بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ نوح — Surah Nuh
آیت نمبر 23
کل آیات: 28
قرآن کریم نوح آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ نوح islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا ﴿ۚ۲۳﴾
اِنہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)
اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو
اور انہوں نے(عام لوگوں سے) کہا کہ (نوح(ع) کے کہنے پر) اپنے خداؤں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور نہ ہی وَد اور سُواع کو چھوڑو اور نہ ہی یغوث و یعوق اور نسر کو چھوڑو۔
اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوںکو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم ٭٭

نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ‏‏‏‏ ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] ‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭

محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ‏‏‏‏ ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ‏‏‏‏ ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔

📖 احسن البیان

23۔ 1 یہ قوم نوح ؑ کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح ؑ کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ {وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ …:} ساڑھے نو سو سال میں اللہ بہتر جانتا ہے کتنی ہی نسلیں ختم ہوئیں اور کتنی نئی پیدا ہوئیں، مگر ہر پہلا پچھلے کو جیتے جی اور مرتے وقت یہی تاکید کرتا رہا کہ دیکھنا! نوح کے کہنے پر وَدّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کی عبادت ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ وہ پانچ بت تھے جن کی عبادت قومِ نوح کرتی تھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ (بطور یادگار) جن مجلسوں میں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کے بت نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھ دو، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا تو اس وقت ان کی عبادت نہیں کی گئی، یہاں تک کہ جب وہ (بطور یاد گار بت نصب کرنے والے) فوت ہوگئے اور (کسی کو اس بات کا) علم نہ رہا تو ان بتوں کی عبادت ہونے لگی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏ودا ولا سواعا…» : ۴۹۲۰ ] اس روایت سے معلوم ہوا کہ بت پرستی کا اصل باعث اکابر کی محبت میں غلو اور ان کے مجسّمے بنا کر انھیں نصب کرنا تھا۔ شریعت میں تصویر کی حرمت کے دیگر اسباب کے علاوہ ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کی اسی روایت میں جو اوپر گزری ہے، مذکور ہے کہ یہی بت جو قوم نوح میں تھے بعد میں عرب کے اندر آگئے۔ ”وَدّ“ دومۃ الجندل میں کلب قبیلے کا بت تھا، ”سواع“ ہذیل کا تھا، ”یغوث“ مراد قبیلے کا پھر (اس کی شاخ) بنو غطیف کا تھا، جو سبا کے قریب وادیٔ جرف میں (آباد) تھے۔ ”یعوق“ ہمدان کا اور ”نسر“ حمیر کا تھا جو ذوالکلاع کی آل تھے۔ [ بخاري، أیضًا ] یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے طوفان کے بعد جس میں تمام مشرک غرق کر دیے گئے، وہ بت کیسے باقی رہ گئے اور دوبارہ ان کی پرستش کیسے شروع ہو گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان قدرتی طور پر اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کا شوق رکھتا ہے، چنانچہ علم تاریخ اسی شوق کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے ساتھ باقی بچنے والے اہلِ ایمان سے بعد والی نسلوں نے ان بزرگوں کی نیکی اور کرامتوں کے واقعات سنے، وقت گزرنے کے ساتھ جب جہالت کا غلبہ ہوا تو شیطان نے ان کے ہاتھوں آثار قدیمہ کے طور پر وہی بت نکلوا کر یا ان سے ان اکابر کے فرضی مجسّمے بنوا کر، جیسا کہ نصرانیوں نے مسیح اور مریم علیھما السلام کے فرضی مجسّمے بنا رکھے ہیں، دوبارہ ان کی عبادت شروع کروا دی۔ بہر حال یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان پانچوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور باقاعدہ ان کے آستانے موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث میں گزرا ہے۔ عرب میں عبد وَدّ اور عبد یغوث وغیرہ نام بھی ملتے ہیں۔ ➋ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”واقدی کا بیان ہے کہ {”وَدّ“} ایک آدمی کی شکل میں، ”سواع“ عورت کی شکل میں، ”یغوث“ شیر کی صورت میں، ”یعوق“ گھوڑے کی شکل میں اور ”نسر“ ایک پرندے کی صورت میں تھا، مگر یہ شاذ ہے۔ مشہور یہی ہے کہ یہ سب انسانی شکل میں تھے اور ان کی عبادت کے آغاز کا جو سبب بیان ہوا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔“ (فتح الباری) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی بات نوح علیہ السلام کے زمانے کے بتوں کے متعلق تو یقینا درست ہے، مگر بعد میں جب فرضی بت بنائے گئے تو ممکن ہے کہ ان جانوروں کی شکل پر بنائے گئے ہوں، جیسا کہ مشرک قوموں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو شرک سے بچانے کے لیے ان دروازوں کو بھی بند کرنے کا حکم دیا جہاں سے شرک داخل ہو سکتا ہے۔ قبر پرستی کے فتنے کی ابتدا قبروں پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے سے ہوتی ہے اور بت پرستی کی ابتدا تصویریں اور مجسّمے بنانے سے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں چیزوں سے منع فرمایا اور اونچی قبروں کو (دوسری قبروں کے) برابر کر دینے اور ہر تصویر کو مٹا دینے کا حکم دیا۔ ابو الہیاج اسدی فرماتے ہیں کہ مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ ] [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] ”کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر کرکے نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا؟ وہ یہ تھا کہ کوئی مورتی نہ چھوڑو مگر اسے مٹا دو اور نہ کوئی اونچی قبر مگر اسے برابر کر دو۔“
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →