بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2533 — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ”ہم مشرکین سے مدد نہیں لیتے“ کا بیان
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ”ہم مشرکین سے مدد نہیں لیتے“ کا بیان حدیث 2533
حدیث نمبر: 2533 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق ، رَوْحٍ ، مَالِكٍ ، فُضَيْلٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ: الْخَطْمِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ فُضَيْلٍ هُوَ: ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ: الْخَطْمِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَطْوَلُ مِنْهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے ہی اس سیاق میں مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2533]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2539] »
اس روایت کی تخریج پہلے گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2531 سے 2533)
اس حدیث کے مطابق مشرک سے جہاد میں مدد لینا درست نہیں۔
مسلم شریف میں ہے کہ ایک مشرک نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مد نہیں چاہتا۔
جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی، لیکن بعض علماء کے نزدیک مشرکین سے مدد لینا بوقتِ ضرورت جائز ہے۔
سیر کی کتابوں میں ہے کہ جنگِ احد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمان نامی مشرک سے مدد لی، اور اس نے جھنڈا اٹھانے والے تین مشرکوں کو تہہ تیغ کیا، اور خیبر و حنین میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غیر مسلمین و منافقین سے مدد لی، اس لئے وقتِ ضرورت ان سے مدد لینا جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2532) باب پر واپس اگلی حدیث (2534) →