بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ”ہم مشرکین سے مدد نہیں لیتے“ کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ”ہم مشرکین سے مدد نہیں لیتے“ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2532 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَار ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَار، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرک سے مدد نہیں لیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2532]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2538] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1817] ، [أبوداؤد 2732] ، [ترمذي 1558] ، [ابن ماجه 2832] ، [ابن حبان 4726]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2533 سنن دارمی
إِسْحَاق ، رَوْحٍ ، مَالِكٍ ، فُضَيْلٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ: الْخَطْمِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ فُضَيْلٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ: الْخَطْمِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَطْوَلُ مِنْهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے ہی اس سیاق میں مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2533]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2539] »
اس روایت کی تخریج پہلے گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2531 سے 2533)
اس حدیث کے مطابق مشرک سے جہاد میں مدد لینا درست نہیں۔
مسلم شریف میں ہے کہ ایک مشرک نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مد نہیں چاہتا۔
جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی، لیکن بعض علماء کے نزدیک مشرکین سے مدد لینا بوقتِ ضرورت جائز ہے۔
سیر کی کتابوں میں ہے کہ جنگِ احد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمان نامی مشرک سے مدد لی، اور اس نے جھنڈا اٹھانے والے تین مشرکوں کو تہہ تیغ کیا، اور خیبر و حنین میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غیر مسلمین و منافقین سے مدد لی، اس لئے وقتِ ضرورت ان سے مدد لینا جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح