حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟، قَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ هِشَامٌ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: تَغْتَسِلُ غُسْلَ الْأَوَّلِ ثُمَّ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِنَّهَا تَطَّهَّرُ وَتُصَلِّي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فاطمہ بنت ابی حبیش نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایسی عورت ہوں کہ استحاضہ کے خون میں مبتلا رہتی ہوں، تو کیا ایسی حالت میں نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض کا خون نہیں، لہٰذا جب ایام حیض شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو، اور جب حیض کی مدت پوری ہو جائے تو خون دھو کر وضو کرو، اور نماز پڑھ لو۔“ ہشام نے کہا: میرے والد (عروة) فرماتے تھے: حیض کی مدت پوری ہونے پر عورت پہلا غسل کرے گی اور اس کے بعد صفائی کر کے نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 802]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 806] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج رقم (۸۰۱) میں گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح