بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العلق — Surah Alaq
آیت نمبر 15
کل آیات: 19
قرآن کریم العلق آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ العلق islamicurdubooks.com ↗
کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾
ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے
ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے
ہرگز نہیں اگر وہ (اس سے) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔
ہرگز نہیں، یقینا اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ }۔ [صحیح مسلم:482] ‏‏‏‏ پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے }۔ [صحیح مسلم:578] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 15تا18) ➊ {كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًۢا …: ” لَمْ يَنْتَهِ “} وہ باز نہ آيا {”اِنْتَهٰي يَنْتَهِيْ اِنْتِهَاءً“} (افتعال) سے جحد معلوم ہے۔ {” يَنْتَهِ “} اصل میں {”يَنْتَهِيْ“} تھا، حرف جزم {” لَمْ “} کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {” لَنَسْفَعًا“} اصل میں {”لَنَسْفَعَنْ“} ہے، جو {”سَفَعَ يَسْفَعُ“} (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیفہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین ”الف“ کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لیے نون تنوین {”خَبِيْرًا “} اور {” بَصِيْرًا“} کی طرح اسے بھی {”لَنَسْفَعَنْ“} کے بجائے {” لَنَسْفَعًا “} کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمان رضی اللہ عنہ کی پیروی کی گئی ہے۔ {” وَ لَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ “} بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۳۲) کی تفسیر۔ {”اَلنَّاصِيَةُ “} سر کے اگلے حصے کے بالوں کو ”ناصیہ“ کہا جاتا ہے۔ {” الزَّبَانِيَةَ “ ” زِبْنِيَّةٌ “} کی جمع ہے۔ عرب پولیس کے سپاہی کو {”زِبْنِيَّةٌ “} کہتے ہیں۔ یہ {”زَبَنَ يَزْبِنُ زَبْنًا“} (ض) سے مشتق ہے جس کا معنی ”ہٹانا، دھکا دینا“ ہے۔ چونکہ افسر جس سے ناراض ہو سپاہی اسے دھکے مار کر نکال دیتے ہیں، اس لیے انھیں ”زبانیہ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں جہنم کے فرشتے مراد ہیں کہ اگر یہ باز نہ آیا تو وہ اسے دھکے دے کرنکال دیں گے، بلکہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ ➋ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے کہا: ”کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھارے ہوتے ہوئے اپنا چہرہ زمین پر رکھتا ہے؟“ کہا گیا: ”ہاں!“ ابوجہل نے کہا: ”لات اور عزیٰ کی قسم! اگر میں نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا، یا اس کے چہرے کو مٹی سے لت پت کر دوں گا۔“ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس کا ارادہ آپ کی گردن کو روندنے کا تھا، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایڑیوں پر واپس پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ کسی چیز سے بچ رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا: ” تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق، بڑا ہولناک منظر اور پَر ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [لَوْ دَنَا مِنِّيْ لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا ] [مسلم، صفات المنافقین، باب قولہ: «إن الإنسان لیطغٰی…» : ۲۷۹۷ ] ”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسے ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔“
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →