اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، اور وہی زبردست دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین میں جو ہے (سب) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، وه زبردست باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے وہ (ہر چیز پر) غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا پاک ہونا بیان کیا ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ ‘ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:94] ، یعنی ’ اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔‘ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/2:صحیح]
ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔۱؎ [صحیح مسلم:2813] ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔
بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔
مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» ۱؎ [65-الطلاق:12] کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
آسمانوں اور زمین میں جو ہے (سب) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں 1 وہ زبردست با حکمت ہے۔
(آیت 1) ➊ {سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کا خالق و مالک اللہ عزوجل ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، اس کی ذات و صفات، افعال و احکام غرض ہر چیز کسی بھی طرح کے عیب اور نقص سے پاک ہے۔ اس سورت میں اور سورۂ صف اور سورۂ حشر کے شروع میں {” سَبَّحَ “} (ماضی) آیا ہے، سورۂ جمعہ اور سورۂ تغابن میں {” يُسَبِّحُ “} (مضارع) آیا ہے، جس میں حال واستقبال دونوں شامل ہیں اور سورۂ بنی اسرائیل میں {” سُبْحٰنَ “} (مصدر) آیا ہے، جس میں دوام پایا جاتا ہے۔ یعنی کائنات کا ذرّہ ذرّہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہونا بیان کرتا چلا آیا ہے، اب بھی کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ سورۂ اعلیٰ میں {” سَبِّحْ “} امر کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ➋ اس میں مشرکین پر چوٹ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعلان کر رہی ہے اور تم ہو کہ اس کے لیے شریک اور اس کے لیے اولاد بنا کر اس پر اتنا بڑا عیب لگا رہے ہو جس سے بڑا عیب اور جس سے بڑی گالی اس کے لیے ہو ہی نہیں سکتی۔ تمھیں پیدا اس نے کیا، تمھاری پرورش وہ کر رہا ہے اور تمھاری ہر ضرورت پوری وہ کرتا ہے، تمھاری موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے، مگر تم اس کے بے بس بندوں میں سے کسی کو داتا کہتے ہو، کسی کو دستگیر، کسی کو مشکل کشا اور کسی کو گنج بخش، کسی کو تم نے اولاد دینے والا بنا رکھا ہے توکسی کو حکومت دینے والا، کسی کو خزانے بخشنے والا تو کسی کو شفا دینے والا، کسی کے متعلق کہتے ہو کہ وہ اللہ کی تقدیر کا رخ پھیر دیتا ہے اور کسی کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر راستے سے واپس لے آتا ہے۔ اب آسمان و زمین کی ہر چیز کی گواہی کو دیکھو اور اپنے طرز عمل کو دیکھو۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: [ قَالَ اللّٰهُ كَذَّبَنِيَ ابْنُ آدَمَ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيْبُهُ إِيَّايَ فَزَعَمَ أَنِّيْ لاَ أَقْدِرُ أَنْ أُعِيْدَهُ كَمَا كَانَ وَ أَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لِيْ وَلَدٌ، فَسُبْحَانِيْ أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ البقرۃ، باب: «وقالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانہ» : ۴۴۸۲ ] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ابنِ آدم نے مجھے جھٹلا دیا، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اسے دوبارہ بنانے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ میری کوئی اولاد ہے، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کوئی بیوی یا اولاد بناؤں۔“ اس سورت میں اور مذکورہ بالا دوسری سورتوں کی آیات میں ” تسبیح“ کے لفظ اور اس حدیث میں {”سُبْحَانِيْ“} کے لفظ پر غور فرمائیں تو تسبیح کا مفہوم کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح کے ذکر کے بعد اپنی دس سے زیادہ صفات بیان فرمائیں اور سب کے بعد کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانے کی دعوت دی، فرمایا: «اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ» [ الحدید: ۷ ] ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمھیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے۔“ ➌ تسبیح کا لغوی معنی کیا ہے، قرآنی آیات میں اس کا مفہوم کیا ہے، یہ تسبیح زبان حال سے ہے یا قول کے ساتھ؟ ان سب باتوں کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (44،43) کی تفسیر۔ ➍ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ: ” الْعَزِيْزُ “ ”عَزَّ يَعِزُّ “} (ض) سے مبالغے کا صیغہ ہے، سب پر غالب، کوئی کام ایسا نہیں جو وہ کرنا چاہے اور نہ کر سکے اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے کسی کام سے روک سکے۔ {” الْحَكِيْمُ “} کمال حکمت والا۔ اس کا ہر کام محکم ہے اور دانائی پر مشتمل ہے، اس لیے کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل کا کامل علم رکھتا ہے۔ اس کے کسی کام میں کوئی غلطی نہیں، وہ عزیز ہے تو حکیم بھی ہے، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کمال حکمت بھی شامل ہے۔ {” الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ “} خبر پر الف لام سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا کہ عزیز و حکیم صرف وہ ہے، کوئی اور نہیں۔
زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وه ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے اور مارتا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے لئے ہے وہی حیات دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ ‘ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:94] ، یعنی ’ اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔‘ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/2:صحیح]
ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔۱؎ [صحیح مسلم:2813] ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔
بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔
مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» ۱؎ [65-الطلاق:12] کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2) ➊ { لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:” لَهٗ “} خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا، یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کی نہیں۔ دوسرے کسی کے پاس بادشاہی اگر ہے تو سارے آسمانوں اور زمین کی نہیں بلکہ زمین کے کسی چھوٹے سے قطعے کی تھوڑے سے وقت کے لیے اور وہ بھی اسی کی عطا کردہ اور ہر لمحے دوسروں کی محتاج۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ پھر کائنات کے سارے اختیارات کے مالک کے مقابلے میں کسی اور کی عبادت کا کیا جواز ہے؟ ➋ { يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ:} اگرچہ یہ دونوں صفات {” لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کے مضمون میں شامل ہیں، مگر انھیں خاص طور پر الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دونوں کام زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے ان تصرفات میں سے ہیں جن کی حقیقت اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور مخلوق میں سے کوئی دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ ان میں اس کا کوئی دخل ہے اور اس میں قیامت کے امکان کی بھی دلیل ہے جس کا مشرک انکار کرتے ہیں اور ان کے بنائے ہوئے خداؤں کے باطل ہونے کی طرف اشارہ بھی ہے، یعنی {” لَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَيٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا “} کہ باطل معبود تو نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۳)۔ ➌ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔
وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ﻇاہر ہے اور وہی مخفی، اور وه ہر چیز کو بخوبی جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہرہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی سب سے پہلے ہے اور سب سے پیچھے ہے اور ظاہر ہے اور چھپا ہو ا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭
تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:44] ’ ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ ‘ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:94] ، یعنی ’ اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔‘ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ۱؎ [57-الحديد:3] اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/2:صحیح]
ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔۱؎ [صحیح مسلم:2813] ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔
بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔
مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔ امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» ۱؎ [65-الطلاق:12] کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
3-1وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی، وہی ظاہر ہے۔ یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں، وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے۔
(آیت 3) ➊ {هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ …: ”ظَهَرَ يَظْهَرُ“} (ف) کا معنی پوشیدہ کے مقابلے میں ظاہر ہونا بھی ہے اور بلند اور غالب ہونا بھی، جیسا کہ فرمایا: «لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ» [ التوبۃ: ۳۳ ] ”تاکہ وہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔“ یہاں بھی {” هُوَ “} مبتدا کی چاروں خبروں {” الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ “} پر الف لام کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جو سب سے پہلے ہے، اس کی کوئی ابتدا نہیں اور وہی سب سے آخر ہے، اس کے بعد کوئی نہیں، اس کی انتہا بھی کوئی نہیں، اس کے سوا سب فنا ہونے والے ہیں، اس پر فنا نہیں۔ وہی ہے جس کا وجود ظاہر ہے، جو کائنات کی ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسے بنانے والا موجود ہے، جو ہر چیز پر غالب ہے کہ اس نے جو چاہا بنا دیا اور جو چاہتا ہے بنا دیتا ہے، کوئی اس سے اوپر نہیں جو اسے روک سکے اور وہی ہے جس کی ذات پوشیدہ ہے جس کا آنکھیں ادراک نہیں کر سکتیں۔ اس کے سوا کسی میں ان چاروں صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ اس آیت کی بہترین تفسیر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم اپنے بستر پر لیٹیں تو یہ کہیں: [ الَلّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبَّ الْأَرْضِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، رَبَّنَا وَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، وَ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِْنْجِيْلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهٖ، الَلّٰهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَ أَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَ أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَ أَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُوْنَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ ] [مسلم، الذکر والدعاء، باب ما یقول عند النوم وأخذ المضجع: ۲۷۱۳ ] ”اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑ نکالنے والے اور تورات و انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کے بالوں کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو ہی اوّل ہے، سو تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور توہی آخر ہے، سو تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی ظاہر ہے، سو تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، سو تجھ سے ”دُون “ (بعد) کوئی چیز نہیں۔ تو ہم سے قرض ادا کر دے اور ہمیں فقر سے غنی کر دے۔“ ➋ { ” الْبَاطِنُ “} کی ایک تفسیر وہ ہے جو عام طور پر کی جاتی ہے، یعنی پوشیدہ۔ اس کے مطابق {”لَيْسَ دُوْنَكَ شَيْءٌ“} کا مطلب یہ ہے کہ تو ہی پوشیدہ ہے، سو تجھ سے زیادہ پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔ یہ مفہوم {” لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ “} میں بیان ہوا ہے، دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۳) کی تفسیر اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، انھوں نے فرمایا: [ قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ بَكْرٍ النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهٰی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهٖ ] [ مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام: ” إن اللہ لا ینام… “: ۱۷۹ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اسے اٹھاتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے۔ اس کا حجاب نور ہے (اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نار ہے) اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنیں اس کی مخلوق میں سے ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ ➌ اور{” الْبَاطِنُ “} کی ایک تفسیر وہ ہے جو مفسر طبری نے بیان فرمائی ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں: {” وَ الظَّاهِرُ “ يَقُوْلُ وَهُوَ الظَّاهِرُ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ دُوْنَهُ، وَهُوَ الْعَالِيْ فَوْقَ كُلِّ شَيْءٍ، فَلاَ شَيْءَ أَعْلٰی مِنْهُ، ” وَ الْبَاطِنُ “ يَقُوْلُ وَهُوَ الْبَاطِنُ جَمِيْعَ الْأَشْيَاءِ، فَلاَ شَيْءَ أَقْرَبُ إِلٰی شَيْءٍ مِنْهُ، كَمَا قَالَ:} «وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ» [ قٓ: ۱۶] ”یعنی {” وَ الظَّاهِرُ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہی اپنے سوا ہر چیز پر ظاہر ہے اور وہی ہر چیز کے اوپر بلند ہے، کوئی چیز اس سے بلند نہیں اور {” وَ الْبَاطِنُ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اشیاء سے باطن ہے، چنانچہ کوئی چیز کسی چیز سے اس سے زیادہ قریب نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ» [ قٓ: ۱۶] ”اور ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ ہر چیز سے زیادہ بلند بھی وہی ہے اور ہر چیز کے زیادہ سے زیادہ قریب بھی وہی ہے۔ بہت سے اہلِ علم نے اس قرب سے مراد علم کے لحاظ سے قریب ہونا اور {” الْبَاطِنُ “} کا معنی علم کے لحاظ سے ہر چیز کے قریب کیا ہے۔ یہ بحث آگے آیت (۴) {” وَ هُوَ مَعَكُمْ “} میں کچھ تفصیل سے آ رہی ہے۔
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا۔ وه (خوب) جانتا ہےاس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جا تا ہے اور جو اس سے باہر نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر غالب ہوا (اپنا اقتدار قائم کیا) وہ اسے بھی جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور اسے بھی جو اس سے باہر نکلتا ہے اور اسے بھی جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» ۱؎ [57-الحديد:4] سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ «يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» ۱؎ [57-الحديد:4] ’ اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ، ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔‘ اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے { رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:293] اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [3-آل عمران:156] وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] یعنی ’ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ ‘ ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ہے ’ پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔‘ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:50] { ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ }۔ ۱؎ [ابونعیم] اور حدیث میں ہے { افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» ۱؎ [92-الليل:13] ’ دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔‘ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:70] یعنی ’ وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» ۱؎ [34-سبأ:1] ’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔‘ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:95-93] ’ آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے ‘۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النسأ:40] ’ وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ’ قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے ‘۔
4-1اس مفہوم کی آیات (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف:54)، (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ) 10۔ یونس:3)، (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ ) 32۔ السجدہ:4) وغیرھا من الآیات میں گزر چکی ہیں، ان کے حواشی ملاحظہ فرمالیے جائیں۔ 4-2یعنی زمین میں بارش کے جو قطرے اور غلہ جات و میوہ جات کے جو بیج داخل ہوتے ہیں کی کیفیت کو وہ جانتا ہے۔ -3 جو درخت، چاہے وہ پھلوں کے ہوں یا غلوں کے یا زینت اور آرائش کے اور خوشبو والے پھولوں یہ جتنے بھی اور جیسے بھی باہر نکلتے ہیں۔ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں تمام مخفی اشیاء کے خزانے، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے، اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسکو بھی جانتا ہے، اور کوئی دانہ کوئی زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ -4 بارش، اولے، برف تقدیر اور وہ احکام، جو فرشتے لے کر اترتے ہیں۔ -5 فرشتے انسانوں کے جو عمل لے کر چڑھتے ہیں جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کی طرف رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے چڑھتے ہیں۔ -6 یعنی تم خشکی میں ہو یا تری میں، رات ہو یا دن، گھروں میں ہو یا صحراؤں میں، ہر جگہ ہر وقت وہ اپنے علم وبصر کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارے ایک ایک عمل کو دیکھتا ہے، تمہاری ایک ایک بات کو جانتا اور سنتا ہے۔ یہی مضمون (وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۭ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ ) 11۔ ہود:3)۔ (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد:10) اور دیگر آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 4) ➊ {هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) کی تفسیر۔ ➋ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴) اور سورۂ طٰہٰ (۵) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور تمام جملے لانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ اللہ واحد نے کیا ہے تو پھر اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور اس کے ساتھ شریک کیوں ٹھہراتے ہو، جیسا کہ یہ بات آگے آیت (۷) {” اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ “} میں صراحت کے ساتھ آرہی ہے۔ ➌ { يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا …:} اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے تعلق رکھنے والی چیزوں میں سے ان چیزوں کے بجائے جو زمین پر موجود ہیں ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس میں داخل ہوتی ہیں یا اس سے نکلتی ہیں۔ اسی طرح آسمان میں موجود چیزوں کے ذکرکے بجائے ان کا ذکر فرمایا جو اس سے اترتی ہیں یا اس کی طرف چڑھتی ہیں۔ کیونکہ جو زمین میں داخل ہونے والی اور اس سے نکلنے والی چیزوں کو جانتا ہے وہ اس کے اوپر موجود چیزوں کو بالاولیٰ جانتا ہے اور جو آسمان سے اترنے والی اور اس میں چڑھنے والی چیزوں کو جانتا ہے وہ فضا اور خلا میں موجود نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی چیزوں کو اور ستاروں کی گردش اور ان کے نظام کو بالاولیٰ جانتا ہے۔ زمین میں داخل ہونے والی چیزوں میں سے بارش کا پانی ہے جو زمین کی گہرائیوں میں داخل ہوتا ہے، نباتات کے بیج ہیں اور زمین میں دفن ہونے والے اجسام وغیرہ ہیں اور اس سے نکلنے والی چیزوں میں سے نباتات، معدنیات،گیسیں اور وہ جانور ہیں جو اپنی غاروں اور ٹھکانوں سے نکلتے ہیں۔ آسمان سے اترنے والی چیزوں میں سے بارش، برف، ہوائیں، اللہ تعالیٰ کے احکام، اس کے فرشتے اور اس کی رحمت وغیرہ ہیں اور اس میں چڑھنے والی چیزوں میں سے وہ چیزیں ہیں جو فضا کے طبقات میں بلند ہوتی ہیں۔ مثلاً سمندر وغیرہ سے اٹھنے والے آبی بخارات، مٹی اور ریت وغیرہ کی آندھیاں اور بگولے، فضا میں اڑنے والے پرندے، جسموں سے جدا ہو کر اوپر جانے والی ارواح اور عالم بالا سے معلومات چرانے کے لیے اوپر جانے والے شیاطین، بندوں کے اعمال اور فرشتے جو اترتے اور چڑھتے ہیں۔ [ التحریر والتنویر في سورۃ سبا ] ➍ { وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ:} ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو“ اس جملے سے پہلے اسی آیت میں یہ جملہ گزر چکا ہے: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» ”وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“ تو یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ اس معاملے میں بعض لوگوں نے ان دونوں کا انکار کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نہ عرش پر ہے اور نہ کسی اور جگہ، بلکہ وہ لامکان ہے اور جو شخص یہ پوچھ بھی لے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے وہ کافر ہوگیا، کیونکہ اس کے لیے مکان (جگہ) تسلیم کرنے سے اس کا اس جگہ کا محتاج ہونا لازم آتا ہے۔ ان نادانوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کا فتویٰ کس کس پر لگ رہا ہے اور نہ یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں: «ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» کہ پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ پھر قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھائے ہونے کا ذکر سورۂ حاقہ میں موجود ہے، فرمایا: «وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ الحاقۃ: ۱۷] ”اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔“ اور قیامت کے دن فرشتوں کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہونے کا ذکر سورۂ زمر میں موجود ہے، فرمایا: «وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ» [ الزمر: ۷۵ ] ”اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے۔“ اور یہ سوال کرنا کہ اللہ کہاں ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ معاویہ بن حکم السُّلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میری ایک لونڈی اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں نے دیکھا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا، میں بھی بنی آدم سے ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آ جاتا ہے جیسے انھیں غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِئْتِنِيْ بِهَا ] : ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: [ أَيْنَ اللّٰهُ؟ ] ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: [ فِي السَّمَاءِ ] ”آسمان میں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَنَا؟ ] ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: [ أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ] ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ] ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“ [ مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ، باب تحریم الکلام في الصلاۃ…: ۵۳۷ ] خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے، قرآن و حدیث کا صریح انکار ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے، مگر اس طرح سے جسے وہی جانتا ہے اور جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے عرش پر مستوی ہونے کے انکار کی ایک انتہا یہ تھی کہ وہ کسی جگہ بھی نہیں، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی کا انکار ہے۔ دوسری انتہا ان لوگوں نے اختیار کی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور ہم جہاں بھی ہوں وہ ہمارے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ بات بھی غلط ہے، کیونکہ اسی آیت میں {” وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ “} (وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو) سے پہلے{” ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ “} میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب اگر {” وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ “} کا مطلب یہ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ اس طرح ہمارے ساتھ ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تو ایک ہی آیت کے دو جملے ایک دوسرے سے ٹکراتے اور متعارض ٹھہرتے ہیں، اس لیے {” وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ “} کا وہی مطلب درست ہو گا جو {” اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى “} کے خلاف نہ ہو اور کلام عرب کے بھی خلاف نہ ہو، کیونکہ جس طرح {” اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى “} پر ایمان لازم ہے اسی طرح {” وَ هُوَ مَعَكُمْ “} پر ایمان بھی لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام عرب میں معیت (ساتھ ہونے) کا معنی اگرچہ اس طرح ساتھ ہونا بھی ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ لفظ مختلف مواقع کے لحاظ سے اس کے علاوہ معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ معیت کا ایک معنی وہ ہے جو سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵۳): «اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ» (بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اور سورۂ توبہ کی آیت (۴۰): «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» (غم نہ کر، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے) میں ہے۔ ظاہر ہے ان آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بے صبروں کے ساتھ نہیں، اسی طرح وہ ہجرت کے وقت غارِ ثور میں اور سارے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا مشرکین کے ساتھ نہیں تھا۔ {” وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ “} میں یہ معنی بھی مراد نہیں، کیونکہ اس معنی میں معیت صرف اللہ کے مخلص بندوں کا نصیب ہے۔ معیت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ایک چیز دور ہونے کے باوجود ان چیزوں کے ساتھ بھی ہو جن سے وہ دور ہے۔ چنانچہ {” وَ هُوَ مَعَكُمْ “} میں معیت سے یہی معنی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل اور پوری کیفیت وہی جانتا ہے۔ اگر مخلوق میں ایسا ہونا ممکن نہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ مگر مخلوق میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک چیز کسی ایک جگہ ہونے کے باوجود دوسری جگہ موجود لوگوں کے ساتھ ہو۔ اس کی ادنیٰ سی مثال سورج اور چاند ہیں کہ بلندی پر ہونے کے باوجود ہم جہاں جاتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، حالانکہ وہ زمین پر ہمارے اندر موجود نہیں ہوتے، مگر سب کہتے ہیں کہ رات میں سفر کرتا رہا اور چاند سارے سفر میں میرے ساتھ رہا۔ معیت کا یہ معنی معروف ہے اور اپنے مقام پر حقیقی معنی ہے۔ جب سورج اور چاند کا یہ معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت تو ان کی صفت سے کہیں بلند ہے، چنانچہ وہ عرش پر ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ہے، خواہ ہم کہیں بھی ہوں، اگرچہ اپنی صفت {” الْبَاطِنُ “} کی وجہ سے اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ قیامت کے دن جب وہ اہلِ جنت کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ کرے گا اور اپنا حجاب کھولے گا تو تمام جنتی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے کسی تکلیف کے بغیر اور کسی قسم کے ہجوم یا بھیڑ کے بغیر اسے دیکھیں گے اور یہ مثال خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! هَلْ نَرٰی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذٰلِكَ ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ…» : ۷۴۳۷ ] ”یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودھویں کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو جس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں یا رسول اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم اسے اسی طرح دیکھو گے۔“ یہاں شیخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ کی تالیف {”القواعد المثلٰي في صفات اللّٰه وأسماء ه الحسنٰي“} «اَلْمِثَالُ الْخَامِسُ وَالسَّادِسُ» سے ان کی ایک تحریر کا ترجمہ لکھا جاتا ہے، وہ لکھتے ہیں: ”دوسری وجہ یہ ہے کہ ”معیت“ کے معنی کی حقیقت ”عُلُوّ“ کے مناقض اور خلاف نہیں، کیونکہ دونوں کا جمع ہونا مخلوق کے حق میں ممکن ہے (کہ ایک چیز بلندی پر بھی ہو اور ساتھ بھی ہو) کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند بھی ہمارے ساتھ تھااور اسے تناقض نہیں سمجھا جاتا اور نہ کوئی اس سے یہ سمجھتا ہے کہ چاند زمین پر اتر آیا ہے۔ تو جب یہ مخلوق کے حق میں ممکن ہے تو خالق کے حق میں تو بالاولیٰ ممکن ہے، جو اپنے علو کے ساتھ ہر چیز کو محیط بھی ہے، کیونکہ معیت کی حقیقت کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ” {الفتوي الحموية } (ص ۱۰۳)“ (دیکھیے ابن القاسم کے مرتب کردہ ”مجموع الفتاویٰ “کی جلد پنجم) میں اسی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے: ”یہ اس لیے کہ لغت میں جب لفظ {”مَعَ“} کسی قید کے بغیر بولا جاتا ہے تو اس کا معنی لغت میں مطلق ساتھ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، پھر جب اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مقید کیا جائے تو اس معنی میں ساتھ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند یا ستارہ ہمارے ساتھ تھا اور کہا جاتا ہے کہ فلاں سامان میرے ساتھ ہے، کیونکہ وہ تمھارے پاس ہوتا ہے، خواہ وہ تمھارے سر کے اوپر ہو۔ سو اللہ تعالیٰ حقیقت میں اپنی مخلوق کے ساتھ ہے اور حقیقت میں اپنے عرش پر بھی ہے۔“ ➎ سلف صالحین میں سے بہت سے اہلِ علم نے {” وَ هُوَ مَعَكُمْ “} کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ اپنے علم، رؤیت اور قدرت کے ساتھ ہمارے ساتھ ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ زیر تفسیر آیت میں {” وَ هُوَ مَعَكُمْ “} سے پہلے ہر چیز کے علم کا ذکر ہے اور بعد میں ہر چیز کو دیکھنے کا۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے ہم جہاں بھی ہوں، مگر وہ زمین پر اپنی مخلوق کے ساتھ اس طرح نہیں جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا، اسے دیکھنے والا اور اس پر پوری قدرت اور تصرف رکھنے والا ہے۔ یہ تمام صفات حسنیٰ اس کے لیے ثابت ہیں، مگر معیت کا معنی علم یا قدرت نہیں بلکہ یہ بذات خود ایک صفت ہے جس کی اصل کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس لیے اس بات پر ایمان رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے ہم جہاں بھی ہوں۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل کیفیت وہی جانتا ہے، چاند یا سورج کی مثالیں صرف سمجھانے کے لیے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، وہ مخلوق کے ساتھ ہو سکتا ہے اور ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی ایک اور ادنیٰ سی مثال بجلی ہے کہ وہ اپنے اصل ٹھکانے میں ہونے کے باوجود ہزاروں میل دور تک موجود ہوتی ہے اور اس کا وجود سب محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت اور مخلوق پر مؤثر ہونے کے لیے یہ مثال بھی نہایت ادنیٰ مثال ہے، جبکہ اللہ کی صفات بہت اعلیٰ ہیں، چنانچہ فرمایا: «وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى» [ النحل: ۶۰ ] ”اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے۔“ اس کے لیے عرش پر رہ کر ہر ایک کے ساتھ ہونا بالکل معمولی بات ہے۔
وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اسی کی ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور اللہ ہی کی طرف، سب کاموں کی رجوع،
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کیلئے ہے اور تمام معاملات کی باز گشت اللہ ہی کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» ۱؎ [57-الحديد:4] سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ «يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» ۱؎ [57-الحديد:4] ’ اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ، ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔‘ اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے { رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:293] اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [3-آل عمران:156] وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] یعنی ’ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ ‘ ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ہے ’ پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔‘ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:50] { ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ }۔ ۱؎ [ابونعیم] اور حدیث میں ہے { افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» ۱؎ [92-الليل:13] ’ دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔‘ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:70] یعنی ’ وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» ۱؎ [34-سبأ:1] ’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔‘ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:95-93] ’ آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے ‘۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النسأ:40] ’ وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ’ قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5) ➊ { لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ جملہ آیت (۲) میں گزرا ہے، دوبارہ تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ ➋ { وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ: ” اِلَى اللّٰهِ “} پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، کسی اور کی طرف نہیں، لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور ان کی جزا یا سزا دے گا۔
وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور سینوں کے بھیدوں کا وه پورا عالم ہے
احمد رضا خان بریلوی
رات کو دن کے حصے میں لاتا ہے اور دن کو رات کے حصے میں لاتا ہے اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» ۱؎ [57-الحديد:4] سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ «يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» ۱؎ [57-الحديد:4] ’ اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ، ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔‘ اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے { رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:293] اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [3-آل عمران:156] وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] یعنی ’ اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ ‘ ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ہے ’ پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔‘ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:50] { ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ }۔ ۱؎ [ابونعیم] اور حدیث میں ہے { افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» ۱؎ [92-الليل:13] ’ دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔‘ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:70] یعنی ’ وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» ۱؎ [34-سبأ:1] ’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔‘ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:95-93] ’ آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے ‘۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النسأ:40] ’ وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ’ قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) {يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۷)، حج (۶۱)، لقمان (۲۹)، ہود (۵) اور سورۂ رعد (۱۰)۔
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے پس تم میں سے جو ایمان ﻻئیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ﺛواب ملے گا
احمد رضا خان بریلوی
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اس (مال) میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں (دوسروں) کا جانشین بنایا ہے پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کیا ان کیلئے بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمھیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے، پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے، نہ تو چھوڑتا، نہ اڑاتا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ } [صحیح مسلم:2985] اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ» ۱؎ [57-الحديد:8] یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ }۔ ۱؎ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔ پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7) ➊ { اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} سورت کے شروع سے یہاں تک اس حقیقت کے اعلان کے بعد کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز نے اللہ کا (ہر عیب اور کمی سے) پاک ہونا بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی دس سے زیادہ صفات بیان ہوئی ہیں جو یہ ہیں: {” الْعَزِيْزُ، الْحَكِيْمُ، لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ، وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ، وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ، يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ “} ان صفات کے بیان کے بعد اس بات کی دعوت دی ہے کہ ان صفات کے مالک اللہ تعالیٰ پر اور اس کا پیغام لے کر آنے والے پر ایمان لاؤ۔ اس کے مخاطب اگرچہ کفار بھی ہیں، مگر بعد میں پورے سلسلۂ کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں سے خطاب ان مسلمانوں کو ہے جو ایمان لا چکے تھے، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں کوتاہی کر رہے تھے اور جہاد فی سبیل اللہ میں جان و مال کی قربانی سے گریز کر رہے تھے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ نساء کی آیت (۱۳۶): «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» (اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر)میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ایمان میں پختگی پیدا کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو، جن میں سے ایک بہت بڑا تقاضا اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ ➋ { وَ اَنْفِقُوْا:} یہاں خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین و مہاجرین کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا ہے۔ دلیل اس کی آگے آنے والی آیت (۱۰) ہے: «وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ”اور تمھیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔“ اور {” فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کا خاص اطلاق جہاد پر ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰) کی تفسیر۔ ➌ {مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ:} اس میں کئی طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے، ایک یہ کہ یہ مال تمھارا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا، اب اس نے تمھیں اس میں پہلوں کا جانشین بنا دیا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ تم اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہو یا نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۱۶۵) غلام کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو وہاں خرچ نہ کرے جہاں وہ اسے خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے، بلکہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا پھرے یا جمع کرنے لگ جائے۔ دوسرا یہ کہ پہلے لوگوں کی طرح یہ تمھارے پاس بھی نہیں رہے گا۔ اگر تم نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر لیا تو یہ آخرت کے لیے تمھارا ذخیرہ بن جائے گا اور اگر تم نے خرچ نہ کیا تو کچھ اور لوگ اس میں تمھارے جانشین بن جائیں گے۔ پھر اگر انھوں نے اسے نیکی میں خرچ کیا تو وہ تم سے بہتر رہے کہ وہ مال جو تم نیکی میں خرچ نہ کر سکے انھوں نے کر دیا، تم محروم رہے اور اگر انھوں نے بدی میں خرچ کیا تو تمھاری دولت بھی ان کی بدی میں معاون ٹھہری۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَّالِهِ ثَلَاثٌ، مَا أَكَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی، وَمَا سِوَی ذٰلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ ] [مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر: ۲۹۵۹ ] ”بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال، اس کے مال میں سے اس کی اپنی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا دے دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے علاوہ ہے تو یہ جانے والا ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے۔“ ➍ {فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا:} یہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان میں سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لائے اور تبوک کے موقع پر صدقہ کے اعلان پر سارا مال لے آئے، ان میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو آدھا مال لے آئے اور عثمان رضی اللہ عنہ بھی اور وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی جنھوں نے خوش حالی میں بھی خرچ کیا اور تنگ دستی کے باوجود محنت مشقت کر کے بھی صدقہ کیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۷۹) کی تفسیر۔ ➎ {لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ:} ”فی سبيل الله“ خرچ کرنے والوں کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۴) اور سورۂ انفال (۶۰)۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں ﻻتے؟ حاﻻنکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان ﻻنےکی دعوت دے رہا ہے اور اگر تم مومن ہو تو وه تو تم سے مضبوط عہد وپیمان بھی لے چکا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلارہے ہیں کہ اپنے ر ب پر ایمان لاؤ اور بیشک وہ تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے اگر تمہیں یقین ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (اس کا) رسول تمہیں بلا رہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور وہ (اللہ) تم سے عہد و پیمان لے چکا ہے اگر تم مؤمن ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھیں کیا ہے تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، جب کہ رسول تمھیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے، نہ تو چھوڑتا، نہ اڑاتا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ } [صحیح مسلم:2985] اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ» ۱؎ [57-الحديد:8] یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ }۔ ۱؎ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔ پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
8-1ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم ؑ کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر (وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ182ښ) 7۔ الاعراف:182) میں ہے۔
(آیت 8) ➊ { وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ …:} یہ خطاب بھی مسلمانوں ہی سے ہے، اس کی دلیل آیت کا آخری جملہ {” وَ قَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ “} (اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو) ہے۔ اسی طرح بعد والی آیت (۱۰): «لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ» بھی اس کی دلیل ہے۔ جس طرح پچھلی آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے اور خرچ کرنے کا حکم ہے، اسی طرح اس آیت میں بھی انھیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے؟ یعنی اس پر ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے اس کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، حالانکہ رسول خود تمھارے درمیان موجود ہے اور بہ نفس نفیس تمھیں اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اس پر یقین رکھتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرو۔ ➋ {وَ قَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ: ” اَخَذَ “} کا فاعل {” الرَّسُوْلُ “} کی ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور لفظ {” اللّٰهِ“} کی ضمیر بھی، یعنی جب تم نے ایمان قبول کیا تھا اس وقت اللہ نے تم سے اطاعت کا پختہ عہد لیا تھا، اسی طرح کلمۂ اسلام کے ساتھ تم رسول کو بھی اپنی اطاعت کا پختہ عہد دے چکے ہو، تو اب اطاعت سے گریز اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے سے دریغ کیوں کر رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ کے عہد لینے کا ذکر اس آیت میں ہے: «وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ» [ المائدۃ: ۷ ] ”اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عہد دینے کا ذکر اس حدیث میں ہے جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [ بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَ أَنْ لاَ نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَ أَنْ نَقُوْمَ أَوْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لاَ نَخَافُ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ] [بخاري، الأحکام، باب کیف یبایع الإمام الناس؟: ۷۱۹۹،۷۲۰۰ ] ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ نشاط اور ناگواری دونوں حالتوں میں سمع و طاعت کریں گے اور صاحب امر سے امارت میں جھگڑا نہیں کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے حق کہیں گے، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔“ ➌ بعض مفسرین نے {” وَ قَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ “} سے {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} والا عہد مراد لیا ہے، جس کا ذکر سورۂ اعراف (۱۷۲) میں ہے، مگر یہاں آیات کا سیاق اس کی موافقت نہیں کرتا، اس لیے پہلی تفسیر ہی درست ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔
وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه (اللہ) ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نرمی کرنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے کہ اپنے بندہ پر روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے اور بیشک ا لله تم پر ضرور مہربان رحم والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جو اپنے بندۂ خاص پر واضح آیات نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں (کفر و شرک) کی تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی کی طرف لے آئے اور بےشک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ٭٭
وہ اللہ جو اپنے بندے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ’ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا ‘۔ پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا ’ میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لیے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔‘ فرماتا ہے «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے۔ ‘ اور فرماتا ہے «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» ۱؎ [16-النحل:96] ’ اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔‘ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لیے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں۔
بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ { سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/3:صحیح] ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا، ہم مسلمان ہو گئے ہم «صابی» ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لیے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے { میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3673]
ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے۔“ ہم نے کہا کیا قریشی؟ فرمایا: ”نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ» کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:674/11] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ { تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1064] ابن جریر میں ہے { عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا: ”وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے۔“ ہم نے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟ فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگلیا کو دراز کر کے فرمایا: ”خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ } پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہو، جیسے کہ سورۃ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ «وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20] یعنی ’ کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔‘ پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ «لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً» ۱؎ [4-النساء:95] ’ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعده دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔‘ جیسے اور جگہ ہے کہ ’ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔‘ صحیح حدیث میں ہے { قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2664] اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گزرے اس لیے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا ’ تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔‘ حدیث شریف میں ہے { ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2528،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصہ دار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی امت کے سردار ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں۔“ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:229/4:ضعیف] یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) ➊ {هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ …:} اس آیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۵،۱۶) کی تفسیر۔ ➋ { لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۶۵)۔
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وه (دوسروں کے) برابر نہیں، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے۔ ہاں بھلائی کا وعده تو اللہ تعالیٰ کاان سب سے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اورتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم (اپنے مال) اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث (ترکہ) اللہ ہی کیلئے ہے تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے مال خرچ کیا اور جنگ کی وہ اور وہ جنہوں نے فتحِ مکہ کے بعد مال خرچ کیا اور جنگ کی برابر نہیں ہو سکتے (بلکہ پہلے والوں کا) درجہ بہت بڑا ہے اگرچہ اللہ نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی وہ (یہ عمل بعد میں کرنے والوں کے) برابر نہیں۔ یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنھوںنے بعد میں خرچ کیا اور جنگ کی اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ٭٭
وہ اللہ جو اپنے بندے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ’ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا ‘۔ پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا ’ میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لیے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔‘ فرماتا ہے «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے۔ ‘ اور فرماتا ہے «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» ۱؎ [16-النحل:96] ’ اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔‘ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔ پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لیے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں۔
بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ { سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/3:صحیح] ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا، ہم مسلمان ہو گئے ہم «صابی» ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لیے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے { میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3673]
ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے۔“ ہم نے کہا کیا قریشی؟ فرمایا: ”نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ» کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:674/11] لیکن یہ روایت غریب ہے۔
بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ { تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1064] ابن جریر میں ہے { عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا: ”وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے۔“ ہم نے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟ فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگلیا کو دراز کر کے فرمایا: ”خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ } پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہو، جیسے کہ سورۃ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ «وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ۱؎ [73-المزمل:20] یعنی ’ کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔‘ پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ «لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً» ۱؎ [4-النساء:95] ’ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعده دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔‘ جیسے اور جگہ ہے کہ ’ مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔‘ صحیح حدیث میں ہے { قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2664] اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گزرے اس لیے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا ’ تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔‘ حدیث شریف میں ہے { ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2528،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصہ دار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی امت کے سردار ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں۔“ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:229/4:ضعیف] یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10-1فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مراد لیا ہے۔ بہر حال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے بھی کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت و تعداد میں بھی بڑھتے چلے گئے اور انکی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابر نہیں ہوسکتے۔ -2 کیونکہ پہلوں کا انفاق اور جہاد، دونوں کام نہایت کٹھن حالات میں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل فضل و عزم کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی لیے اہل سنت کے نزدیک شرف وفضل میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سب سے مقدم ہیں، کیونکہ مومن اول بھی وہی ہیں اور منفق اول اور مجاہد اول بھی وہی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو اپنی زندگی اور موجودگی میں نماز کے لیے آگے کیا، اور اسی بنیاد پر مومنوں (صحابہ کرام) نے انہیں استحقاق خلافت میں مقدم رکھا۔ ؓ و رضوا عنہ۔ -3 اس میں وضاحت فرما دی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان شرف و فضل میں فرق تو ضرور ہے لیکن فرق درجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ایمان اور اخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی گئے گزرے تھے، جیسا کہ بعض حضرات، حضرت معاویہ ان کے والد حضرت ابو سفیان اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر انکی تنقیص و اہانت کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام ؓ کے بارے میں فرمایا ہے کہ لا تسبوا اصحابی میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو وہ میرے صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے بھی برابر نہیں۔
(آیت 10) ➊ {وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} ”ميراث“ اصل میں اس ملکیت کو کہتے ہیں جو پچھلے مالک کے انتقال پر اس کے زندہ رہنے والے وارثوں کو ملتی ہے۔ یہ ملکیت جبری ہوتی ہے، مرنے والا چاہے یا نہ چاہے، جو وارث ہوتا ہے اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ {” لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} میں خبر {” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا کہ زمین و آسمان کی وراثت صرف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ آخر کار سب نے فنا ہونا ہے اور جن چیزوں کے مالک تم سمجھے جاتے ہو سب اسی کی طرف لوٹ جانے والی ہیں۔ تو جب یہ مال تمھارے پاس رہنے والا ہی نہیں بلکہ اس نے تمھارے ہاتھ سے نکلنا ہی نکلنا ہے اور اگر تم خرچ نہیں کرو گے تو جبراً تم سے لے لیا جائے گا، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے اللہ کی راہ میں خوشی سے خود ہی خرچ نہ کرو کہ اس صورت میں مالک بھی راضی ہو جائے گا اور جو کچھ تم دو گے اللہ کے ذمے قرض ہو جائے گا، جو بے حساب اضافے کے ساتھ تمھارے لیے محفوظ رکھے گا، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ آدمی کے مال کی طرح اس کی جان کا بھی یہی حال ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: جاں بجاناں دہ، وگرنہ از تو بستاند اجل خود تو منصف باش اے دل ایں نِکو یاآن نِکو ”جان محبوب کو دے دے، ورنہ موت تجھ سے لے لے گی۔ اے دل! تو خود ہی انصاف کر کہ یہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے؟“ ➋ {لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو بعد میں آنے والے جملے {” اُولٰٓىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا “} سے واضح ہو رہی ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے: {” لاَ يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ وَمَنْ أَنْفَقَ مِنْ بَعْدِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ“} یعنی ”تم میں سے وہ شخص جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی اور وہ شخص جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جنگ کی برابر نہیں ہیں۔“ {” الْفَتْحِ “} سے مراد فتح مکہ ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» [ النصر: ۱ ] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔“ یا صلح حدیبیہ ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [ الفتح: ۱ ] ”بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“ اور دونوں بھی مراد ہو سکتی ہیں۔ اس طرح صحابہ کے تین درجے ہوں گے، پہلے درجے میں صلح حدیبیہ سے پہلے ایمان لا کر خرچ اور قتال کرنے والے سابقین اوّلین اور مہاجرین و انصار، دوسرے درجے میں صلح حدیبیہ کے بعد اورفتح مکہ سے پہلے ہجرت و نصرت کا شرف حاصل کرنے والے صحابہ کرام اور تیسرے درجے میں فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ہوں گے، جو ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل نہیں کر سکے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب فضل الجہاد والسیر: ۲۷۸۳ ] ”فتح مکہ کے بعد (اب) ہجرت نہیں رہی۔“ اس بات کی دلیل کہ صلح حدیبیہ سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والے ان لوگوں سے درجے میں بلند ہیں جو فتح مکہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے، وہ حدیث ہے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيْدِ، وَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ كَلاَمٌ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ تَسْتَطِيْلُوْنَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُوْنَا بِهَا، فَبَلَغَنَا أَنَّ ذٰلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ دَعُوْا لِيْ أَصْحَابِيْ، فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ، أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ ] [مسند أحمد: 266/3، ح: ۱۳۸۱۲۔ مسند احمد کے محقق نے اسے صحیح کہا ہے ] ” خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ بات ہو گئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم ہم پر ان چند دنوں کی وجہ سے بڑھ کر باتیں بنا رہے ہو جن میں تم ہم سے پہلے اسلام لے آئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں کو میری خاطر چھوڑ دو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد کے برابر یا پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کرو، تب بھی تم ان کے اعمال کو نہیں پہنچ سکتے۔“ ➌ فتح سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والوں کا درجہ اس لیے بڑا ہے کہ فتح سے پہلے مسلمان تعداد میں کم اور قوت میں کمزور تھے، ان کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی، ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا دونوں نہایت مشکل اور دل گردے کے کام تھے، جب کہ فتح کے بعد یہ صورت حال بدل گئی، مسلمان قوت و تعداد میں بڑھتے چلے گئے اور ان کی مالی حالت بھی پہلے سے بہت بہتر ہوگئی اور پورا جزیرۂ عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگا۔ اس لیے فرمایا کہ پہلے مشکل کے دور اور بعد کے دور میں مسلمان ہونے والے اور جہاد میں خرچ کرنے والے اور لڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے، بلکہ پہلوں کا درجہ بڑا ہے۔ ➍ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شرف اور فضیلت میں امت کے تمام افراد سے بڑھ کر ہیں، کیونکہ ایمان لانے میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے میں وہ تمام صحابہ سے پہلے ہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی زندگی میں نماز کے لیے آگے کیا اور اسی بنا پر مسلمانوں نے انھیں خلافت کے منصب کے لیے مقدم رکھا۔ ➎ { وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى:} اس میں یہ صراحت فرما دی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے درمیان اگرچہ درجے اور فضیلت میں تفاوت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام کو کوئی فضیلت حاصل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ سے اچھی جزا یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے اور تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور زیارت میں تاثیر ہی ایسی تھی کہ جس شخص نے بھی ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور ایمان پر فوت ہوا، بعد کا کوئی آدمی اس کے درجے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر میں مذکور حدیث، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے آدمی کی برکت و فضیلت کا ذکر ہے۔ بڑے بد نصیب ہیں وہ لوگ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت کا شرف رکھنے والی مبارک ہستیوں سے بغض اور عداوت ہے اور وہ ان کے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے آنکھیں بند کر کے ان کی معمولی لغزشوں کی وجہ سے ان پر تبرے بازی اور دشنام طرازی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تَسُبُّوْا أَصْحَابِيْ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيْفَهُ ] [ بخاري، فضائل الصحابۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : «لو کنت متخذا خلیلا» : ۳۶۷۳ ] ”میرے ساتھیوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو ان کے کسی شخص کے ایک مُد (آدھ کلو اناج) کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے نصف کے برابر ہو سکتا ہے۔“ ➏ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} ایمان، انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب کے آخر میں فرمایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے، وہ ہر ایک کے عمل کو خوب جانتا ہے کہ کس درجے کا ہے اور اس میں کتنا اخلاص ہے اور وہ اس کے مطابق ہی اسے جزا دے گا۔
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیده اجر ﺛابت ہو جائے
احمد رضا خان بریلوی
کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،
علامہ محمد حسین نجفی
کون ہے جو اللہ کو قرضۂ حسنہ دے تاکہ وہ اسے اس کے لئے (کئی گنا) بڑھائے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تو وہ اسے اس کے لیے کئی گناکر دے اور اس کے لیے باعزت اجر ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کو قرض دینا ٭٭
پھر فرماتا ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا» ۱؎ [57-الحديد:11] ’ کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ ‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو۔ پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ ’ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی۔ ‘ اس آیت کو سن کر ابودحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی، وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے، بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ”جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یاقوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کو اللہ نے دے دیں۔“ ۱؎ [مسند بزار:402/5:ضعیف]
1 اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا، یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔
(آیت 11) {مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (245،244) اور {” اَجْرٌ كَرِيْمٌ “} کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۷۴) اور سورۂ حج (۵۰)۔
اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) "آج بشارت ہے تمہارے لیے" جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی
مولانا محمد جوناگڑھی
(قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا آج تمہیں ان جنتوں کی خوش خبری ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی
احمد رضا خان بریلوی
جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ہے ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن تم دیکھو گے کہ مؤمن مَردوں اور مؤمن عورتوں کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا آج تمہیں مبارک ہو ان باغہائے بہشت کی جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ان میں رہو گے یہی وہ کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔ آج تمھیں ایسے باغوں کی خوش خبری ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:672/11]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعاء دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:676/11] جنادہ بن ابوامیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوگو! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لیے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لیے پورا پورا کر۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے باآرام گزر جائیں۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا۔“ تو ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی، ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہو گا اور «فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ» ۱؎ [17-الإسراء:71] انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی“ }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:478/2:ضعیف]
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دیدے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بے نور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ» ۱؎ [24-النور:40] میں ہے، «يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ» ۱؎ [24-النور:40] پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [4-النساء:142] ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔
پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لیے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لیے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی، مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے } یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپا دھاپی میں ہو گا۔ جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت «وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:46] میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لیے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علیین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لیے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لیے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے۔
12-1یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہوگا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہوگا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کرلیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیرہما نے وَ بِاَیْمَانِھِمْ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔ -2 یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کے لیے وہاں ہوں گے۔
(آیت 12) {يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ …:} یعنی قیامت کے دن جب سورج لپیٹ دیا جائے گا (دیکھیے تکویر: ۱) اور چاند بے نور ہو جائے گا (دیکھیے قیامہ: ۸) اور ستارے بکھر کر گر جائیں گے (دیکھیے انفطار: ۲) تواس وقت سب لوگ سخت اندھیرے میں ہوں گے، جہنم کے اوپر صراط (پل) رکھا جائے گا جس پر سے ہر ایک کو گزرنا ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» [ مریم: ۷۱ ] ”اور تم میں سے جو بھی ہے اس پر وارد ہونے والا ہے۔ یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔“ وہاں روشنی صرف ایمان اور عمل صالح کی ہوگی، جتنا ایمان کامل ہوگا اتنی ہی روشنی تیز ہوگی۔ کافر اور منافق دنیا میں گمراہی کے اندھیرے میں رہے تو وہاں بھی وہ اندھیرے میں ہوں گے۔ مومن مردوں اور عورتوں کی روشنی ان کے ایمان و عمل کے مراتب کے مطابق ان کے آگے اور دائیں جانب دوڑ رہی ہوگی اور وہاں انھیں یہ کہہ کر جنت کی بشارت دی جائے گی: «بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [ الحدید: ۱۲ ] ”آج تمھیں ایسے باغوں کی خوش خبری ہے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔“
اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن منافق مرد وعورت ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار تو کرو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں دروازه بھی ہوگا۔ اس کے اندرونی حصہ میں تو رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳۴) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے اس کے اندر کی طرف رحمت اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن منافق مَرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کروکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں (ان سے کہا جائے گا کہ) تم پیچھے کی (دنیا میں) لوٹ جاؤ پھر وہیں روشنی تلاش کرو پس ان کے اور اہلِ ایمان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس کا ایک دروزاہ ہوگا اس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی اور اس کے باہر کے طرف عذاب ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے کہیں گے جو ایمان لائے ہمارا انتظار کرو کہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پس کچھ روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا، اس کی اندرونی جانب، اس میں رحمت ہو گی اور اس کی بیرونی جانب، اس کی طرف عذاب ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:672/11]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعاء دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:676/11] جنادہ بن ابوامیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوگو! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لیے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لیے پورا پورا کر۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے باآرام گزر جائیں۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا۔“ تو ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی، ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہو گا اور «فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ» ۱؎ [17-الإسراء:71] انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی“ }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:478/2:ضعیف]
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دیدے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بے نور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ» ۱؎ [24-النور:40] میں ہے، «يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ» ۱؎ [24-النور:40] پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [4-النساء:142] ، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔
پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لیے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لیے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی، مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے } یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپا دھاپی میں ہو گا۔ جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت «وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:46] میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لیے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علیین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لیے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لیے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے۔
13-1یہ منافقین کچھ فاصلے تک اہل ایمان کے ساتھ ان کی روشنی میں چلیں گے، پھر اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیر مسلط فرما دے گا، اس وقت وہ اہل ایمان سے یہ کہیں گے۔ 13-2اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جاکر اسی طرح ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر آؤ، جس طرح ہم لائے ہیں یا مذاق کے طور پر اہل ایمان کہیں گے کہ پیچھے جہاں سے ہم نور لائے تھے وہی جا کر تلاش کرو۔ 13-3یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان۔ -4 اس سے مراد جنت ہے جس میں اہل ایمان داخل ہوچکے ہوں گے۔ -5 یعنی وہ حصہ ہے جس میں جہنم ہوگی۔
(آیت 13) ➊ { يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ …:} دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی طرح منافقین وہاں بھی شروع میں ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے، مگر جب وہ اپنے ایمان کی روشنی میں جنت کی جانب روانہ ہوں گے کہ تو منافق مرد اور عورتیں ان سے کہیں گے ہمارے پاس روشنی نہیں، تم ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر اتنی تیزی سے نہ جاؤ، بلکہ تھوڑا انتظار کر لو اور ہمیں موقع دو کہ ہم بھی تمھاری روشنی میں جنت کی طرف چلتے جائیں۔ ➋ {قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ان سے کہا جائے گا کہ میدان حشر جہاں جنت یا جہنم میں بھیجے جانے کا فیصلہ ہوا ہے اور جہاں سے روشنی ملتی ہے، تم وہیں واپس جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان و عمل کی روشنی ہے جو یہاں حاصل نہیں ہو سکتی، اسے حاصل کرنے کی جگہ دنیا ہے، وہاں جاؤ اور وہاں سے یہ روشنی لے کر آؤ۔ ➌ { فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ …:} مومن و منافق یہ باتیں کر ہی رہے ہوں گے کہ ان کے درمیان ایک عظیم دیوار حائل کر دی جائے گی ({بِسُوْرٍ} میں تنوین تعظیم کی ہے) جس سے انھیں دور سے دکھائی دینے والی مومنوں کی روشنی بھی نظر آنا ختم ہو جائے گی۔ اس دیوار کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب جدھر منافق ہوں گے، عذاب ہو گا۔ اس دیوار میں ایک عظیم دروازہ ہو گا، جس سے مومن اس کی اندرونی جانب چلے جائیں گے، پھر دروازہ بند کر دیا جائے گا اور منافق اس سے باہر عذاب میں رہ جائیں گے۔
وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے وه کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور انتظار میں ہی رہے اور شک و شبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا
احمد رضا خان بریلوی
منافق مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (منافق) اہلِ ایمان کو پکا ریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ کہیں گے ہاں تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنہ (گمراہی) میں ڈالا اور (ہمارے بارے میں گردشوں کا) انتظار کیا (کہ نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے) اور شک و شبہ میں مبتلا رہے اور جھوٹی امیدوں نے تمہیں دھوکہ دیا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور دھوکہ باز (شیطان) نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ میں رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ انھیں آواز دیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے ؟وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم انتظار کرتے رہے اور تم نے شک کیا اور (جھوٹی) آرزوؤں نے تمھیں دھوکا دیا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اس دغا باز نے تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقین کا واویلہ ٭٭
اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔ سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:38-47] ’ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔‘ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» ۱؎ [74-المدثر:48] ’ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ ‘ یہاں فرمایا ’ آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔‘
14-1یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ 14-2تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔ 14-3کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہوجائیں 14-4دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل و معجزات کو۔ 14-5جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔ 14-6 یعنی تمہیں موت آگئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوں پر پانی پھر گیا۔ 14-7یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔
(آیت 14) ➊ { يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ:} منافق انھیں پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے تھے، کیا ہم تمھارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے، زکوٰۃ اور حج ادا نہیں کرتے تھے اور ہر کام میں تمھارے ساتھ نہیں ہوتے تھے؟ اب تم ہمیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے؟ ➋ { قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ:} یعنی تم مسلمان ہو کر بھی نہ دل سے مسلمان ہوئے اور نہ پوری طرح ایک طرف ہو کر مسلمانوں کے ساتھی بنے، بلکہ تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے ہی میں مبتلا رکھا۔ ➌ {وَ تَرَبَّصْتُمْ:} اور تم انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی آفت آتی ہے۔ ➍ { وَ ارْتَبْتُمْ:} یہ {”رَيْبٌ“} سے باب افتعال {” اِرْتَابَ يَرْتَابُ اِرْتِيَابًا“} کے ماضی معلوم کا صیغہ ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان و یقین کے بجائے تم شک اور تذبذب میں رہے۔ ➎ { وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ: ” الْاَمَانِيُّ “ ” أُمْنِيَّةٌ “} کی جمع ہے، یعنی تمھیں ان آرزوؤں نے دھوکے میں رکھا کہ بس چند دن میں مسلمان تباہ ہو جائیں گے اور اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ➏ {حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ:} حتیٰ کہ تمھیں موت آگئی اور توبہ اور اخلاصِ عمل کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ ➐ { وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ: ” الْغَرُوْرُ “} سے مراد شیطان ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (6،5)۔
لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
الغرض، آج تم سے نہ فدیہ (اور نہ بدلہ) قبول کیا جائے گا اور نہ کافروں سے تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہی تمہاری رفیق ہے اور وه برا ٹھکانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان سے جنہوں نے کفر کیا تم سب کا ٹھکانہ آتشِ دوزخ ہے وہی تمہارے لئے اولیٰ اور (سزوار) ہے وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے انکار کیا، تمھارا ٹھکانا ہی آگ ہے، وہی تمھاری دوست ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقین کا واویلہ ٭٭
اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔ سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:38-47] ’ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔‘ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» ۱؎ [74-المدثر:48] ’ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ ‘ یہاں فرمایا ’ آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔‘
15-1مولیٰ اسے کہتے ہیں جو کسی کے کاموں کا متولی یعنی ذمے دار بنے گویا اب جہنم ہی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ انہیں سخت سے سخت تر عذاب کا مزا چکھائے بعض کہتے ہیں کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے کو بھی مولیٰ کہہ لیتے ہیں یعنی اب جہنم کی آگ ہی ان کی ہمیشہ کی ساتھی اور رفیق ہوگی، بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی عقل وشعور عطا فرمائے گا پس وہ کافروں کے خلاف غیظ وغضب کا اظہار کرے گی، یعنی ان کی والی بنے گی اور انہیں عذاب الیم سے دوچار کرے گی۔
(آیت 15){ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ …:} اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار و منافقین کا ٹھکانا ایک ہی ہوگا، جو آگ ہے۔ وہاں وہ مال نہ منافقین کے کام آئے گا جس کی وجہ سے وہ نفاق کا شکار رہے، نہ کفار کے کہ اس کے ساتھ فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہی آگ کے سوا ان کا کوئی یار و مدد گار ہو گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۱)۔
کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اہلِ ایمان کیلئے ابھی وہ وقت نہیںایا کہ ان کے دل خدا کی یاد اور (خدا کے) نازل کردہ حق کیلئے نرم ہوں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پس ان پر طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوئے اور (آج) ان میں سے اکثر فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں ان سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والوں سے سوال ٭٭
پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3028] اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:3] ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [39-الزمر:23] پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» ۱؎ [57-الحديد:16] اترتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف] پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» ۱؎ [5-المائدة:13] ’ ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ ‘ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔
ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔“ ”اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔“ ”ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔“
”چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟“ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا ”لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔“ امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔“ پھر ارشاد باری ہے کہ ’ جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔
16۔-1خطاب اہل ایمان کو ہے اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مذید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے خشوع کے معنی ہیں دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ 16-2جیسے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی تم ان کی طرح نہ ہوجانا۔ 16۔-3چناچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کردی اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کرلی۔ 16۔-4یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔
(آیت 16) ➊ {اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:” اَلَمْ يَاْنِ “ ”أَنٰي يَأْنِيْ أَنْيًا وَ إِنًي“} (ض) ناقص یائی سے جحد معلوم ہے، کسی چیز کے وقت کا آ جانا، جیسا کہ فرمایا: «غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ» [ الأحزاب: ۵۳ ] ”اس (کھانے) کے (پکنے کے) وقت کا انتظار نہ کرنے والے۔“ پچھلی آیت میں قیامت کے دن مومن مردوں اور عورتوں اور منافق مردوں اور عورتوں کا حال ذکر فرمایا، جسے سن کر دل لرز اٹھتے ہیں اور خوف زدہ ہو کر عاجزی سے اپنے رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان سے کماحقہ اثر قبول نہ کرنے پر ایمان والوں کو متنبہ فرمایا کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی نصیحت کی وجہ سے اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز ہو کر جھک جائیں؟ ایمان والوں سے مراد وہ تمام ایمان والے ہیں جنھیں اس سے پہلے ایمان لانے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں سستی اور کوتاہی پر عتاب کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اتنا عتاب سن کر اور قیامت کے دن منافقین کا انجامِ بد سن کر بھی کیا ایمان والوں کے لیے اللہ کے سامنے جھکنے اور اس کے احکام پر تن دَہی سے عمل کرنے کا وقت نہیں آیا؟ جب کہ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہو جائے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے فوراً نصیحت کا اثر قبول کرے، کیونکہ ایمان والوں کی یہی شان ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» [ الأنفال: ۲ ] ”(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔“ اور فرمایا: «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ» [ الزمر: ۲۳ ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات)جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔“ ➋ {وَ لَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …: ”قَسَتْ“} اصل میں {”قَسَوَتْ“} ہے، باب اس کا {” قَسَا يَقْسُوْ قَسْوَةً وَقَسَاوَةً “} آتا ہے، سخت ہو جانا۔ یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ…اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنھیں اس سے پہلے کتاب یعنی تورات اور اس کے بعد انجیل دی گئی کہ شروع میں ان کا یہ حال تھا کہ اللہ کی آیات سن کر ان کے دل نرم ہو جاتے اور وہ ڈر جاتے تھے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے، پھر جیسے جیسے انبیاء کے زمانے سے دوری ہوتی گئی وہ خواہشات اور دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑتے گئے اور اللہ کے احکام جاننے کے باوجود ان پر عمل چھوڑ بیٹھے، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے اور انھوں نے دانستہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا۔ شرک، زنا، قتلِ ناحق، چوری، سود خوری اور دوسرے گناہ عام ہوگئے۔ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہونے اور ان کے سامنے جھک جانے کے بجائے انھوں نے ان میں تحریف شروع کر دی، جس کے نتیجے میں وہ راہِ راست سے بہت دور چلے گئے اور باہمی ضد اور عناد میں بہت سے فرقوں میں بٹ گئے۔ ➌ { وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ:} یعنی اب بھی ان کا یہی حال ہے کہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ فاسق ہیں۔ {” فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ “} میں ان کی قلبی حالت کا بیان ہے اور {” فٰسِقُوْنَ “} میں ان کی عملی حالت کا بیان ہے۔ دوسری جگہ اس قسوتِ قلب کا سبب اور اس کا نتیجہ کچھ تفصیل سے بیان فرمایا ہے، وہاں ان کے دوسرے عہد توڑنے کے ساتھ قرضِ حسن دینے کا عہد توڑنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (13،12) کی تفسیر۔
خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو
احمد رضا خان بریلوی
جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
خوب جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد اور ہم نے اپنی آیات تمہارے لئے واضح طور پر بیان کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔
عبدالسلام بن محمد
جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والوں سے سوال ٭٭
پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3028] اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:3] ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» ۱؎ [39-الزمر:23] پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» ۱؎ [57-الحديد:16] اترتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف] پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» ۱؎ [5-المائدة:13] ’ ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ ‘ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔
ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔“ ”اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔“ ”ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔“
”چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟“ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا ”لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔“ امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔“ پھر ارشاد باری ہے کہ ’ جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔
2۔ 1 یہ اظہار کا حکم بیان فرمایا ہے کہ تمہارے کہہ دینے سے تمہاری بیوی تمہاری ماں نہیں بن جائے گی اگر ماں کے بجائے کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ کی پیٹھ کی طرح اپنی بیوی کو کہہ دے تو یہ ظہار ہے یا نہیں؟ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اسے بھی ظہار قرار دیتے ہیں جب کہ دوسرے علماء اسے ظہار تسلیم نہیں کرتے پہلا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ پیٹھ کی جگہ اگر کوئی یہ کہے کہ تو میری ماں کی طرح ہے پیٹھ کا نام نہ لے تو علماء کہتے ہیں کہ اگر ظہار کی نیت سے وہ مذکورہ الفاظ کہے گا تو ظہار ہوگا بصورت دیگر نہیں امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ اگر ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے گا جس کا دیکھنا جائز ہے تو یہ ظہار نہیں ہوگا امام شافعی ؒ بھی کہتے ہیں کہ ظہار صرف پیٹھ کی طرح کہنے سے ہی ہوگا۔ فتح القدیر۔ 2۔ 2 اسی لیے اس نے کفار کو اس قول منکر اور جھوٹ کی معافی کا ذریعہ بنادیا۔
(آیت 17) ➊ {اِعْلَمُوْۤا: } ”جان لو“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مرنے کے بعد زندہ کر دیتا ہے، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ» [ البقرۃ: ۲۳۵ ] ” اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو۔“ مقصد یہ ہے کہ یہ بات پوری توجہ سے سنو، اس پر غور کرو اور ہر وقت اسے پیشِ نظر رکھو۔ ➋ {اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا …:} اس میں اللہ کی طرف رجوع کی اور گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کی ترغیب اور اپنی رحمت و مغفرت کی امید دلائی ہے، یعنی اگر تمھاری کوتاہیوں کی وجہ سے دلوں میں سختی پیدا ہو چکی ہے اور ان میں آیاتِ الٰہی سننے سے نرمی پیدا نہیں ہوتی تو اب بھی موقع ہے کہ اس کی تلافی کر لو، پھر جب تم پلٹ آؤ گے تو وہ اللہ جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے، وہ تمھارے مردہ دلوں کو بھی زندگی بخش دے گا۔
مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے پسندیده اجر وﺛواب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضۂ حسنہ دیا ان کیلئے اس میں (کئی گنا) اضافہ کر دیا جائے گا اور ان کیلئے بہترین اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جنھوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا، انھیں کئی گنا دیا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭
فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف] عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887] پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (۲) دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (۳) تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (۴) چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
18-1یعنی ایک کے بدلے میں کم ازکم دس گنا اور اس سے زیادہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک۔ اور یہ زیادتی اخلاص نیت، حاجت و ضرورت اور مکان کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ 18-2یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، جنکو کبھی زوال اور فنا نہیں۔
(آیت 18) ➊ {اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ: ” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} اصل میں باب تفعّل سے {” اَلْمُتَصَدِّقِيْنَ “} ہے، تاء کو صاد سے بدل کر صاد میں ادغام کر دیا۔ صاد کی تشدید سے صدقے میں مبالغے اور کثرت کا اظہار مقصود ہے، یعنی بہت صدقہ کرنے والے مرد اور بہت صدقہ کرنے والی عورتیں۔ {” الْمُزَّمِّلُ “} اور{” الْمُدَّثِّرُ “} میں بھی ایسے ہی ہے۔ ➋ {وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اَقْرَضُوا اللّٰهَ “} فعل کا {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} دراصل {”اَلَّذِيْنَ تَصَدَّقُوْا“} کے معنی میں ہے، اس لیے {” اَقْرَضُوا “} کا عطف {”تَصَدَّقُوْا“} پر ہے جو {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کے ضمن میں موجود ہے۔ {”مُتَصَدِّقِيْنَ“} کو اسم فاعل کی صورت میں دوام کے اظہار کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۱)کی تفسیر دیکھیے۔ البتہ یہاں {” الْمُصَّدِّقِيْنَ “} کے لفظ میں صدقے کی کثرت اور اس پر دوام کی بات اس سے زائد ہے۔
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ اوراس کے رسول پر جو ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کوجھٹلاتے ہیں وه جہنمی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں(ع) پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کیلئے ان کا اجر اور ان کا ثواب ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے ہاں بہت سچے اور شہادت دینے والے ہیں، انھی کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بھڑکتی آگ میں رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭
فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف] عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887] پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (۲) دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (۳) تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (۴) چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ …:” الصِّدِّيْقُوْنَ“} اور {” الشُّهَدَآءُ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۶۹) کی تفسیر۔ اس آیت پر بھی ایک سوال ہے کہ صدیقین اور شہداء تو ایمان کے بلند درجے پر فائز لوگ ہوتے ہیں، جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے سب لوگوں کو صدیقین و شہداء کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانے والوں سے مراد یہاں اس ایمان میں کامل لوگ ہیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت (۷): «اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» میں ایمان والوں کو ایمانِ کامل لانے کا حکم ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسولوں پر کامل ایمان رکھنے والے ہی صدیقین اور شہداء ہیں۔ {” اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ“} میں حصر کا مفہوم ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ ہر مدعی ٔ ایمان کو حاصل نہیں ہو جائیں گے، بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کمال ایمان کے کئی مراتب ہیں، جیسا کہ صدیقیت و شہادت کے کئی مراتب ہیں، اگرچہ سب پر صدیق یا شہید کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهٗ الْمَطْعُوْنُ شَهِيْدٌ، وَالْغَرِيْقُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيْدٌ، وَالْمَبْطُوْنُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيْقِ شَهِيْدٌ، وَالَّذِيْ يَمُوْتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيْدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوْتُ بِجُمْعٍ شَهِيْدَةٌ ] [مستدرک حاکم: 352/1، ح: ۱۳۰۰، وصححہ الألباني في صحیح الجامع: ۳۷۳۹ ] ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے اور غرق ہونے والا شہید ہے اور ذات الجنب والا شہید ہے اور پیٹ کی تکلیف سے مرنے والا شہید ہے اور آگ سے مرنے والا شہید ہے اور گرنے والی دیوار وغیرہ کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور ولادت کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔“ ظاہر ہے کہ حدیث میں مذکور سب لوگ شہید ہیں، مگر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کا درجہ سب سے بلند ہے۔ ➋ {لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ:} یعنی صدیقیت یا شہادت کے مراتب کے مطابق اجر اور نور اہل ایمان ہی کا حصہ ہے، کفار یا منافقین کا نہیں۔ ➌ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ہمیشہ وہی لوگ رہیں گے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کیا اور ان کی تکذیب کی، کیونکہ{” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} (بھڑکتی آگ کے ساتھی اور اس میں رہنے والے) وہی ہیں، گناہ گار مومن جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے، اس لیے وہ {” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} نہیں ہیں۔
خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال واوﻻد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں
احمد رضا خان بریلوی
جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال
علامہ محمد حسین نجفی
اور خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، ظاہری زیب و زینت، باہمی فخر و مباہات اورمال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے اس کے سو اکچھ نہیں ہے۔ اس (کے عارضی ہو نے) کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ اس کی نباتات (پیداوار) کافروں (کسانوں) کو حیرت میں ڈال دیتی ہے پھر وہ خشک ہو کر پکنے لگتی ہے تو تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے اور (کفار کیلئے) آخرت میں سخت عذاب ہے اور (مؤمنین کیلئے) اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیاوی زندگی دھوکے کے ساز و سامان کے سوا کچھ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے اوردل لگی ہے اور بناؤ سنگار ہے اور تمھارا آپس میں ایک دوسرے پر بڑائی جتانا ہے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے، اس بارش کی طرح جس سے اگنے والی کھیتی نے کاشت کاروں کو خوش کر دیا، پھر وہ پک جاتی ہے، پھر تو اسے دیکھتا ہے کہ زرد ہے، پھر وہ چورا بن جاتی ہے اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بڑی بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ٭٭
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ ’ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا؟‘ جیسے اور آیت میں ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» ۱؎ [3-آل عمران:14] ، یعنی ’ لوگوں کے لیے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کر دیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔‘ «غَيْثٍ» کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ» ۱؎ [42-الشورى:28] ، ’ اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ ‘ پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی تروتازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟ جیسے ارشاد باری ہے آیت «اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ» ۱؎ [30-سورةالروم:54] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔‘ اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے۔
پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضا مندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کر لو، سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے }۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:685/11:صحیح] ۔ آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3250] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
20-1یعنی اہل کفر کے لئے جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔ 20-2یعنی اہل ایمان وطاعت کے لئے، جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عارضی، فانی اور دارالا متحان سمجھتے ہوئے اللہ کی ہدایات کے مطابق اس میں زندگی گزاری۔
(آیت 20) ➊ {اِعْلَمُوْۤا:} پچھلی آیات سے اس آیت کی مناسبت یہ ہے کہ نفاق کا سبب اور اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز اور مال خرچ کرنے سے دریغ کا باعث دنیا کی زندگی کی محبت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی۔ ➋ { اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا: ” الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا “} سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کر سکتا ہے، جیساکہ فرمایا: «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ النحل: ۹۷ ] ” جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ ➌ { لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۴)کی تفسیر۔ ➍ { وَ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ:} یہ سچے اور مخلص اہل ایمان یعنی صدیقین و شہداء کے مقابلے میں ایمان سے محروم دنیا دار لوگوں کا حال ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرما دیا ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” آدمی کو اوّل عمر میں کھیل چاہیے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار، پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب ہو تو مال اور اولاد کی فکر کرنا کہ میرے بعد میرا گھر بنا رہے اور اولاد آسودگی سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب دھوکے کا سامان ہے، آگے کچھ اور کام آئے گا (ایمان اور عملِ صالح) یہ کچھ کام نہ آئے گا۔“ (موضح بتصرف) ➎ {كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ …:” غَيْثٍ “} بارش، جیساکہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا» [ الشورٰی: ۲۸ ] ” اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں۔“ {” الْكُفَّارَ “} سے مراد یہاں کاشت کار ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ» [ الفتح: ۲۹ ] ”کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے۔“ کیونکہ کفر کا معنی چھپانا ہے اور کاشت کار بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ آیت کے دوسرے الفاظ اور تمثیل کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۴)، زمر(۲۱) اور سورۂ کہف(۴۵) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ دیکھیے سورۂ آل عمران (15،14) کی تفسیر۔ بعض مفسرین نے {” الْكُفَّارَ “} سے مراد حقیقی کافر لیے ہیں، ان کے مطابق اگرچہ بارش سے اگنے والی کھیتی مومن و کافر سبھی کو خوش کرتی ہے، مگر کفار کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ وہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی خوشی کا تمام سرمایۂ حیات دنیا ہے۔ ➏ {وَ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ:} یعنی بات صرف اتنی نہیں کہ دنیا کی زندگی ختم ہو اور جان چھوٹ جائے، بلکہ اصل معاملہ اس کے بعد آخرت کا اور اس کی ہمیشہ کی زندگی کا ہے کہ وہاں دو میں سے ایک بات سے ہر حال میں واسطہ پڑنے والا ہے، ایک طرف شدید عذاب ہو گا اور دوسری طرف اللہ کی بخشش اور اس کی زبردست رضا ہوگی۔ {” رِضْوَانٌ “} مصدر میں مبالغے کا مفہوم ہے۔ ➐ { وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ:} یعنی جس نے ساری جدوجہد دنیا کی زندگی بنانے کے لیے کی وہ دھوکے میں پڑ گیا، کیونکہ اس نے جو کچھ کمایا دنیا کی زندگی ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گیا اور آخرت میں اس کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں جنھوں نے اسے آخرت کے حصول کا ذریعہ بنایا، کیونکہ ان کے اعمال دنیا کے فنا ہونے کے باوجود باقی رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا» [ الکھف: ۴۶ ] ” مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔ “
دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے جو ان لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں(ع) پر ایمان لائیں اور یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے، وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مغفرت کی جستجو ٭٭
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6488] پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لیے اسے چاہیئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔ اسی لیے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لیے بنائی گی ہیں۔ ‘ یہاں فرمایا ’ یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے، اسی لیے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لیے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔‘ پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو اور اتنی ہی بار «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اور اسی طرح «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» }، کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:843]
21-1یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔ 21-2اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہوگا؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے 21-3ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔ 21-4وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔
(آیت 21) ➊ {سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ: ” سَابِقُوْۤا “ ”سَبَقَ يَسْبِقُ سَبْقًا“} (ض،ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صف میں ہونا، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ۔ یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت (۱۳۳) سے ملتی جلتی ہے، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ ➋ { وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ: ” السَّمَآءِ “} کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس کی سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے: «وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ» [آل عمران: ۱۳۳] ”اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے۔ “ ➌ { اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ سورۂ آل عمران (۱۳۳ تا ۱۳۵)میں ان ایما ن والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے، جس کا ذکر یہاں {” اَنْفَقُوْا “} میں گزر چکا ہے۔ ➍ { ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کر لے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہو سکتے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳] ” کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ “ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں، مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں، دیکھیے سورۂ اعراف(۴۳) کی تفسیر۔
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں بیشک یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی بھی مصیبت زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے قبل اس کے کہ ہم ان (جانوں) کو پیدا کر دیں بیشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔ بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔
صحیح مسلم ہے { اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:34] اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:8] یعنی ’ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے ‘۔
22-1مثلاً قحط، سیلاب اور دیگر آفات زمینی اور آسمانی۔ 22-2مثلاً بیماریاں، تعب و تکان اور تنگ دستی وغیرہ۔ 22-3یعنی اللہ نے اپنے علم کے مطابق تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی باتیں لکھ دی ہیں جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار پہلے ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں۔
(آیت 22) ➊ {مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ …:” اَصَابَ “} کا مفعول بہ محذوف ہے: {” أَيْ مَا أَصَابَكُمْ أَوْ مَا أَصَابَ أَحَدًا مِنْ مُّصِيْبَةٍ …“} ”یعنی تمھیں یا کسی کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے خواہ زمین میں ہو یا تمھاری جانوں میں …۔“ سورت کی ابتدا سے جہاد میں مال و جان خرچ کرنے کی تاکید آرہی ہے، چونکہ اس راہ میں کئی طرح کی جسمانی و ذہنی اور مالی و جانی مصیبتیں پیش آتی ہیں، مثلاً بھوک، پیاس، فقر، خوف، غم، تھکاوٹ، بیماری، زخم، چوٹ، گرفتاری اور قتل وغیرہ، اس لیے آدمی جہاد پر جانے سے گریز کرتا ہے اور اپنے آپ کو ان مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر جہاد کے لیے چلا جائے تو ان مصائب کے پیش آنے پر پریشان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو مالی یا جانی مصیبت تمھیں پیش آنی ہے وہ ہر حال میں آکر رہے گی، تم اس سے بچنے کی جتنی بھی کوشش کر لو اس سے بھاگ نہیں سکتے۔ ہر آنے والی مصیبت یا راحت اللہ تعالیٰ نے اس کے پیدا کرنے اور تمھاری جانوں کو پیدا کرنے، بلکہ زمین کو پیدا کرنے سے بھی پہلے ایک کتاب میں لکھ دی ہے، کسی کی طاقت نہیں کہ اس لکھے ہوئے کو مٹا دے یا بدل دے۔مزید دیکھیے سورۂ قمر (۴۹) اور سورۂ توبہ (۵۱) کی تفسیر۔ ➋ {فِي الْاَرْضِ:} اس سے زمین پر آنے والی عام مصیبتیں مراد ہیں، مثلاً قحط، طوفان، سیلاب، زلزلے اور وبائیں وغیرہ، جن سے انسان متاثر ہوتا ہے۔ ➌ {وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ:} اس سے وہ مصیبتیں مراد ہیں جو انسان کی ذات پر آتی ہیں، مثلاً بیماری، زخم، بھوک، پیاس، گرفتاری، فقر، خوف، غم، پیاروں کی موت اور اپنی موت وغیرہ۔ {” وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ “} میں {” لَا “} کو دوبارہ ان مصیبتوں کی اہمیت کی وجہ سے ذکر فرمایا، کیونکہ آدمی اپنی جان پر آنے والی مصیبتوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، دوسروں پر آنے والی مصیبتوں سے وہ ذہنی طور پر متاثر ہوتا ہے، حسی طور پر نہیں۔ ➍ { مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا: ” بَرَأَ يَبْرَأُ بَرْأً وَ بُرُوْأً “} (ف) پیدا کرنا۔ {” هَا “} ضمیر {” مُصِيْبَةٍ “} کی طرف بھی جا سکتی ہے، {” الْاَرْضِ “} کی طرف بھی اور {” اَنْفُسِكُمْ “} کی طرف بھی۔ یہ کلام الٰہی کی بلاغت ہے کہ تینوں مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مصیبت کو اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے، انسان کے پیدا کرنے سے پہلے اور زمین کے پیدا کرنے سے بھی پہلے لکھ دیا ہے۔ ➎ { اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ:} یعنی انسان کو چونکہ آئندہ کا کچھ علم نہیں، اس لیے اس کے لیے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ آئندہ کی بات پہلے لکھ دے، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بالکل ہی معمولی بات ہے، کیونکہ وہ گزشتہ اور موجودہ کی طرح آئندہ کی ہر بات کو بھی جانتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ قمر (۴۹) کی تفسیر۔
(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا
احمد رضا خان بریلوی
اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ سب اس لئے ہے) تاکہ جو چیز تم سے کھو جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جو کچھ وہ (اللہ) تمہیں دے اس پر اِتراؤ نہیں کیونکہ اللہ ہر اِترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے اور اللہ کسی تکبر کرنے والے، بہت فخر کرنے والے سے محبت نہیں رکھتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔ بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔
صحیح مسلم ہے { اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:34] اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:8] یعنی ’ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے ‘۔
23-1یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے وہ غم اور خوشی ہے جو انسان کو ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے کوئی اس میں تبدیلی نہیں آسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
(آیت 23) ➊ { لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ …: ”لَا تَأْسَوْا“ ”أَسِيَ يَأْسٰي أَسًي“} ({خَشِيَ يَخْشٰي}) (غمگین ہونا) سے نفی مضارع معلوم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ» [ المائدۃ: ۲۶ ] ”پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔“ اور شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے پر فرمایا: «فَكَيْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ» [ الأعراف: ۹۳ ] ”تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔“ {” اٰتٰىكُمْ “ ”أَتٰي يَأْتِيْ إِتْيَانًا“} (ض) آنا اور {”آتٰي يُؤْتِيْ إِيْتَاءً“} (افعال) دینا۔ یعنی ہم نے تمھیں یہ بات بتا دی ہے، تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل جائے، خواہ ملنے کے بعد چلی جائے یا مل ہی نہ سکے، اس پر تم غم نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ، کیونکہ جب تم جان لو گے کہ ہر چیز اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے تو ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر تم زیادہ غمگین نہیں ہوگے اور ملنے والی چیز پر اتراؤ گے نہیں، کیونکہ جسے معلوم ہو کہ جانے والی چیز نے جانا ہی تھا تو وہ اس کے جانے پر زیادہ جزع فزع نہیں کرتا، اس لیے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھتا ہے۔ اسی طرح جب اسے معلوم ہو کہ جو فائدہ اسے حاصل ہونا ہے وہ ہونا ہی ہونا ہے، ممکن ہی نہیں کہ حاصل نہ ہو تو وہ اس کے حاصل ہونے پر اترائے گا نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ میری بہادری سے حاصل نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی اللہ کی تقدیر سمجھ کر نقصان پر صبر کرے گا اور فائدے پر اپنی خوبی سمجھنے کے بجائے اللہ کا شکر کرے گا۔ ➋ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے آدمی کو کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور کامیابی کی صورت میں فخر و غرور نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو تقدیر پر ایمان کا فائدہ قرار دیا ہے اور اسی عقیدہ پر کاربند رہ کر زندگی میں اعتدال رہتا ہے اور آدمی افراط و تفریط سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اََلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَ أَحَبُّ إِلَی اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ وَ فِيْ كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلٰی مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجَزْ وَ إِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلاَ تَقُلْ لَوْ أَنِّيْ فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلٰكِنْ قُلْ قَدَرُ اللّٰهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ] [مسلم، القدر، باب في الأمر بالقوۃ وترک العجز …: ۲۶۶۴، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بھلائی موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے اس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز نہ ہو اور اگر تجھے کوئی (نقصان دہ) چیز پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں اس طرح کرتا تو اس طرح اور اس طرح ہو جاتا، بلکہ یوں کہہ کہ اللہ نے قسمت میں (اسی طرح) لکھا تھا اور جو اس نے چاہا کر دیا، کیونکہ {”لَوْ“} (اگر) کا لفظ شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔“ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ مصیبت پر غم اور راحت پر خوشی انسانی فطرت ہے، پھر ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر غم سے اور عطا ہونے والی چیز پر خوش ہونے سے کیوں منع فرمایا، جب کہ ان پر ہمارا اختیار ہی نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ منع اس غم سے کیا گیا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے کہ آدمی جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگے۔ اگر اللہ کی رضا پر راضی رہے تو غم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، بلکہ اس پر صبر کا اجر بھی ملتا ہے۔ اگر غم ہی نہ ہو تو صبر کس بات پر ہوگا؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: [ إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُوْلُ إِلاَّ مَا يَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيْمُ! لَمَحْزُوْنُوْنَ ] [ بخاري، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” إنا بک لمحزونون “: ۱۳۰۳ ] ”آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم اس کے سوا جو ہمارا رب پسند فرمائے کچھ نہیں کہتے اور یقینا تیری جدائی سے اے ابراہیم! ہم غمزدہ ہیں۔“ اسی طرح منع اس خوش ہونے سے کیا گیا ہے جو آدمی کو شکر کے بجائے فخر و غرور تک پہنچا دے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ {” وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ “} ہیں۔ ہر خوشی سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ اگر خوشی ہی نہ ہو تو شکر کس بات پر کرے گا؟ ➍ {وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ: ” مُخْتَالٍ “} ”خ ی ل“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اپنے خیال میں بڑا بننے والا ہو، متکبر۔ {” فَخُوْرٍ “ ” فَخْرٌ “} میں سے مبالغے کا صیغہ ہے، جو دوسروں کے سامنے بہت فخر کرنے والا ہو۔ تقدیر کو مد نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہر کامیابی کو اپنی بہادری اور کارکردگی سمجھنا ہے، جس سے آدمی میں تکبر اور فخر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ اگر آدمی کی اپنی کارکردگی بھی ہو تو وہ، بلکہ اس کا اپنا وجود سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس نے یہ سب کچھ پہلے لکھ دیا ہے، پھر جو شخص اس پر شکر کے بجائے تکبر و فخر کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ محبت کیسے کر سکتا ہے؟ ➎ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں، ایک {” اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ … “} اور دوسری {” مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ … “} پھر فرمایا: «لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ» مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمھیں دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا فانی ہونا مثال دے کر اس لیے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ، بلکہ یاد رکھو کہ یہ عارضی اور فانی ہے اور ہم نے یہ بات کہ ہر مصیبت پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اس لیے بتائی ہے کہ تم اس کے آنے پر زیادہ غم نہ کرو۔ گویا یہ لف نشر غیر مرتب ہے۔ یہ تفسیر بھی پر لطف ہے۔
جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں اب اگر کوئی رو گردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو (بھی) بخل کی تعلیم دیں۔ سنو! جو بھی منھ پھیرے اللہ بےنیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کو کہیں اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو خود بُخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بُخل کا حکم دیتے ہیں اور جو (احکامِ الٰہی سے) رُوگردانی کرے تو بےشک اللہ بےنیاز ہے (اور) سِتُودہ صفات ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑ جائے تو یقینا اللہ ہی ہے جو بڑا بے پروا ہے، بہت تعریفوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔ بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔
صحیح مسلم ہے { اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:34] اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۱؎ [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:8] یعنی ’ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے ‘۔
24-1یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔
(آیت 24) ➊ {الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ:} مراد اس سے منافقین ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکے تھے، مگر جب جہاد کا موقع آتا تو جنگ میں شرکت سے گریز کرتے اور خرچ کرنے سے بخل کرتے، بلکہ اپنے ہم نواؤں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرتے تھے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ» [ المنافقون: ۷ ] ”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔“ ➋ {وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} ضمیر فصل {” هُوَ “} لانے سے اور خبر {” الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “} پر الف لام لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ ہی غنی و حمید ہے، کوئی اور نہیں۔ یعنی جو شخص اتنی نصیحت سن کر بھی جہاد میں خرچ کرنے سے منہ موڑے اور سمجھے کہ اس کے خرچ نہ کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی نقصان ہو جائے گا تو اس کا یہ خیال باطل ہے، کیونکہ آسمان و زمین کے تمام خزانوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے (جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا) اور غنی وہ اکیلا ہی ہے، دوسرے سب اس کے محتاج ہیں، جو کوئی بھی خرچ کرتا ہے اس کے دیے میں سے خرچ کرتا ہے اور اپنے فائدے کے لیے خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے خرچ کرنے سے بے نیاز ہے۔ غنی کے ساتھ حمید کی صفت بیان فرمائی، کیونکہ بہت سے اغنیاء عارضی غنی کے مالک ہونے کے باوجود اپنی غنی کو مذموم کاموں میں استعمال کرتے ہیں مگر اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ ہر مذموم صفت اور فعل سے پاک ہے اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے، بیشک اللہ قوت واﻻ اور زبردست ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا اس میں سخت آنچ (نقصان) اور لوگوں کے فائدے اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ہم نے اپنے رسولوں(ع) کو کھلی ہوئی دلیلوں (معجزوں) کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا نازل کیا (پیدا کیا) جس میں بڑی قوت ہے (اور شدید ہیبت ہے) اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں تاکہ اللہ دیکھے کہ کون دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں(ع) کی کون مدد کرتا ہے؟ بےشک اللہ بڑا طاقتور (اور) زبردست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلا شبہ یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی( کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوہے کے فوائد ٭٭
اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو ظاہر حجتیں اور بھرپور دلائل دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا، پھر ساتھ ہی انہیں کتاب بھی دی جو کھری اور صاف سچی ہے اور عدل و حق دیا جس سے ہر عقلمند انسان ان کی باتوں کے قبول کر لینے پر فطرتاً مجبور ہو جاتا ہے، ہاں بیمار رائے والے اور خلاف عقل والے اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً» ۱؎ [11-ھود:17] ’ جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔‘ ایک اور جگہ ہے «فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] ’ اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے۔ ‘ اور فرماتا ہے «وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ» [55-الرحمن:7] ’ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان رکھ دی۔ ‘ پس یہاں فرمان ہے یہ اس لیے کہ لوگ حق و عدل پر قائم ہو جائیں، یعنی اتباع رسول کرنے لگیں امر رسول بجا لائیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تمام باتوں کو حق سمجھیں کیونکہ اس کے سوا حق کسی اور کا کلام نہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [6-الانعام:115] ’ تیرے رب کا کلمہ جو اپنی خبروں میں سچا اور اپنے احکام میں عدل والا ہے پورا ہو چکا۔‘ یہی وجہ ہے کہ جب ایماندار جنتوں میں پہنچ جائیں گے اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائیں گے تو کہیں گے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی اگر اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم اس راہ نہیں لگ سکتے تھے ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔‘ پھر فرماتا ہے ’ ہم نے منکرین حق کی سرکوبی کے لیے لوہا بنایا ہے۔ ‘ یعنی اولاً تو کتاب و رسول اور حق سے حجت قائم کی پھر ٹیڑھے دل والوں کی کجی نکالنے کے لیے لوہے کو پیدا کر دیا تاکہ اس کے ہتھیار بنیں اور اللہ دوست حضرات، اللہ کے دشمنوں کے دل کا کانٹا نکال دیں، یہی نمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بالکل عیاں نظر آتا ہے کہ مکہ شریف کے تیرہ سال مشرکین کو سمجھانے، توحید و سنت کی دعوت دینے، ان کے عقائد کی اصلاح کرنے میں گزارے۔ خود اپنے اوپر مصیبتیں جھیلیں لیکن جب یہ حجت ختم ہو گئی تو شرع نے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دی، پھر حکم دیا کہ اب ان مخالفین سے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو روک رکھا ہے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی زندگی دو بھر کر دی ہے ان سے باقاعدہ جنگ کرو، ان کی گردنیں مارو اور ان مخالفین وحی الٰہی سے زمین کو پاک کرو۔
مسند احمد اور ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں قیامت کے آگے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں، یہاں تک کہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کی جائے اور میرا رزق میرے نیزے کے سایہ تلے رکھا گیا ہے اور کمینہ پن اور ذلت ان لوگوں پر ہے جو میرے حکم کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4031،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] پس لوہے سے لڑائی کے ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزے، چھریاں، تیز زرہیں وغیرہ اور لوگوں کے لیے اس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے سکے، کدال، پھاوڑے، آرے، کھیتی کے آلات، بننے کے آلات، پکانے کے برتن، توے وغیرہ وغیرہ اور بھی بہت سی ایسی ہی چیزیں جو انسانی زندگی کی ضروریات سے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”تین چیزیں آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے آئیں نہائی، سنی اور ہتھوڑا۔ [ابن جریر] پھر فرمایا تاکہ اللہ جان لے کہ ان ہتھیاروں کے اٹھانے سے اللہ رسول کی مدد کرنے کا نیک ارادہ کس کا ہے؟ اللہ قوت و غلبہ والا ہے، اس کے دین کی جو مدد کرے وہ اس کی مدد کرتا ہے، دراصل اپنے دین کو وہی قوی کرتا ہے اس نے جہاد تو صرف اپنے بندوں کی آزمائش کے لیے مقرر فرمایا ہے ورنہ غلبہ و نصرت تو اسی کی طرف سے ہے۔
25-1میزان سے مراد انصاف ہے اور مطلب ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ترازو کیا ہے ترازو کے اتارنے کا مطلب ہے کہ ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو تول کر پورا پورا حق دو۔ 25-2یہاں بھی اتارا، پیدا کرنے اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے۔ لوہے سے بیشمار چیزیں بنتی ہیں یہ سب اللہ کے الہام وارشاد کا نتیجہ ہے جو اس نے انسان کو کیا ہے۔ 25-3یعنی لوہے سے جنگی ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزہ، بندوق وغیرہ جن سے دشمن پر وار کیا جاسکتا ہے اور اپنا دفاع بھی۔ 25-4یعنی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ بھی لوہے سے اور بھی بہت سی چیزیں بنتی ہیں جو گھروں میں اور مختلف صنعتوں میں کام آتی ہیں جیسے چھریاں، چاقو، قینچی، سوئی اور عمارت وغیرہ کا سامان اور چھوٹی بڑی مشینیں اور سازو سامان۔ 25-5یعنی رسولوں کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون اس کے رسولوں پر اللہ کو دیکھے بغیر ایمان لاتا اور ان کی مدد کرتا ہے۔ 25-6 اس کو اس بات کی حاجت نہیں کہ لوگ اس کے دین کی اور اس کے رسول کی مدد کریں بلکہ وہ چاہے تو اس کے بغیر ہی ان کو غالب فرما دے لوگوں کو تو ان کی مدد کرنے کا حکم ان کی اپنی بھلائی کے لیے دیا گیا ہے تاکہ وہ اس طرح اپنے اللہ کو راضی کرکے اس کی مغفرت کے مستحق بن جائیں۔
(آیت 25) ➊ {لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ …:} اوپر کی آیات میں جس خرچ کی تاکید کی گئی ہے اس کا تعلق جہاد سے ہے۔ کفار اور اہلِ کتاب کو جب بدر اور دوسرے مقامات پر شکستوں پر شکستیں ہوئیں تو انھوں نے پروپیگنڈا شروع کر دیا جو آج تک جاری ہے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول اور اسلام اللہ کا دین کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کے نزدیک تو سب سے بڑی نیکی جنگ اور خون ریزی ہے، بھلا اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کا خون ریزی سے کیا تعلق؟ وہ تو امن و سلامتی والے ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے الگ تھلگ رہبانیت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں تین باتیں واضح فرمائیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے انھیں واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل فرمائی، تاکہ لوگ راہِ راست پر چل سکیں اور باہمی معاملات میں عدل و انصاف پر قائم رہیں۔ دوسری یہ کہ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ظلم و جور کا خاتمہ کیا جائے، جو قوت و سلطنت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب و میزان کے ساتھ لوہا اتارا، جس میں دوسرے بے شمار فائدوں کے ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے سے جہاد ہوتا ہے، جس کے ساتھ عدل و انصاف قائم ہوتا ہے اور ایمان والوں کا امتحان ہوتا ہے کہ اللہ کے دین کی مدد کرنے والے مومن کون ہیں اور اس سے جان چھڑانے والے منافق کون ہیں۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ نوح اور ابراہیم علیھما السلام اور ان کی اولاد میں جتنے رسول آئے سب کا مقصد حق اور عدل کا قیام ہی تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی انھی کے طریقے پر تھے، یہود کی سنگ دلی کے مقابلے میں ان کے پیروکاروں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر رافت و رحمت رکھی تھی۔ اس نرمی کا بہانہ بنا کر ان کے بعض نام لیواؤں نے رہبانیت اختیار کی اور جہاد چھوڑ دیا، حالانکہ یہ ان کی اپنی ایجاد کردہ بدعت تھی، اللہ کا حکم ہرگز نہ تھا۔ مسلمانوں میں ترکِ جہاد کا باعث بھی نصرانیوں کی تقلید میں یہی رہبانیت بنی۔ ➋ { وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۷) کی تفسیر۔ ➌ { وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ:} لوہا اگرچہ زمین سے نکلتا ہے مگر اس نعمت کی عظمت کا احساس دلانے کے لیے{” اَنْزَلْنَا “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جیسا کہ چوپاؤں کے متعلق فرمایا: «وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ» [ الزمر: ۶ ] ”اور اس نے تمھارے لیے چوپاؤں میں سے آٹھ قسمیں (نر و مادہ) اتاریں۔“ اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر نعمت کا اصل سرچشمہ آسمان ہی ہے، جہاں سے اللہ کا حکم صادر ہوتا ہے تو ہر چیز وجود میں آتی ہے اور اس تعلیم کی طرف بھی اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کے دلوں میں لوہے کو حاصل کرنے اور اس کے استعمال کے طریقوں کا القا فرماتا ہے۔ ➍ { فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ:} اس میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ لوہے کے دوسرے ”منافع“ کو بعد میں ذکر فرمایا ہے اور سخت لڑائی کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔ اس سے جہاد اور اسلحہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منافع سے مراد وہ بے شمار مشینیں، آلات اور سواریاں ہیں جو ایجاد ہو چکی ہیں اور آئندہ ہوں گی۔ ➎ { وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ:} جہاد کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں کفار کو نیست و نابود کر سکتا ہے، مگر وہ جہاد کے ذریعے سے اپنے بندوں کا امتحان کرتا ہے کہ اسے دیکھے بغیر کون اس کی خاطر لڑتا اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے اور کون پیچھے رہتا ہے۔ {” وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴۰ تا ۱۴۲) اور سورۂ عنکبوت (۳) کی تفسیر۔ ➏ {اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جہاد کا حکم اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں دیا، بلکہ انھی کے فائدے کے لیے اور امتحان کے لیے دیا ہے، کیونکہ وہ تو بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔
ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اوﻻد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی تو ان میں سے کچھ تو راه یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر بہت نافرمان رہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی تو ان میں کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک ہم نے نوح (ع) اور ابراہیم (ع) کو رسول بنا کر بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب قرار دی (جاری کر دی) پس ان میں سے بعض تو ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں اکثر فاسق (بدکا ر) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی، پھر ان میں سے کچھ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے زیادہ نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر ابراہیم علیہ السلام تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے آئے اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے ہوئے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» ۱؎ [29-العنكبوت:27] یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا عیسیٰ علیہ السلام تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد کر لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ طریقہ نکالا تھا۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔
پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیئے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے۔ پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی، دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے، ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا، قید بھی کیا، ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا، آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں، اس لیے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں، عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا» ۱؎ [57-الحديد:27] میں ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10357:ضعیف] یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33677:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کر لیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں۔
پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجئیے۔ چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ۔ اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں۔ ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سر زمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا۔ تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لیے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ» الخ ۱؎ [57-الحديد:27] نازل ہوئی۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [57-سورةالحديد:28] ، یعنی ’ ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ابویعلیٰ میں ہے کہ لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے، جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟ فرمایا: فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی }، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور ایسے ہی گھروں میں اب بھی دیکھ لو، ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بہت اچھا“ ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟ فرمایا: خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے، ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ [سنن ابوداود:4904،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/3:ضعیف] ایک شخص ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں، تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:82/3:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) ➊ {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِيْمَ …:} اس آیت میں پہلے نوح اور ابراہیم علیھما السلام کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ دوسرے تمام انبیاء علیھم السلام انھی کی اولاد سے تھے، اس کے بعد اس میں بینات اور کتاب و میزان لے کر آنے والے تمام انبیاء کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کی امتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان میں بگاڑ کا باعث کیا تھا۔ ➋ {فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ: ”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان میں سے بعض راہِ راست پر چلنے والے ہیں اور ان کے زیادہ لوگ نافرمان ہیں۔ یعنی ان کے بگاڑ کا اصل باعث یہ تھا کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف کسی کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایمان اور عمل صالح والے لوگ کم اور نافرمان لوگ ہمیشہ زیادہ رہے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ ص (۲۴) کی تفسیر۔
اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا سوائے اللہ کی رضاجوئی کے۔ سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی، پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان ﻻئے تھے۔ انہیں ان کا اجر دیا اور ان میں زیاده تر لوگ نافرمان ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے ا لله کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے فاسق ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے انہی کے نقشِ قدم پر اپنے اور رسول(ع) بھیجے اور انہی کے پیچھے عیسیٰ (ع) بن مریم (ع) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحمت رکھ دی اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کی ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ ہاں البتہ انہوں نے اسے خدا کی خوشنودی کی خاطر اسے اختیار کیا تھا پھر انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی تو جو لوگ ان میں ایمان لائے ہم نے ان کو ان کا اجر عطا کیا اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل دی اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے (انھوں نے یہ کام کیا) پھر انھوں نے اس کا خیال نہ رکھا جیسے اس کا خیال رکھنے کا حق تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭
نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر ابراہیم علیہ السلام تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے آئے اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے ہوئے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» ۱؎ [29-العنكبوت:27] یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا عیسیٰ علیہ السلام تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد کر لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ طریقہ نکالا تھا۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔
پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیئے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے۔ پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی، دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے، ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا، قید بھی کیا، ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا، آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں، اس لیے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں، عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا» ۱؎ [57-الحديد:27] میں ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10357:ضعیف] یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33677:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کر لیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں۔
پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجئیے۔ چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ۔ اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں۔ ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سر زمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا۔ تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لیے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ» الخ ۱؎ [57-الحديد:27] نازل ہوئی۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [57-سورةالحديد:28] ، یعنی ’ ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ابویعلیٰ میں ہے کہ لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے، جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟ فرمایا: فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی }، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور ایسے ہی گھروں میں اب بھی دیکھ لو، ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بہت اچھا“ ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟ فرمایا: خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے، ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ [سنن ابوداود:4904،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:266/3:ضعیف] ایک شخص ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں، تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:82/3:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
27-1رَأْفَةً، کے معنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے حواری ہیں، یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دئیے۔ جیسے صحابہ کرام ؓ اجمعین ایک دوسرے کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ رحماء بینہم۔ یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کی ہمدر اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار تھے۔ 27-2رَهْبَانِيَّةً رھب (خوف) سے ہے یا رھبان (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں رے پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں رے پر زبر ہوگا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحرا میں جاکر اللہ کی عبادت کرنا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلی کردی، جسے ایک جماعت نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کرلی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جسکی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن انکے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید میں اس شہر بدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گرجاؤں اور معبودوں میں محبوس کرلیا اور اسکے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قرار دے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے) سے تعبیر فرمایا ہے۔ -3 یہ پچھلی بات کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ 27-4یعنی ہم نے تو ان پر صرف اپنی رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہوگی۔ -5 یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضا جوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔ -6 یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔
(آیت 27) ➊ { ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا: ” قَفَّيْنَا “ ” قَفًا“} سے مشتق ہے، جس کا معنی گدی (گردن کا پچھلا حصہ) ہے۔ {” اٰثَارِ“ ”أَثَرٌ“} کی جمع ہے، نشانِ قدم۔ مراد یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول اس طرح بھیجے جس طرح ایک کی گردن کے پیچھے دوسرا اس کے نشانِ قدم پر چلتا ہوا آرہا ہو۔ سب کی تعلیم ایک تھی اور سب ایک ہی راستے کے مسافر تھے۔ ➋ { وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ:} عیسیٰ علیہ السلام کا الگ خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب سے آخر میں وہی تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انجیل عطا فرمائی، جس میں تورات پر عمل کی تاکید تھی اور اس کے بعض سخت احکام میں نرمی کا اعلان تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» [ آل عمران: ۵۰ ] ”اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں۔“ البتہ وہ بھی اسی راستے پر چلنے والے تھے جس پر پہلے رسول چلتے تھے، جس میں جہاد کی تعلیم بھی تھی۔ ➌{ وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً: ” رَاْفَةً “} وہ رحمت جو کسی سے تکلیف یا نقصان دور کرنے سے تعلق رکھتی ہو، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ» [ النور: ۲ ] ”اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔“ جبکہ {” رَحْمَةً “} کا لفظ عام ہے، جس میں ہر طرح کا رحم شامل ہے، خصوصاً جس میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۶۵): «اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» کی تفسیر۔ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب انجیل عطا فرمائی تھی وہ بنیادی طور پر احکام کی نہیں بلکہ وعظ و تذکیر کی کتاب تھی، جس میں انھیں خاص طور پر نرمی اور رحم کے اخلاق اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس پر عمل کیا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت پر عمل نے ان میں یہ صفت مزید پختہ کردی، چونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کے فضل سے ہوا، اس لیے فرمایا کہ ہم نے اس کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھ دی۔ انجیل میں رافت و رحمت پر زور دینے کی وجہ یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے نفوس کی اصلاح کے لیے اور ان کے دلوں سے اس سختی کو دور کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا جو طویل مدتیں گزرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [ البقرۃ: ۷۴ ] ”پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں، یا سختی میں (ان سے بھی) بڑھ کر ہیں۔“ عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب یہود کے برعکس آپس میں نہایت نرم اور مہربان تھے، ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں بھی یہ وصف بہت نمایاں تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» [ الفتح: ۲۹ ] ” اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ ➍ { وَ رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوْهَا:”رَهَبَ يَرْهَبُ رَهْبًا “} (ف) ڈرنا۔ {”رَاهِبٌ“} ڈرنے والا۔ {” رَهْبَانٌ “} (بروزن {فَعْلاَنٌ}) بہت ڈرنے والا۔ {” رَهْبَانِيَّةَ “} اس {”رَهْبَانٌ“} کی طرف نسبت ہے، یعنی رہبان کا طریقہ اختیار کرنا، جو شدت خوف سے شادی نہیں کرتا کہ بیوی بچے اس کی عبادت میں رکاوٹ نہ بنیں، لوگوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے کہ اسے عبادت سے غافل نہ کریں۔ کھانے پینے کی لذیذ اشیاء سے اجتناب کرتا ہے کہ دنیا کی حرص اور نفس کی خواہشوں سے بچ سکے، اس لیے وہ آبادی سے الگ جنگل بیابان میں کٹیا بنا کر عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ انبیاء کا طریقہ نہیں، نہ انھوں نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان کا طریقہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دینا اور لوہے کے استعمال کے ساتھ اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ سو جن لوگوں نے ترکِ دنیا کا راستہ اختیار کر کے دعوت و جہاد کا کام چھوڑ دیا، یہ طریقہ ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ الَّذِيْ كَانَ مِنْ تَرْكِ النِّسَاءِ بَعَثَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ! إِنِّيْ لَمْ أُوْمَرْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِيْ؟ قَالَ لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ إِنَّ مِنْ سُنَّتِيْ أَنْ أُصَلِّيَ وَأَنَامَ، وَأَصُوْمَ وَأَطْعَمَ، وَ أَنْكِحَ وَ أُطَلِّقَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] [ سنن دارمي: 179/2، ح: ۲۱۶۹، قال المحقق حسین سلیم أسد الداراني إسنادہ صحیح و الحدیث متفق علیہ ] ”جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے عورتوں کو ترک کرنے والا معاملہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا، کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی اختیار کر لی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں یا رسول اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے طریقے میں سے یہ ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا (بھی) ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا (بھی) ہوں اور میں نکاح بھی کرتاہوں، طلاق بھی دیتا ہوں تو جو شخص میرے طریقے سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انھیں (اس کے بارے) بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: ”کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو پہلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں۔“ تو ان میں سے ایک نے کہا: ”میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے الگ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: [ أَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَ أُفْطِرُ، وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] [ بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح …: ۵۰۶۳ ] ”تمھی لوگوں نے یہ یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے تقویٰ والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو میرے طریقے سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ ➎ { مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ:} یعنی ہم نے انھیں رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ انھوں نے اسے خود ہی ایجاد کر لیا تھا۔ ➏ { اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ:} یہ استثنا منقطع ہے اور{” اِلَّا “ ”لٰكِنْ“} کے معنی میں ہے: {”أَيْ مَا كَتَبْنَا هَا عَلَيْهِمْ لٰكِنْ فَعَلُوْهَا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ“} ”یعنی ہم نے انھیں اس کا حکم نہیں دیا، مگر انھوں نے (ترکِ دنیا کا) یہ کام اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا۔“ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: {” لٰكِنْ كَتَبْنَا عَلَيْهِمُ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ“} یعنی ہم نے انھیں رہبانیت کا حکم تو نہیں دیا، لیکن ہم نے انھیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا حکم دیا۔ ➐ { فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا:} رہبانیت اختیار کرنے والوں کی دو طرح سے مذمت فرمائی، ایک یہ کہ انھوں نے دین میں وہ بات ایجاد کی جس کا انھیں اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے رہبانیت ایجاد کر کے اپنے آپ پر ترک دنیا کی جو پابندیاں عائد کی تھیں انھیں اس طرح نہ نبھا سکے جس طرح نبھانے کا حق تھا۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”یعنی انھوں نے دو جرم کیے، ایک رہبانیت (درویشی) کو دین کا جزو لاینفک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کر سکے۔ چنانچہ انھوں نے ابتدا میں توحید اور درویشی کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی، لیکن مسیح علیہ السلام کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے اور تثلیث کے چکر میں پھنس کر توحید کو چھوڑ دیا، پھر درویشی تو درکنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ و ریاست طلبی کا ذریعہ بنا لیا اور باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے لگے۔ الغرض جہاد کے فریضہ کو چھوڑ کر تصوف کی رسوم اختیار کرنا ہی رہبانیت ہے، جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو (اللہ کی رضا کے بجائے) جاہ و ریاست اور دنیا طلبی کا ذریعہ بنانا تو ناقابل عفو گناہ ہے، جو یہود و نصاریٰ میں عام وبا کی شکل اختیار کر گیا تھا۔“ (اشرف الحواشی)شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں: ”یہ فقیری اور تارکِ دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے، نہ بیوی رکھتے نہ اولاد، نہ کماتے نہ جوڑتے، محض عبادت میں رہتے، خلق سے نہ ملتے۔ اللہ نے بندوں پر یہ حکم نہیں رکھا، مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا، پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے۔“ (موضح) آج کل روزانہ اخبارات میں نصرانی چرچوں میں پادریوں اور راہبوں کے زنا اور قومِ لوط کے عمل کی خبریں اسی {” فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا “} کی عملی تفسیر ہیں۔ ➑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان {” لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ “} کے مطابق امت مسلمہ میں بھی رہبانیت تصوف کی صورت میں رائج ہوگئی۔ [ دیکھیے بخاري: ۳۴۵۶ ] دنیا میں اسلام کو غالب کرنے اور جہاد کے بجائے ترکِ دنیا کمال ٹھہرا، تو توحید کے بجائے پیر پرستی اور قبر پرستی پھیل گئی۔ احسان کی منزل یہ تھی کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر یہ اسے نہیں دیکھتا تو وہ اسے یقینا دیکھ رہا ہے۔ تصوف میں اس کے بجائے کمال یہ ٹھہرا کہ شیخ کا تصور اس طرح رکھو کہ ایک لمحہ بھی دل و دماغ اور آنکھوں سے جدا نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا جو نہ بتایا ہو، یہاں ان طریقوں کو چھوڑ کر نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ٹھہرے۔ مثلاً روزے رکھنے کے بجائے ترک حیوانات جمالی و جلالی کیا گیا، یعنی کوئی حیوان یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت یا دودھ یا گھی نہ کھایا جائے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور مسنون اذکار کے بجائے سانس بند کر کے خود ساختہ وظیفوں کو، جن کے ساتھ تصور شیخ کا شرک ہو، ولایت کے حصول کا مستند طریقہ قرار دیا گیا۔ محنت اور کمائی کے بجائے لوگوں کے نذرانوں یا گدائی کے ٹکڑوں پر گزر کرنا فقر کی منزل قرار پایا۔ قرآن کی دعوت کے ساتھ جہاد کی تلوار لے کر دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کی جدو جہد کے بجائے جنگلوں بیابانوں یا مقبروں اور خانقاہوں میں ” ہُو حق “ کی ضربیں مقصد حیات قرار پائیں۔ مسجدیں ویران ہوئیں اور مقبرے آباد ہوئے اور یہ کام کرنے والوں کی پارسائی اور روحانی اقتدار کے اتنے جھوٹے قصے مشہور کیے گئے کہ نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کی ولایت کے افسانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہوگئے۔ احبار و رہبان کے باطل طریقوں کے ساتھ لوگوں کے مال کھانے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا جو یہاں اختیار نہ کیا گیا ہو۔ جو لوگ دنیاوی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکے انھوں نے بھی کتاب و سنت پر عمل کے بجائے ان خدا رسیدہ ہستیوں کی خدمت کو نجات کے لیے کافی سمجھا اور انھیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھ کر عمل سے فارغ ہوگئے۔ نتیجہ کفار کے غلبے اور مسلمانوں کی ذلت اور غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اس کا علاج اب بھی وہی ہے جو اس مبارک سورت میں بتایا گیا ہے کہ رہبانیت کے بجائے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق بسر کی جائے، لوگوں کے بنائے ہوئے طریقوں کے بجائے کتاب و سنت سے ثابت اعمال کی پابندی کی جائے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اس کی راہ میں جہاد کیا جائے اور جان و مال کی قربانی سے کسی قسم کا دریغ نہ کیا جائے۔ کیونکہ جس طرح تورات و انجیل کی تعلیم رہبانیت کے بجائے قتال فی سبیل اللہ تھی اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم بھی یہی ہے، دلیل اس کی یہ آیت ہے: «إِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ» [ التوبۃ: ۱۱۱ ] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے۔“ ➒ { فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ:} ان میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں، ایک وہ جو رہبانیت اور اس کے خود ساختہ عقائد و اعمال مثلاً تثلیث، قبر پرستی اور ترک دنیا کے بجائے صحیح ایمان و عمل پر قائم رہے، جو تورات و انجیل سے ثابت تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کا اجر عطا فرما دیا اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی ان کا اجر عطا فرما دیا۔ ➓ {وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ:} یعنی ان میں سے بہت سے لوگ وہ تھے جو اپنی خواہش کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناه بھی معاف فرمادے گا، اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے نور کردے گا جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور اس کے رسول(ع) پر (کماحقہٗ) ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فر مائے گا اور تمہیں وہ نور عطا کرے گا کہ جس کی روشنی میں تم چلوگے اور (تمہارے قصور) تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، وہ تمھیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ دے گا اور تمھارے لیے ایسی روشنی کر دے گا جس کے ذریعے تم چلتے رہو گے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“ جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:97] سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر] اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [8-الانفال:29] ہے یعنی ’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ”ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے { تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2268]
صحیح بخاری میں ہے { مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2271] پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِئَلَّا يَعْلَمَ» کا معنی «لِیَعْلَمَ» ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لِکَیْ یَعْلَمَ» ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔ غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:95] میں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!
28-1یہ دگنا اجر اہل ایمان کو ملے گا جو نبی سے قبل پہلے کسی رسول پر ایمان رکھتے تھے پھر نبی پر بھی ایمان لے آئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے (صحیح بخاری) ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہل کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر)
(آیت 28) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ …:} مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کے مخاطب اہلِ کتاب ہیں جو اس سے پہلے اپنے نبی پر ایمان کا دعویٰ رکھتے تھے، انھیں حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ سے ڈر جاؤ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ عطا فرمائے گا۔ اس کی تائید سورۂ قصص کی آیات (۵۲ تا ۵۴) سے ہوتی ہے اور اس حدیث سے بھی جو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْكُ إِذَا أَدّٰی حَقَّ اللّٰهِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ، وَ رَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ] [ بخاري، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأہلہ: ۹۷ ] ”تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک اہلِ کتاب میں سے کوئی آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو، جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس ایک لونڈی تھی، وہ اس سے صحبت کرتا تھا، تو اس نے اسے ادب سکھایا اور اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دی اور اچھی طرح تعلیم دی، پھر اسے آزاد کر دیا اور اس سے نکاح کر لیا، تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“ اس تفسیر میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہاں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} سے اہلِ کتاب میں سے مسلمان ہونے والے مراد لینا سیاق کے خلاف ہے، کیونکہ شروع سے آخر تک خطاب ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، انھی کو اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرنے اور اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کا حکم آرہا ہے۔ اس آیت میں بھی انھیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لانے کا حکم اور اس کی جزا کے طور پر اپنی نعمت کا دوہرا حصہ اور نور عظیم عطا کرنے کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس لیے صحیح تفسیر ان حضرات کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ان لوگوں سے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے اسلام لائے ہوں یا مشرکین میں سے، یا پیدا ہی اسلام میں ہوئے ہوں، ان سب سے کہا جا رہا ہے کہ صرف زبان سے ایمان کے اقرار اور دعویٰ پر اکتفا نہ کرو، بلکہ سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ، اس کا حق ادا کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا کرے گا۔ اس دوہرے حصے سے مراد ہماری اس امت کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے محض اپنے فضل سے پہلی امتوں کی بہ نسبت دوہرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک مثال کے ساتھ واضح فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ، فَقَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنْ غُدْوَةَ إِلٰی نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُوْدُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِيْ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰی صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَی أَنْ تَغِيْبَ الشَّمْسُ عَلٰی قِيْرَاطَيْنِ؟ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی، فَقَالُوْا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ؟ قَالُوْا لاَ قَالَ فَذٰلِكَ فَضْلِيْ أُوْتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ ] [بخاري، الإجارۃ، باب الإجارۃ إلٰی نصف النہار: ۲۲۶۸، ۳۴۵۹، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ”تمھاری مثال اور دونوں کتابوں (تورات و انجیل) والوں کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے کئی مزدوروں کو اجرت پر رکھا اور کہا: ”کون ہے جو میرے لیے صبح سے نصف النہار تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو یہود نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے نصف النہار سے عصر تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا۔“ تو تم وہ لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: ”ہمیں کیا ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور اجرت کم ملی؟“ اس نے کہا: ”کیا میں نے تمھارے حق میں کوئی کمی کی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ اس نے کہا: ”پھر یہ میرا فضل ہے، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“ ➋ { وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ …:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بدولت اللہ تعالیٰ تمھیں کتاب و سنت کی صورت میں وحیٔ الٰہی کا ایسا عظیم نور عطا کرے گا جس کے ذریعے سے تم دنیا و آخرت میں ہر جگہ آسانی کے ساتھ چلتے رہو گے، کسی مسئلے میں تمھیں کوئی الجھن یا اندھیرا پیش نہیں آئے گا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» [ البقرۃ: ۲۵۷ ] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور قیامت کے دن کے اندھیروں میں وہ نور عطا کرے گا جس میں چلتے ہوئے تم جنت تک پہنچ جاؤ گے، جس کا ذکر اس سے پہلے {” يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} میں گزرچکا ہے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
(تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لیے کہ اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا) فضل اللہ ہی کے ہاتھ ہے وه جسے چاہے دے، اور اللہ ہے ہی بڑے فضل واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اہلِ کتاب یہ نہ جانیں کہ یہ لوگ (مسلمان) اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ کتا ب والے یہ نہ جانیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے اور (جان لیں) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“ جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:97] سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر] اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [8-الانفال:29] ہے یعنی ’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ”ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“ مسند احمد کی حدیث میں ہے { تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2268]
صحیح بخاری میں ہے { مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2271] پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِئَلَّا يَعْلَمَ» کا معنی «لِیَعْلَمَ» ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لِکَیْ یَعْلَمَ» ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔ غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:95] میں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29) ➊ { لِئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ:} یعنی اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنی رحمت میں سے دو حصے اور عظیم نور دینے کی بشارت اس لیے دی ہے تاکہ اہلِ کتاب تمھارے متعلق یہ نہ جانیں کہ یہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ➋ { وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ …:} سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے {”وَلِيَعْلَمُوْا“} (اور تاکہ وہ جان لیں) محذوف ہے، یعنی اور تاکہ وہ جان لیں کہ فضل اہلِ کتاب یا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی مشیت سے اس آخری نبی پر اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنے خاص فضل کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ ➌ ابن جریر اور دوسرے کئی مفسرین نے فرمایا کہ{” لِئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ “} کا معنی {” لِيَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ“} ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنی رحمت میں سے دو حصے اور نورِ عظیم کی بشارت اس لیے دی ہے تاکہ اہل کتاب (جو اپنے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ کا فضل عطا ہونے کے قائل ہی نہیں) جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل سارے کا سارا اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ اس تفسیر پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں {”لَا“} کو زائد مانا گیا ہے، حالانکہ اللہ کے کلام میں کوئی لفظ زائد کیسے ہو سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں {”لَا“} زائد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے کار ہے، بلکہ اسے بعد میں آنے والے {” اَلَّا يَقْدِرُوْنَ “} میں موجود نفی کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے، جیسا کہ ایک جگہ فرمایا: «مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ» [ صٓ: ۷۵ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ کرے؟“ اور دوسری جگہ فرمایا: «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ» [ الأعراف: ۱۲ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا؟“ یہاں {” اَلَّا تَسْجُدَ “} میں {”لاَ“} اس نفی کی تاکید کے لیے ہے جو {” مَنَعَكَ “} کے ضمن میں موجود ہے۔ {” لِئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ “} کی یہ تفسیر بھی درست ہے اور بہت عمدہ ہے۔