بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حائضہ ذکر کرے لیکن قرآن نہ پڑھے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حائضہ ذکر کرے لیکن قرآن نہ پڑھے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1025 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ يَذْكُرَانِ اللَّهَ، وَيُسَمِّيَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جنبی اور حائض الله کا ذکر کریں گے اور بسم اللہ پڑھیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1029] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1305]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1026 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أنهما قَالَا: "لَا يَقْرَأْ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ آيَةً تَامَّةً، يَقْرَآنِ الْحَرْفَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان ثوری نے کہا: امام ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ وہ دونوں فرماتے تھے: جنبی اور حائض پوری آیت نہیں پڑھ سکتے، حرف اور جملہ پڑھ سکتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1030] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 102/1]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1027 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ: "الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ لَا يَقْرَآنِ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنبی اور حائضہ قرآن نہیں پڑھیں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل شريك، [مكتبه الشامله نمبر: 1031] »
شریک کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبى شيبه 102/1 -103]
الحكم: إسناده حسن من أجل شريك
حدیث نمبر: 1028 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَهُ أَوْ "يَنْهَى أَنْ يَقْرَأَ الْجُنُبُ"، قَالَ شُعْبَةُ:"وَجَدْتُ فِي الْكِتَابِ وَالْحَائِضُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنبی کے قرآن پڑھنے کو مکروہ سمجھتے یا اس سے منع کرتے تھے۔ شعبہ نے کہا: میں نے کتاب میں یہ بھی دیکھا کہ حائضہ کے بارے میں بھی ایسا ہی کہتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1032] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 102/1، 103] ، [عبدالرزاق 1307] ۔ ابوالولید: الطیالسی ہیں اور الحکم: ابن عتیبہ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1029 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "أَرْبَعَةٌ لَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ: عِنْدَ الْخَلَاءِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَالْجُنُبُ، وَالْحَائِضُ، إِلَّا الْآيَةَ وَنَحْوَهَا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: چار (شخص) قرآن نہیں پڑھیں گے، جو شخص پائخانے میں ہو، اور جو حمام میں ہو، جو جنبی ہو اور حائضہ ہو، ہاں حائضہ اور جنبی آیت یا جملہ پڑھ سکتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1033] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 114/1] ۔ اس میں حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1030 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَحَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالُوا: "الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ يَسْتَفْتِحُونَ الْآيَةَ وَلَا يُتِمُّونَ آخِرَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ نے کہا: حائضہ عورت اور جنابت والے مرد و عورت آیت کا شروع حصہ پڑھ سکتے ہیں، آخر تک پوری آیت نہیں پڑھیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 1034] »
حجاج بن ارطاۃ کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 102/1]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أرطاة
حدیث نمبر: 1031 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، فِي الْحَائِضِ , قَالَ: "لَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالعالیہ سے حائضہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ قرآن نہیں پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1035] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 103/1] ۔ عاصم: ابن سلیمان اور ابوالعالیہ: رفيع بن مہران ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1032 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ "تَرْقِي أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ عَارِكٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عبیداللہ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا پر حیض کی حالت میں دم کرتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1036] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1033 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: "الْجُنُبُ يَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ جنبی الله تعالیٰ کا نام لے سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1037] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1302] ۔ مسلم: ابن ابراہیم اور ہشام: ابن عبداللہ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1034 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "لَا يَقْرَأُ الْجُنُبُ، وَلَا الْحَائِضُ، وَلَا يُقْرَأُ فِي الْحَمَّامِ، وَحَالَانِ لَا يَذْكُرُ الْعَبْدُ فِيهِمَا اللَّهَ: عِنْدَ الْخَلَاءِ، وَعِنْدَ الْجِمَاعِ، إِلَّا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ، بَدَأَ فَسَمَّى اللَّهَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابووائل (شقیق بن سلمہ) نے کہا: یہ کہا جاتا تھا کہ جنبی اور حائض قرآن نہیں پڑھ سکتے ہیں، نہ بیت الخلاء میں پڑھ سکتے ہیں، اور دو حالتیں ایسی ہیں جن میں بندہ اللہ کا ذکر بھی نہیں کر سکتا ہے، پائخانہ کرتے وقت اور جماع کرتے وقت، ہاں جب بیوی کے پاس جائے، کام شروع کرنے سے پہلے الله کا نام لے لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1038] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 102/1] ۔ مختصراً سيار: ابن ابی سیار ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1035 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ: تَقْرَأُ؟، قَالَ: "لَا، إِلَّا طَرَفَ الْآيَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے حائضہ عورت کے بارے میں مروی ہے: کیا وہ قرآن پڑھ سکتی ہے؟ فرمایا: نہیں، صرف شروع یا آخر کا جملہ پڑھ سکتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1039] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت (1010) میں گذر چکی ہے۔ یعلی: ابن عبید اور عبدالملک: ابن ابی سلیمان ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1036 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي عَطَّافٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَطَّافٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "أَرْبَعٌ لَا يَحْرُمْنَ عَلَى جُنُبٍ وَلَا حَائِضٍ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ"، سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَبْد اللَّهِ: يَقْرَأُ الْجُنُبُ آيَةً آيَةً؟، قَالَ: لَا يُعْجِبُنِي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار کلمے جنبی اور حائض پر بھی حرام نہیں: «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله الا الله، والله اكبر» ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1040] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ یہ روایت کہیں اور نہیں ملی۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1024 سے 1036)
جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا درست نہیں کیونکہ اس کا وقت زیادہ دیر کا نہیں، البتہ ذکرِ الٰہی کر سکتے ہیں جیسا کہ سیدنا ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر حال میں ذکر کرتے تھے، اور حائضہ قرآن پڑھ سکتی ہے جیسا کہ گذر چکا ہے۔
دیکھئے: توضیح اثر رقم (1011)۔
الحكم: إسناده جيد