نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا ملک اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بابرکت ہے وہ (خدا) جس کے ہاتھ (قبضۂ قدرت) میں (کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت برکت والا ہے وہ کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
بہت بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے (1) اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اس سورت کی فضیلت میں کئی روایات آتی ہیں، جن میں سے چند صحیح یا حسن احادیث درج ذیل ہیں: (1) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ سُوْرَةً مِّنَ الْقُرْآنِ ثَلاَثُوْنَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰي غُفِرَ لَهُ وَهِيَ سُوْرَةُ: «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ] [ ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورۃ الملک: ۲۸۹۱۔ أبو داوٗد: ۱۴۰۰، و حسنہ الألباني ] ”قرآن کی ایک سورت نے جس کی تیس آیات ہیں، ایک آدمی کے لیے سفارش کی یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورت «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔“ (2) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سُوْرَةٌ مِّنَ الْقُرْآنِ مَا هِيَ إِلاَّ ثَلاَثُوْنَ آيَةً خَاصَمَتْ عَنْ صَاحِبِهَا حَتّٰي أَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ، وَهِيَ سُوْرَةُ تَبَارَكَ ] [ المعجم الصغیر للطبراني: 296/1، ح: ۴۹۰، وصححہ الألباني۔ صحیح الجامع الصغیر: ۳۶۴۴ ] ”قرآن کی ایک سورت نے، جس کی صرف تیس آیات ہیں، اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کیا یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کروا دیا اور وہ سورت {” تَبٰرَكَ “} (الملک) ہے۔“ (3) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے نہیں تھے یہاں تک کہ «الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» اور «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» پڑھتے۔ [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، ح: ۱۱۴۰ ] (4) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے نہیں تھے یہاں تک کہ «الٓمّٓ (1) تَنْزِيْلُ» اور «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ» پڑھتے۔ [ ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورۃ الملک: ۲۸۹۲، وصححہ الألباني ] (آیت 1) ➊ { تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ: ” تَبٰرَكَ “ ”بَرَكَةٌ “} سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ {”بَرَكَةٌ“} کے معنی ہیں زیادہ ہونا، بڑھا ہونا۔ {” تَبٰرَكَ “} یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بے انتہا بڑھا ہوا ہے اور بلندی، بڑائی اور احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بے حدوحساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ➋ { ” بِيَدِهِ “} پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔ ➌ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ سورۂ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے، فرمایا: «لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا» [ الزخرف: ۳۲ ] ”تاکہ ان کا بعض بعض کو تابع بنالے۔“ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے: مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطان سب گدا اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ان کی اپنی دولت و فقر، صحت و بیماری، عزت و ذلت، فتح و شکست، جوانی و بڑھاپا، نفع و نقصان اور موت و حیات، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے؟ دوسرا کوئی بادشاہ ہے بھی تو نام کا ہے۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے، باقی سب گدا ہیں، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ» [فاطر: ۱۵ ] ”اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔“ ➍ { وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: ” شَيْءٍ “ ”شَاءَ يَشَاءُ“} کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، چاہت۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بے شمار چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جاتی ہیں۔
جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ وہ بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق واتصال ہوجائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہوجائے وہ موت سے ہم کنار ہوجاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے؟ جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔
(آیت 2) ➊ { الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ …:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو مخلوق کی قدرت سے باہر ہیں، تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ اس مقام پر اپنی قدرتوں میں سے پہلی چیز موت و حیات ذکر فرمائی، کیونکہ موت اور زندگی میں انسان کے تمام احوال پورے پورے آجاتے ہیں۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیا میں آنے سے پہلے کی حالت کو موت قرار دیا اور دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے جانے کو بھی موت قرار دیا۔ اسی طرح دنیا میں آنے کو زندگی قرار دیا، پھر موت کے بعد اٹھنے کو زندگی قرار دیا، جیسا کہ فرمایا: «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ البقرۃ: ۲۸ ] ”تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ یہاں فرمایا کہ اللہ نے موت و حیات کو پیدا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ موت بھی ایک مخلوق ہے، یہ عدم محض(بالکل نہ ہونے) کا نام نہیں، کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی انسان اللہ کے علم اور اس کی تقدیر میں موجود تھا اور اس کے دنیا میں آنے کا وقت مقرر تھا مگر روح و جسم کا اتصال نہیں تھا، اسے موت قرار دیا، پھر دنیا میں آنے کے بعد روح جسم سے جدا ہوئی تو اسے بھی موت قرار دیا۔ قیامت کے دن موت ایک مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ، فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» وَهٰؤُلاَءِ فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عزوجل: «وأنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰ ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ”اے اہلِ جنت!“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا: ”اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ اعلان کرے گا: ”اے اہل نار!“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا: ”اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ تو اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر کہے گا: ”اے اہلِ جنت! (اب تمھارے لیے) ہمیشہ زندہ رہنا ہے، موت نہیں اور اے اہلِ نار! (تمھارے لیے بھی) ہمیشہ زندہ رہنا ہے، موت نہیں۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب ہر کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سرا سر غفلت میں ہیں) یعنی یہ دنیا والے سراسر غفلت میں ہیں ”اور وہ ایمان نہیں لا رہے۔“ ➌ زندگی اور موت دونوں اس امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہیں کہ انسانوں میں سے اچھے عمل کون کرتا ہے؟ اگر موت اور موت کے بعد والی زندگی نہ ہوتی تو آدمی اچھے اعمال کے لیے جدو جہد اور برے اعمال سے پرہیز کیوں کرتا؟ اور موت اور حیات بعد الموت نہ ہوتی تو اچھے اور برے اعمال کا بدلا کہاں ملتا اور اگر دنیا میں انسان کو زندگی نہ ملتی اور نہ عمل کا موقع ملتا تو جزا و سزا کس چیز پر ہوتی؟ ➍ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ:} وہ عزیز ہے، ایسا زبردست ہے کہ اعمال کی جزا و سزا پر پورا اختیار رکھتا ہے اور ایسا غالب کہ کوئی اس پر غالب نہیں، مگر اتنی قوت و عزت کے باوجود ظالم یا سخت گیر نہیں بلکہ غفور ہے اور ایسا غفور کہ کوئی توبہ کرے تو جتنے بھی گناہ کیے ہوں بخش دیتا ہے۔ توبہ کے بغیر بھی اگر اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو جسے چاہے گا بخش دے گا، فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» [ النساء: ۱۱۶ ] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔“ اور شرک اس لیے معاف نہیں کرے گا کہ یہ اس کے عزیز ہونے کے خلاف ہے۔
جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے تم خدائے رحمٰن کی تخلیق میں کوئی خلل (اور بےنظمی) نہیں پاؤ گے پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ رحمان کے پیدا کیے ہوئے میں تو کوئی کمی بیشی نہیں دیکھے گا۔ پس نگاہ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی کٹی پھٹی جگہ نظر آتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
3۔ 1 یعنی کوئی نقص، کوئی کجی اور کوئی خلل، بلکہ بالکل سیدھے اور برابر ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک ہی ہے متعدد نہیں۔ 3۔ 2 بعض دفعہ دوبارہ دیکھنے سے کوئی نقص اور عیب نکل آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دعوت دے رہا ہے کہ بار بار دیکھو کہ کیا تمہیں کوئی شگاف تو نظر نہیں آتا۔
(آیت 3) ➊ { الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا:” طِبَاقًا “} یعنی تہ بہ تہ اوپر نیچے بنایا، یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ حدیث معراج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر آسمان ایک دوسرے سے جدا ہے، چنانچہ ہر آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کسی نہ کسی رسول سے ہوئی۔ [ دیکھیے بخاري، الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ في الإسراء: ۳۴۹ ] ➋ { مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ:} رحمان کے (آسمانوں کو) پیدا کرنے میں تم کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے۔ جب تم آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق میں کوئی تفاوت نہیں نکال سکتے تو دوسری مخلوق جو اس سے کہیں چھوٹی ہے، اس میں تم کس طرح تفاوت نکال سکو گے؟ {” تَفٰوُتٍ “} کا معنی ہے کہ تم اتنے بڑے آسمان یا کسی بھی مخلوق کی کوئی چیز دوسری چیز سے بے جوڑ یا بے ترتیب نہیں پاؤ گے، بلکہ سب میں ایک توازن و ترتیب اور یکسانی پاؤ گے، جس سے معلوم ہو گا کہ یہ ایک ہی خالق کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ {” مِنْ تَفٰوُتٍ “} کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم کسی چیز میں کوئی عیب یا کمی نہیں پاؤ گے کہ کہہ سکو کہ اگر اس طرح ہوتا تو بہتر تھا۔ (قاموس) {” خَلْقِ الرَّحْمٰنِ “} کے لفظ سے توجہ دلائی کہ اتنے عظیم الشان آسمان اور دوسری ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا نتیجہ ہے۔ ➌ {فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ: ” فُطُوْرٍ “ ”فَطْرٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”فَلْسٌ“} کی جمع {” فُلُوْسٌ“} ہے، پھٹی ہوئی جگہ، دراڑ، شگاف۔ یعنی پہلی دفعہ اگر تمھیں رحمان کے پیدا کیے ہوئے آسمان میں کوئی عیب یا کمی بیشی نظر نہیں آئی تو دوبارہ نظر دوڑا کر دیکھ لو، کیا کوئی دراڑیں یا کٹی پھٹی ہوئی جگہیں نظر آتی ہیں؟ مطلب یہ کہ پوری کائنات میں ذرّوں سے لے کر آسمانوں تک اور ستاروں سے لے کر بڑی بڑی کہکشاؤں تک ہر چیز مستحکم اور مربوط ہے، جتنا چاہو تلاش کر لو تمھیں ایک رخنہ بھی نہیں ملے گا۔
بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی
احمد رضا خان بریلوی
پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی
علامہ محمد حسین نجفی
پھر دوبارہ نگاہ دوڑاؤ۔ تمہاری نگاہ تھک کر (ناکام) تمہاری طرف لوٹ آئے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔
4۔ 1 یہ مذید تاکید ہے کہ جس سے مقصد اپنی عظیم قدرت اور وحدانیت کو واضح تر کرنا ہے۔
(آیت 4){ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ …: ” كَرَّتَيْنِ “} کا لفظی معنی دو مرتبہ ہے، مگر یہاں مراد صرف دو مرتبہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ(دوبارہ غور کرنے سے بھی کوئی خلل نہ ملے تو) بار بار دیکھ! جیسا کہ {”لَبَّيْكَ“} کا لفظ تثنیہ ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ ” میں دو دفعہ حاضر ہوں“ بلکہ یہ ہے کہ ”میں بار بار حاضر ہوں۔“ {” خَاسِئًا “} کسی چیز کو طلب کرنے والا جو اس سے دور ہٹا دیا جائے۔ {” حَسِيْرٌ “} جو تھک کر عاجز رہ جائے۔ بار بار دیکھنے کا حکم ان کی بے بسی واضح کرنے کے لیے ہے۔
ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے قریبی آسمان کو (تاروں) کے چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیطانوں کو سنگسار کرنے (مار بھگانے) کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم نے ان (شیطانوں) کیلئے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تو فرمایا ’ آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں ‘۔ پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں ‘ یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» شیاطین کی دنیا میں یہ رسوائی تو دیکھتے ہی ہو آخرت میں بھی ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔ جیسے سورۃ صافات کے شروع میں ہے کہ «إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ» ۱؎ [37-الصافات:6-10] ’ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی ہے اور سرکش شیطانوں کی حفاظت میں انہیں رکھا ہے، وہ بلند و بالا فرشتوں کی باتیں سن نہیں سکتے اور چاروں طرف سے حملہ کر کے بھگا دیئے جاتے ہیں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے اگر کوئی ان میں سے ایک آدھ بات اچک کر لے بھاگتا ہے تو اس کے پیچھے چمکدار تیز شعلہ لپکتا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ستارے تین فائدے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، آسمان کی زینت، شیطانوں کی مار اور راہ پانے کے نشانات۔ جس شخص نے اس کے سوا کوئی اور بات تلاش کی اس نے رائے کی پیروی کی اور اپنا صحیح حصہ کھو دیا اور باوجود علم نہ ہونے کے تکلف کیا۔“ [ابن جریر اور ابن ابی حاتم]
5۔ 1 یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
(آیت 5) {وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ …: ” الدُّنْيَا “ ”دَنَا يَدْنُوْ“} میں سے {”أَدْنٰي“} کی مؤنث ہے، سب سے قریب۔ اگرچہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان خالق کی کاریگری کا عظیم الشان نمونہ ہے، مگر زمین کے سب سے قریب آسمان کی زینت و حفاظت کا جو اہتمام ہم نے کیا ہے وہ توکچھ کچھ تمھیں بھی نظر آرہا ہے، اس کے لیے تو کسی خاص آلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ستاروں کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں، پہلا فائدہ زینت ہے، رات کو چھوٹے بڑے لاتعداد ستاروں کے ساتھ آسمان جس قدر مزین ہوتا ہے اور حسین و جمیل نظر آتا ہے اگر ستارے نہ ہوتے تو اتنا ہی بدصورت دکھائی دیتا اور بے زیب ہوتا۔ دوسرا فائدہ روشنی ہے جو {”مَصَابِيْحُ“} (چراغوں) کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ اگر یہ چراغ نہ ہوتے تو ہر رات انتہائی تاریک ہوتی۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے ان شیطانوں کو مار بھگایا جاتاہے جو فرشتوں کی باتیں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ لوگوں کو غیب دانی کے دعویٰ سے گمراہ کر سکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶ تا ۱۰) کی تفسیر۔ چو تھا فائدہ دوسری جگہ بیان فرمایا: «وَ بِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ» [ النحل: ۱۶ ] ”اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ یعنی ستارے بحر و بر میں راستہ اور سمت معلوم کرنے کے کام آتے ہیں۔ ان کے علاوہ ستاروں میں سعادت یا نحوست سمجھنا یا انھیں کسی اختیار کا مالک سمجھنا شرک ہے۔
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وه کیا ہی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور کیا ہی برا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کفر (انکار) کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور خاص ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){ وَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ …:} پہلی پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کے دلائل بیان فرمائے ہیں، اب ان لوگوں کا انجام ذکر ہو رہا ہے جنھوں نے اکیلے اللہ کو اپنا رب نہیں مانا کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ {” لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} خبر پہلے آنے کی وجہ سے ترجمہ ”خاص ان لوگوں کے لیے“ کیا گیا ہے۔
جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
جب اس میں ڈالے جائیں گے اس کا رینکنا (چنگھاڑنا) سنیں گے کہ جوش مارتی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو وہ اس کی زوردار (اور مہیب) آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، اس کے لیے گدھے کے زور سے چیخنے جیسی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
7۔ 1 شَھِیْق، اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھا پہلی مرتبہ نکالتا ہے، یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ جہنم بھی گدھے کی طرح چیخ اور چلا رہی اور آگ پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرح جوش مار رہی ہوگی۔
(آیت 7){ اِذَاۤ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّ هِيَ تَفُوْرُ:”شَهِيْقٌ“} گدھے کے ہینگنے کے آخر کی آواز اور {” زَفِيْرٌ “} شروع کی آواز۔ (قاموس) سورۂ فرقان (۱۲) میں فرمایا کہ جہنم جب انھیں دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کے سخت غصے کی اور گدھے کی طرح چلانے کی آواز سنیں گے۔ ساتھ ہی جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی جو آوازیں آرہی ہوں گی وہ بھی گدھے کی آوازوں جیسی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ شَهِيْقٌ» [ ھود: ۱۰۶ ] ”تو وہ لوگ جو بد بخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے، ان کے لیے گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے۔“
شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
احمد رضا خان بریلوی
معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
(گویا) وہ غیظ و غصہ سے پھٹی جاتی ہوگی جب اس میں کوئی گروہ جھونکا جائے گا تو اس کے دارو غے ان سے پو چھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا (ہادی) نہیں آیا تھا؟
عبدالسلام بن محمد
قریب ہو گی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
8۔ 1 یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالیٰ اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کردینا کوئی مشکل نہیں۔ 8۔ 2 جس کی وجہ سے تمہیں آج جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔
(آیت 9،8){ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ …: ” تَمَيَّزُ “} اصل میں {”تَتَمَيَّزُ“} (تفعّل) ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی۔ ”قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے“ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جا سکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہو گا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبروں اور دین کی دعوت دینے والوں کے ڈرانے کے باوجود تم ایمان نہ لائے اور جان بوجھ کر جہنم کا ایندھن بنے، دوسرا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اور خود ان کے منہ سے نکلوانے کے لیے کہ انھیں نہ تو بے خبری میں جہنم میں پھینکا جا رہا ہے اور نہ بلاجرم، بلکہ وہ فی الواقع اس کے حق دار ہیں۔ چنانچہ وہ خود کہیں گے، کیوں نہیں، ہمارے پاس ڈرانے والے آئے اور انھوں نے اللہ کی اتاری ہوئی پوری تعلیم بھی ہم تک پہنچائی، مگر ہم نے انھیں جھٹلا دیا اور اس بات سے سرے سے انکار کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل کی ہے، بلکہ الٹا انھی کو بڑی گمراہی میں مبتلا قرار دیا۔
وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو
احمد رضا خان بریلوی
کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ نہیں اُتارا، تم تو نہیں مگر بڑی گمراہی میں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہیں گے ہاں بےشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے (اسے) جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی بھی چیز نازل نہیں کی تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
9۔ 1 یعنی ہم نے پیغمبروں کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں جھٹلایا، آسمانی کتابوں کا ہی سرے سے انکار کردیا حتٰی کہ اللہ کے پیغمبروں کو ہم نے کہا کہ تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔
اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہیں گے کاش ہم (اس وقت) سنتے یا سمجھتے تو (آج) دوزخ والوں میں سے نہ ہو تے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
10۔ 1 یعنی غور اور توجہ سے سنتے اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو آویزہ گوش بنا لیتے، اسی طرح اللہ کی دی ہوئی عقل سے بھی سوچنے سمجھنے کا کام لیتے تو آج ہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔
(آیت 10) {وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ …:} اب وہ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ ہم جس گمراہی میں مبتلا رہے، اس سے نکلنے کی دو ہی صورتیں تھیں، پہلی یہ کہ ہم رسولوں اور اہل ایمان کی باتیں سن لیا کرتے تو ایمان کی نعمت مل جاتی، دوسری یہ کہ خود کچھ عقل سے کام لیا کرتے تو توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد تک آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ دو نوں صورتوں میں آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے، مگر ہم اپنی مرضی اور آباو اجداد کے طریقے کے خلاف کوئی بات نہ سنا کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ رسولوں کی بات دلیل سمعی ہے اور اسے سمجھنا دلیل عقلی ہے، جبکہ اپنی مرضی پر چلنا یا آباو اجدا د کی تقلید نہ دلیل سمعی ہے اور نہ دلیل عقلی، بلکہ دلیل ہے ہی نہیں۔
اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں)
احمد رضا خان بریلوی
اب اپنے گناہ کا اقرار کیا تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ (اس وقت) اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے پس لعنت ہوان دوزخ والوں پر۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
11۔ 1 جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب۔ 11۔ 2 یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔
(آیت 11) {فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ …:} وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گاکہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں۔ {”سُحْقًا“ ”سَحِقَ“} (س، ک) کا مصدر ہے، دور ہونا اور {”سَحِيْقٌ“} بعید۔
جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ اپنے پروردگار سے اَن دیکھے ڈرتے ہیں ان کیلئے مغفرت ہے اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
12۔ 1 یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔
(آیت 12) {اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انھیں قیامت کا یا اپنی بداعمالیوں کی سزا کا خوف تھا، کیونکہ نہ وہ اَن دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکرہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور بر گزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے گا اور اسی خشیت بالغیب کی وجہ سے انھوں نے جو نیکیاں کیں ان کا انھیں بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ خشیت کا معنی شدتِ خوف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کی اصل ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب ہے اور گناہ سے بچنے کا اصل باعث بھی یہی ہے۔
تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم اپنی بات آہستہ کرو یا بلند آواز سے کرو وہ (خدا) تو سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم اپنی بات کو چھپاؤ، یا اسے بلند آواز سے کرو (برابر ہے)، یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
13۔ 1 یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
(آیت 13) {وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ …:} شروع سورت سے اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں کا بیان ہو رہا تھا جو مخلوق کی استطاعت سے باہر ہیں، درمیان کی سات آیات میں ان سے کفر کرنے والوں اور ان پر ایمان رکھنے والوں کا انجام ذکر فرمایا، اب دوبارہ اللہ کی قدرتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ فرمایا تم اپنی بات چھپا کر کرو یا بلند آواز سے کرو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر دلوں کے ارادے اور نیتیں جو زبان پر آکر قول بننے کی منزل تک نہیں پہنچیں، انھیں بھی جانتا ہے۔ مخلوق بے چاری نہ چھپی بات کو جانتی ہے اور نہ ایک وقت میں بہت سے لوگوں کی اونچی آواز سے کی ہوئی باتوں کو جان سکتی ہے، دلوں کی بات جاننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعلیٰ (۷) کی تفسیر۔
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانتا حالانکہ وہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
14۔ 1 یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بےعلم رہ سکتا ہے۔
(آیت 14){ اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ …:} یہ {” عَلِيْمٌ“} ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار واقوال نہیں جانے گا؟ {” اللَّطِيْفُ “} کے مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے رام کر دیا تاکہ تم اس کے کاندھوں (راستوں) پر چلو اور اس (اللہ) کے (دئیے ہو ئے) رزق سے کھاؤ پھر اسی کی طرف(قبروں سے) اٹھ کر جانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو تابع بنا دیا، سو اس کے کندھوں پر چلو اور اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف (دوبارہ) اٹھ کر جانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
15۔ 1 لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کردیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو۔ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔
(آیت 15) ➊ {هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا …: ” ذَلُوْلًا “} جو تمھارے تابع ہو جائے، سرکشی نہ کرے۔ یہاں زمین کو اس چوپائے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پوری طرح انسان کے تابع ہوتا ہے، خواہ اس پر سواری کرے یا ہل میں جوت لے۔ یعنی تم اس پر چل پھر سکتے ہو اور اسے کام میں لا سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑ گاڑ کر اسے ہر وقت زلزلے کی حالت میں رہنے سے محفوظ کر دیا، تاکہ تم سکون سے رہ سکو۔ اسے لوہے کی طرح سخت نہیں بنایا، ورنہ نہ اس سے کچھ اُگتا، نہ عمارتیں بنتیں، نہ نہریں یا کنوئیں کھودے جا سکتے اور نہ انسان اور جانوروں کے رزق کا انتظام ہوتا اور اسے ضرورت سے زیادہ نرم بھی نہیں بنایا، ورنہ سب کچھ اس کے اندر دھنس جاتا۔ مشرک اقوام کی کم عقلی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو انسان کے تابع کیا، انھوں نے اسے دھرتی ماتا کے نام سے اپنا معبود بنا لیا۔ {”مَنَاكِبُ“} کا لفظی معنی کندھے ہے۔ جس طرح بالکل مطیع جانور پیٹھ کے علاوہ کندھوں پر بھی سواری کرلینے دیتا ہے، زمین بھی تمھارے لیے ایسے ہی مسخر ہے، اس پر جہاں چاہو چلو پھرو۔ ➋ { وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ …:} اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ، مگر آزادی سے نہیں بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کا دیا ہوا کھا رہے ہو اور آخر کار تمھیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوناہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا؟(اشرف الحواشی)
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم اس سےنڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے جبھی وہ کانپتی رہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اس (اللہ) سے بےخوف ہو گئے جس (کی حکومت) آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پھر وہ ایک دم تھر تھرانے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسادے، تو اچانک وہ حرکت کرنے لگے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45] الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79] الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔
16۔ 1 یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت، جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
(آیت 16) ➊ { ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ …: ” تَمُوْرُ “} حرکت کرنے لگے، یعنی زبردست زلزلے سے لرزنے لگے۔ (دیکھیے طور: ۹) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اگرچہ تمھارے تابع کر دی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کر سکو، لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے، وہ چاہے تو تمھیں اس کے اندر دھنسا دے (جس طرح قارون کو دھنسا دیا۔ دیکھیے قصص: ۸۱) اور چاہے تو بھونچال سے لرزنے لگے۔ لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ فرماں برداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔(اشرف الحواشی) اس آیت کا اور اس کے بعد والی آیت کا مفہوم سورۂ انعام (۶۵) اور سورۂ کہف (69،68) میں بیان ہوا ہے۔ ➋ {ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَآءِ: ” السَّمَآءِ “ ”سِمْوٌ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی بلندی ہے۔ ہر وہ چیز جو اوپر ہو اسے {”سَمَاءُ“} کہہ لیتے ہیں۔ ان دونوں آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوپر کی طرف ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر رحمان کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے۔ معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی لونڈی کے متعلق پوچھا کہ کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِئْتِنِيْ بِهَا ] ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: [ أَيْنَ اللّٰهُ؟ ] ”اللہ کہاں ہے؟ “ اس نے کہا: [ فِي السَّمَآءِ] ”آسمان میں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَنَا؟ ] ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: [ أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ] ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ] [ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام في الصلاۃ…: ۵۳۷ ] ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔“ تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے، بعد کے لوگ جو یونانی فلسفے سے متاثر ہو گئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت علو(اوپر ہونے کی صفت) کا انکار کر دیا، کسی نے کہا وہ لا مکان ہے، کسی نے کہا وہ ہر جگہ ہے اور قرآن و حدیث کی صاف نصوص کی تاویل کی۔ بعض لوگ تو یہاں تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ سوال ہی کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ انھوں نے یہ خیال نہ کیاکہ یہ سوال تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ کے آسمانوں پر ہونے کے عقیدے کو آپ نے ایمان قرار دیا ہے، (دیکھیے مسلم: ۵۳۷) تو کیا نعوذ باللہ یہ فتویٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی لگایا جائے گا؟ قرآن مجید {” ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَآءِ “} میں اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا فرما رہا ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ دعا کرتا ہے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے، مگر فلسفے کے مارے ہوئے یہ حضرات کبھی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ وہ آسمانوں پر بیٹھا ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ پھر کیا وہ آسمان میں رہتا ہے؟ اس طرح تو وہ آسمان کا محتاج ہوا جبکہ آسمان و زمین خود اس نے پیدا کیے ہیں۔ حالانکہ سلف صالحین کے عقیدہ کے مطابق وہ لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال کرنا جائز نہیں جو اس نے خود اپنے متعلق استعمال نہ کیا ہو۔ اب یہ کس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے؟ قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کا بلندی کی جانب ہونا اور عرش پر ہونا ثابت ہے، اس کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں اور وہ عرش کا یا بلندی کا محتاج نہیں بلکہ اس کے عرش پر ہونے کے باوجود عرش خود اس کا محتاج ہے اور اس نے عرش اور آسمان و زمین کو تھام رکھا ہے۔ مخلوق میں کئی چیزیں ہیں جو اوپر ہیں، مگر ان کے نیچے کی چیزیں اپنے قیام میں ان کی محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کی مثال تو اس سے بہت بلند ہے۔ مومن جب بھی اللہ تعالیٰ کا تصور کرتا ہے یا اس سے دعا کرتا ہے، تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا پروردگار آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اسے اپنے رب سے تعلق جوڑنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ تاویلوں کی مصیبت میں پھنسے ہوئے لوگ یہ فیصلہ ہی نہیں کرپاتے کہ ان کا رب کہاں ہے جس کی طرف وہ توجہ کریں۔ وہ لا مکان کے چکر ہی سے نہیں نکل سکتے۔ اسلام کے فطری اور سادہ عقائد کو چھوڑ کر فلسفی بھول بھلیاں اختیار کرنے کا یہی انجام ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فجر (۲۲) کی تفسیر۔
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا
احمد رضا خان بریلوی
یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو اب جانو گے کیسا تھا میرا ڈرانا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اس بات سے بےخوف ہو گئے ہو کہ آسمان والا تم پر پتھر بر سانے والی ہوا بھیج دے پھر تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
یا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ والی آندھی بھیج دے، پھر عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45] الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79] الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔
17۔ 1 جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کردیا۔ 17۔ 2 لیکن اس وقت یہ علم، بےفائدہ ہوگا۔
(آیت 17) ➊ {اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَآءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا:} جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ ہوا، فرمایا: «اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ نَجَّيْنٰهُمْ بِسَحَرٍ» [ القمر: ۳۴ ] ”بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں صبح سے کچھ پہلے بچا کر نکال لیا۔“ ➋ {” نَذِيْرِ “} مصدر ہے، اصل میں {” نَذِيْرِيْ“} تھا، میرا ڈرانا۔ یاء حذف کر دی اور راء پر کسرہ باقی رہنے دیا، ورنہ اس پر رفع ہونا تھا۔
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا تو میری سخت گیری کیسی تھی؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے( بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، پھر کس طرح تھا میرا سزا دینا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45] الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79] الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) {وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …:} تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کے لیے پہلے لوگوں کا حال دیکھ لو۔ عرب میں عاد و ثمود، فرعون و قارون اور قوم لوط و شعیب کے واقعات معروف تھے۔
کیا یہ لو گ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا سوا رحمٰن کے بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھتے جو پروں کو پھیلائے ہوئے (اڑتے ہیں) اور وہ (کبھی ان کو) سمیٹ بھی لیتے ہیں انہیں (خدا ئے) رحمٰن کے سوا اور کوئی (فضا میں) تھامے ہوئے نہیں ہے بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو اس حال میں نہیں دیکھا کہ وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑ لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔ یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45] الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68] الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79] الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔
19۔ 1 پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔ 19۔ 2 یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔
(آیت 19) ➊ {اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور قدرت بیان فرمائی کہ عام مشاہدے میں مادی چیزیں جو وزن رکھتی ہیں وہ نیچے کی طرف میلان رکھتی ہیں، مگر پرندے وزن رکھنے کے باوجود فضا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ اڑتے وقت اکثر وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں، انھیں تھامنے والا اس رحمان (بے حد مہربان) کے علاوہ کوئی نہیں۔ {” صٰٓفّٰتٍ “} اسم فاعل ہے جو دوام پر دلالت کرتا ہے اور {” يَقْبِضْنَ “} فعل مضارع ہے جو تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ فضا کی بلندی میں اڑنے والے پرندے اکثر پر پھیلائے ہوئے اڑ رہے ہوتے ہیں، کبھی پر مار بھی لیتے ہیں۔ ➋ { اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيْرٌ:} یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔ فضا میں اڑتے ہوئے پرندوں کو وہی تھامے ہوئے ہے، ہوا میں معلق زمین کو گرنے سے بچانے والا وہی ہے اور آسمانوں کو ستونوں کے بغیر ان کی جگہ قائم رکھنے والا بھی وہی ہے۔ غرض اس کائنات کی ہر چیز کی مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال وہی کر رہا ہے اور وہی اسے تھامے ہوئے ہے، اگر وہ ایک لمحہ کے لیے توجہ ہٹا لے تو سب کچھ فنا ہو جائے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا وَ لَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا» [ فاطر: ۴۱ ] ”بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلیں اور اگر فی الواقع وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی نہیں جو انھیں تھام لے گا، بے شک وہ ہمیشہ سے نہایت بردبار، بے حد بخشنے والا ہے۔“
بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا وہ کونسا تمہارا لشکر ہے کہ رحمٰن کے مقابل تمہاری مدد کرے کافر نہیں مگر دھوکے میں
علامہ محمد حسین نجفی
آخر وہ کون ہے جو خدائے رحمٰن کے مقابلہ میں تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے؟ کافر لوگ بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا کون ہے وہ جو تمھارا لشکر ہو، تمھاری مدد کرے، رحمان کے مقابلے میں؟ کافر دھوکے کے سوا کسی کھاتے میں نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
20۔ 1 جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔
(آیت 20){ اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ …:} بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اتنی قدرتوں والا رحمان تمھیں پکڑنے پر آجائے تو وہ کون ہے جو تمھارا لشکر بن کر اس کے مقابلے میں تمھاری مدد کرسکے؟ کوئی نہیں، بالکل نہیں۔ کافر لوگ جن کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فلاں ہستی اور فلاں مشکل کشا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے اور زبردستی سفارش کر کے چھڑا لیں گے، محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، جس میں انھیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔ {” مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ “} کا ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رحمان کے علاوہ وہ کون ہے جو کسی مصیبت میں لشکر بن کر تمھاری مدد کر سکے؟
یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا کونسا ایسا ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ اپنی روزی روک لے بلکہ وہ سرکش اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(بتاؤ) وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ (اللہ) اپنی روزی روک لے؟ بلکہ یہ لوگ سرکشی اور (حق سے) نفرت پر اڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کون ہے جو تمھیں رزق دے، اگر وہ اپنا رزق روک لے؟ بلکہ وہ سرکشی اور بدکنے پر اڑے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
21۔ 1 یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہوجائے، اگر اللہ تعالیٰ ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے؟ یعنی وعظ و نصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض ونفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔
(آیت 21){ اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ …:} یعنی اگر اللہ تعالیٰ بارش ہی روک لے تو وہ کون ہے جو بارش برسا دے؟ یا زمین کو پیداوار سے روک دے یا کسی بھی طریقے سے تمھاری روزی روک دے تو وہ کون ہے جو تمھیں روزی مہیا کر دے؟ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قریش مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں نافرمانی کی حد کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یوسف علیہ السلام جیسی قحط سالی کی بد دعا فرمائی تو ان پر ایسا قحط آیا کہ وہ ہڈیاں تک کھا گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ قحط اس وقت دور ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ [ دیکھیے بخاری، التفسیر، باب: «یغشی الناس ھذا عذاب ألیم» : ۴۸۲۱ ] لات و منات کے بت بلکہ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے جو بت انھوں نے بنائے ہوئے تھے، ان کے کسی کام نہ آسکے۔
بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا جوشخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ زیادہ ہدایت یافتہ (اورمنزلِ مقصود پر زیادہ پہنچنے والا) ہے یا وہ جو سیدھا راہِ راست پر چل رہا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
22۔ 1 منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقینا نہیں اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔ (2) جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہوا اور اس کو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آرہا ہو ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا آخرت میں سرخرو رہے گا بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی کافر منہ کے بل جہنم میں جائے جائیں گے اور مومن سیدھے قدموں سے چل کر جنت میں جائیں گے۔
(آیت 22){ اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ …: ” مُكِبًّا “ ”أَكَبَّ يُكِبُّ إِكْبَابًا“} (افعال) اُوندھا گرنا۔ مزیدفیہ ہونے کے باوجود یہ باب لازم ہے، اس کا مجرد {”كَبَّ يَكُبُّ كَبًّا“} (ن) متعدی ہے، جس کا معنی کسی کو اُوندھا گرانا ہے۔ {” اَهْدٰۤى “ ”هَدٰي يَهْدِيْ هِدَايَةً“} (ض) سے اسم تفضیل ہے جو عموماً اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے، مگر کبھی کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہے، اس لیے اس کا معنی زیادہ ہدایت دینے والا نہیں بلکہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ یہ موحد مومن اور مشرک کافر کی مثال ہے۔ کافر سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے گڑھوں میں پڑ جانے کی وجہ سے منہ کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسا شخص منزل مقصود پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ اس کے برعکس مومن توحید و سنت کے صراطِ مستقیم پر سیدھا ہو کر چل رہا ہوتا ہے، اسے دائیں بائیں اور سامنے ہر طرف سے اپنا راستہ اور اس کا گردو پیش نظر آرہا ہوتا ہے۔ وہ یقینا اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گا جو جنت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ کافروں کے متعلق فرمایا: «وَ نَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ» [ بني إسرائیل: ۹۷ ] ”اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں پر اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اوندھے منہ اٹھائے جانے کا سبب یہی ہے کہ دنیا میں بھی وہ الٹے ہی چلتے تھے، سیدھے ہو کر راہِ راست پر چلنا انھیں گوارا نہ تھا۔
اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے کتنا کم حق مانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! وہی تو (خدا) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل (و دماغ) بنا ئے۔ (مگر) تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
3۔ 1 یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 23۔ 2 یعنی کان آنکھیں اور دل بنائیں جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کرسکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔ 23۔ 2 یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنً قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔
(آیت 23) {قُلْ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَكُمْ …:} اللہ تعالیٰ ہی نے تمھیں پیدا فرمایا اور تمھیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکر تو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان، آنکھیں اور دل عطا فرمانے کا شکر یہ تھاکہ انھیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بے شمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں، انھی کے ذریعے سے آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت میں خطاب کفار سے ہے اور {” قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ “} (کم ہی تم شکر کرتے ہو) سے مراد یہ ہے کہ تم بالکل شکر ادا نہیں کرتے۔
اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور (قیامت کے دن) تم اسی کے پاس اکٹھے کئے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
یعنی انسانوں کو پیدا کرکے زمین میں پھیلانے والا بھی وہی ہے اور قیامت والے دن سب جمع بھی اس کے پاس ہوں گے کسی اور کے پاس نہیں۔
(آیت 24) {قُلْ هُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ …:} جو تمھیں روئے زمین پر پھیلا سکتا ہے وہ تمھیں دوبارہ اکٹھا بھی کر سکتا ہے اور کرے گا۔
یہ کہتے ہیں "اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ (بتاؤ) یہ وعدہ وعید کب پوراہوگا؟ اگر تم سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
25۔ 1 یہ کافر بطور مذاق قیامت کو دور دراز کی باتیں سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔
(آیت 25) {وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} ان کا یہ پوچھنا معلوم کرنے کے لیے نہیں تھا، وہ تو یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔مسلمانوں سے ان کایہ پوچھنا صرف طنز و استہزا کے لیے تھا۔
کہو، "اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے، اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے کہ (اس کا) علم تو بس اللہ کے پاس ہے اور میں تو صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
26۔ 1 یعنی میرا کام تو صرف انجام سے ڈرانا ہے جو میری تکذیب کی وجہ تمہارا ہوگا، دوسرے لفظوں میرا کام انزاز ہے، غیب کی خبریں بتانا نہیں۔ الا یہ کہ جس کی بابت خود اللہ مجھے بتلا دے۔
(آیت 26){ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ …:} یعنی قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، میں نہ قیامت لانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ مجھے اس کے وقت کا علم ہے، میرا کام صرف یہ ہے کہ وقت سے پہلے تمھیں قیامت کے متعلق آگاہ کر دوں اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرا دوں، سو یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ قیامت کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کا آنا یقینی ہے مگر وقت معلوم نہیں۔ موت ہی کو دیکھ لو، تو کیا اس لیے قیامت یا موت کی تیاری نہ کی جائے کہ بے شک اس نے آنا ہے مگر اس کا وقت معلوم نہیں؟
پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب یہ لوگ اس وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اسے پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور ان سے فرمادیا جائے گا یہ ہے جو تم مانگتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ جب اس (قیامت) کو قریب آتے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور (ان سے) کہاجائے گا کہ یہی وہ ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پس جب وہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جو تم مانگا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ’ سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے ‘۔ اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟ پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ’ کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:23،22] الخ، ’ ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو ‘۔
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ’ ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا ‘۔ پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ’ جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے ‘، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ’ جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ‘۔
27۔ 1 یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہونگی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔
(آیت 27) {فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْٓـَٔتْ …: ” زُلْفَةً “ ”زَلَفَ يَزْلُفُ“} (ن) سے اسم مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، قریب۔ {” تَدَّعُوْنَ “ ”دَعَا يَدْعُوْ“} کے باب افتعال سے فعل مضارع ہے، جس میں تائے افتعال کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کر دیا ہے۔ اب وہ جس قیامت کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور جس کا مطالبہ بڑے دھڑلے سے بار بار کر رہے ہیں، جب قریب آتی ہوئی دیکھیں گے تو سب ہنسی مذاق اور شیخی شوخی بھول جائیں گے، خوف اور دہشت سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ قیامت جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ کیا تم نے غور کیا ہے اگر (تمہاری خواہش کے مطابق) خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا (ہماری خواہش کے مطابق) ہم پر رحم فرمائے (بہرحال) کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر اللہ مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے، یا ہم پر رحم فرمائے تو کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو ‘۔ پھر فرمایا ’ ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے ‘، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ ‘ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
28۔ 1 مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے چاہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے ہلا کر دے یا انہیں مہلت دے دے یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گا۔
(آیت 28) {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ …: ” يُجِيْرُ “ ”أَجَارَ يُجِيْرُ إِجَارَةً“} افعال اجوف واوی۔ کفار مکہ اسلام کے پھیلنے سے پریشان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف اپنی تمام کوششوں کا ناکام ہونا دیکھ کر اس امید پر جی رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی زمانے کی گردش ان کا کام تمام کر دے گی۔ (دیکھیے طور: ۳۰) اس پر حکم ہوا کہ ان سے کہو مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، توتمھیں اس سے کیا غرض ہے؟ تم اپنی فکر کرو کہ کفر کے نتیجے میں جو عذاب الیم تم پر آنے والا ہے، تمھیں اس سے کون بچائے گا؟
اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہی رحمٰن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا، تو اب جان جاؤ گے کون کھلی گمراہی میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! وہ خدائے رحمان ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر توکل (بھروسہ) کرتے ہیں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے وہی بے حد رحم والا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسا کیا، تو تم عنقریب جان لوگے کہ وہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو ‘۔ پھر فرمایا ’ ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے ‘، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ ‘ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
29۔ 1 یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔ 29۔ 2 کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔ یعنی تم ہو یا ہم اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔
(آیت 29) {قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ …:} یعنی وہ ہمیں ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے، دونوں صورتوں میں ہماری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں، وہی رحمان ہے، کوئی اور نہیں جو ہم پر رحم کرسکے۔ ہمارا اس پر ایمان اور اسی پر بھروسا ہے، تم جو اس کے علاوہ بھی کسی سے رحم کے امید وار اور طلب گار ہو، بہت جلد آنکھیں بند ہوتے ہی جان لو گے کہ ہم میں سے صاف گمراہ کون تھا۔
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہیے! کیا تم نے غور کیا ہے کہ اگر تمہارا پانی زمین کی تہہ میں اترجائے تو پھر تمہارے لئے (شیریں پانی کا) چشمہ کون لائے گا؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو ‘۔ پھر فرمایا ’ ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے ‘، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ ‘ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
30۔ 1 غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہوجانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہوجائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہوجائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے کہ تمہیں پانی سے محروم نہیں فرماتا۔
(آیت 30) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا …: ” غَوْرًا “ ”غَارَ يَغُوْرُ غَوْرًا“} (ن) گہرا چلا جانا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔ {” مَعِيْنٍ “} کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۵)۔ ➋ اس آیت سے تعلق رکھنے والا ایک عجیب واقعہ صاحبِ کشاف نے ذکر کیا ہے کہ ایک ملحد کے پاس یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے کہا کہ (اگر وہ پانی گہرا چلا جائے تو) کسیاں اور بیلچے اسے نکال لائیں گے، تو اس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی آیات کی گستاخی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین) پچھلی آیات میں فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے اور بارش نہ برسائے تو کون ہے جو تمھیں بارش عطا فرمائے؟ قحط کے وقت اپنے خداؤں کی بے بسی تم دیکھ ہی چکے ہو۔ اب حکم ہوتا ہے ان سے پوچھو کہ یہی پانی جس پر تمھاری زندگی کا دارو مدار ہے، اگر گہرا ہو جائے اور تمھاری دسترس سے باہر ہو جائے تو کون ہے جو بہتا ہوا پانی تمھارے پاس لے آئے؟ ظاہر ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے پاس یہ قوت نہیں ہے۔