بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرابت داروں کو صدقہ دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل قرابت داروں کو صدقہ دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1717 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: وہ صدقہ جو بغض و عداوت رکھنے والے رشتے دار پر کیا گیا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1721] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 4815]
وضاحت
(تشریح حدیث 1716)
یعنی وہ عزیز و رشتے دار جو اپنے پہلو میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا ہو اس کو صدقہ دینا سب سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1718 سنن دارمی
أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ ، ابْنُ عَوْنٍ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، ذَكَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ، صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسکین کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتے دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1722] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2355] ، [ترمذي 658] ، [نسائي 2581] ، [ابن ماجه 1844] ، [ابن حبان 3344] ، [الحميدي 844] ، [موارد الظمآن 833]
وضاحت
(تشریح حدیث 1717)
یعنی فقیر و محتاج کو صدقہ دینے پر صدقے کا ثواب ہے لیکن عزیز و رشتے دار کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے، اجرِ قرابت داری اور اجرِ صدقہ۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1719 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الثَّوْرِيِّ ، عَاصِمٍ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ، قَالَ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامرضبی رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے کہا: مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ کرنا دو چیز ہیں صدقہ اور صلہ (رحمی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1723] »
اس روایت کی تخریج پیچھے گذر چکی ہے اور یہ سند بھی جید ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1718)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عزیز و رشتے داروں پر صدقہ کرنا دُہرے ثواب کا موجب ہے اور ایسا کرنے والا ڈبل ثواب کا مستحق ہے۔
لہٰذا اپنے عزیز و اقارب کا دھیان رکھنا چاہئے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرنی چاہئے۔
الحكم: إسناده جيد