بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 139
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 139
آیت نمبر: 139 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۳۹﴾
اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے
اور وه کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں ہے وه خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر وه مرده ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ ابھی اللہ ان کو ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے بلاشبہ وه حکمت واﻻ ہے اور وه بڑا علم واﻻ ہے
اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں اِن کی اُن باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،
اور وہ کہتے ہیں کہ جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردار ہوں تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب اللہ ان کو اس بات بنانے کا بدلہ دے گا۔
اور انھوں نے کہا جو ان چوپائوں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری بیویوں پر حرام کیا ہوا ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو وہ سب اس میں شریک ہیں۔ عنقریب وہ انھیں ان کے کہنے کی جزا دے گا۔ بے شک وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نذر نیاز ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کر دیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا“ - شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مر جاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔‏‏‏‏“ «وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:116-117] ‏‏‏‏ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لیے ان سے دور کر دی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کر لیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کر دیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بے حکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔

📖 احسن البیان

139۔ 1 یہ ایک اور شکل ہے کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام وقف کرتے، ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت برابر ہیں۔ 139۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جو غلط بیانی کرتے ہیں اور اللہ پر افترا باندھتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ انہیں سزا دے گا۔ وہ اپنے فیصلوں میں حکیم ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں پوری طرح علم رکھنے والا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے مطابق وہ جزا اور سزا کا اہتمام فرمائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 139){ وَ قَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامٌ ……:} یہ ایک اور شکل تھی کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام پر وقف کرتے ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے والا زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے، ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو پھر مرد اور عورت اس کے کھانے میں برابر کے شریک ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کی ان غلط بیانیوں پر عنقریب انھیں بدلہ دے گا اور اپنی کامل حکمت اور علم کے مطابق دے گا۔
← پچھلی آیت (138) پوری سورۃ اگلی آیت (140) →