بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3348 — جو قرآن پڑھے اس کی فضیلت کا بیان
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل جو قرآن پڑھے اس کی فضیلت کا بیان حدیث 3348
حدیث نمبر: 3348 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو حَيَّانَ ، يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فَحَمِدَ، اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي، فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَتَمَسَّكُوا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَخُذُوا بِهِ"فَحَثَّ عَلَيْهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:"وَأَهْلَ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کی پھر فرمایا: اے لوگو! میں بشر (آدمی) ہوں، قریب ہے میرے پروردگار کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) آوے اور میں (اس کی بات) قبول کر لوں، میں تمہارے پاس دو بڑی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، پہلی تو اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت ہے اور نور ہے، پس تم اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رہو، غرض آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتاب اللہ کی طرف ابھارا اور رغبت دلائی پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار یہ فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3348]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3359] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2408] ، [أحمد 366/4] ، [ابن حبان 123]
وضاحت
(تشریح حدیث 3347)
یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سن نو ہجری میں حجۃ الوداع سے لوٹتے ہوئے دیرخم کے مقام پر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری وصیت اپنی امّت کے لئے یہی کی کہ ثقلین کو مضبوطی سے تھامنا، اور ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے، جو ان کی عظمتِ شان کی وجہ سے یا ان پر عمل کے لحاظ سے بھاری ہونے کی وجہ سے ثقلین کہے جاتے ہیں، قرآن پاک میں جن و انس کو بھی ثقلین کہا گیا ہے۔
ایک وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی کی، اور اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات، بنوہاشم، بنوعبدالمطلب، اور بعض نے کہا: بنوقصی اور تمام قریش کے لوگ ہیں۔
اسی مسلم کی حدیث میں آخر میں ہے جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اہل بیت کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ عقیل اور آلِ جعفر و آلِ عباس ہیں جن کے لئے صدقہ لینا حرام ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3347) باب پر واپس اگلی حدیث (3349) →