بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 816 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، شَرِيكٌ ، أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا فِي كُلِّ شَهْرٍ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ انْقِضَائِهَا، اغْتَسَلَتْ، وَصَلَّتْ، وَصَامَتْ، وَتَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عدی بن ثابت سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: مستحاضہ ہر مہینے کے ایام حیض میں نماز چھوڑ دے، اور مدت ختم ہونے پر غسل کرے اور نماز پڑھے، روزہ رکھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 820] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن اس معنی کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 297] ، [ترمذي 126، 127] ، [ابن ماجه 625] ، [شرح معاني الآثار 102/1] و [بيهقي 347/1]
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 817 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، كَثِيرٍ ، وَحَفْصٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، وَحَفْصٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ الَّتِي تَعْرِفُ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا إِذَا طُلِّقَتْ فَيَطُولُ بِهَا الدَّمُ: "فَإِنَّهَا تَعْتَدُّ قَدْرَ أَقْرَائِهَا ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَفِي الصَّلَاةِ إِذَا جَاءَ وَقْتُ الْحَيْضِ فِي كُلِّ شَهْرٍ، أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس مستحاضہ عورت کے بارے میں مروی ہے جس کو اپنے ایام ماہواری کا علم ہو، جب اسے طلاق ہو جائے اور خون جاری رہے تو انہیں ایام کے مطابق تین حیض کی مدت گزارے گی۔ اور اس کی نماز کے بارے میں ان سے مروی ہے کہ ہر مہینے میں اس کے جو حیض کے دن ہوتے ہیں ان میں وہ نماز نہیں پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 821] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 18714] و [مصنف عبدالرزاق 345/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 818 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ:"امْرَأَةٌ كَانَ حَيْضُهَا مَعْلُومًا، فَزَادَتْ عَلَيْهِ خَمْسَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟، قَالَ: تُصَلِّي، قُلْتُ: يَوْمَيْنِ؟، قَالَ: ذَاكَ مِنْ حَيْضِهَا"، وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ، قَالَ: "النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
معتمر (بن سلیمان) سے مروی ہے ان کے والد نے قتادہ سے پوچھا: وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہوں، اور پانچ چار یا تین دن مزید خون جاری رہے تو وہ کیا کرے گی؟ فرمایا: نماز پڑھے گی، سلیمان نے کہا: اگر دو دن خون جاری رہے؟ فرمایا: یہ حیض کا ہی خون ہے۔ انہوں نے کہا: اور میں نے امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عورتیں اس بات کو بہتر جانتی ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 822] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 538/2، 8864] ، [أبوداؤد 286] ، [المحلي 203/2] و [التمهيد 75/16]
وضاحت
(تشریح احادیث 800 سے 818)
مقصد یہ کہ حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق ہوتا ہے اور عورت اس میں تمیز کرسکتی ہے کہ کب حیض کا خون ختم ہوا، اس لئے جب حیض کا خون ہو تو نماز ترک کر دے، ورنہ غسل اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ حیض کے ایام کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں، لہٰذا دو ایک دن بڑھ جائیں اور خون حیض کا ہی ہو تو اس پر حیض کے احکام جاری ہوں گے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 819 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ أَيَّامَ طُهْرِهَا، قَالَ: "أَرَى أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے: وہ عورت جس کو ایام طہر میں خون آ جائے، میری رائے میں وہ غسل کرے اور نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 823] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 94/1] ۔ نیز آگے (890) میں بھی یہ روایت آرہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 820 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ؟، قَالَ: "تَنْتَظِرُ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ، فَلْتُحَرِّمْ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، وَلْتُصَلِّ حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَانُهَا الَّذِي تَحِيضُ فِيهِ، فَلْتُحَرِّمْ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، فَإِنَّمَا ذَاكَ مِنْ الشَّيْطَانِ يُرِيدُ أَنْ يُكْفِرَ إِحْدَاهُنَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شہر بن حوشب سے مروی ہے: مستحاضہ عورت کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ماہواری کے ایام کے بقدر انتظار کر کے نماز چھوڑے گی، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، یہاں تک کہ اس کے حیض کے ایام آ جائیں، تو پھر نماز ترک کر دے پھر غسل کرے، یہ خون کا جاری رہنا شیطان کی طرف سے ہے، وہ چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی عورت نماز ترک کر کے کفر میں مبتلا ہو جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل شهر بن حوشب، [مكتبه الشامله نمبر: 824] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 6370] واثر رقم (815)۔
الحكم: إسناده حسن من أجل شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 821 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِي كُرْسُفًا، وَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجعفر محمد بن علی نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: حیض کے ایام میں وہ نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر کے روئی کا پھایا لگائے گی اور ہر نماز کے وقت وضو کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 821]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 825] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور ایسی ہی روایت (818) میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 822 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، فِرَاسٍ ، الشَّعْبِيِّ ، قَمِيرَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مستحاضہ ایام ماہواری میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی)، پھر ایک غسل کرے گی اور ہر نماز کے لئے وضو کرے گی (یعنی نہانا ضروری نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 822]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 826] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور اثر رقم (815) میں تخریج گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 823 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، خَالِدٌ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اسْتُحِيضَتْ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ أَنَسٍ فَأَمَرُونِي، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: "أَمَّا مَا رَأَتْ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
انس بن سیرین نے کہا: آل انس میں سے ایک عورت کو استحاضہ کی بیماری لگی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب وہ بہت زیادہ سرخ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب دن کی کسی گھٹری میں طہر دیکھے تو غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی۔ (یعنی تھوڑی سی دیر کو ہی حیض رک جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے گی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 823]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 827] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 286] ، [ابن أبى شيبة 128/1] ، [سنن البيهقي 340/1] و [المحلی لابن حزم 167/3]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 824 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرُونِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ، فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
انس بن سیرین نے کہا: انس بن مالک کی لونڈی (ام ولد) مستحاضہ ہوئیں تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فتویٰ پوچھوں، لہٰذا میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب بہت زیادہ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی محسوس کرے تو غسل کر کے نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 824]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 828] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 825 سنن دارمی
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ الضَّحَّاكِ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: "إِذَا رَأَيْتِ دَمًا عَبِيطًا، فَأَمْسِكِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ضحاک سے مروی ہے ایک عورت نے ان سے پوچھا: مجھے استحاضہ کی بیماری ہے، تو انہوں نے کہا: جب تازہ خون دیکھو تو حیض کے ایام میں تم نماز سے رکی رہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 825]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن نصير، [مكتبه الشامله نمبر: 829] »
یہ روایت حجاج بن نصیر کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسے صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن نصير
حدیث نمبر: 826 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَذَلِكَ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے کہا: مستحاضہ مدت حیض میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی اور پاک ہو کر) ظہر عصر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے اول وقت میں نماز پڑھے گی اور فجر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور وہ نہ روزہ رکھے گی نہ شوہر کے ساتھ صحبت کرے گی اور نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 826]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 830] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1172] و [المحلي 214/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 818 سے 826)
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 827 سنن دارمی
الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَغُسْلًا لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ"، وَكَانَ يَقُولُ:"تُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ ظہر و عصر کے لئے ایک بار غسل کرے گی اور ایک بار مغرب و عشاء کے لئے، نیز وہ فرماتے تھے کہ ظہر کو مؤخر کر کے عصر جلدی پڑھے گی، اور مغرب کو مؤخر کر کے عشاء جلدی پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 827]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 831] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 208/1، 286] ، [ابن أبى شيبه 127/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 828 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا خَلَفَتْ قُرُوءُهَا: "فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ تَوَضَّأَتْ وُضُوءًا سَابِغًا ثُمَّ لِتَأْخُذْ ثَوْبًا، فَلْتَسْتَثْفِرْ بِهِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُصَلِّي الصُّبْحَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب اس کا حیض کا خون گڑ بڑ ہو جائے تو عصر کے وقت اگر یہ گڑ بڑی ہو تو وضو کر کے کپڑا لے کر روئی سے باندھ لے، پھر ظہر و عصر ملا کر پڑھ لے، اور اسی طرح کرتی رہے، پھر مغرب عشاء ملا کر پڑھے، اور ایسا ہی کرتی رہے، پھر صبح کی نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 828]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى مجاهد، [مكتبه الشامله نمبر: 832] »
مجاہد تک اس روایت کی سند صحیح ہے، اور صرف امام دارمی نے اس قول کو روایت کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 826 سے 828)
«قروء» «قرء» کی جمع ہے «اقراء» بھی «قرء» کی جمع ہے، اہلِ حجاز میں «قرء» (طہر) پاکی کے ایام کے لئے بولا جاتا ہے اور اہلِ عراق کے نزدیک ایامِ حیض کے لئے بولا جاتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى مجاهد
حدیث نمبر: 829 سنن دارمی
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسَعِيدٍ، وَعِكْرِمَةَ، قَالُوا: فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ لِصَلَاةِ الْأُولَى وَالْعَصْرِ، فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء، سعید، عکرمہ رحمہم اللہ مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ پہلی نماز (ظہر) اور عصر کے لئے روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور مغرب عشاء کے لئے ایک بار غسل کر کے دونوں نماز پڑھے گی اور صبح کی نماز کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 829]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 833] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1171] و [المحلي لابن حزم 214/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 830 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ تَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا اغْتَسَلَتْ وَجَمَعَتْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن شداد نے کہا: زائد حیض والی عورت غسل کرے گی، پھر ظہر عصر ایک ساتھ ملا کر پڑھے گی، اگر کوئی چیز دیکھے تو پھر غسل کرے گی اور مغرب عشاء ملا کر پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 830]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 834] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 296]
وضاحت
(تشریح احادیث 828 سے 830)
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہیں، 5 یا 6 یا 7 دن، اس کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
کچھ روایات میں صرف ایک بار شروع میں غسل کر لے، اور جب تک بھی یہ عارضہ ہے، صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھے گی، روزہ بھی رکھ سکتی ہے، اور شوہر کے لئے حلال ہوگی۔
بعض روایات میں ہے کہ دن میں ایک بار غسل کر لے۔
بعض روایات میں ہے ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لئے ایک غسل اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح