بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الملك — Surah Mulk
آیت نمبر 10
کل آیات: 30
قرآن کریم الملك آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الملك islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰﴾
اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے،
اور کہیں گے کاش ہم (اس وقت) سنتے یا سمجھتے تو (آج) دوزخ والوں میں سے نہ ہو تے۔
اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔ اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ‏‏‏‏ ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ‏‏‏۱؎ [39-الزمر:71] ‏‏‏‏ الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔ اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)

📖 احسن البیان

10۔ 1 یعنی غور اور توجہ سے سنتے اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو آویزہ گوش بنا لیتے، اسی طرح اللہ کی دی ہوئی عقل سے بھی سوچنے سمجھنے کا کام لیتے تو آج ہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) {وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ …:} اب وہ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ ہم جس گمراہی میں مبتلا رہے، اس سے نکلنے کی دو ہی صورتیں تھیں، پہلی یہ کہ ہم رسولوں اور اہل ایمان کی باتیں سن لیا کرتے تو ایمان کی نعمت مل جاتی، دوسری یہ کہ خود کچھ عقل سے کام لیا کرتے تو توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد تک آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ دو نوں صورتوں میں آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے، مگر ہم اپنی مرضی اور آباو اجداد کے طریقے کے خلاف کوئی بات نہ سنا کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ رسولوں کی بات دلیل سمعی ہے اور اسے سمجھنا دلیل عقلی ہے، جبکہ اپنی مرضی پر چلنا یا آباو اجدا د کی تقلید نہ دلیل سمعی ہے اور نہ دلیل عقلی، بلکہ دلیل ہے ہی نہیں۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →