بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العلق — Surah Alaq
آیت نمبر 18
کل آیات: 19
قرآن کریم العلق آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ العلق islamicurdubooks.com ↗
سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے
ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں
ہم بھی دوزخ کے ہرکاروں (فرشتوں) کو بلائیں گے۔
ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔

📖 احسن البیان

(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ " میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ صلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →