بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 796 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَيْضِ؟، قَالَ: "خُذِي مَاءَكِ وَسِدْرَكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَأَنْقِي، ثُمَّ صُبِّي عَلَى رَأْسِكِ حَتَّى تَبْلُغِي شُؤُونَ الرَّأْسِ، ثُمَّ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً"، قَالَتْ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَسْمَعُ، فَمَا أَنْكَرَ عَلَيْهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیری کے پتوں کا پانی لو، خون کے مقام کو اچھی طرح صاف کرو، پھر سر پر پانی ڈالو تا آنکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے (اس طرح غسل کرو)، پھر مشک لگا ہوا ایک روئی کا پھایا لے کر لگالو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیسے پھایا لگاؤں؟ آپ خاموش رہے، انہوں نے پھر عرض کیا: پھایا کیسے لگاؤں؟ پھر آپ خاموش رہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سرگوشی کی کہ روئی کا پھایا مشک لگا ہوا لے کر خون کے مقام پر لگا لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سن لیا اور اس کا انکار نہیں کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 796]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 800] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 314] ، [مسلم 332] ، [أبوداؤد 315] ، [ابن ماجه 642] ، [مسند أبى يعلی 4733] ، [صحيح ابن حبان 1199] ، [مسند الحميدي 167]
وضاحت
(تشریح حدیث 795)
اس حدیث سے دینی معاملات میں شرم نہ کرنے کی تعلیم ملتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شدتِ حيا کا پتہ چلتا ہے، کیوں نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصف ہی پہلی کتابوں میں یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکواس کرنے والے ہیں اور نہ بے حیائی کرنے والے، نہ فحش گو ہیں، بار بار پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف سبحان اللہ کہتے ہیں اور سکوت فرماتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صحابیہ کو اپنی طرف کھینچا اور طریقہ سکھلایا، «صلى اللّٰه على نبينا وقدوتنا محمد بن عبداللّٰه وسلم تسليما كثيرا» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 797 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟، قَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، وَصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مستحاضہ عورت ہوں، خون رکتا نہیں ہے تو کیا میں نماز چھوڑے رکھوں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک رگ کا خون ہے (حیض نہیں) اس لئے جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب مدت حیض ختم ہو جائے تو خون کو دھو ڈالو اور نماز پڑھ لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 797]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 801] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 228] ، [مسلم 333] ، [ترمذي 125] ، [نسائي 357] ، [ابن ماجه 621] ، [مسند أبى يعلی 4486] ، [صحيح ابن حبان 1350] ، [مسند الحميدي 193]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 798 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ وَإِنَّهُ لَمَمْلُوءٌ مَاءً، فَتَنْغَمِسُ فِيهِ، ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ، وَإِنَّ الدَّمَ فَوْقَهُ لَغَالِبُهُ، فَتُصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جحش کی بیٹی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی بیماری لاحق ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا۔ وہ جب پانی سے بھرے ہوئے (مرکن) ٹب میں بیٹھتیں ڈبکی لگاتیں اور پانی سے نکلتیں تو خون پانی کے اوپر چھا جاتا، پھر وہ نماز پڑھ لیتیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 798]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة محمد بن إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 802] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری اسانید صحیحہ کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، بلکہ متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 327] ، [مسلم 333] ، [أبوداؤد 285] ، [نسائي 203، 204، 205] ، [ابن ماجه 626]
وضاحت
(تشریح احادیث 796 سے 798)
اس حدیث سے بیماری کی حالت میں خون جاری رہے تو ہر نماز کے لئے غسل کرنا اور نماز پڑھنا ثابت ہوا۔
تفصیل آگے آ رہی ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر کسی کو سلسل البول، ریاح یا ہوا یا مذی وغیرہ کی بیماری ہو تو وہ بھی اس مقام پر کپڑا لگا کر نماز کے وقت صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه عنعنة محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 799 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ فُلَانَةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "أَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلْفَجْرِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: النَّاسُ يَقُولُونَ: سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: سُهَيْلَةُ بِنْتُ سَهْلٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ فلاں عورت ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر نماز کے لئے غسل کا حکم دیا تھا، اور جب ہر نماز کے وقت نہانا ان کے لئے مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ظہر عصر ملا کر ایک غسل سے پڑھ لیں، اور مغرب و عشاء ایک غسل سے، اور فجر کے لئے علاحدہ غسل کریں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: وہ خاتون لوگ کہتے ہیں سہلہ بنت سہیل تھیں، اور یزید بن ہارون نے کہا وہ سہیلہ بنت سہل تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 799]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 803] »
اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے متابع اور شاہد موجود ہیں، لہٰذا متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 295] و [نسائي 213] ، آگے (812) میں بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن إسحاق
حدیث نمبر: 800 سنن دارمی
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا؟، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: "فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ، وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ غُسْلًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مرض استحاضہ میں مبتلا ہوئیں تو انہیں حکم دیا گیا۔۔۔ شعبہ نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا؟ عبدالرحمٰن نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان نہیں کر رہا ہوں، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کی نماز میں تاخیر کر کے عصر جلدی پڑھ لیں، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک غسل کر لیں، (اس طرح) مغرب میں تاخیر کر کے عشاء جلدی پڑھ لیں، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک غسل کریں، اور نماز فجر کے لئے ایک بار غسل علاحدہ کریں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 800]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 804] »
اس کی تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 798 سے 800)
اسلاف کرام کے اقوال و افعال میں گزر چکا ہے کہ وہ کسی بات کو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن بن قاسم کا بھی اس امر کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب نہ کرنا غالباً اسی قبیل سے ہے، اوپر حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں صراحت سے مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 801 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِحِيضَةٍ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، قَالَتْ: وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج بھی حدیث نمبر (797) میں گزر چکی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 801]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 805] »
مزید حوالے کے لئے دیکھئے: [مسند أحمد 83/6] ، [مسند أبى 4405] ، نیز حديث رقم (808)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 802 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟، قَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ هِشَامٌ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: تَغْتَسِلُ غُسْلَ الْأَوَّلِ ثُمَّ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِنَّهَا تَطَّهَّرُ وَتُصَلِّي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فاطمہ بنت ابی حبیش نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایسی عورت ہوں کہ استحاضہ کے خون میں مبتلا رہتی ہوں، تو کیا ایسی حالت میں نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض کا خون نہیں، لہٰذا جب ایام حیض شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو، اور جب حیض کی مدت پوری ہو جائے تو خون دھو کر وضو کرو، اور نماز پڑھ لو۔ ہشام نے کہا: میرے والد (عروة) فرماتے تھے: حیض کی مدت پوری ہونے پر عورت پہلا غسل کرے گی اور اس کے بعد صفائی کر کے نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 802]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 806] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج رقم (۸۰۱) میں گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 803 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، رَجُلًا ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بِهَا الَّذِي كَانَ، وَقَدْرَهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ، فَتَتْرُكْ الصَّلَاةَ لِذَلِكَ، فَإِذَا خَلَفَتْ ذَلِكَ، وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلْتَغْتَسِلْ، وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے: ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں خون بہتا رہتا تھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس بیماری سے پہلے ہر ماہ جتنے رات و دن انہیں حیض آتا تھا اس کو شمار کر لیں، اور اتنے دن نماز ترک کر دیں، پھر جب اتنے دن گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کریں، فرج پر روئی کا پھایا رکھیں، پھر نماز پڑھ لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 803]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه جهالة ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 807] »
اس روایت کی سند میں ایک راوی مجہول ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 6894]
الحكم: إسناده فيه جهالة ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 804 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَنِي الدَّمُ، قَالَ: "اغْتَسِلِي وَصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خون مجھ پر غالب آ گیا ہے (یعنی رکتا نہیں ہے)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غسل کرو اور نماز پڑھ لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 804]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 808] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 141/6] ، نیز پچھلی حدیث (804)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 805 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ، وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ، فَقَالَ لَهَا: "إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِالْحِيضَةِ، إِنَّمَا هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ صَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ، ثُمَّ تُصَلِّي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرة بنت عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، انہیں سات سال سے استحاضہ کی شکایت تھی، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا اور فتویٰ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ ایک رگ ہے، پس تم غسل کرو اور نماز پڑھو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چنانچہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں اور نماز پڑھ لیتیں، اور ٹب میں بیٹھ جاتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر (غسل کے بعد) وہ نماز پڑھ لیتیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 805]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 809] »
یہ روایت صحیح ہے، اور (805) پر اس کی تخریج ملاحظہ کیجئے۔ نیز مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [مسند أبى يعلي 4410] ، [صحيح ابن حبان 1351] ، [ مسند أبى عوانه 320/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 806 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ كَانَتْ لَتَنْغَمِسُ فِي الْمِرْكَنِ، وَإِنَّهُ لَمَمْلُوءٌ مَاءً، ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ، وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبهِ فَتُصَلِّي"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں استحاضہ کی بیماری لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے غسل کریں، چنانچہ وہ پانی سے بھرے ٹب میں غوطہ لگاتیں، پھر اس سے نکلتیں تو خون پانی کے اوپر آ جاتا، پھر وہ نماز پڑھتیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 806]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده عنعنة ابن إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 810] »
اس روایت کی سند میں کچھ کلام ہے، اور اس معنی کی حدیث (802، 805) میں تخریج گزر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [مسند أحمد 237/6]
الحكم: في إسناده عنعنة ابن إسحاق
حدیث نمبر: 807 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، الزُّهْرِيِّ ، الْقَاسِمِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ:"أَنَّهَا كَانَتْ بَادِيَةَ بِنْتَ غَيْلَانَ الثَّقَفِيَّةَ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم نے کہا: جس خاتون کو استحاضہ کی بیماری ہوئی وہ بادیہ بنت غيلان الثقفیہ تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 807]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 811] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 808 سنن دارمی
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَن عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَمَرَهَا"بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، أَمَرَ"أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بیشک وہ خاتون سہلہ بنت سہل بن عمرو ہی تھیں جنہیں استحاضہ کی شکایت ہوئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا تھا، اور جب یہ ان کے لئے مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر و عصر ایک غسل سے پڑھ لیا کریں اور مغرب و عشاء ایک غسل سے، اور صبح کی نماز کے لئے غسل کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 808]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف غير أن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 812] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے، کیونکہ دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 295] ، [شرح معاني الآثار 101/1] ۔ نیز دیکھئے رقم (803)۔
الحكم: إسناده ضعيف غير أن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 809 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:"إِنَّمَا جَاءَ اخْتِلَافُهُمْ أَنَّهُنَّ ثَلَاثَتَهُنَّ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ بَادِيَةُ , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعد بن ابراہیم نے کہا: ان خاتون کے نام میں اختلاف اس لئے رونما ہوا کہ تینوں عورتیں (جنہیں یہ شکایت ہوئی) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اس لئے کسی نے کہا وہ ام حبیبہ تھیں، کسی نے کہا بادیہ تھیں اور کسی نے کہا کہ وہ سہلہ بنت سہیل تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 809]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 813] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [اسد الغابة 34/7، 154] و [الإصابة 112، 115] اور سابقہ تخریج (803)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 810 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَعْقَاعَ بْنَ حَكِيمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدًا عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي: "إِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قعقاع بن حکیم نے سعید (ابن المسيب) سے مستحاضہ کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: بھتیجے! اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا؟ جب حیض کے دن ہوں تو مستحاضہ نماز چھوڑ دے اور جب اس کی مدت ختم ہو جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 810]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى سعيد، [مكتبه الشامله نمبر: 814] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 1352] ، لیکن اس میں ہے کہ پہلے غسل کے بعد وضو کر کے نماز پڑھے گی۔ نیز دیکھئے: [البيهقي 330/1]
الحكم: إسناده صحيح إلى سعيد
حدیث نمبر: 811 سنن دارمی
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ، ثُمَّ تُصَلِّي"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ؟ قَالَ:"وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ مِثْلَ هَذَا الْمَثْعَبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ حیض کے دنوں میں نماز ترک کرے گی، پھر غسل کر کے روئی کا پھایا لگائے گی، پھر نماز پڑھے گی، کسی نے پوچھا: اگر خون بہتا ہی رہے تو؟ فرمایا: چاہے اس پر نالے ہی کی طرح کیوں نہ بہتا رہے۔ یعنی مقام مخصوص پر روئی بھر کر نماز پڑھے چاہے جتنا خون نکلے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 811]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 815] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحلی لابن حزم 252/1] ۔ نیز آگے بھی یہ روایت آرہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 812 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: "مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ قَوْلًا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، ثُمَّ رَخَّصَ بَعْدُ: أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَدْخُلُ الْكَعْبَةَ وَأَنَا حَائِضٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتِ تَثُجِّينَهُ ثَجًّا، اسْتَدْخِلِي، ثُمَّ اسْتَثْفِرِي، ثُمَّ ادْخُلِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمار بن ابی عمار نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں سب سے زیادہ سخت موقف رکھتے تھے، لیکن پھر نرمی اختیار کر لی، ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور دریافت کیا کہ میں مستحاضہ ہوں، کعبہ میں داخل ہو سکتی ہوں؟ فرمایا: ہاں، چاہے کتنا ہی خون بہتا ہو تم کعبہ میں داخل ہو سکتی ہو، اچھی طرح روئی باندھو اور اندر چلی جاؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 812]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 816] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور ان الفاظ میں یہ روایت نہیں مل سکی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول حدیث کے مطابق ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 813 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، مُعْتَمِرٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٍ ، قَمِيرَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُهَا عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَتْ: "تَنْتَظِرُ أَقْرَاءَهَا الَّتِي كَانَتْ تَتْرُكُ فِيهَا الصَّلَاةَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا الَّذِي كَانَتْ تَطْهُرُ فِيهِ، اغْتَسَلَتْ، ثُمَّ تَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَصَلَّتْ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قمیر (بنت عمران زوجہ مسروق) نے کہا: میں نے مستحاضہ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ (حیض کے) جن دنوں میں (اس سے پہلے) نماز چھوڑ دیا کرتی تھی، اتنے میں انتظار کرے (یعنی نماز چھوڑ دے)، اور جب (طہر) پاکی کا دن آئے جس میں وہ پاک ہوتی تھیں، تو غسل کر لے پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے اور نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 813]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، [مكتبه الشامله نمبر: 817] »
یہ روایت مجالد بن سعید کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے بھی ایسا ہی مروی ہے، اس لئے یہ اثر صحیح ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 105/1] ، [ابن أبى شيبه 1351] ، [مصنف عبدالرزاق 1170] ، [البيهقي 346/1] و [أبوداؤد 210/1 بعدحديث 300]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 814 سنن دارمی
مُوسَى بْنُ خَالِدٍ ، مُعْتَمِرٍ ، إِسْمَاعِيل ، رَجُلٍ ، أَبِي جَعْفَرٍ
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ رَجُلٍ مِنْ حَيِّهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجعفر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا قول روایت کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 814]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 818] »
اس سند میں رجل مجہول ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 1349] ۔ نیز (825) میں بھی یہ روایت آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه جهالة
حدیث نمبر: 815 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِسْمَاعِيل ، عَامِرٍ ، قَمِيرَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَنْتَظِرُ أَيَّامَهَا الَّتِي كَانَتْ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ فِيهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا الَّذِي كَانَتْ تَطْهُرُ فِيهِ، اغْتَسَلَتْ ثُمَّ تَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَصَلَّتْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قمیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔۔۔ اس حدیث کا ترجمہ (813) میں گزر چکا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 815]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 819] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 300] وحديث رقم (817) و (836)۔
الحكم: إسناده صحيح