مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الثَّوْرِيِّ ، عَاصِمٍ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ، قَالَ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمان بن عامرضبی رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے کہا: مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ کرنا دو چیز ہیں صدقہ اور صلہ (رحمی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1723] »
اس روایت کی تخریج پیچھے گذر چکی ہے اور یہ سند بھی جید ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1718)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ عزیز و رشتے داروں پر صدقہ کرنا دُہرے ثواب کا موجب ہے اور ایسا کرنے والا ڈبل ثواب کا مستحق ہے۔
لہٰذا اپنے عزیز و اقارب کا دھیان رکھنا چاہئے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرنی چاہئے۔
الحكم: إسناده جيد