وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ کے اوﻻد کہاں ہوسکتی ہے حاﻻنکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وه ہر چیز کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بے کسی نمو نہ کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، اسکے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کے لئے اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں ہے۔ اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اس کی اولاد کیسے ہو گی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ بےمثال ہے وحدہ لا شریک ہے ٭٭
زمین و آسمان کا موجد بغیر کسی مثال اور نمونے کے انہیں عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے -بدعت کو بھی بدعت اسی لیے کہتے ہیں کہ پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی، بھلا اس کا صاحب اولاد ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں، اولاد کیلئے تو جہاں باپ کا ہونا ضروری ہے وہیں ماں کا وجود بھی لازمی ہے، اللہ کے مشابہ جبکہ کوئی نہیں ہے اور جوڑا تو ساتھ کا اور جنس کا ہوتا ہے پھر اس کی بیوی کیسے؟ اور بیوی نہیں تو اولاد کہاں؟ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ بھی اس کے منافی ہے کہ اس کی اولاد اور زوجہ ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] ’ لوگ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔ ان کی بڑی فضول اور غلط افواہ ہے عجب نہیں کہ اس بات کو سن کر آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ رحمن اور اولاد؟ وہ تو ایسا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ سب پر اس کا علبہ سب پر اس کا علم سب اس کے سامنے فردا فرداً آنے والے۔ وہ خالق کل ہے اور عالم کل ہے۔ اس کی جوڑ کا کوئی نہیں وہ اولاد سے اور بیوی سے پاک ہے اور مشرکوں کے اس بیان سے بھی پاک ہے ‘۔
11۔ 1 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اس طرح وہ اس لائق ہے اس اکیلے کی عبادت کی جائے، عبادت میں کسی اور کو شریک نہ بنایا جائے۔ لیکن لوگوں نے اس ذات واحد کو چھوڑ کر جنوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ وہ خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں مشرکین عبادت تو بتوں کی یا قبروں میں مدفون اشخاص کی کرتے ہیں لیکن یہاں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے، بات دراصل یہ ہے کہ جنات سے مراد شیاطین کے کہنے سے ہی شرک کیا جاتا ہے اس لئے گویا شیطان ہی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة نساء۔ 117 سورة مریم۔ 44 سورة یٰسین 60، سورة سبا۔ 41۔
(آیت 101)➊ {بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} بدیع کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا، یعنی ان کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا، اس نے ان کو ایجاد فرمایا۔ ➋ {اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ …:} مشرکین کی تردید کے بعد اب ان کی تردید کی ہے جو اللہ کی اولاد مانتے تھے۔ فرمایا، اللہ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے، جب کہ اولاد تو وہ ہوتی ہے جو بیوی کے ذریعے سے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتی ہے نہ کہ اولاد، جیسا کہ آسمان و زمین کی پیدائش یا آدم علیہ السلام کی پیدائش۔ (رازی)
یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب! اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے، تو تم اس کی عبادت کرو اور وه ہر چیز کا کارساز ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے اللہ تمہارا رب اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو وہ ہر چیز پر نگہبان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا وکیل و کفیل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی اللہ تمھارا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ ٭٭
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو -اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے { انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا } -۱؎ [صحیح مسلم:176] سورۃ النجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔ اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین! یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
ابن علیہ فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہٰ کر لینے کو اور عدم احاطہٰ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہٰ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا -احاطہٰ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ۔ صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“ چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا“، تو میں نے کہا ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’ اللہ کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے ‘، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا ”یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
اگلی کتابوں میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ ’ اے موسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مر جائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا ‘۔ خود قرآن میں ہے کہ «فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ’ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں ‘۔ یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 102) {ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ …:} یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے یقین رکھو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہر چیز کا خالق، حفیظ اور رقیب ہے۔ (ترجمان)
نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبردار،
علامہ محمد حسین نجفی
نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے اور وہ لطیف (جسم و جسمانیات سے مبرا ہے) اور خبیر (بڑا باخبر) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ ٭٭
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو -اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے { انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا } -۱؎ [صحیح مسلم:176] سورۃ النجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔ اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین! یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
ابن علیہ فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہٰ کر لینے کو اور عدم احاطہٰ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہٰ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا -احاطہٰ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ۔ صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“ چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا“، تو میں نے کہا ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’ اللہ کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے ‘، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا ”یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
اگلی کتابوں میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ ’ اے موسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مر جائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا ‘۔ خود قرآن میں ہے کہ «فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ’ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں ‘۔ یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔
13۔ 1 ابصار بصر نگاہ کی جمع ہے۔ یعنی انسان کی آنکھیں اللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اور اگر اس سے مراد روئیت بصری ہو تو اس کا تعلق دنیا سے ہوگا۔ یعنی دنیا کی آنکھ سے کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم یہ صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار سے مشرف ہونگے۔ اس لئے مسلمانوں کا ایک فرقہ کا اس آیت سے ثبوت و دلیل کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اللہ کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا، دنیا میں نہ آخرت میں، صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس نفی کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتی ہیں، جس شخص نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (شب معراج میں) اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے، اس نے قطعًا جھوت بولا (صحیح بخاری)، کیونکہ اس آیت کی روح سے پیغمبر سمیت کوئی بھی اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ البتہ آخرت کی زندگی میں دیدار ممکن ہوگا، جیسے دوسرے مقام پر قرآن نے اس کا اثبات فرمایا:۔ (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23ۚ) 75۔ القیامۃ:23-22) کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔
(آیت 103) {لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ …: ” اَدْرَكَ يُدْرِكُ “} کا معنی کسی چیز کو پالینا ہے، اس لیے اس کا معنی دیکھنا بھی ہو سکتا ہے اور کسی چیز کی حقیقت کو پا لینا بھی۔ ادراک کا معنی اگر آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اس کے متعلق ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”جو تمھیں بیان کرے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ …» پھر فرمایا: ”لیکن آپ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو دفعہ دیکھا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، سورۃ والنجم: ۴۸۵۵ ] عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا (سورۂ نجم میں مذکور آیات) «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب: {فکان قاب قوسین أو أدنی}: ۴۸۵۶ ] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہی صحیح معلوم ہوتا ہے، صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما دیکھنے کے قائل ہیں، مگر وہ کبھی ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ مزید تفصیل سورۂ نجم میں آئے گی۔ یہ تمام بحث دنیا میں نہ دیکھ سکنے کی ہے، مگر قرآن مجید کی متعدد آیات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کے علاوہ مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جیسے چاند کے دیکھنے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جنت کی سب سے بڑی نعمت یہی ہو گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ(22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [ القیامۃ: 23،22] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ لیکن ادراک کا معنی اگر حقیقت کو پالینا ہو تو یہ تو قیامت کے دن بھی نہ کسی فرشتے کے لیے ممکن ہے نہ رسول کے لیے، کیونکہ محدود مخلوق لا محدود کی حقیقت کو کیسے پا سکتی ہے۔ پھر زیر تفسیر آیت کے مطابق دنیا اور آخرت کسی جگہ بھی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتیں۔
دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع پہنچ چکے ہیں سو جو شخص دیکھ لے گا وه اپنا فائده کرے گا اور جو شخص اندھا رہے گا وه اپنا نقصان کرے گا، اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے برُے کو، اور میں تم پر نگہبان نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرتیں (روشن دلیلیں) آچکیں اب جو بصیرت سے کام لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا۔ اور جو اندھا بنا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔ اور میں تمہارے اوپر نگران نہیں ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
بلا شبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے کئی نشانیاں آچکیں، پھر جس نے دیکھ لیا تو اس کی جان کے لیے ہے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے اور میں تم پر کوئی محافظ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے -جیسے فرمان ہے کہ «مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ راہ پانے والا اپنے لیے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ’ اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» ۱؎ [22-الحج:46] ’ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں ‘۔ میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ ”تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا“، تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5-4] ’ کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے ‘۔ اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ «إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» ۱؎ [74-المدثر:18-25] ’ اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقیناً یہ انسانی قول ہے اور اس لیے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کر دیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں ‘۔ رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا «يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [2-البقرہ:26] ’ اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:53] ’ تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے ‘۔ اور فرمایا آیت «وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [74-المدثر:31] یعنی ’ ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لیے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہو جائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان وں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ «دَارَسْتَ» کی دوسری قرأت «دَرَسْتَ» بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «دَرَسَ» بھی ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:] لیکن یہ غریب ہے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «درَسْتَ» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:]
14۔ 1 بصائر بصیرۃ کی جمع ہے جو اصل میں دل کی روشنی کا نام ہے یہاں مراد وہ دلائل ہیں، جو قرآن نے جگہ جگہ اور بار بار بیان کئے ہیں اور جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث میں بیان فرمایا ہے جو ان دلائل کو دیکھ کر ہدایت کا راستہ اپنا لے گا اس میں اسی کا ائدہ ہے، نہیں اپنائے گا تو اسی کا نقصان ہے۔ جیسے فرمایا من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا بنی اسرائیل اس کا مطلب بھی وہی ہے جو زیر وضاحت آیت کا ہے 14۔ 2 بلکہ صرف مبلغ داعی اور بشیر و نذیر ہوں راہ دکھلانا میرا کام ہے راہ پر چلا دینا یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
(آیت 104){ قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ …: ” بَصَآىِٕرُ “} یہ{ ” بَصِيْرَةٌ “ } کی جمع ہے، جو دل کی روشنی کا نام ہے، جیسا کہ بصارت آنکھوں سے دیکھنے کو کہتے ہیں، یعنی مالک کی طرف سے تمھارے پاس دل اور آنکھوں کو روشن کرنے والے دلائل تو پہنچ چکے، جو اوپر کی آیات میں مذکور ہیں، اب ان پر غور و فکر کر کے جو ایمان لے آئے تو اس کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو ان پر غور نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو اپنا ہی برا کرے گا۔ میں تم پر کوئی محافظ نہیں کہ تمھارے چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود تمھیں سیدھی راہ پر ڈال سکوں، ہدایت دینا یا نہ دینا تو اللہ ہی کا کام ہے۔
اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم اس طور پر دﻻئل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ یوں کہیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے اور تاکہ ہم اس کو دانشمندوں کے لئے خوب ﻇاہر کردیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم اپنی آیتیں یونہی الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں اور اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں کہ آپ نے (کسی سے) پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے علم رکھنے والوں کے لئے واضح کر دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے ان لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے -جیسے فرمان ہے کہ «مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ راہ پانے والا اپنے لیے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے ‘۔ یہاں بھی فرمایا ’ اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» ۱؎ [22-الحج:46] ’ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں ‘۔ میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ ”تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا“، تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:5-4] ’ کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے ‘۔ اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ «إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» ۱؎ [74-المدثر:18-25] ’ اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقیناً یہ انسانی قول ہے اور اس لیے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کر دیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں ‘۔ رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا «يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [2-البقرہ:26] ’ اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:53] ’ تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے ‘۔ اور فرمایا آیت «وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [74-المدثر:31] یعنی ’ ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لیے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہو جائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان وں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ «دَارَسْتَ» کی دوسری قرأت «دَرَسْتَ» بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «دَرَسَ» بھی ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:] لیکن یہ غریب ہے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «درَسْتَ» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:]
15۔ 1 یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سے پڑھ کر اور سیکھ کر آیا ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا ڔ وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا ) 25۔ الفرقان:5-4) کافروں نے کہا، یہ قرآن تو اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، جس پر دوسروں نے بھی اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ ایسا دعوٰی کر کے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ نیز انہوں نے کہا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جس کو اس نے لکھ کر رکھا ہے ' حالانکہ بات یہ نہیں ہے، جس طرح یہ سمجھتے یا دعوٰی کرتے ہیں بلکہ مقصد اس تفصیل سے سمجھ دار لوگوں کے لئے بیان و تشریح ہے تاکہ ان پر حجت بھی ہوجائے۔
(آیت 105) ➊ {وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ:} یہاں تک اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا اثبات تھا، اب نبوت کو ثابت کرنے کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم ایسے ہی مختلف طریقوں کے ساتھ بار بار دھراتے ہیں، کبھی مومنوں کو خوش خبری، کبھی کافروں کو تنبیہ، کبھی گزشتہ قوموں کے واقعات کے ذریعے سے نصیحت اور کبھی کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کے احکام، تاکہ جو لوگ عقل و فہم رکھتے ہیں، وہ ان کے ذریعے سے راہ ہدایت پائیں اور مخالفین پر حجت ہو۔ ➋ {وَ لِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ:} یعنی ہم آیات کو پھیر پھیر کر اس لیے بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک طرف ان آیات کے ذریعے سے عقل و فہم والے راہِ ہدایت پائیں گے تو دوسری طرف ضدی اور آباء و اجداد کے رسم و رواج سے چمٹے رہنے والے کافر و مشرک آپ سے یہ کہہ کر گمراہ ہوں گے کہ یہ قرآن جسے تم ہمارے سامنے پڑھ رہے ہو، تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا، بلکہ تم نے کسی سے پڑھا اور سیکھا ہے۔ مشرکین کے اسی قسم کے اقوال کئی دوسری آیات میں مذکور ہیں، مثلاً سورۂ فرقان (۴، ۵) اور سورۂ مدثر (۱۸ تا ۲۵) (رازی، قرطبی) {” وَ لِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ “} کی واؤ سے دیگر حکمتوں کی طرف اشارہ ہے جنھیں قصداً حذف کر دیا گیا ہے، کیونکہ ان سب کا بیان بہت طویل تھا۔ واؤ کے بعد ایک حکمت بیان فرما دی گئی۔ ➌ {وَ لِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ:} آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرنے کی پہلی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کفار اور عناد رکھنے والے یہ کہیں کہ تم نے یہ قرآن کسی سے پڑھ لکھ کر سیکھ لیا ہے، تاکہ اس طرح زیادہ گمراہ ہوں، یہاں دوسری حکمت بیان کی ہے ”تاکہ اہل علم کے لیے بیان اور فہم حاصل ہو۔“ (رازی)
اے محمدؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ﻻئق عبادت نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ اس وحی کی پیروی کریں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کو کی جاتی ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور مشرکوں سے بےتوجہی اختیار کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی پیروی کر جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وحی کے مطابق عمل کرو ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الٰہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21-22] ’ نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں ‘ اور فرمایا «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 106) {اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ …:} یعنی ان کے اس قسم کے بے بنیاد شبہات سے متاثر ہو کر دعوت و تبلیغ ترک نہ کرو۔ اس سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔
اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا۔ اور نہ آپ ان پر مختار ہیں!
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر خدا (زبردستی) چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ ہی آپ ان کے ذمہ دار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شریک نہ بناتے، اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں بنایا اور نہ تو ان پر کوئی نگہبان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وحی کے مطابق عمل کرو ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الٰہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21-22] ’ نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں ‘ اور فرمایا «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے ‘۔
17۔ 1 اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 253 اور سورة الانعام آیت 35 کا حاشیہ)۔ 17۔ 2 یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ اپنے محسن چچا ابو طالب کو ضرور مسلمان کرلیتے جن کے قبول اسلام کی آپ شدید خواہش رکھتے تھے
(آیت 107) {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا …:} یعنی آپ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان و کفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ وہ فطری طور پر مومن ہونے کے ساتھ کفر یا نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، بلکہ ہر طرح فرماں بردار ہیں، لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وه براه جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے۔ پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وه ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی وه کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (خبردار) تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ یہ لوگ اپنی جہالت و ناسمجھی کی بنا پر حد سے گزر کر اللہ کو گالیاں دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو (اس کی نظروں میں) آراستہ کیا ہے۔ پھر ان کی بازگشت ان کے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل مزین کر دیا ہے، پھر ان کے رب ہی کی طرف ان کا لوٹنا ہے تو وہ انھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سودا بازی نہیں ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے گو کہ اس میں کچھ مصلحت بھی ہو لیکن اس میں مفسدہ بھی ہے اور وہ بہت بڑا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ مشرک اپنی نادانی سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لیے یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابوطالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابوطالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔ یہ مشورہ کرکے ابوجہل، ابوسفیان، نضیر بن حارث، امیہ بن ابی خلف، عقبہ بن ابو محیط، عمرو بن العاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابوطالب نے کہا بلا لو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستا رکھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئیے ہم بھی اس سے رک جائیں گے۔ ابوطالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوطالب نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہو جائے تمام عجم ان کی مملکت میں آ جائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں }۔ یہ سن کر ابوجہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دو }۔
اس پر ان سب نے انکار کیا اور ناک بھوں چڑھائی۔ یہ بات دیکھ کر ابوطالب نے کہا پیارے بھتیجے اور کوئی بات کہو دیکھو تمہاری قوم کے سرداروں کو تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چچا جان آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں اللہ کی قسم مجھے اسی ایک کلمہ کی دھن ہے اگر یہ لوگ سورج کو لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں کوئی اور کلمہ نہیں کہوں گا }۔ یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کو گالیاں دیں گے۔ اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13744:مرسل] اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے }۔ صحابہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا اس کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5973] پھر فرماتا ہے ’ اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں ‘۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔
18۔ 1 یہ سد ذریعہ کے اصول پر مبنی ہے کہ اگر ایک درست کام، اس سے بھی زیادہ بڑی خرابی کا سبب بنتا ہو تو وہاں اس درست کام کا ترک راجح اور بہتر ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کسی کے ماں باپ کو گالی مت دو کہ اس طرح تم خود اپنے والدین کے لئے گالی کا سبب بن جاؤ گے (صحیح مسلم)
(آیت 108) ➊ {وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یہ آیت سد ذرائع کی دلیل ہے، یعنی اگر ایک جائز کام کسی بڑی خرابی کا ذریعہ بنتا ہو تو اس جائز کام کو بھی چھوڑنا ضروری ہے۔ یعنی اگر تم مشرکین کے معبودوں کو گالی دو گے تو وہ جہالت سے اللہ تعالیٰ کو گالی دیں گے اور تم اس کا سبب بنو گے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ماں باپ کو گالی دینے سے منع فرمایا کہ اس طرح تم خود اپنے والدین کو گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے۔ [ بخاری، الأدب، باب لا یسب الرجل والدیہ: ۵۹۷۳ ] ➋ {كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ …:} یعنی انسان کی عادت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر کام کو، چاہے وہ در حقیقت اچھا ہو یا برا، اچھا ہی سمجھتا ہے، یعنی: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» [ المؤمنون: ۵۳ ] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ لیکن انسان میں غور و فکر کی صلاحیت بھی رکھی ہے کہ وہ برے کام کو پوری آزادی سے چھوڑ کر نیک راستہ اختیار کر سکتا ہے، دنیا کا ہر کام اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے، وہ نہ چاہے تو نہیں ہوتا۔ انسانوں کو امتحان کے لیے اچھے برے دونوں کاموںکا اختیار دینا بھی اس کی مرضی اور حکمت سے ہے، مگر وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور برے کاموں کو پسند نہیں کرتا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷)۔
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وه ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضے میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر کہ وه نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، م فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے اللہ کے نام کی بڑی سخت قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق کوئی معجزہ ان کے پاس آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ کہہ دیجیے کہ معجزہ تو بس اللہ ہی کے پاس ہے جب کوئی ایسا معجزہ آبھی جائے گا تو یہ جب بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ بے شک اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو اس پر ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ تو کہہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں اور تمھیں کیا چیز معلوم کرواتی ہے کہ وہ (نشانیاں ) جب آئیں گی تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزوں کے طالب لوگ ٭٭
صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لیے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑ جائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہو جائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ‘۔ ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور ثمود علیہ السلام نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟ } انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں جبرائیل آئے اور فرمانے لگے ”سنئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آ جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما }۔ اسی پر یہ آیتیں «وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] تک نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13750:مرسل] یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں۔
چنانچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» ۱؎ [17-الاسراء:59] یعنی ’ معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلایا ‘۔ «أَنَّهَا» کی دوسری قرأت «اِنَّهَا» بھی ہے اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کی دوسری قرأت «لَا تُؤْمِنُونَ» ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ’ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آ جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی ’ اے مسلمانو! تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ اس صورت میں «أَنَّهَا» الف کے زیر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی «يُشْعِرُكُمْ» کا معمول ہو کر اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کا لام اس صورت میں صلہ ہو گا جیسے آیت «قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں۔
اور آیت «وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [21-الأنبياء:95] میں تو مطلب یہ ہوتا کہ ’ اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی؟ ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَنَّهَا» معنی میں «لَعَلَّهَا» کے ہے،بلکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَنَّهَا» کے بدلے «لَعَلَّهَا» ہی ہے۔ عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں -ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بے ایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے ‘۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے؟ اسی لیے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہو گا فرماتا ہے آیت «وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» ۱؎ [35-فاطر:14] ’ اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے؟ ‘۔ اس نے فرمایا کہ «أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [39-الزمر:56-58] ’ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں ‘۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:28] ’ اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے ‘۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
19۔ 1 جھد ایمانہم، ای: حلفوا ایمانا مؤکدۃ بڑی تاکید سے قسمیں کھائیں۔ 19۔ 2 یعنی کوئی بڑا معجزہ جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، جیسے عصائے موسیٰ علیہ السلام۔ احیائے موتی اور ناقہء خمود وغیرہ جیسا۔ 19۔ 3 ان کا یہ مطالبہ خرق عادت تعنت وعناد کے طور پر ہے، طلب ہدایت کی نیت سے نہیں ہے۔ تاہم ان نشانیوں کا ظہور تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے، وہ چاہے تو ان کا مطالبہ پورا کردے۔ بعض مرسل روایات میں ہے کہ کفار نے مطالبہ کیا تھا کہ صفا پہاڑ سونے کا بنادیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے، جس پر جبرائیل ؑ نے آکر کہا کہ اگر اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر انھیں ہلاک کردیا جائے گا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہ فرمایا۔ (ابن کثیر)
(آیت 109) {لَىِٕنْ جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ …:} مثلاً صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے یا ان مطالبوں کو پورا کیا جائے جو ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل(۹۰ تا ۹۳) میں ذکر فرمائے ہیں۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، میرے اختیار میں نہیں اور تمھیں کیا خبر کہ نیا معجزہ یا نشانی آ بھی جائے تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں ﻻئے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
(تمہیں کیا خبر کہ) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر دیں گے (تہہ و بالا کر دیں گے) لہٰذا جس طرح وہ اس قرآن پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اب بھی نہیں لائیں گے اور ہم انہیں چھوڑ دیں گے تاکہ یہ اپنی سرکشی میں اندھے بنے پھرتے رہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سر کشی میں بھٹکتے پھریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزوں کے طالب لوگ ٭٭
صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لیے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑ جائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہو جائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ‘۔ ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور ثمود علیہ السلام نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟ } انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں جبرائیل آئے اور فرمانے لگے ”سنئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آ جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما }۔ اسی پر یہ آیتیں «وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] تک نازل ہوئیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13750:مرسل] یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں۔
چنانچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» ۱؎ [17-الاسراء:59] یعنی ’ معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلایا ‘۔ «أَنَّهَا» کی دوسری قرأت «اِنَّهَا» بھی ہے اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کی دوسری قرأت «لَا تُؤْمِنُونَ» ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ’ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آ جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی ’ اے مسلمانو! تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ اس صورت میں «أَنَّهَا» الف کے زیر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی «يُشْعِرُكُمْ» کا معمول ہو کر اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کا لام اس صورت میں صلہ ہو گا جیسے آیت «قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں۔
اور آیت «وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [21-الأنبياء:95] میں تو مطلب یہ ہوتا کہ ’ اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی؟ ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَنَّهَا» معنی میں «لَعَلَّهَا» کے ہے،بلکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَنَّهَا» کے بدلے «لَعَلَّهَا» ہی ہے۔ عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں -ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بے ایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے ‘۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے؟ اسی لیے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہو گا فرماتا ہے آیت «وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» ۱؎ [35-فاطر:14] ’ اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے؟ ‘۔ اس نے فرمایا کہ «أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [39-الزمر:56-58] ’ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں ‘۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:28] ’ اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے ‘۔ یہاں بھی فرمایا کہ ’ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے ‘۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
110۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ جب پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تو اس کا وبال ان پر اس طرح پڑا کہ آئندہ بھی ان کے ایمان لانے کا امکان ختم ہوگیا۔ دلوں اور نگاہوں کو پھیر دینے کا یہی مفہوم ہے (ابن کثیر)
(آیت 110) {وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ …:} یعنی اس سے پہلے معجزے دیکھ کر جب یہ ایمان نہیں لائے تو اب کیسے لائیں گے؟ جو شخص حق واضح ہونے کے بعد ہٹ دھرمی سے ایک دفعہ انکار کر دیتا ہے، پھر وہ مسلسل انکار ہی کرتا رہتا ہے۔ اس کے اس بد عمل کی وجہ سے آئندہ اس سے ایمان لانے کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۷۴) اور سورۂ انفال (۲۴) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہ پہلی دفعہ ہی حق کی بات سن کر انصاف سے قبول کر لیتے ہیں اور جس شخص نے پہلے ہی ضد سے ٹھان رکھی ہے کہ مانے گا ہی نہیں، وہ معجزہ دیکھ کر بھی کوئی حیلہ بنا لیتا ہے، مثلاً فرعون نے کتنے ہی معجزے دیکھے پر وہ ایمان نہ لایا۔ (موضح)
اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ مشیت الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں، مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو ﻻ کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ ﻻتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی نازل کر دیں اور ان سے مردے بھی کلام کریں اور خواہ ہم ہر چیز کو ان کے سامنے لاکھڑا کر دیں تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اللہ (اپنی قدرتِ قاہرہ سے) چاہے۔ لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے تو بھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیت ۱۱۱
فرماتا ہے کہ ’ یہ کفار جو قسمیں کھا کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ وہ دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے -یہ غلط کہتے ہیں تمہیں ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو جانا چاہیئے ‘۔ یہ کہتے ہیں کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:21] ’ اگر فرشتے اترتے تو ہم مان لیتے لیکن یہ بھی جھوٹ ہے فرشتوں کے آ جانے پر بھی اور ان کے کہہ دینے پر بھی کہ یہ رسول برحق ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا، یہ صرف ایمان نہ لانے کے بہانے تراشتے ہیں ‘ کہ «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] ’ کبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں فرشتوں کو لے آ ‘۔ کبھی کہتے ہیں اگلے نبیوں جیسے معجزے لے آ، یہ سب حجت بازی اور حیلے حوالے ہیں، دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے زبان سے سرکشی اور برائی ظاہر کرتے ہیں، اگر مردے بھی قبروں سے اٹھ کر آ جائیں اور کہہ دیں کہ یہ رسول برحق ہیں ان کے دلوں پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہو گا۔ «قُبُلًا» کی دوسری قرأت «قِبَلًا» ہے جس کے معنی مقابلے اور معائنہ کے ہوتے ہیں ایک قول میں «قُبُلاً» کے معنی بھی یہی بیان کئے گئے ہیں۔ ہاں مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اس کے معنی گروہ گروہ کے ہیں ان کے سامنے اگر ایک امت آ جاتی اور رسولوں کی ہدایت دیدے وہ جو کرنا چاہے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا اور وہ چونکہ حاکم کل ہے ہر ایک سے بازپرس کر سکتا ہے وہ علیم و حکیم ہے، حاکم و غالب و قہار ہے“ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] یعنی ’ جن لوگوں کے ذمہ کلمہ عذاب ثابت ہو گیا ہے وہ تمام تر نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب نہ دیکھ لیں ‘۔
111۔ 1 اور وہ حضرت محمد رسول اللہ کی رسالت کی تصدیق کردیتے۔ 111۔ 2 دوسرا مفہوم اس کا بیان کیا گیا ہے کہ جو نشانیاں وہ طلب کرتے ہیں وہ سب ان کے روبرو پیش کردیتے۔ اور ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر چیز جمع ہو کر گروہ در گروہ یہ گواہی دے کہ پیغمبروں کا سلسلہ برحق ہے تو ان تمام نشانیوں اور مطالبوں کے پورا کردینے کے باوجود یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ مگر جس کو اللہ چاہے اسی مفہوم کی یہ آیت بھی ہے (سورۃ یونس 96۔ 97) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ 111۔ 3 اور یہ جہالت کی باتیں ہی ان کے اور حق قبول کرنے کے درمیان حائل ہیں۔ اگر جہالت کا پردہ اٹھ جائے تو شاید حق ان کی سمجھ میں آجائے اور اللہ کی مشیت سے حق کو اپنا لیں۔
(آیت 111) ➊ {وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ ……:} پچھلی آیت: «وَ مَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» میں جو بات مختصر بیان کی گئی تھی یہاں اسی کی تفصیل ہے، یعنی اگر ہم ان کے تمام مطالبات پورے کر دیں، جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مُردوں کا کلام کرنا وغیرہ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لا کھڑی کر دیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہر چیز سے مراد ان کے مطالبات میں سے ہر چیز ہے، کیونکہ {”كُلَّ“} کے لفظ سے موقع کے مناسب ہر چیز مراد ہوتی ہے، جیسا کہ ہدہد نے ملکۂ سبا سے متعلق کہا: «وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» [النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز دی گئی ہے۔“ ظاہر ہے کہ ہر چیز تو اسے نہیں دی گئی تھی، حکومت و سلطنت سے متعلقہ اشیاء ہی عنایت کی گئی تھیں۔ ➋{ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ:} مگر اﷲ چاہے تو ضدی سے ضدی منکر کو بھی ایمان سے نواز سکتا ہے، جیسا کہ بعد میں عرب کے بے شمار عناد رکھنے والے کافر بھی مکہ فتح ہونے پر مسلمان ہو گئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے بشارت کے الفاظ ہیں۔ ➌ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ:} یہاں وہ جہل مراد نہیں جو علم کے مقابلے میں ہوتا ہے، بلکہ وہ جہل ہے جو حلم کے مقابلے میں ہوتا ہے، یعنی اکھڑ پن یعنی بعض حلم والے بھی ان میں موجود ہیں۔
اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن، جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ افترا پردازی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات دھوکے کو، اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑ دو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کو دھوکہ و فریب دینے کے لیے بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں اور اگر آپ کا پروردگار (زبردستی) چاہتا، تو یہ ایسا نہ کرتے پس آپ انہیں اور جو کچھ وہ افترا کر رہے ہیں اسے چھوڑ دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتے ہیں «فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ» ۱؎ [3-آل عمران:184] اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں ‘ - جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ’ تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کیا ‘۔ اور آیت میں کہا گیا ہے کہ «مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ» [41-فصلت:43] ’ تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:31] ’ ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی علیہ السلام کا دشمن بنا دیا ہے ‘۔ یہی بات ورقہ بن نوفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3] نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی «عَدُوًّا» سے بدل «شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ» ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی۔ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ } صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں } }۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر عبد الرزاق:846:ضعیف و منقطع] ایک اور روایت میں ہے کہ { میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے { ابوذر (رضی اللہ عنہ) تم نے نماز پڑھ لی؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو }۔ جب میں فارغ ہوکر آیا تو فرمانے لگے { کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ } میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! اور وہ جنوں اور شیطانوں سے زیادہ شریر ہیں } } }۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13773:ضعیف و منقطع]
ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے ۱؎ [مسند احمد:178/5:ضعیف] اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» ۱؎ [6-الأنعام:112] ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف] -الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہو جاتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» - عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنوں کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گزاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں۔“ اس سے امام ابن جریر رحمہ اللہ تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ رحمہ اللہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی رحمہ اللہ کے قول میں متحمل ہے۔ ایک قول میں عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم دونوں سے یہ مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔“ صحیح وہی ہے جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں اوپر گزرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ { حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:510] تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کفار جن، کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت «بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کر دیں میں نے کہا ارے بھائیو! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔“ مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن صفیہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں۔
جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے «وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:121] یعنی ’ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں ‘ - الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بے فکر ہو جا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے - یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بے ایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہو جائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
112۔ 1 یہ وہی بات ہے جو مختلف انداز میں رسول اللہ کی تسلی کے لئے فرمائی گئی ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء گزرے ان کو جھٹلایا گیا انھیں ایذائیں دی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے صبر اور حوصلے سے کام لیا، آپ بھی ان دشمنان حق کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ فرمائیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان کے پیروکار جنوں میں سے بھی ہیں اور یہ وہ ہیں جو دونوں گروہوں میں سے، باغی اور متکبر قسم کے ہیں۔ 112۔ 2 وَ حْیُ، خفیہ بات کو کہتے ہیں یعنی انسانوں اور جنوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو چالبازیاں اور حیلے سکھاتے ہیں تاکہ لوگوں کو دھوکے اور فریب میں مبتلا کرسکیں۔ یہ بات عام مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ شیطانی کاموں میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوب بڑھ چڑھ کر تعاون کرتے ہیں جسکی وجہ سے برائی بہت جلدی فروغ پا جاتی ہے۔ 112۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ تو ان شیطانی ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے پر قادر ہے۔ لیکن بالجبر ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ایسا کرنا اس کے نظام اور اصول کے خلاف ہے جو اس نے اپنی مشیت کے تحت اختیار کیا، جس کی حکمتیں وہ بہتر جانتا ہے۔
(آیت 112) ➊ {وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا ……: } یعنی جس طرح جن و انس کے شیطان آپ سے دشمنی کر رہے ہیں، یہ صرف آپ کا حال نہیں، بلکہ اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے تمام انبیاء کے لیے بھی جن و انس شیطان دشمن بنائے تھے، لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جس طرح پہلے انبیاء نے اپنے شریر دشمنوں کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیا، آپ بھی ان کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے، مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ دیجیے۔ ➋ {يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ ……:} وحی کا معنی خفیہ طریقے سے اطلاع دینا ہے، یعنی وہ انسان اور جن جو شیطان ہیں، وہ اپنوں میں سے سیدھے سادے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے چوری چھپے طرح طرح کے مزین اور ملمع کیے ہوئے حیلے اور مکر سکھاتے ہیں۔ {” غُرُوْرًا “} مفعول لہ ہے، یعنی دھوکا دینے کے لیے۔ ➌ {وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ:} مگر وہ چونکہ حجت پوری کرنے کے لیے انھیں امتحان کا پورا پورا موقع دینا چاہتا ہے اور کسی کو زبردستی اپنی نافرمانی سے باز رکھنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے، اس لیے وہ انھیں ڈھیل دے رہا ہے۔ ➍ {فَذَرْهُمْ وَ مَا يَفْتَرُوْنَ:} یعنی ان کی کوئی پروا نہ کریں، انھیں اور ان کے جھوٹ گھڑنے کو اﷲ پر چھوڑ دیں، وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔
(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تاکہ اس کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہوجائیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ اس کو پسند کرلیں اور تاکہ مرتکب ہوجائیں ان امور کے جن کے وه مرتکب ہوتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لیے کہ اس کی طرف ان کے دل جھکیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور گناہ کمائیں جو انہیں کمانا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ان (بناوٹی باتوں) کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ ان (برائیوں) کا ارتکاب کریں جن کے یہ مرتکب ہو رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تاکہ ان لوگوں کے دل اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ بھی وہی برائیاں کریں جو یہ کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتے ہیں «فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ» ۱؎ [3-آل عمران:184] اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں ‘ - جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ’ تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کیا ‘۔ اور آیت میں کہا گیا ہے کہ «مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ» [41-فصلت:43] ’ تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:31] ’ ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی علیہ السلام کا دشمن بنا دیا ہے ‘۔ یہی بات ورقہ بن نوفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3] نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی «عَدُوًّا» سے بدل «شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ» ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی۔ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ } صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں } }۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر عبد الرزاق:846:ضعیف و منقطع] ایک اور روایت میں ہے کہ { میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے { ابوذر (رضی اللہ عنہ) تم نے نماز پڑھ لی؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو }۔ جب میں فارغ ہوکر آیا تو فرمانے لگے { کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ } میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! اور وہ جنوں اور شیطانوں سے زیادہ شریر ہیں } } }۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13773:ضعیف و منقطع]
ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے ۱؎ [مسند احمد:178/5:ضعیف] اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» ۱؎ [6-الأنعام:112] ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف] -الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہو جاتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» - عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنوں کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گزاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں۔“ اس سے امام ابن جریر رحمہ اللہ تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ رحمہ اللہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی رحمہ اللہ کے قول میں متحمل ہے۔ ایک قول میں عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم دونوں سے یہ مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔“ صحیح وہی ہے جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں اوپر گزرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ { حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:510] تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کفار جن، کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت «بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کر دیں میں نے کہا ارے بھائیو! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔“ مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن صفیہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں۔
جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے «وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:121] یعنی ’ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں ‘ - الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بے فکر ہو جا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے - یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بے ایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہو جائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
113۔ 1 یعنی شیطانی وسوسہ کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں اور وہی اس کو پسند کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو آخرت میں ایمان نہیں رکھتے۔ اور یہ حقیقت ہے کی جس حساب سے لوگوں کے اندر عقیدء آخرت کے بارے میں ضعف پیدا ہو رہا ہے، اسی حساب سے لوگ شیطانی جال میں پھنس رہے ہیں۔
(آیت 113) ➊ {وَ لِتَصْغٰۤى اِلَيْهِ ……:} اس کا عطف {” غُرُوْرًا “} پر ہے، یعنی {” لِيَغُرُّوْا بِذٰلِكَ وَ لِتَصْغٰي“} ”تاکہ وہ اس کے ساتھ دھوکا دیں اور تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں۔“ یہ توجیہ ان تمام توجیہوں سے بہتر ہے جو یہاں کی گئی ہیں۔ (رازی) ➋ {وَ لِيَرْضَوْهُ وَ لِيَقْتَرِفُوْا ……:} { ”اِكْتَسَبَ يَكْتَسِبُ “} اچھی یا بری دونوں کمائیوں کو کہتے ہیں، جبکہ {” اِقْتَرَفَ يَقْتَرِفُ “} برے اعمال کمانے کو کہتے ہیں، یعنی ان شیاطین کے پیشِ نظر اس وحی سے یہ سب مقاصد ہیں۔ (رازی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگے کہ مسلمان اپنا مارا ہوا جانور کھاتے ہیں اور اﷲ کے مارے ہوئے کو حرام سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسی فریب کی باتیں شیطان کرتے ہیں، تاکہ انسانوں کو شبہات میں ڈالا جائے۔ عقل کا حکم نہیں، حکم اﷲ کا ہے۔ آگے پھر واضح طور پر سمجھایا گیا کہ ہر جانور کو مارنے والا اﷲ ہی ہے اور اس کے نام میں برکت ہے، سو جو اس کے نام پر ذبح ہوا وہ حلال ہے اور جو اس کے نام کے بغیر مر گیا وہ مردار ہے۔ (موضح)
پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں حاﻻنکہ وه ایسا ہے کہ اس نے ایک کتاب کامل تمہارے پاس بھیج دی ہے، اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وه اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ بھیجی گئی ہے، سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری اور جنکو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو فیصل اور منصف تلاش کروں؟ حالانکہ وہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل اور واضح کتاب نازل کی ہے۔ اور ہم نے جن کو (آسمانی) کتاب دی وہ (اہل کتاب) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف تلاش کروں، حالانکہ اسی نے تمھاری طرف یہ کتاب مفصل نازل کی ہے اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کی ہوئی ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئیے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیئے ‘ - جیسے فرمان ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [10-یونس:94] یعنی ’ ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لوگ اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو ‘ - یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لیے مروی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل و ضعیف] ’ تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلاشبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 114) ➊ {اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا ……:} اوپر کی آیات میں یہ بتا دیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، لہٰذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بے فائدہ ہے۔ اب یہاں بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے وہ آپ کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل کے لیے کافی ہے۔ کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو مخالفت ہے اس کے بارے میں اہل کتاب یا کسی اور کو حکم بنا لیا جائے، پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کر لیا جائے، اس آیت میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور منصف تلاش کروں۔ ➋ {يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ: } کیونکہ ان کے انبیاء بھی انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دیتے رہے ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی آپ کی علامات موجود ہیں۔ ➌ { فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ: } یعنی اس بارے میں کہ اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کے سچا ہونے کا یقین ہے۔ خطاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر اس سے مراد سارے مسلمان ہیں۔ (رازی)
تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلام کا کوئی بدلنے واﻻ نہیں اور وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی ہے سنتا جانتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کے پروردگار کی بات صدق و سچائی اور عدل و انصاف کے لحاظ سے مکمل ہے اور اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہوگئی، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئیے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیئے ‘ - جیسے فرمان ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [10-یونس:94] یعنی ’ ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لوگ اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو ‘ - یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لیے مروی ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل و ضعیف] ’ تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلاشبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا ‘۔
115۔ 1 اخبار اور واقعات کے لحاظ سے سچا ہے اور احکام و مسائل کے اعتبار سے عادل ہے، یعنی اس کا ہر امر اور نہی عدل و انصاف پر مبنی ہے، کیونکہ اس نے انہی باتوں کا حکم دیا ہے جن میں انسانوں کا فائدہ ہے اور انہی چیزوں سے روکا ہے جس میں نقصان اور فساد ہے۔ گو انسان اپنی نادانی یا اغوائے شیطانی کی وجہ سے اس حقیقت کو نہ سمجھ سکیں۔ 115۔ 2 یعنی کوئی ایسا نہیں جو رب کے کسی حکم میں تبدیلی کردے، کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی طاقتور نہیں۔ 115۔ 3 یعنی بندوں کے اقوال سننے والا اور ان کی ایک ایک حرکت و ادا کو جاننے والا ہے اور اس کے مطابق ہر ایک کو جزا دے گا۔
(آیت 115) ➊ { وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ……:} یہاں کلمہ اور کلمات سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن معجزہ ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سچا ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ قرآن کے تمام مضامین دو ہی قسم کے ہیں، خبریں یا احکام۔ یہاں {” صِدْقًا “} کا تعلق خبروں سے ہے اور {” عَدْلًا “} کا تعلق احکام سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام خبریں، خواہ ان کا تعلق اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات سے ہو یا گزشتہ واقعات یا مستقبل کے وعدے اور حوادث سے، وہ سب پورے طور پر سچے ہیں اور اس میں جتنے احکام ہیں وہ سب عدل و انصاف پر مشتمل ہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی کامل کتاب کی موجودگی میں ان شیطانی وساوس یا عقلی شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ (رازی) پھر ذبیحہ جیسے اہم مسئلے میں یہ اپنی کج فہمی سے کیوں دخل دے رہے ہیں۔ ➋ { لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ: } یعنی نہ تو اس قسم کے شبہات قرآن کے معجزہ ہونے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور نہ اس کے اوامر و نواہی میں کوئی ترمیم جائز ہے اور نہ جیسے تورات و انجیل میں تحریف ہوئی، قرآن میں ہو سکے گی۔ (رازی)
اور اے محمدؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں وه محض بے اصل خیاﻻت پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں، وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں اور نری اٹکلیں (فضول اندازے) دوڑاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر آپ زمین کے رہنے والوں کی اکثریت کی اطاعت کریں گے (ان کا کہنا مانیں گے) تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ محض تخمینے لگاتے اور اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ‘۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
116۔ 1 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا بھی، واقعہ کے طور پر ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سورة یوسف، 13) آپ کی خوہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان والے نہیں، اس سے معلوم ہوا، حق اور صداقت کے راستے پر چلنے والے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ جس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حق وباطل کا معیار، دلائل وبراہین ہیں، لوگوں کی اکثریت و اقلیت نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہو، وہ حق ہو اوراقلیت میں رہنے والے باطل پر ہوں۔ بلکہ مذکورہ حقیقت قرآنی کی رو سے یہ زیادہ ممکن ہے کہ اہل حق تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہوں اور اہل باطل اکثریت میں۔ جس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، باقی سب جہنمی۔ اور اس جنتی فرقے کی نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ جو ما انا علیہ واصحابی میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔
(آیت 116) {وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ ……: } اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اﷲ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اﷲ کے پاس اپنا سفارشی بناتے ہیں اور کبھی مردوں اور غیر اﷲ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے موجودہ جمہوریت کی حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے، جس میں اکثریت ہی کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت سے متعلق اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی حق پر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے: «وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [یوسف: ۱۰۳ ] ”اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ یونس: ۵۵ ] ”اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔“ اور فرمایا: «وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ» [سبا: ۱۳ ] ”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ اور فرمایا: «اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِيْلٌ مَّا هُمْ» [ ص: ۲۴ ] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔“ اب ایک طرف اﷲ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بے شمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کر لیا اور بے شمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہو گا؟ اس لیے اس آیت میں اﷲ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔
در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بالیقین آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو اس کی راه سے بے راه ہوجاتا ہے۔ اور وه ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راه پر چلتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آپ کا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی راہ سے بھٹکا ہوا کون ہے؟ اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرا رب ہی خوب جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ‘۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو کھاؤ اسمیں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اسکی آیتیں مانتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس میں سے کھاؤ۔ اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
118۔ 1 یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مظلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال و طیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستشنٰی ہے جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر اسے کھالو ' البتہ شبہ کی صورت میں یہ رخصت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے جانور کا گوشت بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہوجائے گا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منڈیوں اور دکانوں پر ملنے والا گوشت حلال ہے۔ ہاں اگر کسی کو وہم اور التباس ہو تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔
(آیت 118) {فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ ……:} یعنی وہ حلال جانورجسے ذبح یا شکار کرتے وقت اﷲ کا نام یعنی{ ” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ “} لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وه بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیاﻻت پر بلا کسی سند کے گمراه کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) میں سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے؟ حالانکہ اس نے جن (جانوروں) کو تم پر حرام قرار دیا ہے ان کو تمہارے لئے تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ سوائے اس کے جس کے کھانے کی طرف تم مضطر و مجبور ہو جاؤ (تو پھر حرام بھی کھا سکتے ہو) اور یقیناً بہت سے لوگ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کرتے ہیں بے شک آپ کا پروردگار حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ بلاشبہ اس نے تمھارے لیے وہ چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، مگر جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ اور بے شک بہت سے لوگ اپنی خواہشوں کے ساتھ کچھ جانے بغیر یقینا گمراہ کرتے ہیں، بے شک تیرا رب ہی حدسے بڑھنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو ‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
119۔ 1 جس کی تفصیل اسی سورت میں آگے آرہی ہے، اس کے علاوہ بھی اور سورتوں نیز احادیث میں محرمات کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ ان کے علاوہ باقی حلال ہیں اور حرام جانور بھی عند الاضطرار سد رمق کی حد تک جائز ہیں۔
(آیت 119) ➊ {وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ:} یعنی جب اﷲ تعالیٰ نے تمھارے لیے حرام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے، جن کی تفصیل آگے اسی سورت میں آ رہی ہے اور سورۂ بقرہ اور سورۂ مائدہ میں بھی ہے اور بعض کا ذکر احادیث میں ہے، تو ان کے علاوہ سب جانور حلال ہیں اور اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور ان حرام چیزوں میں شامل نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہ کھاؤ اور اﷲ کے نام کے بغیر یا غیر اﷲ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور کھاؤ۔ ➋ { اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ:} یعنی اضطرار اور مجبوری میں حرام کھانا جائز ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳)، سورۂ مائدہ (۳) اور اسی سورت کی آیت(۱۴۵)۔ ➌ { اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ:} مراد وہ لوگ ہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مقصود اس سے ڈرانا ہے۔ (رازی)
تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم ﻇاہری گناه کو بھی چھوڑ دو اور باطنی گناه کو بھی چھوڑ دو۔ بلاشبہ جو لوگ گناه کررہے ہیں ان کو ان کے کئے کی عنقریب سزا ملے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ، وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے لوگو) تمام گناہوں کو چھوڑ دو خواہ علانیہ ہوں اور خواہ خفیہ بے شک جو لوگ گناہ کما (کر) رہے ہیں عنقریب ان کو بدلہ دیا جائے گا اس کا جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ظاہر گناہ کو چھوڑ دو اور اس کے چھپے کو بھی، بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں عنقریب انھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا، جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کر دو ٭٭
چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہو جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2553]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 120) {وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ ……:} یعنی حلال و حرام صرف کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ کو چھوڑنا ضروری ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔“(موضح) علماء نے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہیں جو ہاتھ پاؤں سے کیے جائیں، جیسے چوری، زنا وغیرہ اور چھپے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو، یا جو عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے کفر و شرک اور نفاق وغیرہ، یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر گناہ کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتے ہیں۔ (المنار)
اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے، اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس (جانور) کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ کہ یہ (کھانا) فسق (نافرمانی) ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کو خفیہ اشارے کرتے ہیں (پٹی پڑھاتے ہیں) تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی (ان کا کہنا مانا) تو یقینا تم مشرک ہو جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس میں سے مت کھائو جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور بلاشبہ یہ یقینا سرا سر نا فرمانی ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ضرور باتیں ڈالتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہنا مان لیا تو بلاشبہ تم یقینا مشرک ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سدھائے ہوئے کتوں کا شکار ٭٭
یہی آیت ہے جس سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ گو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو لیکن اگر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا تو اس ذبیحہ کا کھانا حرام ہے، اس بارے میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا، خواہ جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا ہو یا بھول کر، اس کی دلیل آیت «فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [5-المائدہ:4] ہے یعنی ’ جس شکار کو تمہارے شکاری کتے روک رکھیں تم اسے کھا لو اور اللہ کا نام اس پر لو ‘ - اس آیت میں اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ ’ یہ کھلی نافرمانی ہے ‘ یعنی اس کا کھانا یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا۔ احادیث میں بھی شکار کے اور ذبیحہ کے متعلق حکم وارد ہوا ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے جس جانور کو وہ تیرے لیے پکڑ کر روک لے تو اسے کھا لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5475] اور حدیث میں ہے { جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام بھی اس پر لیا گیا ہو اسے کھا لیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5503] { جنوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا { تمہارے لیے ہر وہ ہڈی غذا ہے جس پر اللہ کا نام لیا جائے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:450] عید کی قربانی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ { جس نے نماز عید پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا وہ اس کے بدلے دوسرا جانور ذبح کر لے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھے پھر اللہ کا نام لے کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:985] { چند لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ بعض نو مسلم ہمیں گوشت دیتے ہیں کیا خبر انہوں نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام بھی لیا یا نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم ان پر اللہ کا نام لو اور کھا لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5507]
الغرض اس حدیث سے بھی یہ مذہب قوی ہوتا ہے کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی سمجھا کہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھنا ضروری ہے اور یہ لوگ احکام اسلام سے صحیح طور پر واقف نہیں ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں کیا خبر اللہ کا نام لیتے بھی ہیں یا نہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطور مزید احتیاط فرما دیا کہ { تم خود اللہ کا نام لے لو تاکہ بالفرض انہوں نے نہ بھی لیا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہو جائے }، ورنہ ہر مسلمان پر ظاہر احسن ظن ہی ہو گا۔ دوسرا قول اس مسئلہ میں یہ ہے کہ بوقت ذبح «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے اگر چھوٹ جائے گوہ عمداً ہو یا بھول کر، کوئی حرج نہیں۔ اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ فسق ہے اس کا مطلب یہ لوگ یہ لیتے ہیں کہ اس سے مراد غیر اللہ کے لیے ذبح کیا ہوا جانور ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۱؎ [6-الأنعام:145] بقول عطاء رحمہ اللہ ان جانوروں سے روکا گیا ہے جنہیں کفار اپنے معبودوں کے نام ذبح کرتے تھے اور مجوسیوں کے ذبیحہ سے بھی ممانعت کی گئی۔ اس کا جواب بعض متأخرین نے یہ بھی دیا ہے کہ «وَإِنَّهُ» میں واؤ حالیہ ہے تو فسق اسی وقت ہوگا جب اسے غیر اللہ کے نام کا مان لیں اور واؤ عطف کا ہو ہی نہیں سکتا ورنہ اس سے جملہ اسمیہ جریہ کا عطف جملہ فعلیہ حالیہ پر لازم آئے گا۔ لیکن یہ دلیل اس کے بعد کے جملے «وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ» سے ہی ٹوٹ جاتی ہے اس لیے کہ وہ تو یقیناً عاطفہ جملہ ہے۔ تو جس اگلے واؤ کو حالیہ کہا گیا ہے اگر اسے حالیہ مان لیا جائے تو پھر اس پر اس جملے کا عطف ناجائز ہوگا اور اگر اسے پہلے کے حالیہ جملے پر عطف ڈالا جائے تو جو اعتراض یہ دوسرے پر وارد کر رہے تھے وہی ان پر پڑے گا ہاں اگر اس واؤ کو حالیہ نہ مانا جائے تو یہ اعتراض ہٹ سکتا ہے لیکن جو بات اور دعویٰ تھا وہ سرے سے باطل ہو جائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”مراد اس سے مردار جانور ہے جو اپنی موت آپ مر گیا ہو۔“ اس مذہب کی تائید ابوداؤد کی ایک مرسل حدیث سے بھی ہو سکتی ہے جس میں { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اس نے اللہ کا نام لیا ہو یا نہ لیا ہو کیونکہ اگر وہ لیتا تو اللہ کا نام ہی لیتا } }۔ ۱؎ [ابوداود فی المراسیل:341،قال الشيخ الألباني:مرسل و ضعیف] اس کی مضبوطی دارقطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب مسلمان ذبح کرے اور اللہ کا نام نہ ذکر کرے تو کھا لیا کرو کیونکہ مسلمان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔“ اسی مذہب کی دلیل میں وہ حدیث بھی پیش ہو سکتی ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ نو مسلموں کے ذبیحہ کے کھانے کی جس میں دونوں اہتمال تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو اگر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا کہنا شرط اور لازم ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تحقیق کرنے کا حکم دیتے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کہنا بوقت ذبح بھول گیا ہے تو حلال ہے، ذبیحہ پر عمداً «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ کہی جائے وہ حرام ہے۔ اسی لیے امام ابو یوسف اور مشائخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی حاکم اسے بیچنے کا حکم بھی دے تو وہ حکم جاری نہیں ہو سکتا کیونکہ اجماع کے خلاف ہے۔ لیکن صاحب ہدایہ کا یہ قول محض غلط ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے بھی بہت سے ائمہ اس کے خلاف تھے۔ چنانچہ اوپر جو دوسرا مذہب بیان ہوا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا ان کے سب ساتھیوں کا اور ایک روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا اور امام مالک رحمہ اللہ کا اور اشہب بن عبدالعزیز کا مذہب ہے اور یہی بیان کیا گیا ہے۔ ابن عباس، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم، عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا اس سے اختلاف ہے۔ پھر اجماع کا دعویٰ کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام ابو جعفر بن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”جن لوگوں نے بوقت ذبح بسم اللہ بھول کر نہ کہے جانے پر بھی ذبیحہ حرام کہا ہے انہوں نے اور دلائل سے اس حدیث کی بھی مخالفت کی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مسلم کو اس کا نام ہی کافی ہے اگر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا بھول گیا تو اللہ کا نام لے اور کھالے } } -۱؎ [دارقطنی:296/4:ضعیف و موقوف] یہ حدیث بیہقی میں ہے لیکن اس کا مرفوع روایت کرنا خطا ہے اور یہ خطا معقل بن عبیداللہ خرزمی کی ہے، ہیں تو یہ صحیح مسلم کے راویوں میں سے مگر سعید بن منصور اور عبداللہ بن زبیر حمیری اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کرتے ہیں -بقول امام بہیقی رحمہ اللہ یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبی اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہم اس جانور کا کھانا مکروہ جانتے تھے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو گو بھول سے ہی رہ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ سلف کراہئیت کا اطلاق حرمت پر کرتے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں یہ یاد رہے کہ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ ان دو ایک قولوں کو کوئی چیز نہیں سمجھتے جو جمہور کے مخالف ہوں اور اسے اجماع شمار کرتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق» ۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس بہت سے پرند ذبح شدہ آئے ہیں ان سے بعض کے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہے اور بعض پر بھول سے رہ گئی ہے اور سب غلط ملط ہوگئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ سب کھا لو۔ پھر محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے یہی سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جن پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا انہیں نہ کھاؤ۔“ اس تیسرے مذہب کی دلیل میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء کو بھول کو اور جس کام پر زبردستی کی جائے اس کو معاف فرما دیا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس میں ضعف ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے تو ہم میں سے کوئی شخص ذبح کرے اور بسم اللہ کہنا بھول جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر ہے } }۔ ۱؎ [بیہقی فی السنن الکبری:240/9:ضعیف] (یعنی وہ حلال ہے)۔ لیکن اس کی اسناد ضعیف ہے۔ مردان بن سالم ابوعبداللہ شامی اس حدیث کا راوی ہے اور ان پر بہت سے ائمہ نے جرح کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں تمام مذاہب اور ان کے دلائل وغیرہ تفصیل سے لکھے ہیں اور پوری بحث کی ہے، بظاہر دلیلوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے لیکن اگر کسی مسلمان کی زبان سے جلدی میں یا بھولے سے یا کسی اور وجہ سے نہ نکلے اور ذبح ہو گیا تو وہ حرما نہیں ہوتا ( «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم) عام اہل علم تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا کوئی حصہ منسوخ نہیں لیکن بعض حضرات کہتے ہیں اس میں اہل کتاب کے ذبیحہ کا استثناء کر لیا گیا ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا حلال جانور کھا لینا ہمارے ہاں حلال ہے تو گو وہ اپنی اصطلاح میں اسے نسخ سے تعبیر کریں لیکن دراصل یہ ایک مخصوص صورت ہے۔
پھر فرمایا کہ ’ شیطان اپنے ولیوں کی طرف وحی کرتے ہیں ‘ -سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب کہا گیا کہ مختار گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس وحی آتی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا ”وہ ٹھیک کہتا ہے۔ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں۔“ اور روایت میں ہے کہ اس وقت مختار حج کو آیا ہوا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس جواب سے کہ وہ سچا ہے اس شخص کو سخت تعجب ہوا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے تفصیل بیان فرمائی کہ ”ایک تو اللہ کی وحی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی اور ایک شیطانی وحی ہے جو شیطان کے دوستوں کی طرف آتی ہے۔ شیطانی وساوس کو لے کر لشکر شیطان اللہ والوں سے جھگڑتے ہیں۔“ چنانچہ { یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ کیا اندھیر ہے؟ کہ ہم اپنے ہاتھ سے مارا ہوا جانور تو کھا لیں اور جسے اللہ مار دے یعنی اپنی موت آپ مر جائے اسے نہ کھائیں؟ اس پر یہ آیت اتری } ۱؎ [سنن ابوداود:2819،قال الشيخ الألباني:صحیح لكن ذكر اليهود فيه منكر والمحفوظ أنهم المشركون] اور بیان فرمایا کہ وجہ حلت اللہ کے نام کا ذکر ہے لیکن ہے یہ قصہ غور طلب اولاً اس وجہ سے کہ یہودی از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں جانتے تھے دوسرے اس وجہ سے بھی کہ یہودی تو مدینے میں تھے اور یہ پوری سورت مکہ میں اتری ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حدیث ترمذی میں مروی تو ہے لیکن مرسل طبرانی میں ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھا لو اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ تو اہل فارس نے قریشوں سے کہلوا بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ جھگڑیں اور کہیں کہ جسے تم اپنی چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال اور جسے اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے خود ذبح کرے وہ حرام؟ یعنی میتہ از خود مرا ہوا جانور۔ اس پر یہ آیت اتری۔ پس شیاطین سے مراد فارسی ہیں اور ان کے اولیاء قریش ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13808:ضعیف] اور بھی اس طرح کی بہت سی روایتیں کئی ایک سندوں سے مروی ہیں لیکن کسی میں بھی یہود کا ذکر نہیں۔
پس صحیح یہی ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور یہود مدینے میں تھے اور اس لیے بھی کہ یہودی خود مردار خوار نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جسے تم نے ذبح کیا یہ تو وہ ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اور جو از خود مر گیا وہ وہ ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔“ [سنن ابوداود:2818،قال الشيخ الألباني:صحیح] مشرکین قریش فارسیوں سے خط و کتابت کر رہے تھے اور رومیوں کے خلاف انہیں مشورے اور امداد پہنچاتے تھے اور فارسی قریشیوں سے خط و کتابت رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انہیں اکساتے اور ان کی امداد کرتے تھے۔ اسی میں انہوں نے مشرکین کی طرف یہ اعتراض بھی بھیجا تھا اور مشرکین نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہی اعتراض کیا اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں بھی یہ بات کھٹکی اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرمایا ’ اگر تم نے ان کی تابعداری کی تو تم مشرک ہو جاؤ گے کہ تم نے اللہ کی شریعت اور فرمان قرآن کے خلاف دوسرے کی مان لی ‘ اور یہی شرک ہے کہ اللہ کے قول کے مقابل دوسرے کا قول مان لیا چنانچہ قرآن کریم میں ہے آیت «اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:31] یعنی ’ انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الہ بنا لیا ہے ‘۔ ترمذی میں ہے کہ { جب عدی بن حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انہوں نے حرام کو حلال کہا اور حلال کو حرام کہا اور انہوں نے ان کا کہنا مانا یہی عبادت ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن]
121۔ 1 یعنی عمداً اللہ کا نام جس جانور پر نہ لیا گیا، اس کا کھانا فسق اور ناجائز ہے، حضرت ابن عباس نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ بھول جانے والے کو فاسق نہیں کہا جاتا اور امام بخاری کا رجحان بھی یہی ہے تاہم امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ دونوں صورتوں میں حلال ہے چاہے وہ اللہ کا نام لے یا چھوڑ دے اور وَ اِنَّہُ لَفِسْق، ُ کو غیر اللہ کے نام ذبح کئے گئے جانور سے متعلق قرار دیتے ہیں 121۔ 2 شیطان نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے سے یہ بات پھیلائی کہ یہ مسلمان اللہ کے ذبح کئے ہوئے جانور (یعنی مردہ) کو تو حرام اور اپنے ہاتھ سے ذبح شدہ کو حلال قرار دیتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کو ماننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان اور اس کے دوستوں کے وسوسوں کے پیچھے مت لگو، جو جانور مردہ ہے یعنی بغیر ذبح کئے مرگیا (سوائے سمندری مچھلی کے وہ حلال ہے) اس پر چونکہ اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اس لئے اس کا کھانا حلال نہیں ہے۔
(آیت 121) ➊ { وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ:} پہلے اﷲ نے یہ بیان فرمایا کہ اﷲ کے نام کا ذبیحہ حلال ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ جس ذبیحہ پر اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے، اس میں مردار اور وہ جانور تو آیت کے صاف الفاظ میں داخل ہیں جو غیر اﷲ کے نام پر ذبح کیے گئے ہوں اور آیت گو لفظ عام ہونے کی وجہ سے ہر اس چیز کو شامل ہے جس پر اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو، خواہ وہ کھانے کی کوئی بھی چیز ہو، مگر فقہاء نے اس سے بالاجماع ذبیحہ مراد لیا ہے۔ (رازی) یاد رہے! اگر کسی ذبیحہ پر جان بوجھ کر اﷲ کا نام ترک کر دیا جائے تو وہ اکثر فقہاء کے نزدیک حرام ہے، مگر جب مسلمان ذبح کرتے وقت {” بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَكْبَرُ “} بھول جائے تو اس کا کھانا جائز ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس امت سے خطا اور نسیان معاف کر دیا ہے۔ ➋ {وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ:} یعنی جانور کو غیر اﷲ کے نام پر ذبح کرنا فسق ہے یا ایسے ذبیحہ کو کھانا فسق ہے۔ دونوں معنیٰ بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۵)۔ ➌ {وَ اِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ ……:} دیکھیے اسی سورت آیت کی (۱۱۳) کا حاشیہ(۲)۔ ➍ {وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ۠ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ:} اﷲ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے والا بھی مشرک ہے، کیونکہ اس نے اﷲ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو حاکم بنا لیا، یعنی تحلیل و تحریم کا حق کسی اور کے لیے تسلیم کر لیا، جب کہ یہ صرف اﷲ کا حق ہے۔ (رازی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شرک فقط یہی نہیں کہ کسی کو سوائے اﷲ کے پوجے، بلکہ شرک حکم میں بھی ہے کہ کسی اور کا مطیع ہووے۔ (موضح)
کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسا شخص جو پہلے مرده تھا پھر ہم نے اس کو زنده کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وه اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے؟ جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا۔ اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال خوش نما معلوم ہوا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے ان سے نکلنے والا نہیں، یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردیے گئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کیا وہ شخص جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور بنایا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے اور ان سے نکل نہیں سکتا۔ جس طرح مؤمن کی نگاہ میں ایمان آراستہ کیا گیا ہے اسی طرح کافروں کی نگاہ میں ان کے اعمال آراستہ کر دیئے گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنا دی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح کافروں کے لیے وہ عمل خوشنما بنا دیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن اور کافر کا تقابلی جائزہ ٭٭
مومن اور کافر کی مثال بیان ہو رہی ہے ایک تو وہ جو پہلے مردہ تھا یعنی کفر و گمراہی کی حالت میں حیران و سرگشتہ تھا اللہ نے اسے زندہ کیا، ایمان و ہدایت بخشی اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چسکا دیا قرآن جیسا نور عطا فرمایا جس کے منور احکام کی روشنی میں وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اسلام کی نورانیت اس کے دل میں رچ گئی ہے - دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے جو ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اسی طرح مسلم و کافر میں بھی تفاوت ہے نور و ظلمت کا فرق اور ایمان و کفر کا فرق ظاہر ہے۔ اور آیت میں ہے «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» ۱؎ [2-البقرۃ:257] ’ ایمان داروں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ ابدی جہنمی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22] یعنی ’ خمیدہ قامت والا ٹیڑھی راہ چلنے والا اور سیدھے قامت والا سیدھی راہ چلنے والا کیا برابر ہے؟ ‘۔ اور آیت میں ہے «مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا أَفَلَا تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [11-ھود:24] ’ ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے بہرے اور سنتے دیکھتے کی طرح ہے کہ دونوں میں فرق نمایاں ہے افسوس پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:19-23] ’ اندھا اور بینا، اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندے اور مردے برابر نہیں۔ اللہ جسے چاہے سنا دے لیکن تو قبر والوں کو سنا نہیں سکتا تو تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں اس سورۃ کے شروع میں «وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] ظلمات اور نور کا ذکر تھا اسی مناسبت سے یہاں بھی مومن اور کافر کی یہی مثال بیان فرمائی گئی۔
بعض کہتے ہیں مراد اس سے وہ خاص معین شخص ہیں، جیسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہ یہ پہلے گمراہ تھے اللہ نے انہیں اسلامی زندگی بخشی اور انہیں نور عطا فرمایا جسے لے کر لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ہیں اور ظلمات میں جو پھنسا ہوا ہے اس سے مراد ابوجہل ہے۔ صحیح یہی ہے کہ آیت عام ہے ہر مومن اور کافر کی مثال ہے، کافروں کی نگاہ میں ان کی اپنی جہالت و ضلالت اسی طرح آراستہ و پیراستہ کر کے دکھائی جاتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر ہے کہ وہ اپنی برائیوں کو ہی اچھائیاں سمجھتے ہیں۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کر کے پھر اپنا نور ان پر ڈالا جسے اس نور کا حصہ ملا اس نے دنیا میں آکر راہ پائی اور جو وہاں محروم رہا وہ یہاں بھی بہکا ہی رہا }۔ ۱؎ [مسند احمد:176/2:صحیح] ۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اللہ نے اپنے بندوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتا ہے ‘ اور جیسے فرمان ہے ’ اندھا اور دیکھتا اور اندھیرا اور روشنی برابر نہیں ‘۔
122۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو میت (مردہ) مومن کو حی (زندہ) قرار دیا۔ اس لئے کہ کافر کفرو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور اس سے نکل ہی نہیں پاتا جس کا نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔ اور مومن کے دل کو اللہ تعالیٰ ایمان کے ذریعے سے زندہ فرماتا ہے جس سے زندگی کی راہیں اس کے لئے روشن ہوجاتی ہیں اور وہ ایمان اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے، جس کا نتیجہ کامیابی اور کامرانی ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ 257، سورة ھود 24، سورة فاطر، 19، 22،
(آیت 122) ➊ { اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ ……: } یعنی وہ کافر تھا اسے مسلمان بنایا۔ (شوکانی) اوپر جانوروں کے مُردوں کا ذکر تھا، یہاں کافر پر وہی مثال فرمائی، یعنی جب کافر تھے تو جہل اور کفر و شرک کے باعث سب مُردے تھے، پھر جس کو ایمان ملا وہ زندہ ہوا اور روشنی اور راہِ ہدایت پائی اور اس کے چہرے پر سب لوگ ایمان کی روشنی دیکھتے ہیں اور جس کو ایمان نہ ملا وہ اندھیروں میں پڑا رہا۔ (موضح) مسلمان اور کافر کے زندہ اور مردہ ہونے کا مضمون دیکھیے سورۂ بقرہ(۲۵۷)، سورۂ ہود(۲۴) اور سورۂ فاطر (۱۹ تا ۲۲) میں۔ ➋ {كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے سے ان کافروں کی نگاہ میں ان کے اعمال کو خوبصورت کر کے پیش کرتا ہے۔
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وه لوگ وہاں فریب کریں۔ اور وه لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤ کھیلیں اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعورنہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (جس طرح ہم نے مکہ کے فاسقوں کو بڑا بنایا) اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرمین کو بڑا سردار بنایا ہے تاکہ وہ وہاں مکر و فریب کیا کریں حالانکہ وہ فریب نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں سب سے بڑے اس کے مجرموں کو بنا دیا، تاکہ وہ اس میں مکرو فریب کریں اور وہ مکرو فریب نہیں کرتے مگر اپنے ساتھ ہی اور وہ شعور نہیں رکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بستیوں کے رئیس گمراہ ہو جائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:31] کہ ’ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر علیہ السلام کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا کہ ’ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے ‘ اور آیت میں ہے «وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] ’ ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آ جاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آ جاتا ہے ‘۔
چنانچہ اور آیتوں میں ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» ۱؎ [34-سبأ:34-35] ’ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ’ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے ‘۔ «مَكْرً» سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت «وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا» ۱؎ [71-نوح:22] ۔ اور آیت میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ’ قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہو جاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کر دیا ‘۔ «مَكْرً» کے معنی سفیان رحمہ اللہ نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا ‘ - جیسے فرمان ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنکبوت:13] یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا ‘۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:21] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے ‘۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:31-32] ’ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا؟ ‘ جس کے جواب میں اللہ عزوجل نے فرمایا ’ کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں؟ ‘ پس مکے یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بناء پر تھا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ هُمْ كَافِرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:36] ’ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے؟ ‘ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا» [25-الفرقان:41] ’ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا؟ ‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شریف النسب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کا خطاب ملا تھا - ابوسفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7] جس سے شاہ روم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام سے اسمعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2276] فرمان ہے کہ ’ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3557] { ایک مرتبہ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا { میں کون ہوں؟ } انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرمایا: { میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:3073، ] { جبرائیل علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا“ }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:176/1:ضعیف] مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصحاب رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر بنایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/1:حسن] ایک باہر کے شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے عبداللہ بن عباس ہیں رضی اللہ عنہ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» [ الانعام: 124 ] ’ نبوت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ اس عظیم الشان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی ‘۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3186] پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔
123۔ 1 اکابر اکبر کی جمع ہے مراد کافروں اور فاسقوں کے سرغنے اور کھڑپینچ ہیں کیونکہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور عام لوگ تو صرف ان کے پیچھے لگنے والے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں یہی مضمون سورة سبا کی آیات 31 تا 33 سورة زخرف 23 سورة نوح 22 وغیرھا میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ 123۔ 2 یعنی ان کی اپنی شرارت کا وبال اور اسی طرح ان کے پیچھے لگنے والے کا وبال، انہی پر پڑے گا (مزید دیکھے سورة عنکبوت 13 سورة نحل 25)
(آیت 123) ➊ { وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ ……: ” اَكٰبِرَ “} یہ {” اَكْبَرُ “} کی جمع ہے، {” مُجْرِمِيْنَ “} کا نون {” هَا “} کی طرف اضافت کی وجہ سے گر گیا، یعنی مکہ کی طرح پہلے بھی ہم نے ہر بستی کے اکابر اور چودھری اور کھڑپینچ اس کے مجرموں کو بنا دیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے مکر و فریب اور قوت و اقتدار کے ذریعے سے لوگوں کو ایمان سے روکتے رہے اور فسق و فجور میں پڑے رہے۔ انبیاء کے مقابلے میں بھی یہی لوگ آتے رہے، مگر آخر انجام ایمان والوں کے غلبے پر ہوا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے ہیں، تاکہ عوام الناس پیغمبر کے مطیع نہ ہو جائیں، جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ جادو کے زور سے سلطنت لینا چاہتا ہے۔ (موضح) ➋ {وَ مَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ:} یعنی اس کا وبال خود ان پر پڑے گا، تو گویا اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں۔
جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں "ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے" اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے، اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟ عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کے مقابلے میں سخت سزائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہی ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے پاس کوئی معجزہ آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے؟ (اس کا اہل کون ہے؟) عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت نصیب ہوگی اور سخت عذاب بھی ہوگا ان کی ان مکاریوں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بستیوں کے رئیس گمراہ ہو جائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:31] کہ ’ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر علیہ السلام کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا کہ ’ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے ‘ اور آیت میں ہے «وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] ’ ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آ جاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آ جاتا ہے ‘۔
چنانچہ اور آیتوں میں ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» ۱؎ [34-سبأ:34-35] ’ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23] ’ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے ‘۔ «مَكْرً» سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت «وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا» ۱؎ [71-نوح:22] ۔ اور آیت میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ’ قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہو جاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کر دیا ‘۔ «مَكْرً» کے معنی سفیان رحمہ اللہ نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہوگا ‘ - جیسے فرمان ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنکبوت:13] یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا ‘۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔ کہا کرتے تھے کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:21] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے ‘۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:31-32] ’ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا؟ ‘ جس کے جواب میں اللہ عزوجل نے فرمایا ’ کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں؟ ‘ پس مکے یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بناء پر تھا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ هُمْ كَافِرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:36] ’ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے؟ ‘ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں، کہا کرتے تھے کہ «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا» [25-الفرقان:41] ’ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا؟ ‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شریف النسب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کا خطاب ملا تھا - ابوسفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7] جس سے شاہ روم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام سے اسمعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2276] فرمان ہے کہ ’ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3557] { ایک مرتبہ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا { میں کون ہوں؟ } انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرمایا: { میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:3073، ] { جبرائیل علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا“ }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:176/1:ضعیف] مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصحاب رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر بنایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/1:حسن] ایک باہر کے شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے عبداللہ بن عباس ہیں رضی اللہ عنہ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» [ الانعام: 124 ] ’ نبوت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جو لوگ اس عظیم الشان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہوگی ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی ‘۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3186] پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔
124۔ 1 یعنی ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں ان کے سروں پر بھی نبوت اور رسالت کا تاج رکھا جائے۔ 124۔ 2 یعنی یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہی ہر بات کی حکمت و مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے کون اس منصب کا اہل ہے؟ مکہ کا کوئی چوہدری اور رئیس یا جناب عبد اللہ و حضرت آمنہ کا در یتیم۔
(آیت 124) ➊ {وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ ……:} یعنی ان کفار کے مکر و فریب کا یہ عالم ہے کہ جب بھی ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی دلیل کے طور پر کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ جب تک ہم خود اس منصب پر فائز نہ ہوں اور ہمیں یہ معجزہ نہ ملے ہم ایمان نہیں لا سکتے۔ ➋ { اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ:} یعنی نبوت و رسالت محض وہبی چیز ہے، اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت کی امانت اس کے سپرد کر دیتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا کرنی ہے، مکہ کے ایک یتیم کو یا مکہ اور طائف کے کسی متکبر سردار کو۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۳۱، ۳۲)۔
پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے اِس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے اور جس کو بے راه رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ ﻻنے والوں پر ناپاکی مسلط کردیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب اللہ کسی کو ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینہ کو اسلام کیلئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ کر دیتا ہے جیسے کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے (اس کی طرف اونچا ہو رہا ہے) اسی طرح اللہ ان لوگوں پر کثافت مسلط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے ، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے ، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان ٭٭
اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہو جاتے ہیں -جیسے فرمان ہے آیت «أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [39-الزمر:22] ، یعنی ’ اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے ‘ - اور آیت میں فرمایا «وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ اُولٰىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:7] ’ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کر دی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنا دیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں ‘ - سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا دل ایمان و توحید کی طرف کشادہ ہو جاتا ہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دانا کون سا مومن ہے؟ فرمایا: { سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاریاں کرنے والا } }۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ { اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے }، لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا: { جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13857:ضعیف] «ضَيِّقًا» کی ایک قرأت «ضَيْقًا» بھی ہے۔ «حَرَجًا» کی دوسری «حَرِجاً» بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لیے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے۔ ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے «حَرجه» کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں۔“ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ ”اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے۔“ خود قرآن میں ہے «وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» ۱؎ [22-الحج:78] ’ اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ‘۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو، جیسے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں۔ پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بے ایمانوں پر شیطان مقرر کر دیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں۔
125۔ 1 یعنی جس طرح زور لگا کر آسمان پر چڑھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کے سینے کو اللہ تعالیٰ تنگ کردے اس میں توحید اور ایمان کا داخلہ ممکن نہیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا سینہ اس کے لئے کھول دے۔ 125۔ 2 یعنی جس طرح سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح رجس میں مبتلا کردیتا ہے، رجس سے مراد پلیدی یا عذاب یا شیطان کا تسلط ہے۔
(آیت 125) ➊ {فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ ……:} ”اسلام “ کا لفظی معنی ہے تابع ہو جانا، اپنے آپ کو سپرد کر دینا۔ {” حَرَجًا “} نہایت تنگ، گھٹا ہوا، درختوں کا وہ جھنڈ جس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے۔ {” يَصَّعَّدُ “} یہ {” صَعِدَ يَصْعَدُ “} (س) سے باب تفعل کا مضارع ہے، یعنی {” يَصَّعَّدُ “} اصل میں {”يَتَصَعَّدُ“} تھا، حروف زیادہ ہونے سے معنی میں ایک لفظ کا اضافہ کیا ہے، یعنی مشکل سے چڑھ رہا ہے۔ ➋ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کر دیتا ہے، اسے حق قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے اپنے آپ کو اﷲ اور اس کے رسول کے تابع فرمان کر دیتا ہے اور جسے اس کی سرکشی کے باعث ہدایت نہیں دینا چاہتا اس کا سینہ حق قبول کرنے کے لیے تنگ اور نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، جیسا کہ وہ بلندی کی طرف مشکل سے چڑھ رہا ہے، جوں جوں اوپر چڑھتا ہے، ایک تو چڑھائی کی وجہ سے دوسرے آکسیجن کے کم اور پھر ختم ہونے کی وجہ سے سانس ہی نہیں لے سکتا۔ جو لوگ حق سمجھ کر انکار کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں ان پر ایمان کی طہارت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کفر کی گندگی چڑھتی چلی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۶، ۷)، سورۂ توبہ (۱۲۵)، سورۂ لیل (۵ تا ۱۰) اور سورۂ یونس(۱۰۰)۔ ➌ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اوپر فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ ایک آیت (نشانی) دیکھیں تو ضرور یقین لے آئیں گے، اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لائیں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے ذکر کیے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات کو نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے، ان کو کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔“ (موضح)
حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے آیتوں کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ تمھارے رب کا راستہ ہے سیدھا۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے ٭٭
گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ ’ سیدھی اور صاف راہ جو بے روک اللہ کی طرف پہنچا دے ‘ یہی ہے «مُسْتَقِيمًا» کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے -پس شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے۔ چنانچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ { اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر موید و مولٰی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہو گا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 126){ وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ ……: ” هٰذَا “} یعنی حکم برداری میں عقل کو راہ نہ دینا سیدھی راہ ہے۔ (موضح)
اُن کیلیے اُن کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا سر پرست ہے اُس صحیح طرز عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کیلئے سلامتی کا گھر ہے ان کے پروردگار کے ہاں اور ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں اللہ ان کا سرپرست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھی کے لیے ان کے رب کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مدد گار ہے، ان اعمال کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے ٭٭
گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ ’ سیدھی اور صاف راہ جو بے روک اللہ کی طرف پہنچا دے ‘ یہی ہے «مُسْتَقِيمًا» کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے -پس شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے۔ چنانچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ { اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر موید و مولٰی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہو گا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔
127۔ 1 یعنی جس طرح دنیا میں اہل ایمان کفر و ضلالت کے کج راستوں سے بچ کر ایمان و ہدایت کی صراط مستقیم پر گامزن رہے، اب آخرت میں بھی ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کا، ان کے نیک عملوں کی وجہ سے دوست اور کار ساز ہے۔
جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ "ا ے گروہ جن! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا" انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے "پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خو ب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا" اللہ فرمائے گا "اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے" ا"س سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کرے گا، (کہے گا) اے جماعت جنات کی! تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لیے جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وه کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائده حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تونے ہمارے لئے معین فرمائی، اللہ فرمائے گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے، ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن اُن سب کو اٹھانے گا اور فرمائے گا، اے جن کے گروہ! تم نے بہت آدمی گھیرلیے اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے اے محبوب! بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ دن یاد کرو) جس دن وہ (اللہ) سب (جن و انس) کو محشر میں جمع کرے گا (اور جنات سے خطاب کرکے فرمائے گا) کہ اے گروہِ جن! تم نے بہت انسانوں کو گمراہ کیا (اس وقت) وہ آدمی جو ان (جنات) کے دوست و رفیق ہوں گے کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہم سب نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا اور اب ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ اللہ فرمائے گا اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں تم ہمیشہ رہوگے۔ سوائے اس کے جسے اللہ (بچانا) چاہے گا۔ بے شک تمہارا پروردگار حکیم و علیم ہے (بڑی حکمت اور بڑے علم والا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، اے جنوں کی جماعت! بلاشبہ تم نے بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے اے ہمارے رب! ہمارے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنے اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ فرمائے گا آگ ہی تمھارا ٹھکانا ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو مگر جو اللہ چاہے۔ بے شک تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوم حشر ٭٭
وہ دن بھی قریب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا -جناب انسان عابد معبود سب ایک میدان میں کھڑے ہوں گے اس وقت جنات سے ارشاد ہوگا کہ ’ تم نے انسانوں کو خوب بہکایا اور ورغلایا -انسانوں کو یاد دلایا جائے گا کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [يس:60-62] ’ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا وہ تمہارا دشمن ہے میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے لیکن تم نے سمجھ سے کام نہ لیا اور شیطانی راگ میں آگئے ‘ ‘۔ اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے۔ جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ میں میں آتا ہوں۔ انسانوں سے جنات کو بھی فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سردار سمجھنے لگے تھے موت کے وقت تک یہی حالت رہی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اچھا اب بھی تم ساتھ ہی جہنم میں جاؤ وہیں ہمیشہ پڑے رہنا۔ یہ استثناء جو ہے وہ راجع ہے برزخ کی طرف بعض کہتے ہیں دنیا کی مدت کی طرف، اس کا پورا بیان سورۃ ہود کی آیت «خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ» ۱؎ [11-هود:107] کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ۔ اس آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ کوئی کسی کے لیے جنت دوزخ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سب مشیت رب پر موقوف ہے۔
128۔ 1 یعنی انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تم نے گمراہ کرکے اپنا پیروکار بنا لیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة یٰسین میں فرمایا ' اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں خبردار نہیں کردیا تھا کہ تم شیطان کی پوجا مت کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے اور شیطان نے تمہاری ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کردیا ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے (یٰسین۔ 60، 62)۔ 128۔ 2 جنوں اور انسانوں نے ایک دوسر سے کیا فائدہ حاصل کیا؟ اس کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر تلذذ حاصل کرنا اور انسانوں کا جنوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ شیطان نے گناہوں کو ان کے لئے خوبصورت بنادیا جسے انہوں نے قبول کیا اور گناہوں کی لذت میں پھنسے رہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کی انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیاطین و جنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلائی جاتی تھیں ا۔ یہ گویا جنات نے انسانوں کو بیوقوف بنا کر فائدہ اٹھایا یہ ہی انسان جنات کا بیان کردہ جھوٹی اٹکل پچو باتوں سے لطف اندوز ہوتے اور کاہن قسم کے لوگ ان سے دنیاوی مفادات حاصل کرتے۔ 128۔ 3 یعنی قیامت واقع ہوگئی جسے ہم دنیا میں نہیں مانتے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب جہنم تمہارا دائمی ٹھکانا ہے۔
(آیت 128) ➊ {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا:} جنوں سے مراد یہاں شیطان جن ہیں۔ ان کا بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لینے کا مطلب انھیں گمراہ کر کے اپنے راستے پر لگا لینا ہے اور جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انھوں نے ان کو گمراہی کی دعوت دی اور انھوں نے اسے قبول کر لیا اور ان کی تعظیم و تکریم اور مصیبتوں کے وقت ان کو پکارنا شروع کر دیا اور یہی شیاطین کی کامیابی ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے سے مراد ان سے آسمان کے فرشتوں سے سنی ہوئی خبریں، جو وہ جھوٹ ملا کر بتاتے ہیں، سن کر اپنی جھوٹی غیب دانی کا بازار چمکانا، جادو ٹونے میں ان سے مدد لینا وغیرہ ہے اور پھر لوگوں سے پیسے بٹورنا، مزید کئی فوائد حاصل کرنا اور انھیں گمراہ کرنا ہے۔ ➋ {قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ: } یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے بعد جو شخص بھی کسی جن سے کوئی فائدہ اٹھائے یا قید کر کے اس سے کوئی مقصد حاصل کرے تو اس شخص اور جن دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شیطان جن کو نماز کے دوران آپ پر حملہ کرنے پر گرفتار کر لیا اور مسجد کے ستون سے باندھنے کا ارادہ کیا تو سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا کہ انھوں نے دعا کی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ……» [صٓ: ۳۴ تا ۴۰ ] مزید دیکھیے: سورۂ شعراء (۲۲۱ تا ۲۲۳) اور سورۂ جن(۶)۔ ➌ { اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} اس لفظ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جہنم آخر ختم ہو جائے گی اس کے جواب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اﷲ تو یہ اس لیے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اسی کے چاہنے سے ہے، وہ چاہے تو موقوف کرے مگر وہ چاہ چکا۔ (موضح)
دیکھو، اس طرح ہم (آخر ت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر) کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب
احمد رضا خان بریلوی
اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال (کرتوتوں) کی وجہ سے بعض کا سرپرست بناتے ہیں (یا ایک دوسرے پر مسلط کرتے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنا دیتے ہیں، اس کی وجہ سے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں ٭٭
لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں -ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے ’ میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا ‘۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ’ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا ‘ یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ”ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کر دیں گے۔“ ایک مرفوع حدیث میں ہے { جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1937] کسی شاعر کا قول ہے، ؎ «وَمَا مِنْ يَدٍ إِلَّا يَدُ اللَّهِ فَوْقَهَا» «وَلَا ظَالِمٍ إِلَّا سَيُبلَى بِظَالِمٍ» یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنا دیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔
129۔ 1 یعنی جہنم میں جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کو ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بنایا اسی طرح ہم نے ظالموں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر ہم مسلط کردیتے ہیں اس ایک ظالم دوسرے ظالم کو ہلاک اور تباہ کرتا ہے اور ایک ظالم کا انتقام دوسرے ظالم سے لے لیتے ہیں۔
(آیت 129){ وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا ……: } یعنی جس طرح ہم نے جنات اور بعض انسانوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیا اسی طرح ہم ظالم اور فاسق و فاجر انسانوں کو ان کے اعمال کے سبب ایک دوسرے کا دوست بنا دیتے ہیں، جیسا کہ دیکھیے سورۂ توبہ(۶۷، ۷۱)۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسی طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیں گے کہ جس طرح وہ دنیا میں گناہوں کے ارتکاب میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار تھے اسی طرح آخرت کا عذاب بھگتنے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔ بعض نے {” نُوَلِّيْ “ } کا ایک معنی یہ کیا ہے کہ ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر والی اور حاکم بنا دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کر دیا، اسی طرح دنیا میں ہم ظالموں کو بھی ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں کہ ظالم ماتحت پر ظلم کرتا ہے اور کمزور زبردست کا ظلم سہتا ہے، مگر آیات کے سیاق اور الفاظ{ ” اَوْلِيٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ “} کی یہاں حاکم کے معنی کے ساتھ مناسبت محل نظر ہے۔
(اس موقع پر اللہ ان سے پوچھے گا کہ) "اے گروہ جن وانس، کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں" آج دنیا کی زندگی نے اِن لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے
احمد رضا خان بریلوی
اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن دیکھنے سے ڈراتے کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے (میرے) کچھ رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں سناتے تھے۔ اور تمہیں اس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں ان کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں مبتلا کر دیا تھا اور اب وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ بے شک کافر تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمھارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے، جو تم پر میری آیات بیان کرتے ہوں اور تمھیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ وہ کہیں گے ہم اپنے آپ پر گواہی دیتے ہیں اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ یقینا وہ کافر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جن اور انسان اور پاداش عمل ٭٭
یہ اور سرزنش اور ڈانت ڈپٹ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انسانوں اور جنوں کو ہوگی ان سے سوال ہو گا کہ ’ کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس میرے بھیجے ہوئے رسول نہیں آئے تھے ‘ - یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے، بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔ ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لیے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:19] سے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:22] تک کی آیتیں صاف ظاہر ہے کہ موتی مرجان صرف کھاری پانی کے سمندروں میں نکلتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں نکلتے لیکن ان آیتوں میں دونوں قسم کے سمندروں میں سے موتیوں کا نکلنا پایا جاتا ہے کہ ان کی جنس میں سے مراد یہی ہے۔
اس طرح اس آیت میں مراد جنوں انسانوں کی جنس میں سے ہے نہ کہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں سے اور رسولوں کے صرف انسان ہی ہونے کی دلیل آیت «اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ» ۱؎ [4-النساء:165-163] اور «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» ۱؎ [29-العنكبوت:27] پس ثابت ہوتا ہے کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد نبوت کا انحصار آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں ہو رہا،،اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس انوکھی بات کا قائل ایک بھی نہیں کہ آپ علیہ السلام سے پہلے نبی ہوتے تھے اور پھر ان میں سے نبوت چھین لی گئی۔
اور آیت اس سے بھی صاف ہے فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:20] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں آتے جاتے تھے ‘۔ اور آیت میں ہے اور اس نے یہ مسئلہ بالکل صاف کر دیا ہے فرماتا ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے مردوں کو ہی بھیجا ہے جو شہروں کے ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی نازل فرمائی تھی ‘۔ چنانچہ جنات کا یہی قول قرآن میں موجود ہے «وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:32-29] ’ جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف پھیرا جو قرآن سنتے رہے جب سن چکے تو واپس اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آگاہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی نازل شدہ کتاب سنی جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہ حق دکھاتی ہے اور صراط مستقیم کی رہبری کرتی ہے، پس تم سب اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی مانو اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں المناک عذابوں سے بچائے اللہ کی طرف سے جو پکارنے والا ہے اس کی نہ ماننے والے اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے نہ اس کے سوا اپنا کوئی اور کار ساز اور والی پا سکتے ہیں بلکہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ‘۔
ترمذی وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ { اس موقعہ پر جنات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الرحمن پڑھ کر سنائی تھی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3219،قال الشيخ الألباني:حسن] جس میں ایک آیت «سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:32-31] ہے یعنی ’ اے جنو انسانوں ہم صرف تمہاری ہی طرف تمام تر توجہ کرنے کیلئے عنقریب فارغ ہوں گے۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کو جھٹلا رہے ہو؟ ‘۔ الغرض انسانوں اور جنوں کو اس آیت میں نبیوں کے ان میں سے بھیجنے میں بطور خطاب کے شامل کر لیا ہے ورنہ رسول سب انسان ہی ہوتے ہیں۔ نبیوں کا کام یہی رہا کہ وہ اللہ کی آیتیں سنائیں اور قیامت کے دن سے ڈرائیں۔ اس سوال کے جواب میں سب کہیں گے کہ ہاں ہمیں اقرار ہے تیرے رسول ہمارے پاس آئے اور تیرا کلام بھی پہنچایا اور اس دن سے بھی متنبہ کر دیا تھا۔ پھر جناب باری فرماتا ہے ’ انہوں نے دنیا کی زندگی دھوکے میں گزاری، رسولوں کو جھٹلاتے رہے، معجزوں کی مخالفت کرتے رہے دنیا کی آرائش پر جان دیتے رہے گئے۔ شہوت پرستی میں پڑے رہے قیامت کے دن اپنی زبانوں سے اپنے کفر کا اقرار کریں گے کہ ہاں بیشک ہم نے نبیوں کی نہیں مانی ‘۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» ۔
130۔ 1 رسالت و نبوت کے معاملے میں جنات انسانوں کے ہی تابع ہیں ورنہ جنات میں الگ نبی نہیں آئے البتہ رسولوں کا پیغام پہنچانے والے اور منذرین جنات میں ہوتے رہے ہیں جو اپنی قوم کے جنوں کو اللہ کی طرف دیتے رہے ہیں اور دیتے ہیں۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ چونکہ جنات کا وجود انسان کے وجود سے پہلے سے ہے تو ان کی ہدایت کے لئے انہیں میں سے کوئی نبی آیا ہوگا پھر آدم ؑ کے وجود کے بعد ہوسکتا ہے وہ انسانی نبیوں کے تابع رہے ہوں، البتہ نبی کریم کی رسالت بہرحال تمام جن انس کے لئے ہے اس میں کوئی شبہ نہیں۔ 130۔ 2 میدان حشر میں کافر مختلف پینترے بدلیں گے، کبھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کریں گے (الا نعام، 123) اور کبھی اقرار کئے بغیر چارہ نہیں ہوگا، جیسے یہاں ان کا اقرار نقل کیا گیا ہے۔
(آیت 130) ➊ { يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ:} ” تم میں سے رسول“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول جن و انس میں سے انسان ہی ہوئے ہیں۔ افضل مخلوق فرشتے ہیں یا انسان اس کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۹) اور سورۂ فرقان(۲۰) جنوں کا نبی ہونا ثابت نہیں، علمائے سلف و خلف کی اکثریت کا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا، البتہ ان میں سے کئی منذرین گزرے ہیں، یعنی اپنی قوم کو خبردار کرنے والے، جو انسانوں کی طرف آنے والے رسولوں پر ایمان لاکر اپنی قوم کو پیغام پہنچاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۲۹ تا ۳۲) اور سورۂ جن۔ دونوں میں جنوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا اقرار کیا ہے اور اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے، بلکہ سورۂ احقاف سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن پہلے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے۔ ➋ { اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا انکار کریں گے، پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قائل کرے گا۔ (موضح) دیکھیے سورۂ انعام (۲۳ اور ۲۷ تا ۳۰)، سورۂ حٰم السجدۃ (۲۰، ۲۱) اور سورۂ یٰسٓ(۶۵)۔
(یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہو جائے کہ) تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جبکہ ان کے باشندے حقیقت سے نا واقف ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بے خبر ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار بستیوں کو ظلم و جور سے ہلاک نہیں کرتا۔ جبکہ ان کے رہنے والے بے خبر ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ بے شک تیرا رب کبھی بستیوں کو (ان کے) کسی ظلم کی وجہ سے ہلاک کرنے والا نہیں، جب کہ اس کے رہنے والے بے خبر ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حجت تمام ٭٭
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کر دیئے اس لیے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے - فرماتا ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» ۱؎ [35-فاطر:24] یعنی ’ کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ‘۔ سورۃ تبارک میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9] ’ جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ ”کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا، خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔“ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
131۔ 1 یعنی رسولوں کے ذریعے سے جب تک اپنی حجت قائم نہیں کردیتا، ہلاک نہیں کرتا جیسا کہ یہی بات سورة فاطر آیت، 42۔ سورة نحل 62، سورة بنی اسرائیل 15 اور سورة ملک 8، 9 وغیرہ میں بیان کی گئی ہے۔
(آیت 131){ ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ:} یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انھیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کر دیا ہو۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵)۔
ہر شخص کا درجہ اُس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر ایک کے لیے ان کے کاموں سے درجے ہیں اور تیرا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر ایک کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجے ہیں۔ اور جو کچھ لوگ کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر ایک کے لیے مختلف درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تیرا رب اس سے ہرگز بے خبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حجت تمام ٭٭
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کر دیئے اس لیے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے - فرماتا ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» ۱؎ [35-فاطر:24] یعنی ’ کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ‘۔ سورۃ تبارک میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9] ’ جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ ”کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا، خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔“ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
132۔ 1 یعنی ہر انسان اور جن کے، ان کے با ہمی درجات میں، عملوں کے مطابق، فرق، تفاوت ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح جنتی اور جہنمی ہونگے۔
(آیت 132){ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ……:} اس سے معلوم ہوا کہ جنوں میں سے بھی جو نیک ہیں وہ جنت میں اور جو بدکار ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔ سورۂ رحمن میں اس کی تفصیل موجود ہے اور جنت اور جہنم میں بھی ان کے درجات و دَرکات مختلف ہوں گے۔
تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر و ہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ کا رب بالکل غنی ہے رحمت واﻻ ہے۔ اگر وه چاہے تو تم سب کو اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کردے جیسا کہ تم کو ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تمہارا رب بے پروا ہے رحمت والا، اے لوگو! وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور جسے چاہے تمہاری جگہ لادے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کا پروردگار بے نیاز ہے، رحمت والا ہے، وہ اگر چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ تمہارے بعد جن کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں پیدا کیا اور لوگوں کی نسل سے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرا رب ہی ہر طرح بے پروا، کمال رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھارے بعد جانشین بنا دے جسے چاہے، جس طرح اس نے تمھیں کچھ اور لوگوں کی اولاد سے پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بےنیاز اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں، اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں، ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ’ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے ‘، تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ’ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کر سکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں ‘۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے، دوسرے کو پیدا کر دیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے۔ جیسے فرمان ہے ’ اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے ‘۔ فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [35-فاطر:17-15] ’ لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ‘۔
اور فرمان ہے آیت «وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ» [47-محمد:38] ’ اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو ‘۔ فرماتا ہے ’ اگر تم نافرمان ہو گئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے ‘۔ «ذُّرِّيَّةُ» سے مراد اصل و نسل ہے۔ ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجئیے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقیناً سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہو جاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7907/4:ضعیف] لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر کون تھا؟ اور ضلالت پر کون تھا؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-ھود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہیں سب اٹل ہیں ‘۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دوبھر تھا، جو یکہ و تنہا تھا، جو وطن سے نکال دیا گیا تھا، جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا، اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہو گئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا۔ پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ ’ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں ‘۔ فرما دیا تھا کہ «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» ۱؎ [58-المجادلة:20] ’ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ‘۔ «إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51-52] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا» ۱؎ [24-النور:55] ’ ہم ظالموں کو تہ و بالا کر دیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنا دیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو ‘۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ «وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، بَاطِنًا وَظَاهِرًا» ۔
133۔ 1 وہ غنی بےنیاز ہے اپنی مخلوقات سے۔ ان کا محتاج ہے نہ ان کی عبادتوں کا ضرورت مند ہے، ان کا ایمان اس کے لیے نفع مند ہے نہ ان کا کفر اس کے لیے ضرر رساں لیکن اس شان غنا کے ساتھ وہ اپنی مخلوق کے لیے رحیم بھی ہے۔ اس کی بےنیازی اپنی مخلوق پر رحمت کرنے میں مانع نہیں ہے۔ 133۔ 2 یہ اس کی بےپناہ قوت اور غیر محدود قدرت کا اظہار ہے جس طرح پچھلی کئی قوموں کو اس نے حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور ان کی جگہ نئی قوموں کو اٹھا کھڑا کیا، وہ اب بھی اس بات پر قادر ہے کہ جب چاہے تمہیں نیست و نبود کردے اور تمہاری جگہ ایسی قوم پیدا کردے جو تم جیسی نہ ہو۔ مزید ملاحظہ ہو سورة نساء 133، سورة ابراہیم 20، سورة فاطر 15، 17، سورة محمد 38۔
(آیت 133) ➊ {وَ رَبُّكَ الْغَنِيُّ:} یہاں {” الْغَنِيُّ “} خبر معرفہ ہونے اور {” الرَّحْمَةِ “} پر ”الف لام“ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اور تیرا رب ہی ہر طرح بے پروا، کمال رحمت والا ہے“ اس کے سوا کوئی اور نہ ہی بے پروا ہے نہ کمال رحمت والا، یعنی اسے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں، پھر بھی بطور احسان کمال رحمت والا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پہلے جو نعمتیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً رسولوں کا بھیجنا وغیرہ، محض رحمت کی بنا پر ہیں، اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں۔ ➋ { ذُو الرَّحْمَةِ:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ایک رحمت اس نے جنوں، آدمیوں، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، وہ اسی ایک رحمت کی وجہ سے ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں اور رحم کرتے ہیں اور اسی ایک رحمت کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اﷲ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہیں جو اپنے بندوں پر قیامت کے دن کرے گا۔“ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی ……: 2752/19 ] ➌ { اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ ……:} یعنی جس طرح تمھیں پہلے لوگوں کا جانشین بنایا اسی طرح تمھیں تباہ کر کے دوسروں کو تمھارا جانشین بنا سکتا ہے، یا یہ کہ اس کی قدرت جن و انس کو پیدا کرنے ہی پر منحصر نہیں، بلکہ وہ ان کے بجائے کوئی تیسری قسم کی مخلوق بھی پیدا کر سکتا ہے۔ (رازی) دیکھیے سورۂ نساء(۱۳۳)، سورۂ ابراہیم (20،19) اور سورۂ فاطر (۱۵ تا ۱۷)
تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وه بے شک آنے والی چیز ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو کچھ تم سے وعدہ وعید کیا گیا ہے وہ بے شک آکر رہے گا۔ اور تم (خدا کو) عاجز نہیں کر سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے، ضرور آنے والی ہے اور تم کسی صورت عاجز کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بےنیاز اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں، اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں، ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ’ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے ‘، تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ’ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کر سکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں ‘۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے، دوسرے کو پیدا کر دیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے۔ جیسے فرمان ہے ’ اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے ‘۔ فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [35-فاطر:17-15] ’ لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ‘۔
اور فرمان ہے آیت «وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ» [47-محمد:38] ’ اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو ‘۔ فرماتا ہے ’ اگر تم نافرمان ہو گئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے ‘۔ «ذُّرِّيَّةُ» سے مراد اصل و نسل ہے۔ ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجئیے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقیناً سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہو جاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7907/4:ضعیف] لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر کون تھا؟ اور ضلالت پر کون تھا؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-ھود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہیں سب اٹل ہیں ‘۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دوبھر تھا، جو یکہ و تنہا تھا، جو وطن سے نکال دیا گیا تھا، جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا، اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہو گئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا۔ پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ ’ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں ‘۔ فرما دیا تھا کہ «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» ۱؎ [58-المجادلة:20] ’ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ‘۔ «إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51-52] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا» ۱؎ [24-النور:55] ’ ہم ظالموں کو تہ و بالا کر دیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنا دیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو ‘۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ «وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، بَاطِنًا وَظَاهِرًا» ۔
134۔ 1 اس سے مراد قیامت ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے کا مطلب ہے کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے چاہے تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوچکے ہو۔
(آیت 134){ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ:} باء تاکید کی وجہ سے ترجمہ میں ”کسی صورت “ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ تم اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے کہ وہ تمھیں پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔
اے محمدؐ! کہہ دو کہ لوگو! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ یہ فرما دیجئے کہ اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں، سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لیے نافع ہوگا۔ یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آحرت کا گھر، بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! اے میری قوم تم اپنے مرتبہ و مقام کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے مرتبہ کے مطابق عمل کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجامِ کار کس کے حق میں بہتر ہے جو ظالم ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، تو تم عنقریب جان لو گے وہ کون ہے جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوتا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بےنیاز اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں، اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں، ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ’ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے ‘، تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ’ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کر سکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں ‘۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے، دوسرے کو پیدا کر دیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے۔ جیسے فرمان ہے ’ اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے ‘۔ فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [35-فاطر:17-15] ’ لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ‘۔
اور فرمان ہے آیت «وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ» [47-محمد:38] ’ اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو ‘۔ فرماتا ہے ’ اگر تم نافرمان ہو گئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے ‘۔ «ذُّرِّيَّةُ» سے مراد اصل و نسل ہے۔ ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجئیے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقیناً سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہو جاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7907/4:ضعیف] لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر کون تھا؟ اور ضلالت پر کون تھا؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔ جیسے فرمایا «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-ھود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہیں سب اٹل ہیں ‘۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دوبھر تھا، جو یکہ و تنہا تھا، جو وطن سے نکال دیا گیا تھا، جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا، اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہو گئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا۔ پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ ’ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں ‘۔ فرما دیا تھا کہ «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» ۱؎ [58-المجادلة:20] ’ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ‘۔ «إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51-52] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا» ۱؎ [24-النور:55] ’ ہم ظالموں کو تہ و بالا کر دیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنا دیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو ‘۔ وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ «وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، بَاطِنًا وَظَاهِرًا» ۔
135۔ 1 یہ کفر اور معصیت پر قائم رہنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ سخت وعید ہے جیسا کہ اگلے الفاظ سے واضح ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (جو ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجئے! کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل کرتے ہیں اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں) سورة ہود۔ 21۔ 221۔ 135۔ 2 جیسا کہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ سچا کر دکھا یا۔ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور اس کی فتح کے بعد عرب قبائل جوق در جوق مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آگیا۔
(آیت 135) ➊ { قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ:} مطلب یہ نہیں کہ تمھیں اجازت ہے کہ جو چاہو کرو، بلکہ ڈانٹنا مقصود ہے، جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ اچھا جو کچھ تم کر رہے ہو کرتے رہو، میں عنقریب تم سے نمٹ لوں گا۔ ➋ {مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ پورا فرمایا اور انھیں تمام ملک پر قبضہ عطا فرمایا، مخالفین ان کے رحم و کرم پر رہ گئے، مکہ فتح کروا دیا اور یہ سب کچھ آپ کی زندگی میں ہو گیا، پھر آپ کی وفات کے بعد مشرق سے مغرب تک ملک فتح ہو گئے۔ آخرت میں اس سے بھی کہیں بڑھ کر اچھا انجام ہو گا۔ دیکھیے سورۂ مومن(۵۱، ۵۲) ➌ { اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ:} ”بلاشبہ “{ ”اِنَّ“ } کا اور ” حقیقت یہ ہے“ ضمیر شان { ”هٗ“} کا ترجمہ ہے۔
اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے پھر جو حصہ ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ!
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مواشی پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے، پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وه تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وه ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وه کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اسے ایک حصہ دار ٹھہرایا تو بولے یہ اللہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا تو وہ جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا، اور جو خدا کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے، کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے اللہ کے لیے اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے شریکوں (دیوتاؤں) کا ہے۔ جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کا ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے یہ لوگ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اللہ کے لیے ان چیزوں میں سے جو اس نے کھیتی اور چوپائوں میں سے پیدا کی ہیں، ایک حصہ مقرر کیا، پس انھوں نے کہا یہ اللہ کے لیے ہے، ان کے خیال کے مطابق اور یہ ہمارے شریکوں کے لیے ہے، پھر جو ان کے شرکا کے لیے ہے سو وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو اللہ کے لیے ہے سو وہ ان کے شریکوں کی طرف پہنچ جاتا ہے۔ برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدعت کا آغاز ٭٭
مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے نام کا ٹھہرایا ہوا نذرانہ بتوں کے نام والے میں مل گیا تو وہ تو بتوں کا ہوگیا لیکن اگر بتوں کے لیے ٹھہرائے ہوئے میں سے کچھ اللہ کے نام والے میں مل گیا تو اسے جھٹ سے نکال لیتے تھے -کوئی ذبیحہ اپنے معبودوں کے نام کا کریں تو بھول کر بھی اس پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ کیسی بری تقسیم کرتے ہیں ‘۔ اولاً تو یہ تقسیم ہی جہالت کی علامت ہے کہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی اسی کی ملکیت پھر ان میں سے دوسرے کے نام کی کسی چیز کو نذر کرنے والے یہ کون؟ جو اللہ لا شریک ہے انہیں اس کے شریک ٹھہرانے کا کیا مقصد؟ پھر اس ظلم کو دیکھو اللہ کے حصے میں سے تو بتوں کو پہنچ جائے اور بتوں کا حصہ ہرگز اللہ کو نہ پہنچ سکے یہ کیسے بدترین اصول ہیں۔ ایسی ہی غلطی یہ بھی تھی کہ «وَيَجْعَلُونَ لِلَّـهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [16-النحل:57] ’ اللہ کے لیے لڑکیاں اور اپنے لیے لڑکے ‘، اور جیسے کہ آیت میں ہے «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21،22] ’ (مشرکو!) کیا تمہارے لیے تو بیٹے اور خدا کے لیے بیٹیاں جن لڑکیوں سے تم بیزار وہ اللہ کی ہوں، کیسی بری تقسیم ہے ‘۔
136۔ 1 اس آیت میں مشرکوں کے عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ بتلایا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا اور وہ زمینی پیداوار اور مال مویشی میں سے کچھ حصہ اللہ کے لئے اور کچھ اپنے خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے اللہ کے حصے کو مہمانوں، فقرا اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے اور بتوں کے حصے کو مجاورین اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے۔ پھر اگر بتوں کے مقرر حصے میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصے میں سے نکال کر اس میں شامل کرلیتے اور اس کے برعکس معاملہ ہو تو بتوں کے حصے میں سے نہ نکالتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے۔ 136۔ 2 یعنی اللہ کے حصہ کی کمی کی صورت میں بتوں کی مقررہ حصے میں سے صدقات و خیرات نہ کرتے۔ 136۔ 3 ہاں اگر بتوں کے مقررہ حصے میں کمی ہوجاتی تو وہ اللہ کے مقررہ حصے سے لے کر بتوں کے مصالح اور ضروریات پر خرچ کرلیتے۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں بتوں کی عظمت اور ان کا خوف ان کے دلوں میں زیادہ تھا جس کا مشاہدہ آج کے مشرکین کے رویے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
(آیت 136) {وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ......:} قیامت اور جزا و سزا کے متعلق ان کے خیالات کی تردید کے بعد یہاں سے ان کی دوسری اعتقادی اور عملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو مدت سے چلی آئی تھیں۔ عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تم عربوں کی جہالت معلوم کرنا چاہو تو سورۂ انعام کی آیت (۱۳۰) سے لے کر «قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا» یعنی آیت(۱۴۰) تک پڑھ لو۔ [ بخاری، المناقب، باب قصۃ زمزم و جہل العرب: ۳۵۲۴ ] ان میں سے پہلی جہالت یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور چوپاؤں میں سے ایک حصہ انھوں نے اﷲ تعالیٰ کے لیے، یعنی مہمان نوازی، صلہ رحمی اور اﷲ کو خوش کرنے والے کاموں کے لیے مقرر کیا ہوا تھا اور ایک حصہ اپنے داتاؤں، مشکل کشاؤں، ان کی شکل پر بنائے ہوئے بتوں، ان کے پروہتوں اور کاہنوں کے لیے۔ اگر کسی وجہ سے بتوں اور کاہنوں کا حصہ کم پڑ جاتا تو اﷲ تعالیٰ کے حصے میں سے لے کر اس میں ڈال دیتے اور کہتے کہ اﷲ تو غنی ہے، اس کو زیادہ مال کی کیا ضرورت ہے اور اگر اﷲ تعالیٰ کا حصہ کم پڑ جاتا تو اس میں بتوں کے حصے میں سے کچھ نہ ڈالتے۔ اب بتائیے کہ اﷲ تعالیٰ کے مقابلے میں شریک بنانا کون سی کم جہالت تھی کہ اس سے بڑھ کر ان شرکاء کو خوش کرنے کے لیے کھیتی اور چوپاؤں کے حصے میں ان کو اﷲ پر ترجیح دینے کی جہالت اختیار کرتے! یہ اسی طرح ہے جیسے آج کل بعض مسلمان اﷲ کا فرض زکوٰۃ اور عشر نہیں نکالیں گے، مگر اپنے فوت شدہ داتاؤں اور غریب نوازوں کی نیاز میں کبھی ناغہ نہیں آنے دیں گے اور عقیدہ یہ رکھیں گے کہ اگر اس میں کمی ہو گئی تو جانوروں کے تھنوں میں سے دودھ کے بجائے خون آئے گا۔ نام اس کا ایصال ثواب رکھیں گے، مگر ایصال ثواب تو اﷲ کے نام پر صدقہ کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ بزرگوں کی قبروں پر چڑھاوے چڑھا کر اور اگر اﷲ ہی کو خوش کرنا ہو تو غیر اﷲ کی نذر و نیاز کے بجائے عشر اور زکوٰۃ نکالیں۔
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پرداز یوں میں لگے رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں نے ان کی اوﻻد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے تاکہ وه ان کو برباد کریں اور تاکہ ان کے دین کو ان پر مشتبہ کردیں اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے تو آپ ان کو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں یونہی رہنے دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور یوں ہی بہت مشرکوں کی نگاہ میں ان کے شریکوں نے اولاد کا قتل بھلا کر دکھایا ہے کہ انہیں ہلاک کریں اور ان کا دین اُن پر مشتبہ کردیں اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تو تم انہیں چھوڑ دو وہ ہیں اور ان کے افتراء،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا رکھا ہے تاکہ (انجامِ کار) انہیں تباہ کریں اور ان کے دین و مذہب کو ان پر مشتبہ کریں اگر اللہ (اپنی قدرتِ قاہرہ سے) چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے لہٰذا انہیں چھوڑیے اور ان کی افترا پردازیوں کو۔ (تاکہ وہ ان میں لگے رہیں)
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کو مار ڈالنا ان کے شریکوں نے خوش نما بنا دیا، تاکہ وہ انھیں ہلاک کریں اور تاکہ وہ ان پر ان کا دین خلط ملط کریں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ باندھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان کے چیلے ٭٭
جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لیے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بے وجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔ اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کر دیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی۔ قرآن نے فرمایا کہ ’ ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ پر قتل کر دی گئیں ‘۔ پس یہ سب وسوسے شیطانی تھے لیکن یہ یاد رہے کہ رب کا ارادہ اور اختیار اس سے الگ نہ تھا اگر وہ چاہتا تو مشرک ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا اور اس کی بازپرس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ پس ’ اے نبی تو ان سے اور ان کی اس افترا پردازی سے علیحدگی اختیار کرلو اللہ خود ان سے نمٹ لے گا ‘۔
137۔ 1 یہ اشارہ ہے ان کی بچیوں کے زندہ درگور کردینے یا بتوں کی بھینٹ چڑھانے کی طرف۔ 137۔ 2 یعنی ان کے دین میں شرک کی آمیزش کردیں۔ 137۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اختیارات اور قدرت سے ان کے ارادہ و اختیار کی آزادی کو سلب کرلیتا، تو پھر یقینا یہ وہ کام نہ کرتے جو مذکور ہوئے ہی لیکن ایسا کرنا چونکہ جبر ہوتا، جس میں انسان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی، جب کہ اللہ انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر آزمانا چاہتا ہے، اس لئے اللہ نے جبر نہیں فرمایا۔
(آیت 137) ➊ {وَ كَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ……:} یہ ان کی دوسری جہالت اور گمراہی تھی، اس کا عطف {”جَعَلُوْا“} پر ہے، یعنی جیسے کھیتی اور جانوروں میں سے انھوں نے اپنے شرکاء کا حصہ مقرر کیا، اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی خوش نما بنا دیا اور عام طور پر ان کے سامنے تین چیزیں جواز کے بہانے کے طور پر رکھ دیں، ایک یہ کہ انھیں کہاں سے کھلاؤ گے، یعنی: «خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ» [ بنی إسرائیل: ۳۱ ] ”مفلسی کے ڈر سے۔“ جیسا کہ آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی منصوبہ بندی کے نام پر یہ کام کر رہے ہیں، کفار کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ دوسرا لڑکی کا باعثِ عار ہونا، جیسا کہ فرمایا: «{يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ }» [ النحل: ۵۹ ] ”وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس خوش خبری کی برائی کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔“ اور تیسرا اپنے شریکوں کو خوش کرنے کے لیے اولاد کو ان کے نام پر ذبح کر دینا جسے ہندو بھینٹ چڑھانا کہتے ہیں اور ان پروہتوں اور بت خانوں کے پجاریوں کو شریک اس لیے کہا کہ وہ انھیں اپنے نفع و نقصان میں دخیل سمجھتے تھے اور انھی کی ترغیب پر بچوں کو بھینٹ چڑھاتے تھے، جیسا کہ آج کل کئی قبروں کے پجاری یہ کام کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ اﷲ کے حکم کے مقابلے میں کسی اور کا حکم ماننا بھی اسے شریک بنانا ہے اور سب سے بڑا شریک تو شیطان ہے جس کے خوش نما بنانے پر وہ اﷲ کے ساتھ شرک اور اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔ ➋ {لِيُرْدُوْهُمْ وَ لِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ:” لِيُرْدُوْهُمْ “} باب افعال سے {” اَرْدٰي يُرْدِيْ “} کا معنی ہے۔ ہلاک کرنا۔{ ” لِيَلْبِسُوْا “} اگر ”{لَبَسَ يَلْبِسُ} (ض)“ ہو تو خلط ملط کرنا اور{ ” لَبِسَ يَلْبَسُ “} (س) ہو تو پہننا۔ اہل عرب اصل میں ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہونے کے مدعی تھے، لیکن شیطان نے آہستہ آہستہ بت پرستی، قتل اولاد اور بہت سی غلط باتیں ان کے دین میں داخل کر دی تھیں۔ فرمایا کہ ان کے شرکاء نے یہ سب کچھ انھیں برباد کرنے اور ان کے دین کو خلط ملط کرنے کے لیے کیا۔ ➌ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ ……:} مگر یہ جبر ہوتا اور اس اختیار کے خلاف ہوتا جو اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے کر امتحان لے رہا تھا، اس لیے آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، ان کی ان تمام حرکتوں کو افترا (جھوٹ باندھنا) قرار دیا۔
کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، ا نہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افترا پرداز یوں کا بدلہ دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اپنے خیال پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ مواشی ہیں اور کھیت ہیں جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں اور مواشی ہیں جن پر سواری یا باربرداری حرام کردی گئی اور کچھ مواشی ہیں جن پر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر۔ ابھی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے افترا کی سزا دیئے دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں بدلے دے گا ان کے افتراؤں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اپنی خام خیالی سے کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا مگر وہ جسے ہم چاہیں اور جو کچھ چوپائے ہیں جن کی پشت پر سواری اور باربرداری کو حرام قرار دے دیا گیا ہے اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا پردازی کرتے ہوئے کیا ہے عنقریب اللہ انہیں ان کی افترا پردازی کا بدلہ دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں کھائے گا جسے ہم چاہیں گے، ان کے خیال کے مطابق اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام کی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اس پر جھوٹ باندھتے ہوئے۔ عنقریب وہ انھیں اس کی جزا دے گا جو وہ جھوٹ باندھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا مقرر کردہ راستہ ٭٭
«الْحِجْرُ» کے معنی احرام کے ہیں -یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کر دیتے تھے، پھر جسے چاہتے کھلاتے۔ جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا» [10-یونس:59] یعنی ’ بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کر لیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے؟ ‘ دوسری آیت میں صاف فرمایا «مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:103] یعنی ’ یہ کافروں کی نادانی، افتراء اور جھوٹ ہے۔ بحیرہ سائبہ اور حام نام رکھ کر ان جانوروں کو اپنے معبودان باطل کے نام پر داغ دیتے تھے پھر ان سے سواری نہیں لیتے تھے، جب ان کے بچے ہوتے تھے تو انہیں ذبح کرتے تھے حج کے لیے بھی ان جانوروں پر سواری کرنا حرام جانتے تھے ‘۔ نہ کسی کام میں ان کو لگاتے تھے نہ ان کا دودھ نکالتے تھے پھر ان کاموں کو شرعی کام قرار دیتے تھے اور اللہ کا فرمان جانتے تھے اللہ انہیں ان کے اس کرتوت کا اور بہتان بازی کا بدلہ دے گا۔
138۔ 1 اس میں ان کی جاہلی شریعت اور اباطیل کی تین صورتیں اور بیان فرمائی ہیں۔ حجرً (بمعنی منع) اگرچہ مصدر ہے لیکن مفعول یعنی مَحْجُوْر (ممنوع) کے معنی ہیں یہ پہلی صورت ہے کہ جانور یا فلاں کھیت کی پیداوار، ان کا استعمال ممنوع ہے۔ اسے صرف وہی کھائے گا جسے ہم اجازت دیں گے۔ یہ اجازت بتوں کے خادم اور مجاورین کے لئے ہوتی ہے۔ 138۔ 2 یہ دوسری صورت ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام آزاد چھوڑ دیتے ہیں جن سے وہ بار برداری یا سواری کا کام نہ لیتے جیسے تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ 138۔ 3 یہ تیسری صورت ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت صرف اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں، اللہ کا نام نہ لیتے، بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جانوروں پر بیٹھ کر وہ حج کے لئے نہ جاتے۔ بہرحال یہ ساری صورتیں گھڑی ہوئی تو ان کی اپنی تھیں لیکن اللہ پر افترا باندھتے یعنی یہ باور کراتے کہ اللہ کے حکم سے ہی سب کچھ کر رہے ہیں۔
(آیت8 13) ➊ {” حِجْرٌ “} بمعنی {” مَحْجُوْرٌ “} ہے، یعنی ممنوع۔ اس میں ان کی جاہلیت کی تین اور صورتیں بیان فرمائی ہیں، پہلی صورت یہ کہ فلاں جانور یا کھیت کا استعمال ممنوع ہے، مگر اس کے لیے جسے ہم اجازت دیں گے اور یہ اجازت بت خانوں کے مجاوروں اور خادموں کے لیے ہوتی تھی۔ ➋ {حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا:} یہ دوسری صورت ہے کہ وہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور ان سے سواری یا بوجھ اٹھوانے کا کام نہ لیتے، جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ مائدہ(۱۰۳)۔ ➌ { وَ اَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا ……: } یہ تیسری صورت ہے کہ وہ کچھ جانوروں کو بت خانوں کے مجاوروں کے لیے خاص کرتے ہوئے انھیں ذبح کرتے وقت یا سوار ہوتے وقت صرف اپنے بت کا نام لیتے، اﷲ کا نام نہ لیتے، بلکہ ان پر حج کے لیے بھی نہ جاتے، تاکہ ان مجاوروں کے سوا کوئی انھیں استعمال نہ کر سکے۔ بہرحال یہ ساری صورتیں گھڑی ہوئی تو ان کی اپنی تھیں مگر وہ اﷲ پر جھوٹ باندھتے اور باور کرواتے کہ یہ اﷲ کا حکم ہے۔
اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں ہے وه خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر وه مرده ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ ابھی اللہ ان کو ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے بلاشبہ وه حکمت واﻻ ہے اور وه بڑا علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں اِن کی اُن باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردار ہوں تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب اللہ ان کو اس بات بنانے کا بدلہ دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا جو ان چوپائوں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری بیویوں پر حرام کیا ہوا ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو وہ سب اس میں شریک ہیں۔ عنقریب وہ انھیں ان کے کہنے کی جزا دے گا۔ بے شک وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نذر نیاز ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کر دیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا“ - شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مر جاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔“ «وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:116-117] ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لیے ان سے دور کر دی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کر لیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کر دیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بے حکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔
139۔ 1 یہ ایک اور شکل ہے کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام وقف کرتے، ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت برابر ہیں۔ 139۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جو غلط بیانی کرتے ہیں اور اللہ پر افترا باندھتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ انہیں سزا دے گا۔ وہ اپنے فیصلوں میں حکیم ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں پوری طرح علم رکھنے والا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے مطابق وہ جزا اور سزا کا اہتمام فرمائے گا۔
(آیت 139){ وَ قَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامٌ ……:} یہ ایک اور شکل تھی کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام پر وقف کرتے ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے والا زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے، ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو پھر مرد اور عورت اس کے کھانے میں برابر کے شریک ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کی ان غلط بیانیوں پر عنقریب انھیں بدلہ دے گا اور اپنی کامل حکمت اور علم کے مطابق دے گا۔
یقیناً خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کر کے حرام ٹھیرا لیا یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہرگز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
واقعی خرابی میں پڑ گئے وه لوگ جنہوں نے اپنی اوﻻد کو محض براه حماقت بلا کسی سند کے قتل کر ڈاﻻ اور جو چیزیں ان کو اللہ نے کھانے پینے کو دی تھیں ان کو حرام کرلیا محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر۔ بے شک یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے اور کبھی راه راست پر چلنے والے نہیں ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی اللہ پر جھوٹ باندھنے کو بیشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا وہ لوگ بڑے گھاٹے میں ہیں جنہوں نے علم کے بغیر محض جہالت اور حماقت کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل کیا۔ اور اللہ پر افترا پردازی کرکے اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا بے شک وہ گمراہ ہوئے اور ہدایت یافتہ اور راہ یاب نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ان لوگوں نے خسارہ اٹھایا جنھوں نے اپنی اولاد کو بے وقوفی سے کچھ جانے بغیر قتل کیا اور اللہ نے انھیں جو کچھ دیا تھا اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام ٹھہرا لیا۔ یقینا وہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولاد کے قاتل ٭٭
اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں -دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بے اولاد یہ ہو جائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہو جائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی، عذابوں کے سزاوار ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:69-70] ’ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورۃ الانعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت «قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:140] والی آیت پڑھو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3524]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 140){ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ:} فرمایا جن لوگوں نے یہ کام کیے انھوں نے دنیا اور آخرت میں خسارا اٹھایا، دنیا میں اپنی بے وقوفی اور جہالت سے اپنی اولاد کو قتل کرنے کی وجہ سے اولاد سے محروم ہوئے اور اپنے اموال میں سے کچھ چیزوں کو خود ہی حرام قرار دے کر اپنے آپ کو تنگی اور مشکل میں ڈال لیا اور آخرت میں اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھنے کی وجہ سے بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب اس کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وه بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وه بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے، ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے (چھائے) ہوئے اور کچھ بے چھئے (پھیلے) اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی میں الگ کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے اور بے جا نہ خرچو بیشک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (اللہ) وہی ہے۔ جس نے طرح طرح کے باغات پیدا کیے (ٹیٹوں پر) چڑھائے ہوئے بھی اور بغیر چڑھائے ہوئے بھی اور کھجور کے درخت اور طرح طرح کی کھیتی جس کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اور انار جو مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی اس کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ پھلیں اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو اور اسراف مت کرو کیونکہ وہ (خدا) اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی، جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھائو، جب وہ پھل لائے اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو اور حد سے نہ گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت ٭٭
خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کر دو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ { جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھالیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1662،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو-
مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کر دی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کر دی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ ٢ ہجری میں مقرر ہوئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورۃ القلم، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ «إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ وَلَا يَسْتَثْنُونَ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» [68-القلم:17-33] ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے ان شاءاللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بے خبری کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آ گئی اور سارا باع ایسا ہو گیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہو جائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آ گئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا۔
پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہو گئے -اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقیناً ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سر کش اور حد سے گزر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ ’ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو ‘۔ ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کر لیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے «وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ‘۔ صحیح بخاری میں ہے { کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3605،قال الشيخ الألباني:حسن] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی اللہ نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ -انہیں «فَرْشً» اس لیے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں -یہ بھی کہا گیا ہے کہ «حَمُولَةً» سے مراد سواری کے جانور اور «فَرْشًا» سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے۔ خود قرآن کی سورۃ یاسین میں موجود ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ» ۱؎ [36-یس:71-72] ’ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی؟ کہ ہم نے ان کے لیے چوپائے پیدا کر دیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کر دیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:66] مطلب یہ ہے کہ ’ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [16-النحل:5] ’ اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَأَيَّ آيَاتِ اللَّـهِ تُنكِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:79-81] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنا دیں وہ تمہیں اپنی بےشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے؟ ‘
پھر فرماتا ہے ’ اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ -شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ کرو ‘۔ جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کر دی، «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [35-فاطر:6] ’ تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے ‘۔ «يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا» ۱؎ [7-الأعراف:27] ’ دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آ جانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو ‘۔ «أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا» [18-الكهف:50] ’ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو، یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا ‘۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔
141۔ 1 معروشات کا مادہ عرش ہے جس کے معنی بلند کرنے اور اٹھانے کے ہیں۔ معروشات سے مراد بعض درختوں کی وہ بیلیں ہیں ٹٹیوں (چھپروں منڈیروں وغیرہ) پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریوں کی بیلیں ہیں۔ اور غیر معروشات، وہ درخت ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں بلکہ زمین پر ہی پھیلتی ہیں، جیسے خربوزہ اور تربوز کی بیلیں درخت اور کھجور کے درخت اور کھیتیاں، جن کے ذائقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار، ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ 141۔ 2 اس کے لیے دیکھئے آیت 99 کا حاشیہ۔ 141۔ 3 یعنی جب کھیتی سے غلہ کاٹ کر صاف کرلو اور پھل درختوں سے توڑ لو، تو اس کا حق ادا کرو۔ حق سے مراد علماء کے نزدیک نفلی صدقہ ہے اور بعض کے نزدیک صدقہ واجبہ یعنی عشر، دسواں حصہ اگر زمین بارانی ہو تو نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (اگر زمین کنویں، ٹیوب ویل یا نہری پانی سے سیراب کی جاتی ہے)۔ 141۔ 4 یعنی صدقہ خیرات میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو، ایسا نہ ہو کل کو تم ضرورت مند ہوجاؤ۔ بعض کہتے ہیں اس کا تعلق حکام سے ہے یعنی صدقات اور زکوٰۃ کی وصولی میں حد سے تجاوز نہ کرو اور امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سیاق آیت کی رو سے زیادہ صحیح لگتی ہے کہ کھانے میں اسراف مت کرو کیونکہ بسیار خوری عقل اور جسم کے لئے مضر ہے دوسرے مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں اسراف سے منع فرمایا، جس سے واضح ہے کہ کھانے پینے میں بھی اعتدال بہت ضروری ہے اور اس سے تجاوز اللہ کی نافرمانی ہے۔ آج کل مسلمانوں نے اس اسراف کو اپنی امارت کے اظہار کی علامت بنا لیا ہے۔ 141۔ 5 اس لئے اسراف کسی چیز میں بھی پسندیدہ نہیں، صدقہ و خیرات دینے میں نہ کسی اور چیز میں، ہر چیز میں اعتدال اور میانہ روی مطلوب اور محبوب ہے اس کی تاکید کی گئی ہے۔
(آیت 141) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ……:} { ” مَعْرُوْشٰتٍ “} کا مادہ ” عرش “ (ن، ض) ہے۔ جب اس کا ذکر کسی پودے کی بیل کے ساتھ ہو تو اس کا معنی اس کی ٹہنیوں کو لکڑیوں وغیرہ پر اوپر اٹھانا ہے۔ {”عَرَشَ الْكَرْمَ“} یعنی اس نے انگور کی بیل کو لکڑی وغیرہ پر چڑھایا۔ ➋ { مُتَشَابِهًا وَّ غَيْرَ مُتَشَابِهٍ:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (۹۹) کا حاشیہ۔ ➌ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے زمین سے پیدا ہونے والی ہر کھیتی، پھل، سبزی اور درخت کا ذکر فرما کر حکم دیا ہے کہ کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو، اس لیے زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اﷲ کا حق ادا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ {”مَعْرُوْشٰتٍ “ } ہوں، یعنی جن کی بیلیں چھتوں پر چڑھائی جاتی ہیں، مثلاً انگور، توری وغیرہ، یا ایسے باغات ہوں جن کی بیلیں زمین پر پھیلتی ہیں، مثلاً خربوزہ، تربوز، گرما وغیرہ، یا ایسے پھل دار درخت ہوں جو اپنے تنے پر قائم ہوں، مثلاً کھجور، زیتون اور انار وغیرہ، یا کوئی بھی کھیتی ہو، زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اﷲ تعالیٰ کا حق نکالنا فرض ہے اور مال میں اﷲ کا سب سے بڑا حق زکوٰۃ و عشر ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بارش، چشموں اور نہروں سے سیراب ہونے والی ہر فصل میں عشر، یعنی دس من میں سے ایک من اور پانی کھینچ کر سیراب کی جانے والی ہر فصل میں نصف العشر، یعنی بیس من میں سے ایک من ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کسی فصل کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ مفصل احکام کتب احادیث میں ملاحظہ فرمائیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ سبزیوں میں اور ان پھلوں میں عشر نہیں ہے جن کا ذخیرہ نہ ہو سکتا ہو، مثلاً مالٹا، انار وغیرہ، دلیل کے طور پر ترمذی کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سبزیوں میں صدقہ نہیں ہے، مگر خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور نہ اس مطلب کی کوئی اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس آیت میں ہر کھیتی، زیتون اور انار کا ذکر ہے، حالانکہ انار کا ذخیرہ نہیں ہوتا۔ دورِ رسالت کے عمل کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت ایسی چیزوں کے عشر لینے کا اہتمام کرے جن کا ذخیرہ کر سکے، باقی باغوں اور کھیتوں والے اﷲ کا حق خود مستحقین میں تقسیم کر دیں۔ فتاویٰ علمائے حدیث کی ساتویں جلد میں متعدد جلیل القدر علماء کے مقالات میں ہر پھل اور کھیتی میں سے عشر کی بات نہایت مفصل اور مدلل بیان کی گئی ہے۔ ➍ {” وَ لَا تُسْرِفُوْا “} سے مراد ناجائز جگہ خرچ کرنا بھی ہے اور اعتدال سے بڑھ کر خرچ کرنا بھی، اسی طرح کھانے میں زیادتی بھی منع ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا» [ الأعراف: ۳۱ ] ”اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے مطابق یہ آخری معنی یہاں زیادہ موزوں ہے، اس لیے بھی کہ یہ جسم اور عقل دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اتنا صدقہ کرنا بھی اسراف ہے کہ اس کے بعد آدمی خود محتاج ہو کر مانگنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ حکم حکمرانوں کے لیے بھی ہے کہ جتنا کسی کے ذمے بنتا ہے اس سے زیادہ وصول نہ کریں۔
پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں کھاؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیرو ی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ وہی ہے جس نے چوپاؤں میں سے کچھ ایسے پیدا کیے ہیں جن سے سواری اور باربرداری کا کام لیا جاتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو (کھانے اور) بچھانے کے کام آتے ہیں جو کچھ اللہ نے تمہیں روزی عطا کی ہے اس سے کھاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور چوپاؤں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے (پیدا کیے)۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت ٭٭
خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کر دو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال رکھنا۔ چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمان صادر فرمایا تھا کہ { جس کی کھجوریں دس وسق سے زیادہ ہوں وہ چند خوشے مسجد میں لا کر لٹکا دے تاکہ مساکین کھالیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1662،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ بھی مراد ہے کہ زکوٰۃ کے سوا اور کچھ سلوک بھی اپنی کھیتیوں باڑیوں اور باغات کے پھلوں سے اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے رہو-
مثلاً پھل توڑنے اور کھیت کاٹنے کے وقت عموماً مفلس لوگ پہنچ جایا کرتے ہیں انہیں کچھ چھوڑ دو تاکہ مسکینوں کے کام آئے۔ ان کے جانوروں کا چارہ ہو، زکوٰۃ سے پہلے بھی حقداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہا کرو، پہلے تو یہ بطور وجوب تھا لیکن زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد بطور نفل رہ گیا زکوٰۃ اس میں عشر یا نصف عشر مقرر کر دی گئی لیکن اس سے فسخ نہ سمجھا جائے۔ پہلے کچھ دینار ہوتا تھا پھر مقدار مقرر کر دی گئی زکوٰۃ کی مقدار سنہ ٢ ہجری میں مقرر ہوئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ کھیتی کاٹتے وقت اور پھل اتارتے وقت صدقہ نہ دینے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی سورۃ القلم، میں ان کا قصہ بیان فرمایا کہ «إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ وَلَا يَسْتَثْنُونَ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» [68-القلم:17-33] ان باغ والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہی آج کے پھل ہم اتار لیں گے اس پر انہوں نے ان شاءاللہ بھی نہ کہا۔ یہ ابھی رات کو بے خبری کی نیند میں ہی تھے وہاں آفت ناگہانی آ گئی اور سارا باع ایسا ہو گیا گویا پھل توڑ لیا گیا ہے بلکہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا ہے یہ صبح کو اٹھ کر ایک دوسرے کو جگا کر پوشیدہ طور سے چپ چاپ چلے کہ ایسا نہ ہو حسب عادت فقیر مسکین جمع ہو جائیں اور انہیں کچھ دینا پڑے یہ اپنے دلوں میں یہی سوچتے ہوئے کہ ابھی پھل توڑ لائیں گے بڑے اہتمام کے ساتھ صبح سویرے ہی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا باغ تو خاک بنا ہوا ہے اولاً تو کہنے لگے بھئی ہم راستہ بھول گئے کسی اور جگہ آ گئے ہمارا باغ تو شام تک لہلہا رہا تھا۔
پھر کہنے لگا نہیں باغ تو یہی ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی ہم محروم ہو گئے -اس وقت ان میں جو باخبر شخص تھا کہنے لگا دیکھو میں تم سے نہ کہتا تھا کہ اللہ کا شکر کرو اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ اب تو سب کے سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے یقیناً ہم نے ظلم کیا پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہم سر کش اور حد سے گزر جانے والے بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی اللہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا ہم اب صرف اپنے رب سے امید رکھتے ہیں۔ ناشکری کرنے اور تنہا خوری پسند کرنے والوں پر اسی طرح ہمارے عذاب آیا کرتے ہیں اور بھی آخرت کے بڑے عذاب باقی ہیں لیکن افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ اور علم و عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یہاں اس آیت میں صدقہ دینے کا حکم فرما کر خاتمے پر فرمایا کہ ’ فضول خرچی سے بچو فضول خرچ اللہ کا دوست نہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ نہ لٹا فخر دریا کے طور پر اپنا مال برباد نہ کرو ‘۔ ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں اتاریں اور عہد کر لیا کہ آج جو لینے آئے گا میں اسے دوں گا لوگ ٹوٹ پڑے شام کو ان کے پاس ایک کھجور بھی نہ رہی۔ اس پر یہ فرمان اترا۔ ہر چیز میں اسراف منع ہے، اللہ کے حکم سے تجاوز کر جانے کا نام اسراف ہے خواہ وہ کسی بارے میں ہو۔ اپنا سارا ہی مال لٹا کر فقیر ہو کر دوسروں پر اپنا انبار ڈال دینا بھی اسراف ہے اور منع ہے، یہ بھی مطلب ہے کہ صدقہ نہ روکو جس سے اللہ کے نافرمان بن جاؤ یہ بھی اسراف ہے گویہ مطلب اس آیت کے ہیں لیکن بظاہر الفاظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کھانے کا ذکر ہے تو اسراف اپنے کھانے پینے میں کرنے کی ممانعت یہاں ہے کیونکہ اس سے عقل میں اور بدن میں ضرر پہنچا ہے۔ قرآن کی اور آیت میں ہے «وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ‘۔ صحیح بخاری میں ہے { کھاؤ پیو پہنو اوڑھو لیکن اسراف اور کبر سے بچو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3605،قال الشيخ الألباني:حسن] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی اللہ نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے ہیں ان میں سے بعض تو بوجھ ڈھونے والے ہیں جیسے اونٹ گھوڑے خچر گدھے وغیرہ اور بعض پستہ قد ہیں جیسے بکری وغیرہ -انہیں «فَرْشً» اس لیے کہا گیا کہ یہ قد و قامت میں پست ہوتے ہیں زمین سے ملے رہتے ہیں -یہ بھی کہا گیا ہے کہ «حَمُولَةً» سے مراد سواری کے جانور اور «فَرْشًا» سے مراد جن کا دودھ پیا جاتا ہے اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو سواری کے قابل نہیں ان کے بالوں سے لحاف اور فرش تیار ہوتے ہیں۔ یہ قول سدی کا ہے اور بہت ہی مناسب ہے۔ خود قرآن کی سورۃ یاسین میں موجود ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ» ۱؎ [36-یس:71-72] ’ کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی؟ کہ ہم نے ان کے لیے چوپائے پیدا کر دیئے ہیں جو ہمارے ہی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں ہم نے ہی تو انہیں ان کے بس میں کر دیا ہے کہ بعض سوریاں کر رہے ہیں اور بعض کو یہ کھانے کے کام میں لاتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:66] مطلب یہ ہے کہ ’ ہم تمہیں ان چوپایوں کا دودھ پلاتے ہیں اور ان کے بال اون وغیرہ سے تمہارے اوڑھنے بچھونے اور طرح طرح کے فائدے اٹھانے کی چیزیں بناتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [16-النحل:5] ’ اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَأَيَّ آيَاتِ اللَّـهِ تُنكِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:79-81] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے جانور پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواریاں کرو انہیں کھاؤ اور بھی فائدے اٹھاؤ ان پر اپنے سفر طے کر کے اپنے کام پورے کرو اسی نے تمہاری سواری کیلئے کشتیاں بنا دیں وہ تمہیں اپنی بےشمار نشانیاں دکھا رہا ہے بتاؤ تو کس کس نشانی کا انکار کرو گے؟ ‘
پھر فرماتا ہے ’ اللہ کی روزی کھاؤ پھل، اناج، گوشت وغیرہ -شیطانی راہ پر نہ چلو، اس کی تابعداری نہ کرو ‘۔ جیسے کہ مشرکوں نے اللہ کی چیزوں میں از خود حلال حرام کی تقسیم کر دی، «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» ۱؎ [35-فاطر:6] ’ تم بھی یہ کر کے شیطان کے ساتھی نہ بنو۔ وہ تمہارا دشمن ہے، اسے دوست نہ سمجھو۔ وہ تو اپنے ساتھ تمہیں بھی اللہ کے عذابوں میں پھنسانا چاہتا ہے ‘۔ «يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا» ۱؎ [7-الأعراف:27] ’ دیکھو کہیں اس کے بہکانے میں نہ آ جانا اسی نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے باہر نکلوایا، اس کھلے دشمن کو بھولے سے بھی اپنا دوست نہ سمجھو ‘۔ «أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا» [18-الكهف:50] ’ اس کی ذریت سے اور اس کے یاروں سے بھی بچو، یاد رکھو ظالموں کو برا بدلہ ملے گا ‘۔ اس مضمون کی اور بھی آیتیں کلام اللہ شریف میں بہت سی ہیں۔
142۔ 1 حُمُولَۃً (بوجھ اٹھانے والے) مراد اونٹ، بیل، گدھا خچر وغیرہ ہیں، جو بار برداری کے کام آتے ہیں اور فَرْشًا سے مراد زمین سے لگے ہوئے جانور، جیسے بکری وغیرہ جس کا دودھ پیتے ہو گوشت کھاتے ہو۔ 142۔ 2 یعنی پھلوں کھیتوں اور چوپایوں سے۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انکو تمہاری خوراک بنایا ہے۔ 142۔ 3 جس طرح مشرکین اس کے پیچھے لگ گئے اور حلال جانوروں کو بھی اپنے اوپر حرام کرلیا گویا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کو حلال کرلینا، یہ شیطان کی پیروی ہے۔
(آیت 142){ وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا:} { ” حَمُوْلَةً “} جن پر بوجھ لادا جاتا ہے، مثلاً اونٹ اور بیل اور {” فَرْشًا “} سے مراد زمین سے لگے ہوئے، جیسے بھیڑ اور بکری۔ (موضح) جیسا کہ اگلی آیات میں ان کی تصریح ہے۔ بیل کی پشت پر اگرچہ بوجھ نہیں لادا جاتا مگر وہ بہت بھاری بوجھ کھینچ کر لے جاتے ہیں، اسے بھی بوجھ لادنا کہہ لیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے یہ کھیت اور چوپائے جو تمھیں عطا کیے ہیں تمھارے لیے حلال ہیں، انھیں کھاؤ اور شیطان کی پیروی مت کرو، جس کے بہکانے پر جاہل مشرکوں نے ان میں سے کئی قسموں کو حرام کر رکھا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا۔
یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے، اے محمدؐ! ان سے پوچھو کہ اللہ نے اُن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
(پیدا کیے) آٹھ نر و ماده یعنی بھیڑ میں دو قسم اور بکری میں دو قسم آپ کہیے کہ کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتاؤ اگر سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
آٹھ نر و مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دنوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(خدا نے) آٹھ قسم کے جوڑے پیدا کیے ہیں دو قسمیں بھیڑ سے اور دو قسمیں بکری سے آپ کہیے کہ آیا اس نے ان دونوں قسم کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں قسم کے ماداؤں کو؟ یا جو دونوں، ماداؤں کے پیٹ میں ہے؟ مجھے علم کی بنیاد پر بتاؤ۔ اگر تم سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔ کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ؟ یا وہ (بچہ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے ٭٭
اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لیے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ -اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں ‘، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ’ بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» ۱؎ [39-الزمر:6] ’ اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں ‘۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4624]
143۔ 1 یعنی انشأ ثمانیۃ ازواج (اسی اللہ تعالیٰ نے آٹھ زوج پیدا کیئے) ایک ہی جنس کے نر اور مادہ کو زوج (جوڑا) کہا جاتا ہے اور ان دونوں کے ایک فرد کو بھی زوج کہہ لیا جاتا ہے کیا ان کہ ہر ایک دوسرے کے لئے زوج ہوتا ہے۔ قرآن میں اس مقام پر بھی ازواج، افراد ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی 8 افراد اللہ نے پیدا کیے۔ جو باہم ایک دوسرے کا جوڑا ہیں یہ نہیں کہ زوج کہ بمعنی جوڑے پیدا کیے کیونکہ اس طرح تعداد 8 کے بجائے 16 ہوجائے گی جو آیت کے اگلے حصہ کے مطابق نہیں ہے۔ 143۔ 2 یہ ثَمَا نِیَۃَ سے بدل ہے اور مراد دو قسم نر اور مادہ یعنی بھیڑ سے نر اور مادہ۔ اور بکری سے نر اور مادہ پیدا کیئے (بھیڑ میں ہی دنبہ چھترا شامل ہے)۔ 143۔ 3 مشرکین بعض جانوروں کو اپنے طور پر ہی حرام کرلیتے تھے، اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پوچھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نروں کو حرام کیا ہے یا ماداؤں کو یا اس بچے کو جو دونوں ماداؤں کے پیٹ میں ہیں؟ مطلب یہ کہ اللہ نے کسی کو حرام نہیں کیا۔ 143۔ 4 تمہارے پاس حرام کردینے کی کوئی دلیل ہے تو پیش کرو کہ بَحِیْرَۃ، سَاَئِبَۃِ، وَصِیْلَۃِ اور حام وغیرہ اس دلیل کی بنیاد پر حرام ہیں۔
(آیت 144،143) ➊ {ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ:} یہ آیت (۱۴۱) میں {” اَنْشَاَ “} کا مفعول بہ ہے۔ {” اَزْوَاجٍ “” زَوْجٌ “} کی جمع ہے۔ عربی میں جوڑے کے دو افراد میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں، نر ہو یا مادہ۔ اس لیے زوجین کا معنی (نر اور مادہ دو قسمیں) ایک جوڑا ہو گا نہ کہ دو جوڑے۔ اسی کے مطابق ترجمہ آٹھ قسمیں کیا گیا ہے۔ ➋ {قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ ……: } جب مشرکین نے اونٹوں، گائیوں اور بھیڑ بکریوں میں سے بعض مخصوص جانوروں کو حرام اور ان کے پیٹ کے بچوں میں سے زندہ بچوں کو عورتوں کے لیے حرام اور مردہ کو سب کے لیے حلال قرار دیا تو اﷲ تعالیٰ اب ان سے اس کی دلیل کا مطالبہ فرما رہے ہیں کہ اگر وہ دلیل عقلی ہے تو بتاؤ کہ حرام ہونے کی وجہ ان دونوں کا نر ہونا ہے، اگر یہ وجہ ہے تو پھر ان میں سے کئی نر تم کیوں کھاتے ہو؟ یا مادہ ہونا ہے تو پھر تم ان میں سے کئی مادہ جانور حلال کیوں سمجھتے ہو؟ یا پیٹ کا بچہ ہونا ہے تو تم کئی پیٹ کے بچے خود کیوں کھاتے ہو اور اگر دلیل نقلی ہے تو اﷲ تعالیٰ کا کوئی حکم لاؤ جس میں اس نے ان جانوروں کے کسی نر یا مادہ یا رحم میں موجود بچے کو تمھارے کہنے کے مطابق حلال یا حرام کہا ہو، یا تم خود اس وقت موجود تھے جب اﷲ تعالیٰ نے حلال یا حرام کرنے کا یہ حکم جاری فرمایا؟ پھر بتاؤ اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے نہ خود سنا، نہ کسی رسول کے واسطے سے سنا بلکہ اپنی طرف سے اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن لُحَیّ کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا، سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور (بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی) اسی نے چھوڑے تھے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب: «ما جعل اﷲ من بحيرة ولا سائبة……» : ۴۶۲۳ ] مقصود مشرکین کے خود ساختہ حرام کیے ہوئے جانوروں کی حرمت کی تردید ہے کہ بحیرہ اور سائبہ وغیرہ جانوروں کو انھوں نے اپنی طرف سے حرام کر رکھا ہے، ورنہ اﷲ تعالیٰ نے یہ جانور حلال کیے ہیں۔ ➌ { وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ:} ہرن بکری کی جنس میں داخل ہے اور بھینس، نیل گائے اور گورخر (جنگلی گدھا) یہ گائے اور بیل کی جنس ہیں۔ یہ جانور عرب میں اتنے نہیں ہوتے۔ چوپاؤں کی مشہور چار قسمیں وہی ہیں جو یہاں مذکور ہیں۔
اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم آپ کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کا حکم دیا؟ تو اس سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے، تاکہ لوگوں کو گمراه کرے یقیناً اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھلاتا
احمد رضا خان بریلوی
اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس طرح دو قسمیں اونٹ سے اور دو قسمیں گائے سے۔ کہو اس (اللہ) نے دونوں قسموں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں قسم کی ماداؤں کو؟ یا جو دونوں ماداؤں کے پیٹ میں ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا الزام لگائے تاکہ کسی علم کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرے بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا (اسے منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو، کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں ماده؟ یا وہ (بچہ ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ یا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمھیں اس کی وصیت کی تھی؟ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، تاکہ لوگوں کو کسی علم کے بغیر گمراہ کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے ٭٭
اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لیے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ -اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں ‘، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ’ بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» ۱؎ [39-الزمر:6] ’ اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں ‘۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4624]
144۔ 1 یہ بھی ثَمَانِیْۃَ سے بدل ہے اور یہاں بھی دو دو قسم سے دونوں کے نر مادہ مراد ہیں اور یوں یہ آٹھ قسمیں پوری ہوگئیں۔ 144۔ 2 یعنی تم جو بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہو، کیا جب اللہ نے ان کی حرمت کا حکم دیا تو تم اس کے پاس موجود تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کی حرمت کا کوئی حکم ہی نہیں دیا۔ یہ سب تمہارا افترا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ 144۔ 3 یعنی یہ ہی سب سے بڑا ظالم ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا کہ میں نے عمر بن لحی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھنچتے ہوئے دیکھا، اس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر وصیلہ اور حام وغیرہ جانور چھوڑنے کا سلسلہ شروع کیا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ عمر بن لحی، خزعہ قبیلے کے سرداروں میں سے تھا جو جرہم قبیلے کے بعد خانہ کعبہ کا ولی بنایا تھا، اس نے سب سے پہلے دین ابراہیمی میں تبدیلی کی قائم کرکے لوگوں کو ان کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور مشرکانہ رسمیں جاری کیں (ابن کثیر) بہرحال مقصود آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مزکورہ آٹھ قسم کے جانور پیدا کرکے بندوں پر احسان فرمایا ہے، ان میں سے بعض جانوروں کو اپنی طرف سے حرام کرلینا، اللہ کے احسان کو رد کرنا بھی ہے اور شرک کا ارتکاب بھی۔
اے محمدؐ! ان سے کہو کہ جو وحی تمہارے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، الا یہ کہ وہ مُردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یاسور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں (کوئی چیز اِن میں سے کھا لے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب در گزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے واﻻ ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے جو وحی میرے پاس آئی ہے میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام ہو سوا اس کے کہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو یہ سب رجس اور گندگی ہے یا پھر فسق ہو (نافرمانی کا ذریعہ ہو یعنی) جو اللہ کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو (یا غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو) ہاں البتہ اگر کوئی مجبور ہو جائے جبکہ وہ نہ باغی و سرکش ہو اور نہ ہی حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو یقینا تمہارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ بیشک وہ گندگی ہے، یا نافرمانی (کا باعث) ہو، جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو بیشک تیرا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرمادیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں سناتا ہوں، اس میں وہ چیزیں حرمت والی نہیں، جن کی حرمت کو تم رائج کر رہے ہو ‘ -کسی کھانے والے پر حیوانوں میں سے سوا ان جانوروں کے جو بیان ہوئے ہیں کوئی بھی حرام نہیں - اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورۃ المائدہ کی آئندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی۔ بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ نہیں کہتے کیونکہ اس میں تو اصلی مباح کو اٹھا دینا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خون وہ حرام ہے جو بوقت ذبح بہہ جاتا ہے، رگوں میں اور گوشت میں جو خون مخلوط ہو وہ حرام نہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گدھوں اور درندوں کا گوشت اور ہنڈیا کے اوپر جو خون کی سرخی آ جائے، اس میں کوئی حرج نہیں جانتی تھیں۔ عمرو بن دینار نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھوں کا کھانا حرام کر دیا ہے“، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہاں حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] تلاوت کرتے ہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:5529] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”اہل جاہلیت بعض چیزیں کھاتے تھے بعض کو بوجہ طبعی کراہیت کے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اپنی کتاب اتاری، حلال حرام کی تفصیل کر دی، پس جسے حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کر دیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموش رہے وہ معاف ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت «قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] کی تلاوت کی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3800،قال الشيخ الألباني:صحیح] { سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مرگئی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ } جواب دیا کہ کیا مردہ بکری کی کھال اتار لینی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ { اس کا صرف کھانا حرام ہے، لیکن تم اسے دباغت دے کر نفع حاصل کر سکتے ہو }۔ چنانچہ انہوں نے آدمی بھیج کر کھال اتروالی اور اس کی مشک بنوائی جو ان کے پاس مدتوں رہی اور کام آئی }۔ رضی اللہ عنہ [صحیح بخاری:6686]
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قنفد (یعنی خار پشت جسے اردو میں ساہی بھی کہتے ہیں) کے کھانے کی نسبت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی اس پر ایک بزرگ نے فرمایا میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ { ایک مرتبہ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ خبیثوں میں سے ایک خبیث ہے } اسے سن کر ابن عمر نے فرمایا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو وہ یقیناً ویسی ہی ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا } -۱؎ [سنن ابوداود:3799،قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد]
پھر فرمایا ’ جو شخص ان حرام چیزوں کو کھانے پر مجبور ہو جائے لیکن وہ باغی اور ہد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اسے اس کا کھا لینا جائز ہے اللہ اسے بخش دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے ‘ - اس کی کامل تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے یہاں تو مشرکوں کے اس فعل کی تردید منظور ہے جو انہوں نے اللہ کے حلال کو حرام کر دیا تھا اب بتا دیا گیا کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ اگر اللہ کی طرف سے وہ بھی حرام ہوتیں تو ان کا ذکر بھی آ جاتا۔ پھر تم اپنی طرف سے حلال کیوں مقرر کرتے ہو؟ اس بنا پر پھر اور چیزوں کی حرمت باقی رہتی جیسے کہ گھروں کے پالتو گدھوں کی ممانعت اور درندوں کے گوشت کی اور جنگل والے پرندوں کی جیسے کہ علماء کا مشہور مذہب ہے (یہ یاد رہے کہ ان کی حرمت قطعی ہے کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور قرآن نے حدیث کا ماننا بھی فرض کیا ہے۔ مترجم)
145۔ 1 اس آیت میں جن چار محرمات کا ذکر ہے، اس کی ضروری تفصیل سورة بقرہ 173 کے حاشیہ میں گزر چکی ہے یہاں یہ نکتہ مزید قابل وضاحت ہے کہ ان چار محرمات کا ذکر کلمہ حصر سے کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چار قسموں کے علاوہ اور جانور بھی شریعت میں حرام ہیں، پھر یہاں حصر کیوں کیا گیا؟ بات دراصل یہ ہے کہ اس سے قبل مشرکین جاہلانہ طریقوں اور ان کے بیان چلا رہا ہے۔ ان ہی میں بعض جانوروں کا بھی ذکر آیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر حرام کر رکھے تھے۔ امام شوکانی نے اس کی توجیہ اس طرح کی ہے اگر یہ آیت مکی نہ ہوتی تو پھر یقینا محرمات کا حصر قابل تسلیم تھا لیکن چونکہ اس کے بعد خود قرآن نے المائدہ میں بعض محرمات کا ذکر کیا ہے اور نبی نے بھی کچھ محرمات بیان فرمائیں ہیں، تو اب وہ بھی ان میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندوں اور درندوں کے حلت وحرمت معلوم کرنے کے لیے دو اصول بیان فرمادئیے ہیں جن کی وضاحت بھی مذکورہ محولہ حاشیہ میں موجود ہے۔ او فسقا کا عطف لحم خنزیر پر ہے۔ اس لیے منصوب ہے، معنی ہی ای ذبح علی الاصنام، وہ جانور جو بتوں کے نام پر یا ان کے تھانوں پر ان کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیے جائیں۔ یعنی ایسے جانوروں پر گو عند الذبح اللہ کا نام لیا جئے تب بھی حرام ہوں گے کیونکہ ان سے اللہ کا تقرب نہیں۔ غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنا مقصود ہے۔ فسق رب کی اطاعت سے خروج کا نام ہے۔ رب نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کیا جائے اور سارا اسی کے تقرب ونیاز کے لیے کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو یہی فسق اور شرک ہے۔
(آیت 145) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ ……:} مردہ سے مراد ہر وہ حلال جانور ہے جو بغیر ذبح کیے طبعی طور پر یا حادثے سے (جس کی تفصیل مائدہ کی آیت ۳ میں ہے) مر جائے یا شرعی طریقے کے خلاف ذبح کیا گیا ہو، مثلاً جان بوجھ کر تیز دھار آلے کی ایک ہی ضرب سے گردن جدا کر دی جائے، یا سخت گرم پانی میں ڈبو کر مار دیا جائے، یا کرنٹ وغیرہ کے ذریعے سے غرض شرعی ذبیحہ یا شکار کے علاوہ سب مردار ہیں اور حرام ہیں۔ خون جو بہایا جائے، زندہ کا یا ذبیحہ کا، حرام ہے، البتہ جسم کے ساتھ لگا رہ جانے والا خون یا کلیجی اور تلی بہایا ہوا خون نہ ہونے کی وجہ سے حلال ہیں۔ خنزیر کا گوشت کہ وہ گندگی ہے، یعنی صحت کے لحاظ سے بے شمار بیماریوں کا باعث ہونے اور بے غیرتی میں بد ترین جانور ہونے کی وجہ سے کھانے والوں میں اس کی تاثیر کی بنا پر معنوی طور پر سراسر گندگی ہے۔ {” اَوْ فِسْقًا “} اس کا عطف {” لَحْمَ خِنْزِيْرٍ “} پر ہے، یعنی یہ بھی اسی طرح حرام ہے۔ {” فِسْقًا “} کا معنی اﷲ کی فرماں برداری سے نکل جانا ہے۔ اﷲ کا حکم ہے کہ جانور اﷲ کے نام پر ذبح کیا جائے، اس لیے وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا جائے، حرام ہے۔{ ” اُهِلَّ “} کا معنی آواز بلند کرنا ہے، کسی جانور پر اگر کسی غیر اﷲ کانام مشہور کر دیا جائے کہ یہ داتا کا بکرا ہے، یا بری امام کی گائے ہے، یا فلاں پیر یا امام کی نذر و نیاز ہے، اس سے مقصود چونکہ غیر اﷲ کو راضی کرنا ہے کہ وہ راضی ہو کر ہمارے کام سنوار دیں گے، اس لیے ایسے جانور کو ان کی رضا کے لیے ذبح کرتے وقت اس پر ” بسم اﷲ “ بھی پڑھی جائے تو بھی حرام ہے، کیونکہ اعتبار نیت کا ہے اور نیت کا اظہار خود ان کی زبانی ہو چکا ہے اور عرس اور قبر کا ماحول بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ ➋ { فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ ……: } یعنی جو شخص مجبوری کی بنا پر ان حرام چیزوں کو کھا لے بشرطیکہ نہ انھیں حلال سمجھے اور نہ ضرورت سے آگے بڑھے تو تیرا رب نہایت بخشنے والا بے حد رحم والا ہے۔ سورۂ بقرہ میں صراحت ہے: «فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ» [البقرۃ: ۱۷۳ ] ”اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “ ➌ اس آیت پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حرام چیزیں تو ان کے علاوہ بھی ہیں، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب کہ میں اپنی طرف کی ہوئی وحی میں ان کے علاوہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا؟ اس کا جواب سورۂ بقرہ کی آیت(۱۷۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دراصل اس زمانے کے مشرکین کے لحاظ سے بات ہو رہی ہے کہ انھوں نے بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام کر رکھا تھا اور مذکورہ بالا چاروں چیزیں وہ حلال سمجھتے اور کھاتے تھے، اس لیے فرمایا کہ میری وحی میں تو تمھاری حرام کردہ چیزیں حرام نہیں، صرف یہ چار چیزیں، جو تم بے دریغ کھاتے ہو، حرام ہیں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ان آیات کے اترنے تک یہی چیزیں حرام تھیں، بعد میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کئی چیزیں حرام فرمائیں، جیسے قرآن مجید میں وہ رشتے مذکور ہیں جن سے نکاح حرام ہے، باقی سب کو حلال فرمایا، مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں ان دو عورتوں کو جو آپس میں خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی ہوں، ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں مزید کئی جانوروں کو حرام قرار دینا ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۳) کے حواشی۔
اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کرد یئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وه جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقیناً سچے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو، ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ یہودی ہوئے ہم نے ان پر تمام کھر والے جانور حرام کر دیئے تھے۔ اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کی چربی بھی حرام کر دی۔ سوا اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتڑیوں سے لگی ہوئی یا ہڈی سے ملی ہوئی ہو ہم نے ان کو بغاوت و سرکشی کی سزا دی تھی اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں پر جو یہودی بن گئے، ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائیوں اور بھیڑ بکریوں میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربیاں حرام کر دیں، سوائے اس کے جو ان کی پشتیں یا انتڑیاں اٹھائے ہوئے ہوں، یا جو کسی ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ ہم نے انھیں ان کی سرکشی کی جزا دی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام ٭٭
ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ”جو کھلی انگلیوں والا نہ ہو۔“ ایک روایت میں ان سے مروی ہے کہ ”ہر ایک جدا انگلیوں والا اور انہی میں سے مرغ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”جیسے اونٹ، شتر مرغ اور بہت سے پرند، مچھلیاں، بطخ اور اس جیسے جانور جن کی انگلیاں الگ الگ ہیں۔“ ان کا کھانا یہودیوں پر حرام تھا۔ اسی طرح گائے بکری کی چربی بھی ان پر حرام تھی۔ یہود کا مقولہ تھا کہ اسرائیل نے اسے حرام کر لیا تھا، اس لیے ہم بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ ہاں جو چربی پیٹھ کے ساتھ لگی ہوئی ہو، انتڑیوں کے ساتھ، اوجھڑی کے ساتھ، ہڈی کے ساتھ ہو وہ ان پر حلال تھی، ’ یہ بھی ان کے ظلم، تکبر اور سرکشی کا بدلہ تھا اور ہماری نافرمانی کا انجام ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ كَثِيرًا» ۱؎ [4-النساء:160] ’ یہودیوں کے ظلم وستم اور راہ حق سے روک کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض پاکیزہ چیزیں بھی حرام کر دی تھیں اور اس جزا میں ہم عادل ہی تھے اور جیسی خبر ہم نے تجھے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دی ہے، وہی سچ اور حق ہے ‘۔
یہودیوں کا یہ کہنا کہ اسرائیل نے اسے حرام کیا تھا، اس لیے ہم اسے اپنے آپ پر بھی حرام کرتے ہیں -سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا کہ سمرہ نے شراب فروشی کی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اللہ اسے غارت کرے، کیا یہ نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2223] جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ والے سال فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت حرام فرمائی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ مردار کی چربیوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس سے چمڑے رنگے جاتے ہیں اور کشتیوں پر چڑھایا جاتا ہے اور چراغ میں جلایا جاتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وہ بھی حرام ہے۔“ پھر اس کے ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:2236] { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور تین مرتبہ یہودیوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: { اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ اللہ تعالیٰ جن پر جو چیز حرام کرتا ہے ان پر اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے } ایک مرتبہ آپ مسجد الحرام میں حطیم کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے آسمان کی طرف دیکھ کر ہنسے اور یہی فرمایا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3488،قال الشيخ الألباني:صحیح] { اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدن کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ سے چادر ہٹا کر فرمایا: { اللہ یہودیوں پر لعنت کرے کہ بکریوں کی چربی کو حرام مانتے ہوئے اس کی قیمت کھاتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2608:صحیح] ابوداؤد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ { اللہ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتا ہے تو اس کی قیمت بھی حرام فرما دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3488،قال الشيخ الألباني:صحیح]
146۔ 1 ناخن والے جانوروں سے مراد وہ ہاتھ والے جانور جن کی انگلیاں پھٹی ہوئی یعنی جدا جدا نہ ہوں۔ جیسے اونٹ شتر مرغ، بطخ، قاز گائے اور بکری وغیرہ۔ ایسے سب چرند پرند حرام تھے۔ گویا صرف وہ جانور اور پرندے ان کے لئے حلال تھے جن کے پنجے کھلے ہوں۔ 146۔ 2 یعنی جو چربی گائے یا بکری کی پشت پر ہو (دنبے کی چکی ہو) یا انتریوں (یا اوجھ) یا ہڈیوں کے ساتھ ملی ہو۔ چربی کی مقدار حلال تھی۔ 146۔ 3 یہ چیزیں ہم نے بطور سزا ان پر حرام کی تھیں یعنی یہود کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ یہ چیزیں حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر حرام کی ہوئی تھیں اور ہم تو ان کو اتباع میں ان کو حرام سمجھتے ہیں۔ 146۔ 4 اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود یقینا اپنے مذکورہ دعوے میں جھوٹے تھے۔
(آیت 146) ➊ {وَ عَلَى الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ……:} ہر ناخن والے جانور سے مراد وہ جانور یا پرندہ ہے جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی، یعنی الگ الگ نہ ہوں، مثلاً اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ، یعنی صرف وہ پرندے یا جانور حلال تھے جن کے پنجے کھلے ہوں۔ ➋ { اَوِ الْحَوَايَاۤ:} یہ {”حَوِيَّةٌ “} کی جمع ہے جیسے {”عِطْيَةٌ“} کی جمع {”عَطَايَا“} اور {”خَطِيَّةٌ“} کی جمع {”خَطَايَا“} ہے، یا یہ {” حَاوِيَةٌ “} کی جمع ہے، جیسے{ ” ضَارِبَةٌ “ } کی جمع{ ” ضَوَارِبٌ “} مطلب وہ انتڑیاں جن میں مینگنیاں ہوتی ہیں۔ ➌ { ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ:} یعنی یہ چیزیں جس طرح اب شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں حرام نہیں ہیں اس سے پہلے بھی حرام نہ تھیں، البتہ یہودیوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینے کے لیے ہم نے انھیں وقتی طور پر حرام کر دیا تھا۔ (دیکھیے نساء: ۱۶۰) مقصد یہودیوں کے اس دعوے کی تردید ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم پر کوئی چیز حرام نہیں کی، سوائے ان چیزوں کے جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے خود اپنے آپ پر حرام کر لی تھیں۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) اور {” اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ “} (بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ دعویٰ غلط ہے اور صحیح بات وہ ہے جو ہم نے بیان کی ہے، نیز دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۳)۔ مگر یہودیوں نے حیلے سے چربی کی ایک صورت حلال کر ہی لی۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال مکہ میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ یہود کو برباد کرے، جب ان کے لیے چربیوں کو حرام کیا گیا تو انھوں نے انھیں پگھلایا اور پھر ان کی قیمت کھا گئے۔“ [ بخاری، البیوع، باب بیع المیتۃ والأصنام: ۲۲۳۶ ] یہ ایسے ہی ہے جیسے آج کل کئی مسلمان شراب خود نہیں پیتے اور خنزیر کا گوشت وغیرہ خود نہیں کھاتے، مگر کفار کے ہاتھوں بیچ کر قیمت کھا جاتے ہیں۔
اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر یہ آپ کو کاذب کہیں تو آپ فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت واﻻ ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا
علامہ محمد حسین نجفی
سو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجئے! کہ آپ کا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے اور مجرموں سے اس کا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہیاور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرک ہو یا کافر توبہ کر لے تو معاف! ٭٭
’ اب بھی اگر تیرے مخالف یہودی اور مشرک وغیرہ تجھے جھوٹا بتائیں تو بھی تو انہیں میری رحمت سے مایوس نہ کر بلکہ انہیں رب کی رحمت کی وسعت یاد دلا تاکہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی تبلیغ ہو جائے، ساتھ ہی انہیں اللہ کے اٹل عذابوں سے بچنے کی طرف بھی متوجہ کر ‘ - پس رغبت رہبت امید ڈر دونوں ہی ایک ساتھ سنا دے -قرآن کریم میں امید کے ساتھ خوف اکثر بیان ہوتا ہے اسی سورت کے آخر میں فرمایا «إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ’ تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ’ تیرا رب لوگوں کے گناہوں پر انہیں بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت تر عذاب کرنیوالا بھی ہے ‘۔ ایک آیت میں ارشاد ہے «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» [15-الحجر:49، 50] ’ میرے بندوں کو میرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے بڑے ہی درد ناک ہونے کی خبر پہنچا دے ‘۔ اور جگہ ہے «غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ» ۱؎ [40-غافر:3] ’ وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے ‘۔ نیز کئی آیتوں میں ہے «إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ» ۱؎ [85-البروج:12-14] ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی بھاری اور نہایت سخت ہے۔ وہی ابتداء کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا وہ غفور ہے، ودود ہے، بخشش کرنے والا ہے، مہربان اور محبت کرنے والا ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں۔
147۔ 1 اس لئے تکذیب کے باوجود عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ 147۔ 2 یعنی مہلت دینے کا مطلب ہمیشہ کے لئے عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا نہیں ہے۔ وہ جب بھی عذاب دینے کا فیصلہ کرے گا تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔
(آیت 147) {فَإِنْ كَذَّبُوكَ ……:} یعنی اگر تم اب بھی نافرمانی کی روش چھوڑ کر حق کی سیدھی راہ اختیار کر لو تو اپنے رب کے دامنِ رحمت کو اپنے لیے کھلا پاؤ گے، لیکن اگر اپنی موجودہ روش پر اڑے رہے تو یہ مت سمجھو کہ اﷲ کا عذاب تم پر سے ٹل گیا ہے، جب اس کا عذاب آتا ہے تو مجرموں اور سرکشوں کو کوئی چیز اس سے بچا نہیں سکتی۔ اﷲ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آیت کے پہلے حصے {” ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ “} میں ترغیب (شوق دلانا) ہے اور آخری حصہ {” وَ لَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ “} میں ترہیب (ڈرانا) ہے اور یہ قرآن کا خاص اندازِ نصیحت ہے۔ (ابن کثیر)
یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ "اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے" ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا ان سے کہو "کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کامزه چکھا۔ آپ کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ﻇاہر کرو۔ تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے مشرک کہ اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو نرے گمان (خام خیال) کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے پاس کوئی علمی دلیل ہے تو اسے ہمارے سامنے ظاہر کرو۔ تم تو محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب وہ لوگ کہیں گے جنھوں نے شریک بنائے ہیں، اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شریک بناتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ کہہ کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کر رہے اور تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ چاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے۔ جیسے ان کا یہی قول آیت «وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:20] میں اور سورۃ النحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔ فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35] ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119] ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا۔
148۔ 1 یہ وہی مغالطہ ہے جو مشیت الٰہی اور رضائے الٰہی کو ہم معنی سمجھ لینے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ 148۔ 2 اللہ تعالیٰ نے اس مغالطے کا ازالہ اس طرح فرمایا اگر یہ شرک اللہ کی رضا کا مظہر تھا تو پھر ان پر عذاب کیوں آیا، عذاب الٰہی سے اس بات کی دلیل ہے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضائے الٰہی اور چیز۔ 148۔ 3 یعنی اپنے دعوے پر تمہارے پاس دلیل ہے تو پیش کرو لیکن ان کے پاس دلیل کہاں؟ وہاں تو صرف اوہام و ظنون ہی ہیں۔
(آیت 148) ➊ { سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ……:} یعنی جب وہ اپنے شرک اور مجرمانہ روش پر قائم رہنے کی دلیل نہیں پاتے تو تقدیر کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں خود اﷲ کی مرضی اور ارادہ یہ ہے کہ ہم شرک کریں اور جو چیزیں ہم نے حرام ٹھہرائی ہیں انھیں حرام ٹھہرائیں، کیونکہ اگر اﷲ تعالیٰ کی مرضی نہ ہوتی تو ہم سے یہ کام ہو ہی نہیں سکتے تھے، یہ دلیل ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس پر اﷲ تعالیٰ خوش ہے، لہٰذا یہ صحیح اور حق ہے۔ مطلب یہ کہ انھوں نے اﷲ کی مشیت، مرضی اور ارادے کو شرک کے اور بعض حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لینے کے صحیح اور حق ہونے کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا، گویا ان کے کہنے کے مطابق اﷲ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کاموں پر خوش ہے اور انھیں پسند کرتا ہے اور وہ درست ہیں، حالانکہ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم نہیں، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَوَ اِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ» [ الزمر: ۷ ] ” اگر تم ناشکری کرو تو یقینا اﷲ تم سے بہت بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمھارے لیے پسند کرے گا۔“ یعنی کفر اور ناشکری اﷲ کے ارادے کے بغیر نہیں ہو سکتی مگر وہ نہ اس پر راضی ہے نہ اسے پسند کرتا ہے۔ مشیت و ارادہ اور رضا و محبت ایک دوسرے کو لازم نہیں، دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے کے تحت ہو رہا ہے لیکن وہ ہر چیز پر راضی نہیں ہے رضا اس کی شریعت کی پابندی کا نام ہے اور ارادہ و مشیت اس کی تکوین ہے یعنی اس کا کائنات کو چلانے کا نظام ہے۔ تکوینی طور پر وہ کیا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں جانتا اور نہ جان سکتا ہے، تشریعی طور پر وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے یہ بتانے کے لیے اس نے پیغمبر بھیجے اور ہر شخص اسے جان سکتا ہے اس لیے ہم شریعت پر عمل کے پابند ہیں۔ ➋ {كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی در حقیقت یہ بات کہنا اور اﷲ کی تقدیر اور مشیت کو اس کے خوش ہونے کی دلیل قرار دینا اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب (جھٹلانا) ہے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اسی بہانے کو بنیاد بنا کر رسولوں کو جھٹلاتے آئے ہیں۔ ➌ { حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا:} یعنی ان کا یہ عذر قطعی غلط اور بے بنیاد ہے۔ اگر یہ صحیح ہوتا تو ان سے پہلے لوگوں پر ان کے جرائم اور تکذیب کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ اپنا عذاب کیوں نازل کرتا؟ (ابن کثیر) ➍ {قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ ……: } یعنی تم جو یہ عذر پیش کر رہے ہو وہ کسی عقلی یا علمی بنیاد پر قائم نہیں ہے، اگر تمھارے پاس علم کی کوئی بات ہے تو لاؤ اور پیش کرو۔ کبھی دنیا کی کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے بھی تم نے تقدیر کو بہانہ بنا کر جدوجہد کو ترک کیا ہے، یا اﷲ تعالیٰ نے تمھیں پہلے بتا دیا ہے کہ میں نے آئندہ اس طرح کرنا ہے۔ جب تمھیں معلوم ہی نہیں کہ تقدیر میں کیا ہے تو یہ بہانہ یا شبہ محض تمھارا وہم و گمان ہے اور تم لوگ صرف اٹکل لگا کر اﷲ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہو، جب کہ حقیقت کی دنیا میں وہم و گمان کی کچھ حیثیت نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم(۲۳ اور ۲۸)۔
پھر کہو (تمہاری اس حجت کے مقابلہ میں) "حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہیے کہ بس پوری حجت اللہ ہی کی رہی۔ پھر اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لے آتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے تو وہ چاہتا تو سب کی ہدایت فرماتا،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ اللہ کی دلیل زبردست ہے۔ اگر اللہ (اپنی مشیت قاہرہ سے) چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ چاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے۔ جیسے ان کا یہی قول آیت «وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:20] میں اور سورۃ النحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔ فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35] ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119] ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 149){ قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ……:} آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کامل دلیل تو اﷲ تعالیٰ ہی کی ہے جو واقع کے عین مطابق ہے کہ اس کی مشیت، ارادہ اور اختیار الگ چیز ہے اور کسی کام پر راضی اور خوش ہونا الگ چیز ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے کہ اس نے تمھیں ہدایت اور گمراہی کا اختیار دے کر آزمایا ہے، اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا، پھر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا تھا، مگر یہ جبر ہوتا، جو اس کی حکمت کا تقاضا نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ ھود (۱۱۸، ۱۱۹) اور سورۂ یونس(۹۹)۔
ان سے کہو کہ "لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے اِن چیزوں کو حرام کیا ہے" پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا، اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے، اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا ہے، پھر اگر وه گواہی دے دیں تو آپ اس کی شہادت نہ دیجئے اور ایسے لوگوں کے باطل خیاﻻت کا اتباع مت کیجئے! جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور وه جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وه اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں تو تُو اے سننے والے! ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! لاؤ اپنے ان گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے؟ اور اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو آپ نہ ان کے ساتھ گواہی دیجئے اور نہ ہی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کیجئے۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے پروردگار کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو شہادت دیں کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں، پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو توُ ان کے ساتھ شہادت مت دے اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے مت چل جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ چاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے۔ جیسے ان کا یہی قول آیت «وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:20] میں اور سورۃ النحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔ فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35] ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119] ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا۔
150۔ 1 یعنی وہ جانور، جن کو مشرکین حرام قرار دیے ہوئے تھے۔ 150۔ 2 کیونکہ ان کے پاس سوائے کذب و افترا کے کچھ نہیں۔ 150۔ 3 یعنی اس کا عدیل (برابر کا) ٹھہرا کر شرک کرتے ہیں۔
(آیت 150) ➊ {فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ:} کیونکہ جو بھی یہ گواہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہو سکتا۔ ➋ {وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ:} یعنی وہ مخلوق کو رب کے برابر ٹھہرا کر شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں، خواہ کسی طرح برابر ٹھہرائیں، حالانکہ رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کی برابری ہو ہی نہیں سکتی، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ علم میں، نہ حقوق و اختیار میں اور نہ کسی اور چیز میں، تو پھر ایسے جاہلوں کی خواہشات کی پیروی آپ کیوں اختیار کریں؟ دیکھیے سورۂ رعد (۱۶) اور سورۂ شعراء (۹۱ تا ۹۸)۔