بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحديد — Surah Hadid
آیت نمبر 11
کل آیات: 29
قرآن کریم الحديد آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ الحديد islamicurdubooks.com ↗
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَ لَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے
کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیده اجر ﺛابت ہو جائے
کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،
کون ہے جو اللہ کو قرضۂ حسنہ دے تاکہ وہ اسے اس کے لئے (کئی گنا) بڑھائے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔
کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تو وہ اسے اس کے لیے کئی گناکر دے اور اس کے لیے باعزت اجر ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کو قرض دینا ٭٭

پھر فرماتا ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا» ۱؎ [57-الحديد:11] ‏‏‏‏ ’ کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ ‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو۔ پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ ’ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی۔ ‘ اس آیت کو سن کر ابودحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی، وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے، بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ”جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یاقوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کو اللہ نے دے دیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند بزار:402/5:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

1 اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا، یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) {مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (245،244) اور {” اَجْرٌ كَرِيْمٌ “} کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۷۴) اور سورۂ حج (۵۰)۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →