بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 144
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 144
آیت نمبر: 144 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ اَمۡ کُنۡتُمۡ شُہَدَآءَ اِذۡ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِہٰذَا ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾٪
اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا
اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم آپ کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کا حکم دیا؟ تو اس سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے، تاکہ لوگوں کو گمراه کرے یقیناً اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھلاتا
اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا،
اور اس طرح دو قسمیں اونٹ سے اور دو قسمیں گائے سے۔ کہو اس (اللہ) نے دونوں قسموں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں قسم کی ماداؤں کو؟ یا جو دونوں ماداؤں کے پیٹ میں ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا الزام لگائے تاکہ کسی علم کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرے بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا (اسے منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔
اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو، کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں ماده؟ یا وہ (بچہ ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ یا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمھیں اس کی وصیت کی تھی؟ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، تاکہ لوگوں کو کسی علم کے بغیر گمراہ کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے ٭٭

اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لیے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ -اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں ‘، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ’ بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» ۱؎ [39-الزمر:6] ‏‏‏‏ ’ اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں ‘۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔ سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4624] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

144۔ 1 یہ بھی ثَمَانِیْۃَ سے بدل ہے اور یہاں بھی دو دو قسم سے دونوں کے نر مادہ مراد ہیں اور یوں یہ آٹھ قسمیں پوری ہوگئیں۔ 144۔ 2 یعنی تم جو بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہو، کیا جب اللہ نے ان کی حرمت کا حکم دیا تو تم اس کے پاس موجود تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کی حرمت کا کوئی حکم ہی نہیں دیا۔ یہ سب تمہارا افترا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ 144۔ 3 یعنی یہ ہی سب سے بڑا ظالم ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا کہ میں نے عمر بن لحی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھنچتے ہوئے دیکھا، اس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر وصیلہ اور حام وغیرہ جانور چھوڑنے کا سلسلہ شروع کیا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ عمر بن لحی، خزعہ قبیلے کے سرداروں میں سے تھا جو جرہم قبیلے کے بعد خانہ کعبہ کا ولی بنایا تھا، اس نے سب سے پہلے دین ابراہیمی میں تبدیلی کی قائم کرکے لوگوں کو ان کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور مشرکانہ رسمیں جاری کیں (ابن کثیر) بہرحال مقصود آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مزکورہ آٹھ قسم کے جانور پیدا کرکے بندوں پر احسان فرمایا ہے، ان میں سے بعض جانوروں کو اپنی طرف سے حرام کرلینا، اللہ کے احسان کو رد کرنا بھی ہے اور شرک کا ارتکاب بھی۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (143) پوری سورۃ اگلی آیت (145) →