عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ نِعْمَ الشَّفِيعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، إِنَّهُ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبِّ، حَلِّهِ حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ، فَيُحَلَّى حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، اكْسُهُ كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ، فَيُكْسَى كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، أَلْبِسْهُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، يَا رَبِّ، ارْضَ عَنْهُ، فَلَيْسَ بَعْدَ رِضَاكَ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قرآن پڑھو، وہ قیامت کے دن بہت اچھا شفیع ہو گا، وہ قیامت کے دن کہے گا: اے میرے رب! اس (قاری قرآن) کو کرامت کا زیور پہنا دے، چنانچہ اس کو عزت و کرامت کے زیور سے آراستہ کر دیا جائے گا، تو پھر وہ کہے گا: اے رب! اس کو کرامت کا لباس بھی پہنا دے، چنانچہ اس شخص کو کرامت کا لباس پہنا دیا جائے گا، پھر وہ سفارش کرے گا: اے رب! اس کو کرامت کا تاج بھی پہنا دے، اے رب! اس سے راضی ہو جا، تیری رضا مندی کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3343]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم وهو: ابن أبي النجود، [مكتبه الشامله نمبر: 3354] »
عاصم بن ابی النجود کی وجہ سے اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیگر اسانید سے یہ مرفوعاً بھی روایت ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2916، مرفوعًا وقال: هذا حديث حسن صحيح] ، [الحاكم 552/1] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 1996، 1997] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10096] ، [فضائل القرآن لابي عبيد، ص: 83] و [فضائل القرآن لابن الضريس 101، 109] ۔ نیز امام ترمذی نے فرمایا: «شعبه عن عاصم بن بهدله عن أبى صالح عن أبى هريرة موقوفًا وهذا أصح من حديث عبدالصمد عن شعبه»
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم وهو: ابن أبي النجود