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ» [ یونس: ۸۸ ] ”اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ ضمیر کی جگہ {” الظّٰلِمِيْنَ “} کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔
اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا
احمد رضا خان بریلوی
اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ) وہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کر دئیے گئے پھر آگ میں ڈال دئیے گئے پھر انہوں نے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والے کوئی مددگار نہ پا ئے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے گناہوں ہی کی وجہ سے وہ غرق کیے گئے، پس آگ میں داخل کیے گئے، پھر انھوں نے اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی مدد کرنے والے نہ پائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ’ اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا۔ ‘ جیسے فرمان ہے «قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:43] یعنی ’ آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جس پر اللہ رحم کرے۔ ‘ نوح علیہ السلام ان بدنصیبوں کی اپنے قادر و ذوالجلال اللہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا رکھ کر فریاد کرتے ہیں اور اس مالک سے ان پر آفت و عذاب نازل کرنے کی درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ اب تو ان ناشکروں میں سے ایک کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔“ اور یہی ہوا بھی کہ سارے کے سارے غرق کر دیئے گئے یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا جو باپ سے الگ رہا تھا وہ بھی نہ بچ سکا، سمجھا تو یہ تھا کہ پانی میرا کیا بگاڑ لے گا میں کسی بڑے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ پانی تو نہ تھا، وہ تو غضب الٰہی تھا، وہ تو بد دعائے نوح تھا، اس سے بھلا کون بچا سکتا تھا؟ پانی نے اسے وہیں جا لیا اور اپنے باپ کے سامنے باتیں کرتے کرتے ڈوب گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر طوفان نوح میں اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو اس کے لائق وہ عورت تھی جو پانی کو ابلتے اور برستے دیکھ کر اپنے بچے کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی آ گیا ہے تو بچے کو اٹھا کر اپنے مونڈھے پر بٹھا لیا جب پانی وہاں پہنچا تو اس نے بچے کو سر پر اٹھا لیا، جب پانی سر تک جا چڑھا تو اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سر سے بلند کر لیا لیکن آخر پانی وہاں تک جا پہنچا اور ماں بیٹا ڈوب گئے، اگر اس دن زمین کے کافروں میں سے کوئی بھی قابل رحم ہوتا تو یہ عورت تھی مگر یہ بھی نہ بچ سکی نہ ہی بیٹے کو بچا سکی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] یہ حدیث غریب ہے لیکن راوی اس کے سب ثقہ ہیں۔
الغرض روئے زمین کے کافر غرق کر دیئے گئے۔ صرف وہ باایمان ہستیاں باقی رہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں تھیں اور نوح علیہ السلام نے انہیں اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ چونکہ نوح علیہ السلام کو سخت تلخ اور دیرینہ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے اپنی ناامیدی کو ظاہر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا الٰہی میری چاہت ہے کہ ان تمام کفار کو برباد کر دیا جائے، ان میں سے جو بھی باقی بچ رہا وہی دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے گا اور جو نسل اس کی پھیلے گی وہ بھی اسی جیسی بدکار اور کافر ہو گی۔“ ساتھ ہی اپنے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ”میرے رب! مجھے بخش میرے والدین کو بخش اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں آ جائے اور ہو بھی وہ باایمان۔“ گھر سے مراد مسجد بھی لی ہے لیکن عام مراد یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مومن ہی کے ساتھ بیٹھو، رہو، سہو اور صرف پرہیزگار ہی تیرا کھانا کھائیں۔“ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف اسی اسناد سے یہ حدیث معروف ہے۔ پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”تمام ایماندار مرد و عورت کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ۔“ اسی لیے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ نوح علیہ السلام کی اقتدأ بھی ہو اور ان احادیث پر بھی عمل ہو جائے جو اس بارے میں ہیں اور وہ دعائیں بھی آ جائیں جو منقول ہیں۔ پھر دعا کے خاتمے پر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ان کافروں کو تو تباہی، بربادی، ہلاکت اور نقصان میں ہی بڑھاتا رہ، دنیا و آخرت میں برباد ہی رہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ نوح کی تفسیر بھی ختم ہو گئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) ➊ {مِمَّا خَطِيْٓـٰٔتِهِمْ اُغْرِقُوْا …:} یہ نوح علیہ السلام کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ جار مجرور پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی صرف اپنے گناہوں(کفر و معصیت) کی وجہ سے انھیں غرق کیا گیا۔ ان کے غرق ہونے کا تفصیلی واقعہ سورۂ ہود، سورۂ مومنون اور سورۂ عنکبوت وغیرہ میں مذکور ہے۔ {” فَاُدْخِلُوْا نَارًا “} پس وہ آگ میں داخل کیے گئے، ”فاء“ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ غرق ہوتے ہی انھیں آگ میں داخل کر دیا گیا، یعنی قیامت کے دن جہنم میں جانے سے پہلے برزخ و قبر ہی میں وہ آگ میں داخل کر دیے گئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آلِ فرعون کے متعلق فرمایا: «وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ (45) اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ» [ المؤمن: 46،45 ] ”اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے، اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔“ خلاصہ یہ کہ نوح علیہ السلام کی قوم اور آل فرعون کو پہلے پانی میں غرق کیا گیا، پانی کے عذاب کے بعد اس کا الٹ یعنی آگ کا عذاب قبر ہی میں شروع ہو گیا، پھر قیامت کے دن جہنم کے {” اَشَدَّ الْعَذَابِ “} میں داخل کیے جائیں گے۔ یہ آیت اور سورۂ مومن کی آیت عذابِ قبر کی زبردست دلیلیں ہیں۔ ➋ { فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا:} یعنی اللہ کے عذاب سے نہ انھیں کوئی سردار بچا سکا اور نہ ان کے پاک پنج تنوں میں سے کوئی ان کی مدد کر سکا۔
اور نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اِن کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ
احمد رضا خان بریلوی
اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نوح(ع) نے کہا اے میرے پروردگار! تو ان کافروں میں سے کوئی بھی رُوئے زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔
عبدالسلام بن محمد
اور نوح نے کہااے میرے رب! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ’ اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا۔ ‘ جیسے فرمان ہے «قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:43] یعنی ’ آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جس پر اللہ رحم کرے۔ ‘ نوح علیہ السلام ان بدنصیبوں کی اپنے قادر و ذوالجلال اللہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا رکھ کر فریاد کرتے ہیں اور اس مالک سے ان پر آفت و عذاب نازل کرنے کی درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ اب تو ان ناشکروں میں سے ایک کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔“ اور یہی ہوا بھی کہ سارے کے سارے غرق کر دیئے گئے یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا جو باپ سے الگ رہا تھا وہ بھی نہ بچ سکا، سمجھا تو یہ تھا کہ پانی میرا کیا بگاڑ لے گا میں کسی بڑے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ پانی تو نہ تھا، وہ تو غضب الٰہی تھا، وہ تو بد دعائے نوح تھا، اس سے بھلا کون بچا سکتا تھا؟ پانی نے اسے وہیں جا لیا اور اپنے باپ کے سامنے باتیں کرتے کرتے ڈوب گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر طوفان نوح میں اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو اس کے لائق وہ عورت تھی جو پانی کو ابلتے اور برستے دیکھ کر اپنے بچے کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی آ گیا ہے تو بچے کو اٹھا کر اپنے مونڈھے پر بٹھا لیا جب پانی وہاں پہنچا تو اس نے بچے کو سر پر اٹھا لیا، جب پانی سر تک جا چڑھا تو اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سر سے بلند کر لیا لیکن آخر پانی وہاں تک جا پہنچا اور ماں بیٹا ڈوب گئے، اگر اس دن زمین کے کافروں میں سے کوئی بھی قابل رحم ہوتا تو یہ عورت تھی مگر یہ بھی نہ بچ سکی نہ ہی بیٹے کو بچا سکی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] یہ حدیث غریب ہے لیکن راوی اس کے سب ثقہ ہیں۔
الغرض روئے زمین کے کافر غرق کر دیئے گئے۔ صرف وہ باایمان ہستیاں باقی رہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں تھیں اور نوح علیہ السلام نے انہیں اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ چونکہ نوح علیہ السلام کو سخت تلخ اور دیرینہ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے اپنی ناامیدی کو ظاہر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا الٰہی میری چاہت ہے کہ ان تمام کفار کو برباد کر دیا جائے، ان میں سے جو بھی باقی بچ رہا وہی دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے گا اور جو نسل اس کی پھیلے گی وہ بھی اسی جیسی بدکار اور کافر ہو گی۔“ ساتھ ہی اپنے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ”میرے رب! مجھے بخش میرے والدین کو بخش اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں آ جائے اور ہو بھی وہ باایمان۔“ گھر سے مراد مسجد بھی لی ہے لیکن عام مراد یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مومن ہی کے ساتھ بیٹھو، رہو، سہو اور صرف پرہیزگار ہی تیرا کھانا کھائیں۔“ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف اسی اسناد سے یہ حدیث معروف ہے۔ پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”تمام ایماندار مرد و عورت کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ۔“ اسی لیے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ نوح علیہ السلام کی اقتدأ بھی ہو اور ان احادیث پر بھی عمل ہو جائے جو اس بارے میں ہیں اور وہ دعائیں بھی آ جائیں جو منقول ہیں۔ پھر دعا کے خاتمے پر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ان کافروں کو تو تباہی، بربادی، ہلاکت اور نقصان میں ہی بڑھاتا رہ، دنیا و آخرت میں برباد ہی رہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ نوح کی تفسیر بھی ختم ہو گئی۔
26۔ 1 یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح ؑ ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے اور اللہ نے بھی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 36ښ) 11۔ ہود:36) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔
(آیت 27،26) {وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ …:} یہاں سے نوح علیہ السلام کی دعا کا بقیہ حصہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ زندہ رہے تو ان کی پشت سے کافر ہی پیدا ہوں گے؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے خود نوح علیہ السلام کو بتا دی تھی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اب کوئی شخص ایمان قبول نہیں کرے گا۔ (دیکھیے ہود: ۳۶) یہ بات معلوم ہونے کے بعد نوح علیہ السلام نے دعاکی کہ یااللہ! زمین پر ان کافروں میں سے ایک ”دیار“ بھی باقی نہ چھوڑ۔ {” دَيَّارًا “ ”فَيْعَالٌ“} کے وزن پر ہے، یہ {”دَارَ يَدُوْرُ دَوْرًا“} (گھومنا) سے ہو تو معنی ہو گا، ایک پھرنے والا بھی نہ چھوڑ اور اگر {”دَارٌ“} (گھر) سے مشتق ہو تو معنی ہے، گھر میں بسنے والا ایک فرد بھی باقی نہ چھوڑ۔
اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تو انہیں چھوڑے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرینگے اور بدکار اور سخت کافر کے سوا کسی اور کو جنم نہیں دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تو اگر انھیں چھوڑے رکھے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور کسی نافرمان، سخت منکر کے سوا کسی کو نہیں جنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ’ اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا۔ ‘ جیسے فرمان ہے «قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:43] یعنی ’ آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جس پر اللہ رحم کرے۔ ‘ نوح علیہ السلام ان بدنصیبوں کی اپنے قادر و ذوالجلال اللہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا رکھ کر فریاد کرتے ہیں اور اس مالک سے ان پر آفت و عذاب نازل کرنے کی درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ اب تو ان ناشکروں میں سے ایک کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔“ اور یہی ہوا بھی کہ سارے کے سارے غرق کر دیئے گئے یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا جو باپ سے الگ رہا تھا وہ بھی نہ بچ سکا، سمجھا تو یہ تھا کہ پانی میرا کیا بگاڑ لے گا میں کسی بڑے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ پانی تو نہ تھا، وہ تو غضب الٰہی تھا، وہ تو بد دعائے نوح تھا، اس سے بھلا کون بچا سکتا تھا؟ پانی نے اسے وہیں جا لیا اور اپنے باپ کے سامنے باتیں کرتے کرتے ڈوب گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر طوفان نوح میں اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو اس کے لائق وہ عورت تھی جو پانی کو ابلتے اور برستے دیکھ کر اپنے بچے کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی آ گیا ہے تو بچے کو اٹھا کر اپنے مونڈھے پر بٹھا لیا جب پانی وہاں پہنچا تو اس نے بچے کو سر پر اٹھا لیا، جب پانی سر تک جا چڑھا تو اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سر سے بلند کر لیا لیکن آخر پانی وہاں تک جا پہنچا اور ماں بیٹا ڈوب گئے، اگر اس دن زمین کے کافروں میں سے کوئی بھی قابل رحم ہوتا تو یہ عورت تھی مگر یہ بھی نہ بچ سکی نہ ہی بیٹے کو بچا سکی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] یہ حدیث غریب ہے لیکن راوی اس کے سب ثقہ ہیں۔
الغرض روئے زمین کے کافر غرق کر دیئے گئے۔ صرف وہ باایمان ہستیاں باقی رہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں تھیں اور نوح علیہ السلام نے انہیں اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ چونکہ نوح علیہ السلام کو سخت تلخ اور دیرینہ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے اپنی ناامیدی کو ظاہر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا الٰہی میری چاہت ہے کہ ان تمام کفار کو برباد کر دیا جائے، ان میں سے جو بھی باقی بچ رہا وہی دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے گا اور جو نسل اس کی پھیلے گی وہ بھی اسی جیسی بدکار اور کافر ہو گی۔“ ساتھ ہی اپنے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ”میرے رب! مجھے بخش میرے والدین کو بخش اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں آ جائے اور ہو بھی وہ باایمان۔“ گھر سے مراد مسجد بھی لی ہے لیکن عام مراد یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مومن ہی کے ساتھ بیٹھو، رہو، سہو اور صرف پرہیزگار ہی تیرا کھانا کھائیں۔“ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف اسی اسناد سے یہ حدیث معروف ہے۔ پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”تمام ایماندار مرد و عورت کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ۔“ اسی لیے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ نوح علیہ السلام کی اقتدأ بھی ہو اور ان احادیث پر بھی عمل ہو جائے جو اس بارے میں ہیں اور وہ دعائیں بھی آ جائیں جو منقول ہیں۔ پھر دعا کے خاتمے پر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ان کافروں کو تو تباہی، بربادی، ہلاکت اور نقصان میں ہی بڑھاتا رہ، دنیا و آخرت میں برباد ہی رہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ نوح کی تفسیر بھی ختم ہو گئی۔
میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی
علامہ محمد حسین نجفی
اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور ہر اس شخص کو بخش دے جو مؤمن ہو کر میرے گھر میں داخل ہو اور سب مؤمنین و مؤمنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ’ اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور کوئی نہ کھڑا ہوا جو انہیں ان عذابوں سے بچا سکتا۔ ‘ جیسے فرمان ہے «قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:43] یعنی ’ آج کے دن عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جس پر اللہ رحم کرے۔ ‘ نوح علیہ السلام ان بدنصیبوں کی اپنے قادر و ذوالجلال اللہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا رکھ کر فریاد کرتے ہیں اور اس مالک سے ان پر آفت و عذاب نازل کرنے کی درخواست پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ اب تو ان ناشکروں میں سے ایک کو بھی زمین پر چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔“ اور یہی ہوا بھی کہ سارے کے سارے غرق کر دیئے گئے یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا جو باپ سے الگ رہا تھا وہ بھی نہ بچ سکا، سمجھا تو یہ تھا کہ پانی میرا کیا بگاڑ لے گا میں کسی بڑے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ پانی تو نہ تھا، وہ تو غضب الٰہی تھا، وہ تو بد دعائے نوح تھا، اس سے بھلا کون بچا سکتا تھا؟ پانی نے اسے وہیں جا لیا اور اپنے باپ کے سامنے باتیں کرتے کرتے ڈوب گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر طوفان نوح میں اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو اس کے لائق وہ عورت تھی جو پانی کو ابلتے اور برستے دیکھ کر اپنے بچے کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پہاڑ پر چڑھ گئی جب پانی وہاں بھی آ گیا ہے تو بچے کو اٹھا کر اپنے مونڈھے پر بٹھا لیا جب پانی وہاں پہنچا تو اس نے بچے کو سر پر اٹھا لیا، جب پانی سر تک جا چڑھا تو اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سر سے بلند کر لیا لیکن آخر پانی وہاں تک جا پہنچا اور ماں بیٹا ڈوب گئے، اگر اس دن زمین کے کافروں میں سے کوئی بھی قابل رحم ہوتا تو یہ عورت تھی مگر یہ بھی نہ بچ سکی نہ ہی بیٹے کو بچا سکی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] یہ حدیث غریب ہے لیکن راوی اس کے سب ثقہ ہیں۔
الغرض روئے زمین کے کافر غرق کر دیئے گئے۔ صرف وہ باایمان ہستیاں باقی رہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں تھیں اور نوح علیہ السلام نے انہیں اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ چونکہ نوح علیہ السلام کو سخت تلخ اور دیرینہ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے اپنی ناامیدی کو ظاہر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا الٰہی میری چاہت ہے کہ ان تمام کفار کو برباد کر دیا جائے، ان میں سے جو بھی باقی بچ رہا وہی دوسروں کی گمراہی کا باعث بنے گا اور جو نسل اس کی پھیلے گی وہ بھی اسی جیسی بدکار اور کافر ہو گی۔“ ساتھ ہی اپنے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں ”میرے رب! مجھے بخش میرے والدین کو بخش اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں آ جائے اور ہو بھی وہ باایمان۔“ گھر سے مراد مسجد بھی لی ہے لیکن عام مراد یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مومن ہی کے ساتھ بیٹھو، رہو، سہو اور صرف پرہیزگار ہی تیرا کھانا کھائیں۔“ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف اسی اسناد سے یہ حدیث معروف ہے۔ پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”تمام ایماندار مرد و عورت کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ۔“ اسی لیے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ نوح علیہ السلام کی اقتدأ بھی ہو اور ان احادیث پر بھی عمل ہو جائے جو اس بارے میں ہیں اور وہ دعائیں بھی آ جائیں جو منقول ہیں۔ پھر دعا کے خاتمے پر کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ان کافروں کو تو تباہی، بربادی، ہلاکت اور نقصان میں ہی بڑھاتا رہ، دنیا و آخرت میں برباد ہی رہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ نوح کی تفسیر بھی ختم ہو گئی۔
28۔ 1 کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ 28۔ 2 یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔
(آیت 28) {رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ …:} اس آیت میں نوح علیہ السلام کی اس دعائے مغفرت کا ذکر ہے جو انھوں نے اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور ان اہلِ ایمان کے لیے کی جو عذاب کی پیش گوئی سچ مان کر اس سے بچنے اور کشتی میں سوار ہونے کے لیے ان کے گھر جمع ہو گئے تھے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے پہلے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کی اور کافروں کے لیے مزید ہلاکت کی بد دعا کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام کے والدین موحد تھے۔