بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ نوح — Surah Nuh
آیت نمبر 24
کل آیات: 28
قرآن کریم نوح آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ نوح islamicurdubooks.com ↗
وَ قَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾
انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے"
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا
اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا اور تو ظالموں کو زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے (یا اللہ) تو بھی ان کی گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔
اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیااور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم ٭٭

نوح علیہ السلام نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ ”میری پکار کو جو ان کے لیے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لیے سراسر وبال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے۔“ «وَلَدُهُ» کی دوسری قرأت «وَلَدَهُ» بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ «کُبَّارِ» اور «کِبَّار» دونوں معنی میں «کَِبْیر» کے ہیں یعنی بہت بڑا۔ قیامت کے دن بھی یہ لوگ یہی کہیں گے کہ «بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا» ۱؎ [34-سبأ:33] ‏‏‏‏ ’ تم دن رات مکاری سے ہمیں کفر و شرک کا حکم کرتے رہے اور انہی بڑوں نے ان چھوٹوں سے کہا کہ اپنے ان بتوں کو جنہیں تم پوجتے رہے ہرگز نہ چھوڑنا۔ ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ قوم نوح کے بتوں کو کفار عرب نے لے لیا دومتہ الجندل میں قبیلہ کلب ود کو پوجتے تھے، ہذیل قبیلہ سواع کا پرستار تھا اور قبیلہ مراد پھر قبیلہ بنو غطیف جو صرف کے رہنے والے تھے یہ شہر سبا بستی کے پاس ہے یغوث کی پوجا کرتا تھا، ہملان قبیلہ یعقوب کا پجاری تھا، آل ذی کلاع کا، قبیلہ حمیر نسر بت کا ماننے والا تھا، یہ سب بت دراصل قوم نوح کے صالح بزرگ اولیاء اللہ لوگ تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے اس زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی کہ ان بزرگوں کی عبادت گاہوں میں ان کی کوئی یادگار قائم کریں، چنانچہ انہوں نے وہاں نشان بنا دیئے اور ہر بزرگ کے نام پر انہیں مشہور کیا جب تک یہ لوگ زندہ رہے تب تک تو اس جگہ کی پرستش نہ ہوئی لیکن ان نشانات اور یادگار قائم کرنے والے لوگوں کو مر جانے کے بعد اور علم کے اٹھ جانے کے بعد جو لوگ آئے جہالت کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ ان جگہوں کی اور ان ناموں کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4920] ‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، ابن اسحاق رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

قوم نوح میں شرک کی ابتدأ ٭٭

محمد بنی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بزرگ عابد، اللہ والے، اولیاء اللہ، آدم علیہ السلام، اور نوح علیہ السلام کے سچے تابع فرمان صالح لوگ تھے جن کی پیروی اور لوگ بھی کرتے تھے جب یہ مر گئے تو ان کے مقتدیوں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنا لیں تو ہمیں عبادت میں خوب دلچسپی رہے گی اور ان بزرگوں کی صورتیں دیکھ کر شوق عبادت بڑھتا رہے گا چنانچہ ایسا ہی کیا جب یہ لوگ بھی مر کھپ گئے اور ان کی نسلیں آئیں تو شیطان نے انہیں یہ گھٹی پلائی کہ تمہارے بڑے ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور انہیں سے بارش وغیرہ مانگتے تھے چنانچہ انہوں نے اب باقاعدہ ان بزرگوں کی تصویروں کی پرستش شروع کر دی۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ شیث علیہ السلام کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آدم علیہ السلام کے چالیس بچے تھے، بیس لڑکے، بیس لڑکیاں ان میں سے جن کی بڑی عمریں ہوئیں ان میں ہابیل، قابیل، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا اور ود تھا جنہیں شیث اور ھبتہ اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ تمام بھائیوں نے سرداری انہیں کو دے رکھی تھی۔ ان کی اولاد یہ چاروں تھے یعنی سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی بیماری کے وقت ان کی اولاد ود، یغوث، یعوق، سواع اور نسر تھی۔ ود ان سب میں بڑا اور سب سے نیک سلوک کرنے والا تھا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جعفر رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگوں نے یزید بن مہلب کا ذکر کیا آپ نے فارغ ہو کر فرمایا سنو وہ وہاں قتل کیا گیا جہاں اب سے پہلے غیر اللہ کی پرستش ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک دیندار ولی اللہ مسلمان جسے لوگ بہت چاہتے تھے اور بڑے معتقد تھے وہ مر گیا، یہ لوگ مجاور بن کر اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور رونا پیٹنا اور اسے یاد کرنا شروع کیا اور بڑے بے چین اور مصیبت زدہ ہو گئے، ابلیس لعین نے یہ دیکھ کر انسانی صورت میں ان کے پاس آ کر ان سے کہا کہ اس بزرگ کی یادگار کیوں قائم نہیں کر لیتے؟ جو ہر وقت تمہارے سامنے رہے اور تم اسے نہ بھولو سب نے اس رائے کو پسند کیا، ابلیس نے اس بزرگ کی تصویر بنا کر ان کے پاس کھڑی کر دی جسے دیکھ دیکھ کر یہ لوگ اسے یاد کرتے تھے اور اس کی عبادت کے تذکرے رہتے تھے، جب وہ سب اس میں مشغول ہو گئے تو ابلیس نے کہا تم سب کو یہاں آنا پڑتا ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کی بہت سی تصویریں بنا دوں تم انہیں اپنے اپنے گھروں میں ہی رکھ لو وہ اس پر بھی راضی ہوئے اور یہ بھی ہو گیا، اب تک صرف یہ تصویریں اور یہ بت بطور یادگار کے ہی تھے مگر ان کی دوسری پشت میں جا کر براہ راست ان ہی کی عبادت ہونے لگی اصل واقعہ سب فراموش کر گئے اور اپنے باپ دادا کو بھی ان کی عبادت کرنے والا سمجھ کر خود بھی بت پرستی میں مشغول ہو گئے، ان کا نام ود تھا اور یہی پہلا وہ بت ہے جس کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی۔ انہوں نے بہت مخلوق کو گمراہ کیا اس وقت سے لے کر اب تک عرب عجم میں اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش شروع ہو گئی اور اللہ کی مخلوق بہک گئی۔ چنانچہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا میں عرض کرتے ہیں «وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ» ۱؎ [14-إبراهيم:36-35] ‏‏‏‏ ’ میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یا الٰہی انہوں نے اکثر مخلوق کو بے راہ کر دیا۔‘ پھر نوح علیہ السلام اپنی قوم کے لیے بد دعا کرتے ہیں کیونکہ ان کی سرکشی ضد اور عداوت حق خوب ملاحظہ فرما چکے تھے، تو کہتے ہیں کہ الٰہی انہیں گمراہی میں اور بڑھا دے، جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا کی تھی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88] ‏‏‏‏ ’ پروردگار ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ‘ چنانچہ دعا نوح قبول ہوتی ہے اور قوم نوح بہ سبب اپنی تکذیب کے غرق کر دی جاتی ہے۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) {وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا …:} یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔{” وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا “} (اور ان ظالموں کو گمراہی کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لیے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے آل فرعون کے حق میں یہی بددعا کی تھی: «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۸۸ ] ”اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ ضمیر کی جگہ {” الظّٰلِمِيْنَ “} کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →