بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
العلق
سورۃ العلق — 19 آیات
قرآن کریم Surah 96
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کائنات کو) پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔‏‏‏‏“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] ‏‏‏‏ سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] ‏‏‏‏ تک پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔ ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔ ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔‏‏‏‏“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956] ‏‏‏‏

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] ‏‏‏‏ اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1)
یہ قرآن مجید کی پہلی وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ایک لمبی حدیث میں وحی کے آغاز کا ذکر ہے کہ وہ سچے خوابوں سے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں کئی کئی راتیں خلوت اختیار کرنے لگے۔ وہیں آپ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: [ اِقْرَأْ ] ”پڑھ۔“ آپ نے کہا: [ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ] ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ جبریل علیہ السلام نے آپ کو زور سے دبایا اور پھر وہی لفظ {”اِقْرَأْ“} کہا۔ آپ وہی جواب {”مَا أَنَا بِقَارِئٍ “} دیتے رہے۔ تیسری دفعہ زور سے دبانے کے بعد فرشتے نے کہا: «‏‏‏‏اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ (1) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ‏‏‏‏ [ العلق: ۱تا۵ ] [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: ۴۹۵۳ ] (آیت 1) ➊ {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ:} پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دینے سے پڑھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دیتے وقت اپنے رب ہونے اور پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ سب سے پہلی اور بڑی نعمت پیدا کرنا ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، خلق ہی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ دوسری نعمت رب ہونا، یعنی پرورش کرنا ہے۔ یعنی ان نعمتوں والی ہستی کے نام کی برکت سے پڑھ، اس کی برکت سے تو قاری بھی بن جائے گا۔ ➌ {” الَّذِيْ خَلَقَ “} (جس نے پیدا کیا) کا مفعول حذف کر دیا گیا ہے کہ کسے پیدا کیا؟ یعنی جب پیدا کرنا اسی کا کام ہے، تو پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسے پیدا کیا۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو
علامہ محمد حسین نجفی
(بالخصوص) انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔‏‏‏‏“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] ‏‏‏‏ سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] ‏‏‏‏ تک پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔ ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔ ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔‏‏‏‏“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956] ‏‏‏‏

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] ‏‏‏‏ اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏
2۔ 1 مخلوقات میں سے بطور خاص انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جس سے اس کا شرف واضح ہے۔
(آیت 2) {خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ:} رحم میں قرار پکڑنے کے بعد نطفہ سب سے پہلے ”علقہ“ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ {”عَلِقَ يَعْلَقُ“} (س) چمٹنے کوکہتے ہیں۔ {”عَلَقَةٌ“} جما ہوا خون، جو رحم کی دیوار کے کسی حصے سے چپک جاتا ہے۔ ”علقہ“ کا دوسرا معنی جونک ہے، وہ بھی کسی نہ کسی کو چمٹ جاتی ہے۔ خون کی وہ پھٹکی شکل و صورت میں جونک سے ملتی جلتی ہوتی ہے، اس میں نہ جان ہوتی ہے نہ شعور اور نہ عقل و علم۔ پھر اللہ تعالیٰ اس حقیر سی پھٹکی سے انسان جیسی عظیم مخلوق پیدا فرما دیتا ہے۔
اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،
علامہ محمد حسین نجفی
پڑھئیے! اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔‏‏‏‏“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] ‏‏‏‏ سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] ‏‏‏‏ تک پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔ ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔ ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔‏‏‏‏“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956] ‏‏‏‏

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] ‏‏‏‏ اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏
3۔ 1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔
(آیت 4،3) ➊ {اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہشت زدہ ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ فرمایا، پڑھ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔ ➋ یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے، یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہو جاتا۔
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا
احمد رضا خان بریلوی
جس نے قلم سے لکھنا سکھایا
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے قَلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔‏‏‏‏“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] ‏‏‏‏ سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] ‏‏‏‏ تک پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔ ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔ ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔‏‏‏‏“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956] ‏‏‏‏

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] ‏‏‏‏ اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏
4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور انسان کو وہ کچھ پڑھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔‏‏‏‏“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] ‏‏‏‏ سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» ۱؎ [96-العلق:5] ‏‏‏‏ تک پڑھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔‏‏‏‏“

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔ ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔ ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔‏‏‏‏“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4956] ‏‏‏‏

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] ‏‏‏‏ اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ اور اسی اثر میں ہے کہ { جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا }۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت5){ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ:} انسان پیدا ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا (دیکھیے نحل: ۷۸) اللہ تعالیٰ ہی اسے آہستہ آہستہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو عالم بلکہ عالموں کا استاذ بنائے گا۔
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! انسان (اس وقت) سرکشی کرنے لگتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6تا8) ➊ { كَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى …: ” كَلَّا “} کا معنی ”ہر گز نہیں“، ” خبردار“ اور ”حق یہ ہے“ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ {” الرُّجْعٰى”رَجَعَ يَرْجِعُ“} (ض) سے {”بُشْرٰي“} کے وزن پر مصدر ہے۔ ➋ یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا: ”کیا میں نے تمھیں اس سے منع نہیں کیا؟“ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا: ”تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھی مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں: «‏‏‏‏فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» [العلق: 18،17 ] ”پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔ ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔“ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ اقرأ باسم ربک: ۳۳۴۹ ] ترمذی اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ ➌ سورت کی ابتدائی پانچ آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ انسان اتنی نعمتیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ملنے کے باوجود احسان ماننے اور شکر کرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کی ہر چیز دے کر دوسروں سے غنی کر دیتا ہے تو وہ بندگی کی حد سے نکل کر مقابلے پر آجاتا ہے۔ فرمایا، بندے! جتنی چاہے سرکشی کر لے، یقینا تجھے اپنے رب کے پاس واپس آنا ہے۔
اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿ؕ۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس لئے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا
علامہ محمد حسین نجفی
جب وہ سمجھتا ہے کہ وہ (غنی) بےنیاز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس لیے وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی ؕ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پلٹنا یقیناً تیرے رب ہی کی طرف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک آپ(ص) کے پروردگار کی طرف ہی (سب کی) بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقیناتیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نے دیکھا اُس شخص کو
مولانا محمد جوناگڑھی
(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تونے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9تا14){ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى …:} ان آیات میں ابوجہل کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا، اے مخاطب! بھلا تونے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہِ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے؟ پھر کیا تونے دیکھا کہ اگر یہ منع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے؟ آیت: «‏‏‏‏اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤى (11) اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى» ‏‏‏‏ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تونے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے روکنے کے بجائے ہدایت پر ہوتا یا نیکی کا حکم دیتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔
عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ وه بنده نماز ادا کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بندے کو جب وہ نماز پڑھے
علامہ محمد حسین نجفی
ایک بندہ (خاص) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
10۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ روکنے والے سے مراد ابو جہل ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الۡہُدٰۤی ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہ راست پر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو
احمد رضا خان بریلوی
بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا دیکھئے تو! اگر وہ (بندۂ خاص) ہدایت پر ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
11۔ 1 یعنی جس کو یہ نماز پڑھنے سے روک رہا ہے، وہ ہدایت پر ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰی ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو
احمد رضا خان بریلوی
یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ پرہیزگاری کا حکم دیتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
یا اس نے پرہیزگاری کا حکم دیا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ‏‏‏‏۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ { دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا }۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔ اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے }۔ [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ‏‏‏‏۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ }۔ پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» ۱؎ [96-العلق:6] ‏‏‏‏ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797] ‏‏‏‏
12۔ 1 یعنی اخلاص، توحید، اور عمل صالح کی تعلیم، جس سے جہنم کی آگ سے انسان بچ سکتا ہے تو کیا یہ چیزیں (نماز، روزہ وغیرہ) ایسی ہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے اور اس پر اس کو دھمکیاں دی جائیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منھ پھیرتا ہو تو
احمد رضا خان بریلوی
بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا اور منہ پھیرا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اگر یہ شخص (حق کو) جھٹلاتا ہے اور (اس سے) رُوگردانی کرتا ہے توانجام کیا ہوگا؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تونے دیکھا اگر اس ( منع کرنے والے) نے جھٹلایااور منہ موڑا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
13۔ 1 یعنی یہ ابو جہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
3۔ 1 مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کو اسکی سزا دے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں اگر وہ (اس سے) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، یقینا اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)
(آیت 15تا18) ➊ {كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًۢا …: ” لَمْ يَنْتَهِ “} وہ باز نہ آيا {”اِنْتَهٰي يَنْتَهِيْ اِنْتِهَاءً“} (افتعال) سے جحد معلوم ہے۔ {” يَنْتَهِ “} اصل میں {”يَنْتَهِيْ“} تھا، حرف جزم {” لَمْ “} کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {” لَنَسْفَعًا“} اصل میں {”لَنَسْفَعَنْ“} ہے، جو {”سَفَعَ يَسْفَعُ“} (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیفہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لیے نون تنوین {”خَبِيْرًا “} اور {” بَصِيْرًا“} کی طرح اسے بھی {”لَنَسْفَعَنْ“} کے بجائے {” لَنَسْفَعًا “} کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمان رضی اللہ عنہ کی پیروی کی گئی ہے۔ {” وَ لَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ “} بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۳۲) کی تفسیر۔ {”اَلنَّاصِيَةُ “} سر کے اگلے حصے کے بالوں کو ”ناصیہ“ کہا جاتا ہے۔ {” الزَّبَانِيَةَ “ ” زِبْنِيَّةٌ “} کی جمع ہے۔ عرب پولیس کے سپاہی کو {”زِبْنِيَّةٌ “} کہتے ہیں۔ یہ {”زَبَنَ يَزْبِنُ زَبْنًا“} (ض) سے مشتق ہے جس کا معنی ”ہٹانا، دھکا دینا“ ہے۔ چونکہ افسر جس سے ناراض ہو سپاہی اسے دھکے مار کر نکال دیتے ہیں، اس لیے انھیں ”زبانیہ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں جہنم کے فرشتے مراد ہیں کہ اگر یہ باز نہ آیا تو وہ اسے دھکے دے کرنکال دیں گے، بلکہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ ➋ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے کہا: ”کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھارے ہوتے ہوئے اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے؟“ کہا گیا: ”ہاں!“ ابوجہل نے کہا: ”لات اور عزیٰ کی قسم! اگر میں نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا، یا اس کے چہرے کو مٹی سے لت پت کر دوں گا۔“ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس کا ارادہ آپ کی گردن کو روندنے کا تھا، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایڑیوں پر واپس پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ کسی چیز سے بچ رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا: ” تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق، بڑا ہولناک منظر اور پَر ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [لَوْ دَنَا مِنِّيْ لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا ] [مسلم، صفات المنافقین، باب قولہ: «إن الإنسان لیطغٰی…» : ۲۷۹۷ ] ”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسے ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔“
نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ پیشانی جو جھوٹی ہے اور گنہگار؟
عبدالسلام بن محمد
پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
(5) پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ بلا لے اپنے حامیوں کی ٹولی کو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے
احمد رضا خان بریلوی
اب پکارے اپنی مجلس کو
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ بلائے اپنے ہم نشینوں کو۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم بھی دوزخ کے ہرکاروں (فرشتوں) کو بلائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ " میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ صلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا ؕ لَا تُطِعۡہُ وَ اسۡجُدۡ وَ اقۡتَرِبۡ ﴿٪ٛ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں، اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ، (السجدة ۔۱۴)
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! اس کی بات نہ مانیے اورسجدہ کیجئے اور (اپنے پروردگار کا) قرب حاصل کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، اس کا کہنا مت مان اور سجدہ کر اور بہت قریب ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19) ➊ { كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ:} فرمایا، وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے تو آپ اس کا کہنا ہرگز نہ مانیں، بلکہ آپ نماز پڑھتے، سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲ ] ”بندہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو، تو تم (سجدے میں) دعا زیادہ کیا کرو۔ “ صحیح مسلم ہی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ [ دیکھیے مسلم، المساجد، باب سجود التلاوۃ: ۱۰۸ /۵۷۸] ➋ اگرچہ ان آیات کا اوّلین مصداق ابو جہل ہے، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں، خواہ کوئی ہو اور کسی زمانے کا ہو اور ہر مومن کو حکم ہے کہ ایسے سرکش آدمی کاکہنا نہ مانے اور اللہ کے سامنے سجدہ کرتا رہے اور اس کا قرب تلاش کرتا رہے۔