بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 147
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 147
آیت نمبر: 147 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ رَّبُّکُمۡ ذُوۡ رَحۡمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاۡسُہٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾
اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا
پھر اگر یہ آپ کو کاذب کہیں تو آپ فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت واﻻ ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا
پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا
سو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجئے! کہ آپ کا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے اور مجرموں سے اس کا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہیاور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرک ہو یا کافر توبہ کر لے تو معاف! ٭٭

’ اب بھی اگر تیرے مخالف یہودی اور مشرک وغیرہ تجھے جھوٹا بتائیں تو بھی تو انہیں میری رحمت سے مایوس نہ کر بلکہ انہیں رب کی رحمت کی وسعت یاد دلا تاکہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی تبلیغ ہو جائے، ساتھ ہی انہیں اللہ کے اٹل عذابوں سے بچنے کی طرف بھی متوجہ کر ‘ - پس رغبت رہبت امید ڈر دونوں ہی ایک ساتھ سنا دے -قرآن کریم میں امید کے ساتھ خوف اکثر بیان ہوتا ہے اسی سورت کے آخر میں فرمایا «إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور غفور و رحیم بھی ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] ‏‏‏‏ ’ تیرا رب لوگوں کے گناہوں پر انہیں بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت تر عذاب کرنیوالا بھی ہے ‘۔ ایک آیت میں ارشاد ہے «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» [15-الحجر:49، 50] ‏‏‏‏ ’ میرے بندوں کو میرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے بڑے ہی درد ناک ہونے کی خبر پہنچا دے ‘۔ اور جگہ ہے «غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ» ۱؎ [40-غافر:3] ‏‏‏‏ ’ وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے ‘۔ نیز کئی آیتوں میں ہے «إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ» ۱؎ [85-البروج:12-14] ‏‏‏‏ ’ تیرے رب کی پکڑ بڑی بھاری اور نہایت سخت ہے۔ وہی ابتداء کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا وہ غفور ہے، ودود ہے، بخشش کرنے والا ہے، مہربان اور محبت کرنے والا ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں۔

📖 احسن البیان

147۔ 1 اس لئے تکذیب کے باوجود عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ 147۔ 2 یعنی مہلت دینے کا مطلب ہمیشہ کے لئے عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا نہیں ہے۔ وہ جب بھی عذاب دینے کا فیصلہ کرے گا تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 147) {فَإِنْ كَذَّبُوكَ ……:} یعنی اگر تم اب بھی نافرمانی کی روش چھوڑ کر حق کی سیدھی راہ اختیار کر لو تو اپنے رب کے دامنِ رحمت کو اپنے لیے کھلا پاؤ گے، لیکن اگر اپنی موجودہ روش پر اڑے رہے تو یہ مت سمجھو کہ اﷲ کا عذاب تم پر سے ٹل گیا ہے، جب اس کا عذاب آتا ہے تو مجرموں اور سرکشوں کو کوئی چیز اس سے بچا نہیں سکتی۔ اﷲ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آیت کے پہلے حصے {” ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ “} میں ترغیب (شوق دلانا) ہے اور آخری حصہ {” وَ لَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ “} میں ترہیب (ڈرانا) ہے اور یہ قرآن کا خاص اندازِ نصیحت ہے۔ (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (146) پوری سورۃ اگلی آیت (148) →