أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَذَلِكَ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے کہا: مستحاضہ مدت حیض میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی اور پاک ہو کر) ظہر عصر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے اول وقت میں نماز پڑھے گی اور فجر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور وہ نہ روزہ رکھے گی نہ شوہر کے ساتھ صحبت کرے گی اور نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 826]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 830] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1172] و [المحلي 214/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 818 سے 826)
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح