بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الملك — Surah Mulk
آیت نمبر 12
کل آیات: 30
قرآن کریم الملك آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الملك islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے
بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے
بےشک جو لوگ اپنے پروردگار سے اَن دیکھے ڈرتے ہیں ان کیلئے مغفرت ہے اور بڑا اجر و ثواب ہے۔
یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں۔ تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جن سات شخصوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زناکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ”جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔‏‏‏‏“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ‘، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ’ زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ‘، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں }۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ «مَنَاکِبِ» سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر «مَنَاکِبِ» کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔

📖 احسن البیان

12۔ 1 یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12) {اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انھیں قیامت کا یا اپنی بداعمالیوں کی سزا کا خوف تھا، کیونکہ نہ وہ اَن دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکرہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور بر گزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے گا اور اسی خشیت بالغیب کی وجہ سے انھوں نے جو نیکیاں کیں ان کا انھیں بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ خشیت کا معنی شدتِ خوف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کی اصل ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب ہے اور گناہ سے بچنے کا اصل باعث بھی یہی ہے۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →