بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الملك — Surah Mulk
آیت نمبر 18
کل آیات: 30
قرآن کریم الملك آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ الملك islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۱۸﴾
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی
اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا تو میری سخت گیری کیسی تھی؟
اور بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے( بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، پھر کس طرح تھا میرا سزا دینا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭

ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) {وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …:} تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کے لیے پہلے لوگوں کا حال دیکھ لو۔ عرب میں عاد و ثمود، فرعون و قارون اور قوم لوط و شعیب کے واقعات معروف تھے۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →