بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ نوح — Surah Nuh
آیت نمبر 15
کل آیات: 28
قرآن کریم نوح آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ نوح islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴿ۙ۱۵﴾
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں
کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک،
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہہ بر تہہ بنا ئے؟
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

استغفار اور باران رحمت ٭٭

نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے میری قوم کے لوگو تم اگر استغفار کرو گے تو بارش کے ساتھ ہی ساتھ رزق کی برکت بھی تمہیں ملے گی، زمین و آسمان کی برکتوں سے تم مالا مال ہو جاؤ گے، کھیتیاں خوب ہوں گی، جانوروں کے تھن دودھ سے پر رہیں گے، مال و اولاد میں ترقی ہو گی، قسم قسم کے پھلوں سے لدے پھندے باغات تمہیں نصیب ہوں گے، جن کے درمیان چاروں طرف اور بابرکت پانی کی ریل پیل ہو گی، ہر طرف نہریں اور دریا جاری ہو جائیں گے۔“ اس طرح رغبت دلا کر پھر ذرا خوف زدہ بھی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”تم اللہ کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کے عذاب سے بےباک کیوں ہو گئے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہیں کن کن حالات میں کس کس طرح حالت بدل بدل کر ساتھ پیدا کیا ہے؟ پہلے پانی کی بوند، پھر جامد خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اور صورت، پھر اور حالت وغیرہ۔“ اسی طرح دیکھو تو سہی کہ اس نے ایک پر ایک اس طرح آسمان پیدا کئے خواہ وہ صرف سننے سے ہی معلوم ہوئے ہوں یا ان وجوہ سے معلوم ہوئے ہوں جو محسوس ہیں جو ستاروں کی چال اور ان کے کسوف سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ اس علم والوں کا بیان ہے، گو اس میں بھی ان کا سخت تر اختلاف ہے کہ کواکب چلنے پھرنے والے بڑے بڑے سات ہیں۔ ایک ایک کو بے نور کر دیتا ہے، سب سے قریب آسمان دنیا میں چاند ہے جو دوسروں کو ماند کئے ہوئے ہے اور دوسرے آسمان پر عطارد ہے، تیسرے میں زہرہ ہے، چوتھے میں سورج ہے، پانچویں میں مریخ ہے، چھٹے میں مشتری، ساتویں میں زحل اور باقی کواکب جو ثوابت ہیں وہ آٹھویں میں ہیں جس کا نام یہ لوگ فلک ثوابت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو شرع والے ہیں وہ اسے کرسی کہتے ہیں اور نواں فلک ان کے نزدیک اطلس اور اثیر ہے جس کی حرکت ان کے خیال میں افلاک کی حرکت کے خلاف ہے اس لیے کہ دراصل اس کی حرکت اور حرکتوں کو مبداء ہے وہ مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتا ہے اور باقی سب آسمان مشرق سے مغرب کی طرف اور انہی کے ساتھ کواکب بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ لیکن سیاروں کی حرکت افلاک کی حرکت کے بالکل برعکس ہے وہ سب مغرب سے مشرق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ان میں کا ہر ایک اپنے آسمان کا پھیر اپنے مقدور کے مطابق کرتا ہے، چاند تو ہر ماہ میں ایک بار سورج ہر سال میں ایک بار زحل ہر تیس سال میں ایک مرتبہ۔ مدت کی یہ کمی بیشی با اعتبار آسمان کی لمبائی چوڑائی کے ہے ورنہ سب کی حرکت سرعت میں بالکل مناسبت رکھتی ہے۔

یہ خلاصہ ہے ان کی تمام تر باتوں کا جس میں ان میں آپس میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے نہ ہم اسے یہاں وارد کرنا چاہتے ہیں نہ اس کی تحقیق و تفتیش سے اس وقت کوئی غرض ہے مقصود صرف اس قدر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں اور وہ اوپر تلے ہیں، پھر ان میں سورج چاند پیدا کیا ہے، دونوں کی چمک دمک اور روشنی اور اجالا الگ الگ ہے جس سے دن رات کی تمیز ہو جاتی ہے، پھر چاند کی مقررہ منزلیں اور بروج ہیں پھر اس کی روشنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالکل چھپ جاتا ہے اور ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے جس سے مہینے اور سال معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:5] ‏‏‏‏ ’ اللہ وہ ہے جس نے سورج، چاند خوب روشن چمکدار بنائے اور چاند کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تمہیں سال اور حساب معلوم ہو جائیں ان کی پیدائش حق کے ساتھ ہے، عالموں کے سامنے اللہ کی قدرت کے یہ نمونے الگ الگ موجود ہیں۔‘

انسان مٹی سے پیدا ہوا ٭٭

پھر فرمایا ’ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا۔ ‘ اس مصدر نے مضمون کو بے حد لطیف کر دیا۔ پھر تمہیں مار ڈالنے کے بعد اسی میں لوٹائے گا، پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں نکالے گا، جیسے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارا فرش بنا دیا اور وہ ہلے جلے نہیں اس لیے اس پر مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے، اسی زمین کے کشادہ راستوں پر تم چلتے پھرتے ہو اسی پر رہتے سہتے ہو ادھر سے ادھر جاتے آتے ہو۔ غرض نوح علیہ السلام کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ عظمت رب اور قدرت اللہ کے نمونے اپنی قوم کے سامنے رکھ کر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی برکتوں کے دینے والے ہر چیز کے پیدا کرنے والے عالی شان قدرت کے رکھنے والے رازق خالق اللہ کا کیا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ تم اسے پوجو اس کا لحاظ رکھو اور اس کے کہنے سے اس کے سچے نبی علیہ السلام کی راہ اختیار کرو، تمیں ضرور چاہیئے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کسی اور کو نہ پوجو، اس جیسا اس کا شریک، اس کا ساجھی، اس کا مثیل کسی کو نہ جانو، اسے بیوی اور ماں سے، بیٹوں پوتوں، وزیر و مشیر سے، عدیل و نظیر سے پاک مانو اسی کو بلند و بالا اسی کو عظیم و اعلیٰ جانو۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15تا20) {اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گردو پیش ان کی ضرورتوں کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیاکہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کر دیا اور تمھاری سہولت کے لیے اس میں گھاٹیاں اور کشادہ رستے بنا دیے۔ یہ تمام انتظام اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمھیں پہلے زمین سے پیدا کیا ہے اسی طرح زمین میں دفن کرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس کے علاوہ تمھاری ضرورت کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں، تمھارے معبودانِ باطلہ نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا، تم نے دونوں کو برابر کیسے سمجھ لیا؟
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →