بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العلق — Surah Alaq
آیت نمبر 19
کل آیات: 19
قرآن کریم العلق آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ العلق islamicurdubooks.com ↗
کَلَّا ؕ لَا تُطِعۡہُ وَ اسۡجُدۡ وَ اقۡتَرِبۡ ﴿٪ٛ۱۹﴾
ہرگز نہیں، اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو
خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا
ہاں ہاں، اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ، (السجدة ۔۱۴)
ہرگز نہیں! اس کی بات نہ مانیے اورسجدہ کیجئے اور (اپنے پروردگار کا) قرب حاصل کیجئے۔
ہرگز نہیں، اس کا کہنا مت مان اور سجدہ کر اور بہت قریب ہو جا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ:} فرمایا، وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے تو آپ اس کا کہنا ہرگز نہ مانیں، بلکہ آپ نماز پڑھتے، سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲ ] ”بندہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو، تو تم (سجدے میں) دعا زیادہ کیا کرو۔ “ صحیح مسلم ہی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ [ دیکھیے مسلم، المساجد، باب سجود التلاوۃ: ۱۰۸ /۵۷۸] ➋ اگرچہ ان آیات کا اوّلین مصداق ابو جہل ہے، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں، خواہ کوئی ہو اور کسی زمانے کا ہو اور ہر مومن کو حکم ہے کہ ایسے سرکش آدمی کاکہنا نہ مانے اور اللہ کے سامنے سجدہ کرتا رہے اور اس کا قرب تلاش کرتا رہے۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت →