بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو قرآن پڑھے اس کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل جو قرآن پڑھے اس کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 31
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 3338 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جس آدمی کے سینے میں قرآن پاک میں سے کچھ نہیں وہ ویران گھر کے مانند ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3338]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3349] »
اس حدیث کی سند قابوس کی وجہ سے حسن ہے۔ حوالہ دیکھئے: [ترمذي 2914] ، [أحمد 223/1] ، [طبراني 109/12، 12619] ، [ابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 284] ، [السهمي فى تاريخ جرجان من طريق الدارمي، ص: 412] ، [البغوي فى شرح السنة 1185] ، [الحاكم فى المستدرك 554/1] و [البيهقي فى شعب الإيمان 3349]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3339 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ حَازِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مسْلَمَةَ ، أَبُو سِنَانٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ شَيْئًا أَصْفَرَ مِنْ خَيْرٍ، مِنْ بَيْتٍ لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَإِنَّ الْقَلْبَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا سَاكِنَ لَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا دسترخوان ہے، جتنا ہو سکے اس کو لے لو، میرے علم میں کوئی گھر اتنا محتاج نہیں جس میں الله کی کتاب کا کچھ حصہ نہ ہو، بیشک وہ دل جس میں کتاب اللہ میں سے کچھ نہ ہو وہ ویران ہے اس گھر کی ویرانی کی طرح جس میں کوئی رہتا نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3339]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن أبا سنان سعيد بن سنان متأخر السماع من أبي إسحاق وهو موقوف على ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 3350] »
یہ اثر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ اس کے رجال ثقات ہیں۔ مذکور بالا حدیث اس کے آخری حصے کی تائید ہوتی ہے۔ اس اثر کو دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10071] ، [عبدالرزاق 5998] ، [طبراني 138/9، 8642] میں۔ نیز دیکھئے: اگلی حدیث۔
الحكم: رجاله ثقات غير أن أبا سنان سعيد بن سنان متأخر السماع من أبي إسحاق وهو موقوف على ابن مسعود
حدیث نمبر: 3340 سنن دارمی
أَبُو عَامِرٍ قَبِيصَةُ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "تَعَلَّمُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ بِتِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ بِ (الم) ، وَلَكِنْ بِأَلِفٍ، وَلَامٍ، وَمِيمٍ، بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس قرآن کریم کو سیکھو، تم کو اس کی تلاوت کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا اجر دیا جائے گا، میں نہیں کہتا «الم» (ایک حرف ہے) بلکہ «الف لام ميم» تین حروف ہیں اور ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3340]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف، [مكتبه الشامله نمبر: 3351] »
یہ اثر موقوف علی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہے۔ اور ابوالاحوس کا نام عوف بن مالک ہے۔ بعض رواۃ نے اس کو مرفوعاً بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2912، وقال: هذا حديث حسن صحيح] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9981، 10071] ، [عبدالرزاق 5993] ، [البخاري فى الكبير 216/1] ، [الطبراني 139/9، 8648، 8649] و [ابن الضريس فى فضائل القرآن 60]
الحكم: إسناده صحيح وهو موقوف
حدیث نمبر: 3341 سنن دارمی
مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ الْحَنَفِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ الْحَنَفِيُّ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: "إِنَّ الْبَيْتَ لَيَتَّسِعُ عَلَى أَهْلِهِ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَهْجُرُهُ الشَّيَاطِينُ، وَيَكْثُرُ خَيْرُهُ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِ الْقُرْآنُ، وَإِنَّ الْبَيْتَ لَيَضِيقُ عَلَى أَهْلِهِ وَتَهْجُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ، وَيَقِلُّ خَيْرُهُ، أَنْ لَا يُقْرَأَ فِيهِ الْقُرْآنُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حفص بن غیاث حنفی نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: بیشک گھر میں اگر قرآن پاک پڑھا جائے تو وہ اس گھر والوں کے لئے کشادہ ہو جاتا ہے (رحمت کے) فرشتے وہاں حاضر ہوتے ہیں، اور شیطان اس گھر کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں، اور اس میں خیر کی کثرت ہوتی ہے، اور جس گھر میں قرآن کریم نہ پڑھا جائے وہ اپنے رہنے والوں کے لئے تنگ ہو جاتا ہے، فرشتے اسے چھوڑ جاتے ہیں اور شیطان آ کر اس میں بس جاتے ہیں اور اس میں خیر کی قلت ہوتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3341]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 3352] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ بھی موقوف على سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10076] ، [فضائل القرآن لابن الضريس 185]
الحكم: إسناده صحيح وهو موقوف على أبي هريرة
حدیث نمبر: 3342 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، مَا احْتَرَقَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عقبہ بن عامر کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: قرآن پاک اگر چمڑے پر لکھا جائے، پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ جلے گا نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3342]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، [مكتبه الشامله نمبر: 3353] »
ابن لہیعہ کی وجہ سے اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن بہت سے طرق سے مروی ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن للفريابي 2] ، [شرح مشكل الآثار للطحاوي 906] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 303] ، [أحمد 151/4] ، [أبويعلی 1745] ، [طبراني 308/17، 850] ، [شعب الايمان للبيهقي 2699، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 3337 سے 3342)
قرآن کریم الله کا کلام اور آسمانی صحیفہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پڑھنے والے کو ہر ہر حرف پر دس دس نیکیاں ثواب میں ملتی ہیں، آگے بھی قرآن پاک کے فضائل مذکور ہیں، اس حدیث کی سند گرچہ ضعیف ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس طرح کے کرشمے کبھی کبھی دنیا میں دکھا دیتا ہے، چند سال قبل سعودیہ کا ایک ہوائی جہاز حادثے کا شکار ہوا، اس کے پائلٹ کے کپڑے اور جسم جل گیا لیکن جیب میں رکھا ہوا قرآن پاک کا نسخہ جلنے سے محفوظ رہا، اخبارات نے جلی حرفوں میں اللہ تعالیٰ کی اس نشانی کا ذکر کیا۔
«سبحان من يخلق و يحفظ.» امام طحاوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب ہے جلنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کے حروف مٹا دیتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 3343 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ نِعْمَ الشَّفِيعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، إِنَّهُ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبِّ، حَلِّهِ حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ، فَيُحَلَّى حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، اكْسُهُ كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ، فَيُكْسَى كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، أَلْبِسْهُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، ارْضَ عَنْهُ، فَلَيْسَ بَعْدَ رِضَاكَ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قرآن پڑھو، وہ قیامت کے دن بہت اچھا شفیع ہو گا، وہ قیامت کے دن کہے گا: اے میرے رب! اس (قاری قرآن) کو کرامت کا زیور پہنا دے، چنانچہ اس کو عزت و کرامت کے زیور سے آراستہ کر دیا جائے گا، تو پھر وہ کہے گا: اے رب! اس کو کرامت کا لباس بھی پہنا دے، چنانچہ اس شخص کو کرامت کا لباس پہنا دیا جائے گا، پھر وہ سفارش کرے گا: اے رب! اس کو کرامت کا تاج بھی پہنا دے، اے رب! اس سے راضی ہو جا، تیری رضا مندی کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3343]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم وهو: ابن أبي النجود، [مكتبه الشامله نمبر: 3354] »
عاصم بن ابی النجود کی وجہ سے اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیگر اسانید سے یہ مرفوعاً بھی روایت ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2916، مرفوعًا وقال: هذا حديث حسن صحيح] ، [الحاكم 552/1] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 1996، 1997] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10096] ، [فضائل القرآن لابي عبيد، ص: 83] و [فضائل القرآن لابن الضريس 101، 109] ۔ نیز امام ترمذی نے فرمایا: «شعبه عن عاصم بن بهدله عن أبى صالح عن أبى هريرة موقوفًا وهذا أصح من حديث عبدالصمد عن شعبه»
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم وهو: ابن أبي النجود
حدیث نمبر: 3344 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ لِكُلِّ عَامِلٍ عُمَالَةٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَإِنِّي كُنْتُ أَمْنَعُهُ اللَّذَّةَ وَالنَّوْمَ، فَأَكْرِمْهُ، فَيُقَالُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ، فَتُمْلَأُ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، ثُمَّ يُقَالُ: ابْسُطْ شِمَالَكَ، فَتُمْلَأُ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، وَيُكْسَى كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ، وَيُحَلَّى بِحِلْيَةِ الْكَرَامَةِ، وَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: قیامت کے دن قرآن کریم آئے گا اور اپنے پڑھنے والے کے لئے شفاعت کرتے ہوئے کہے گا: اے رب! ہر مزدور کے لئے اس کے کام کی مزدوری ہے، اور میں اس کو لذت رسانی سے اور سونے سے روکتا تھا، تو اس کی عزت افزائی فرما، کہا جائے گا: اپنا داہنا ہاتھ دراز کرو اور اس کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے بھر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: بایاں ہاتھ پھیلاؤ اس کو بھی الله تعالیٰ کی رضا سے بھر دیا جائے گا، اور اس کو عزت و کرامت کا لباس پہنایا جائے گا، کرامت کے زیور سے وہ آراستہ کیا جائے گا اور اس (کے سر) پر کرامت کا تاج رکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3344]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم، [مكتبه الشامله نمبر: 3355] »
اس اثر کی سند عاصم کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10098، 10099] ، [ابن منصور 22] ، [فضائل القرآن لابن الضريس 102] ، موقوفاً علی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما۔
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم
حدیث نمبر: 3345 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِي صَالِحٍ
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: "الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ، فَيُكْسَى حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ زِدْهُ، فَيُكْسَى تَاجَ الْكَرَامَةِ، قَالَ: فَيَقُولُ: رَبِّ زِدْهُ، فَآتِهِ، وَآتِهِ... قَالَ: يَقُولُ: رِضَائِي". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: قَالَ وُهَيْبُ بْنُ الْوَرْدِ: اجْعَلْ قِرَاءَتَكَ الْقُرْآنَ عِلْمًا، وَلَا تَجْعَلْهُ عَمَلًا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوصالح نے کہا: قرآن کریم اپنے پڑھنے والے کے لئے سفارش کرے گا تو اس (قاری) کو کرامت کی پوشاک پہنائی جائے گی، قرآن عرض کرے گا: اے رب! اور اضافہ فرما، چنانچہ کرامت کا تاج پہنایا جائے گا، کہا پھر وہ کہے گا: اے رب! اور مزید عطاء فرما، اس کو اور نواز دے، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رضامندی عطا کرے گا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: وہیب بن الورد نے کہا: قرآن کی قرأت کو علم بناؤ (صرف) عمل نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3345]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد وهو موقوف على أبي صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 3356] »
اس اثر کی سند جید اور موقوف علی ابی صالح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10097] ، [فضائل القرآن لابن ضريس 102]
الحكم: إسناده جيد وهو موقوف على أبي صالح
حدیث نمبر: 3346 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، إِبْرَاهِيمُ الْفَزَارِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ، خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ وہ جب اپنے گھر آئے تو تین نہایت فربہ حاملہ اونٹنیاں کھٹری پائے؟ عرض کیا: بے شک یا رسول اللہ! (ہم میں سے ہر کوئی اس کو پسند کرتا ہے)، فرمایا: پس تین آیات جن کو انسان پڑھتا ہے ان تین (موٹی حاملہ) اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3346]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3357] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 802] ، [ابن ماجه 3782] ، [أحمد 266/2، 396] ، [ابن أبى شيبه 10122] ، [فضائل القرآن للفريابي 70] ، [شرح السنة للبغوي 1177] ، [شعب الايمان 2242، وغيرهم] ۔ مسلم اور ابن ماجہ میں تین آیات نماز میں پڑھنے کا ذکر ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3342 سے 3346)
سبحان اللہ! کیا فضیلت ہے قرآن پڑھنے کی، صرف تین آیات اور اتنا بڑا ثواب، تین اونٹنیاں وہ بھی حاملہ اور موٹی تازی جن کی اس زمانے میں بڑی قیمت تھی، افسوس ہم اتنا بھی نہیں کر پاتے، اور یہ مثال تو دنیا کے لوگوں کی فہمائش کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمائی ورنہ آیاتِ قرآنیہ تو آخرت کی بہت عمدہ نعمتوں میں سے ہیں اور بارگاهِ عالی میں درجات بلند کرانے والی ہیں۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 3347 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْهَجَرِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ، فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ حَبْلُ اللَّهِ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ اتَّبَعَهُ، لَا يَزِيغُ فَيَسْتَعْتِبُ، وَلَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ، فَاتْلُوهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَأْجُرُكُمْ عَلَى تِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ (الم) وَلَكِنْ بِأَلِفٍ، وَلَامٍ، وَمِيمٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، اس کے دسترخوان سے جتنا ہو سکے علم حاصل کرو، بیشک یہ قرآن کریم اللہ کی رسی، نور، شفا اورنفع بخش ہے، جو اس کو تھامے اس کے لئے (گناہوں سے بچنے کا) سبب ہے، اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لئے نجات ہے، اس پر چلنے والا گمراہ نہ ہوگا کہ اس کو رضامندی طلب کرنی پڑے، نہ ٹیڑھا ہو گا کہ اس کو سیدھا کرنا پڑے، اور اس کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ہیں، اور بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہ ہو گا، اس کو پڑھو بیشک اس کی تلاوت پر الله تعالیٰ تمہیں اجر و ثواب سے نوازے گا، ہر ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں، میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف لام اور میم (الگ الگ حرف) ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3347]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم الهجري، [مكتبه الشامله نمبر: 3358] »
ابراہیم بن مسلم الہجری کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ بعض رواۃ نے اس کو مرفوعاً بھی روایت کیا ہے۔ اس کا طرف اول (3339) پر گذر چکا ہے۔ مزید حوالے کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 6017] ، [طبراني 139/9، 8646] ، [أبونعيم فى الحلية 130/1] ، [الحاكم فى المستدرك 555/1] ، [أبوعبيد فى فضائل القرآن، ص: 49-50] ، [نسائي فى عمل اليوم 963] و [أبونعيم فى أخبار أصبهاني 278/2] ، [ابن منصور 7] و [البيهقي فى شعب الايمان 1985] ، «كلهم عن طريق ابراهيم الهجري» ۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3346)
اگرچہ اس اثر کی سند ضعیف ہے لیکن قرآن پاک کے وصف میں تمام جملے مبنی برحقیقت ہیں اور ہر جملے کا شاہد قرآن یا حدیث میں موجود ہے: «‏‏‏‏﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا .....﴾ [آل عمران: 103] » اور «﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾ [الإسراء: 82] » نیز «مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ [مسلم: 868] ، اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ [مسلم: 804] وفي رواية: كِتَابُ اللّٰهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ [مسلم 2408] او كما قال عليه الصلاة والسلام» یہ بھی صحیح ہے کہ اس قرآن پاک کے عجائب کبھی ختم ہونے والے نہیں، اس کی واضح مثال یہ ہے کہ چودہ سو سال میں بے شمار تفاسیر لکھی گئیں، ہر مفسر ایک نئی راہ اور مثال بیان کرتا ہے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، پچھلی صرف ایک دہائی میں صرف اردو میں کتنی تفسیر طبع ہوئیں ہیں اس پر غور کیا جائے، اور ہر تفسیر میں نیا اسلوب دیکھنے اور سمجھنے کو ملے گا، اور اسی لئے جب بعض اسلاف سے کہا گیا کہ آپ رات رات بھر بیٹھے قرآن پڑھتے رہتے ہیں سوتے بھی نہیں؟ کہا: کیا کروں، قرآن پڑھتا ہوں تو ایک عجوبہ سے نکل نہیں پاتا کہ دوسرا عجوبہ شروع ہو جاتا ہے۔
سبحان اللہ العظیم! کیا فہمِ قرآن ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم الهجري
حدیث نمبر: 3348 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو حَيَّانَ ، يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فَحَمِدَ، اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي، فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَتَمَسَّكُوا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَخُذُوا بِهِ"فَحَثَّ عَلَيْهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:"وَأَهْلَ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کی پھر فرمایا: اے لوگو! میں بشر (آدمی) ہوں، قریب ہے میرے پروردگار کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) آوے اور میں (اس کی بات) قبول کر لوں، میں تمہارے پاس دو بڑی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، پہلی تو اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت ہے اور نور ہے، پس تم اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رہو، غرض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتاب اللہ کی طرف ابھارا اور رغبت دلائی پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار یہ فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3348]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3359] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2408] ، [أحمد 366/4] ، [ابن حبان 123]
وضاحت
(تشریح حدیث 3347)
یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سن نو ہجری میں حجۃ الوداع سے لوٹتے ہوئے دیرخم کے مقام پر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری وصیت اپنی امّت کے لئے یہی کی کہ ثقلین کو مضبوطی سے تھامنا، اور ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے، جو ان کی عظمتِ شان کی وجہ سے یا ان پر عمل کے لحاظ سے بھاری ہونے کی وجہ سے ثقلین کہے جاتے ہیں، قرآن پاک میں جن و انس کو بھی ثقلین کہا گیا ہے۔
ایک وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی کی، اور اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات، بنوہاشم، بنوعبدالمطلب، اور بعض نے کہا: بنوقصی اور تمام قریش کے لوگ ہیں۔
اسی مسلم کی حدیث میں آخر میں ہے جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اہل بیت کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ عقیل اور آلِ جعفر و آلِ عباس ہیں جن کے لئے صدقہ لینا حرام ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3349 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ هَذَا الصِّرَاطَ مُحْتَضَرٌ، تَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ يُنَادُونَ: يَا عِبَادَ اللَّهِ، هَذَا الطَّرِيقُ، فَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ، فَإِنَّ حَبْلَ اللَّهِ الْقُرْآنُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ راستہ گھیرا ہوا ہے، شیاطین اس کو گھیرے ہوئے ہیں (یعنی گمراہی کے راستے کی طرف بلاتے ہیں) اور وہ پکاریں لگاتے ہیں اے عبداللہ (وفی روایہ اے اللہ کے بندو) یہ ہی صحیح راستہ ہے، سو تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اللہ کی رسی قرآن کریم ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3349]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 3360] »
اس روایت کی سند سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح و موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 1083/3، 519] ، [طبراني 240/9، 9031] ، [ابن ضريس فى فضائل القرآن 74] و [البيهقي فى شعب الايمان 2025]
الحكم: إسناده صحيح إلى عبد الله
حدیث نمبر: 3350 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَبْدَةُ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَتْنَا عَبْدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "إِنَّ قَارِئَ الْقُرْآنِ وَالْمُتَعَلِّمَ تُصَلِّي عَلَيْهِمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَخْتِمُوا السُّورَةَ، فَإِذَا أَقْرَأَ أَحَدُكُمْ السُّورَةَ، فَلْيُؤَخِّرْ مِنْهَا آيَتَيْنِ حَتَّى يَخْتِمَهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ كَيْ مَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى الْقَارِئِ وَالْمُقْرِئِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: بیشک قرآن پڑھنے والے اور قرآن کے متعلم کے لئے فرشتے اس وقت تک دعا کرتے ہیں جب تک کہ وہ سورت ختم کر لیں، اس لئے قرآن پڑھنے اور سیکھنے والے کو چاہیے کہ دو آیتیں باقی رہنے دے اور دن کے آخر میں پڑھے تاکہ پڑھنے اور پڑھانے والے کے لئے فرشتے صبح سے شام تک دعا کرتے رہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3350]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3361] »
عبدۃ: خالد بن معدان کی بیٹی ہیں، لیکن ان کا ترجمہ کہیں نہیں ملا، باقی رجال ثقہ ہیں، اور یہ اثر خالد بن معدان پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10128] اور [كنز العمال 2400] میں اس اثر کو حکیم الترمذی کی طرف منسوب کیا ہے۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 3351 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَرِيزٌ ، شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزٌ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يُعَذِّبَ قَلْبًا وَعَى الْقُرْآنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامہ الباہلي رضی اللہ عنہ کہتے تھے: قرآن پڑھا کرو، یہ لٹکے ہوئے مصاحف تمہیں دھوکے میں نہ ڈالیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس دل کو ہرگز عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جس میں قرآن سمایا ہو (یعنی جس نے قرآن حفظ کیا ہو)۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3351]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3362] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10128] و [البخاري فى خلق أفعال العباد، ص: 87]
وضاحت
(تشریح احادیث 3348 سے 3351)
معلوم ہوا قرآن یا قران پاک کی آیات و صور لٹکانے سے چنداں فائدہ نہ ہوگا، جس طرح لوگ آیت الکرسی، سورۂ الرحمٰن، سورۂ یس وغیرہ لٹکاتے ہیں یا معوذات کے فریم لگاتے ہیں، اصل چیز قرآن پڑھنا اور اس کو سمجھنا ہے، یہی انسان کو دنیا و آخرت میں فائدہ دے گا، ریشم کے جز دانوں میں لپیٹ کر رکھ دینے یا تعویذ بنا کر لٹکانے سے کیا ملے گا؟
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3352 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: ": اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ قَلْبًا وَعَى الْقُرْآنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس اثر کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔ بعض روایات میں «وعاءً للقرآن» ہے۔ یعنی جو دل قرآن کا گھر ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3352]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 3363] »
اس کی تخریج وہی ہے جو اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح
حدیث نمبر: 3353 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، مِسْعَرٌ ، مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "لَيْسَ مِنْ مُؤَدِّبٍ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى أَدَبُهُ، وَإِنَّ أَدَبَ اللَّهِ الْقُرْآنُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر مؤدّب (ادب سکھانے والا) چاہتا ہے کہ اس کے ادب کو اپنایا جائے، اور الله تعالیٰ کا ادب قرآن کریم ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3353]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 3364] »
اس اثر کی سند سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح اور موقوف ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى عبد الله
حدیث نمبر: 3354 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ، يَقُولُ: "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ، فَمَنْ دَخَلَ فِيهِ، فَهُوَ آمِنٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالاحوص نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: بیشک یہ قرآن الله کا دسترخوان ہے، جو اس پر آیا وہ مامون و محفوظ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3354]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3365] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ مذکورہ بالا دونوں اثر رقم (3339) کے اطراف ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3355 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ أَحَبَّ الْقُرْآنَ، فَلْيُبْشِرْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو قرآن سے محبت رکھے اس کے لئے بشارت ہے۔ (یعنی اس کو خوش ہونا چاہیے۔) [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3355]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 3366] »
اس اثر کی سند سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح و موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10129] ، [ابن منصور 12/1، 3]
الحكم: إسناده صحيح إلى عبد الله
حدیث نمبر: 3356 سنن دارمی
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ أَحَبَّ الْقُرْآنَ، فَلْيُبْشِرْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو قرآن سے محبت رکھے اس کے لئے بشارت ہے۔ (یعنی اس کو خوش ہونا چاہیے۔) [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3356]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3367] »
اس کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3357 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: "يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ، فَيَكُونُ لَهُ قَائِدًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَشْهَدُ عَلَيْهِ، وَيَكُونُ لَهُ سَائِقًا إِلَى النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: قیامت کے دن قرآن پاک آئے گا اور اپنے پڑھنے والے کے لئے شفاعت کرے گا، اور اس کی جنت کی طرف رہنمائی کرے گا، اس کے لئے شہادت دے گا اور اس کو جہنم سے ہنکا لے جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3357]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3368] »
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10102] ، [ابن ضريس فى فضائل القرآن 96، 108] و [أبوالفضل الرازي 124] ۔ بعض روایات میں «يكون له سائقًا إلى النار» ہے جس کی تصریح دوسری روایت میں یوں ہے: «ومن جعله خلفه قادہ إلى النار» یعنی جس نے اس کو پسِ پشت ڈالا اس کو یہ قرآن جہنم کی طرف لے جائے گا۔
الحكم: إسناده حسن إلى الشعبي