بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحديد — Surah Hadid
آیت نمبر 21
کل آیات: 29
قرآن کریم الحديد آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الحديد islamicurdubooks.com ↗
سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾
دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے
بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے جو ان لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں(ع) پر ایمان لائیں اور یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے۔
اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے، وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مغفرت کی جستجو ٭٭

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6488] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لیے اسے چاہیئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔ اسی لیے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:133] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لیے بنائی گی ہیں۔ ‘ یہاں فرمایا ’ یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے، اسی لیے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لیے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔‘ پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو اور اتنی ہی بار «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اور اسی طرح «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» }، کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:843] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

21-1یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔ 21-2اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہوگا؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے 21-3ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔ 21-4وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ {سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ:سَابِقُوْۤا”سَبَقَ يَسْبِقُ سَبْقًا“} (ض،ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صف میں ہونا، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ۔ یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت (۱۳۳) سے ملتی جلتی ہے، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ ➋ { وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ:السَّمَآءِ “} کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس کی سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے: «‏‏‏‏وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۳۳] ”اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے۔ “ ➌ { اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ سورۂ آل عمران (۱۳۳ تا ۱۳۵)میں ان ایما ن والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے، جس کا ذکر یہاں {” اَنْفَقُوْا “} میں گزر چکا ہے۔ ➍ { ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کر لے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہو سکتے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ ] [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳] ” کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ “ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں، مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں، دیکھیے سورۂ اعراف(۴۳) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →