بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحديد — Surah Hadid
آیت نمبر 19
کل آیات: 29
قرآن کریم الحديد آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الحديد islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ وَ نُوۡرُہُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۱۹﴾
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں
اللہ اوراس کے رسول پر جو ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کوجھٹلاتے ہیں وه جہنمی ہیں
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں(ع) پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کیلئے ان کا اجر اور ان کا ثواب ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے ہاں بہت سچے اور شہادت دینے والے ہیں، انھی کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بھڑکتی آگ میں رہنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭

فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں، بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ‏‏‏‏ ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265] ‏‏‏‏

ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف] ‏‏‏‏ عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (‏‏‏‏۱)‏‏‏‏‏‏‏‏ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (‏‏‏‏۲)‏‏‏‏‏‏‏‏ دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (‏‏‏‏۳)‏‏‏‏‏‏‏‏ تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (‏‏‏‏۴)‏‏‏‏‏‏‏‏ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ …:” الصِّدِّيْقُوْنَ“} اور {” الشُّهَدَآءُ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۶۹) کی تفسیر۔ اس آیت پر بھی ایک سوال ہے کہ صدیقین اور شہداء تو ایمان کے بلند درجے پر فائز لوگ ہوتے ہیں، جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے سب لوگوں کو صدیقین و شہداء کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانے والوں سے مراد یہاں اس ایمان میں کامل لوگ ہیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت (۷): «‏‏‏‏اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» ‏‏‏‏ میں ایمان والوں کو ایمانِ کامل لانے کا حکم ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسولوں پر کامل ایمان رکھنے والے ہی صدیقین اور شہداء ہیں۔ {” اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ“} میں حصر کا مفہوم ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ ہر مدعی ٔ ایمان کو حاصل نہیں ہو جائیں گے، بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کمال ایمان کے کئی مراتب ہیں، جیسا کہ صدیقیت و شہادت کے کئی مراتب ہیں، اگرچہ سب پر صدیق یا شہید کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهٗ الْمَطْعُوْنُ شَهِيْدٌ، وَالْغَرِيْقُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيْدٌ، وَالْمَبْطُوْنُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيْقِ شَهِيْدٌ، وَالَّذِيْ يَمُوْتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيْدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوْتُ بِجُمْعٍ شَهِيْدَةٌ ] [مستدرک حاکم: 352/1، ح: ۱۳۰۰، وصححہ الألباني في صحیح الجامع: ۳۷۳۹ ] ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے اور غرق ہونے والا شہید ہے اور ذات الجنب والا شہید ہے اور پیٹ کی تکلیف سے مرنے والا شہید ہے اور آگ سے مرنے والا شہید ہے اور گرنے والی دیوار وغیرہ کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور ولادت کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔“ ظاہر ہے کہ حدیث میں مذکور سب لوگ شہید ہیں، مگر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کا درجہ سب سے بلند ہے۔ ➋ {لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ:} یعنی صدیقیت یا شہادت کے مراتب کے مطابق اجر اور نور اہل ایمان ہی کا حصہ ہے، کفار یا منافقین کا نہیں۔ ➌ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ہمیشہ وہی لوگ رہیں گے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کیا اور ان کی تکذیب کی، کیونکہ{” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} (بھڑکتی آگ کے ساتھی اور اس میں رہنے والے) وہی ہیں، گناہ گار مومن جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے، اس لیے وہ {” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} نہیں ہیں۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →