بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حدیث کی عدم کتابت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ حدیث کی عدم کتابت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 36
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 464 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ، فَلْيَمْحُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھو، اور کسی نے مجھ سے قرآن کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا ہے اسے مٹا دے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 464]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 464] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أبى يعلی 1288] ، [صحيح ابن حبان 64] ، [تقييد العلم ص: 31-32] ۔ نیز دیکھئے: [فتح الباري 208/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 460 سے 464)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: صحابہ و تابعین کی ایک جماعت نے حدیث لکھنے کو ناپسند کیا اور یہ اچھا سمجھا تھا کہ جس طرح انہوں نے حدیث یاد کی وہ بھی حدیث حفظ کر لیں۔
اور کتابتِ حدیث سے ابتدائے امر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، اور یہ اس لئے کہ قرآن و حدیث خلط ملط نہ ہو جائے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث لکھنے کی اجازت دیدی تھی، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما وغیرہ لکھا کرتے تھے جیسا کہ اگلے باب میں آرہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 465 سنن دارمی
أَبُو مَعْمَرٍ ، سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُمْ اسْتَأْذَنُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَكْتُبُوا عَنْهُ"فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کتابت حدیث کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 465]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 465] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2667] ، [الالماع للقاضي ص: 148] ، [المحدث الفاصل 362] ، [الجامع للخطيب 461] ، [تقييد العلم ص: 32] و [جامع بيان العلم 335] یہ حکم شروع اسلام میں تھا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 466 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "يَا شِبَاكُ، أَرُدُّ عَلَيْكَ، يَعْنِي: الْحَدِيثَ؟ مَا أَرَدْتُ أَنْ يُرَدَّ عَلَيَّ حَدِيثٌ قَطُّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: اے شباک! کیا تمہارے لئے کوئی حدیث لوٹائی گئی ہے؟ میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے بھی کوئی حدیث دوبارہ لوٹائی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 466]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 466] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1981] ، [الجامع 461] ، لیکن اس میں ہے: «يقول يا شباك أرد عليك؟ ما قلت لأحد قط رد على (باب) إعاده المحدث الحديث حال الرواية ليحفظ» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 467 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، أَبَا بَكْرٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: جَاءَ الزُّهْرِيُّ بِحَدِيثٍ فَلَقِيتُهُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ، قَالَ: "وَتَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ؟، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا كُنْتَ تَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: وَلَا تَكْتُبُ؟، قَالَ: لَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ کو کہتے سنا کہ ابن شہاب زہری ایک حدیث کے کر آئے، میں نے ان سے راستے میں ملاقات کی اور لگام تھام لی، پھر عرض کیا: اے ابوبکر! مجھے وہی حدیث دوبارہ سنایئے جو آپ بیان کر چکے ہیں، فرمایا: کیا دوبارہ سننا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: آپ دوبارہ نہیں سنتے تھے؟ فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا: اور لکھتے بھی نہیں تھے؟ فرمایا: نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 467]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 467] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1381] ، [المحدث الفاصل 782] و [الجامع 461]
وضاحت
(تشریح احادیث 464 سے 467)
اس سے ان کی قوّتِ حافظہ، توجہ اور چاہت ثابت ہوتی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 468 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ:"كَانَ قَتَادَةُ يَكْرَهُ الْكِتَابَةَ، فَإِذَا سَمِعَ وَقْعَ الْكِتَابِ، أَنْكَرَهُ وَالْتَمَسَهُ بِيَدِهِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: قتادہ حدیث لکھنا ناپسند کرتے تھے، اور جب معلوم ہوتا کہ لکھا جا چکا ہے تو ناپسند کرتے اور اپنے ہاتھ سے مٹا دیتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 468]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 468] »
محمد بن کثیر کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ نیز امام اوزاعی رحمہ اللہ سے کتابتِ حدیث کی اباحت بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 340]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء
حدیث نمبر: 469 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: "كَانَ الْأَوْزَاعِيُّ يَكْرَهُهُ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالمغيرہ (حجاج بن عبدالقدوس) نے خبر دی کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اس کو مکروہ سمجھتے تھے (یعنی حدیث کی کتابت)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 469]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 469] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں دوسری جگہ نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 470 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ"أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ يَكْرَهُ الْكِتَابَ"، يَعْنِي: الْعِلْمَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور سے مروی ہے کہ امام ابراہیم نخعی علم کی کتابت مکروہ سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 470]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 470] »
اس کی سند صحیح ہے، اور امام ابراہیم نخعی نے ایسا فرمایا ہے۔ دیکھئے: [العلم 160]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 471 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا كِتَابًا، لَاتَّخَذْتُ رَسَائِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مجھے کتاب بنانی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطوط کی کتاب بناتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 471]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 471] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 48] و [المحدث الفاصل 366، 368]
حدیث نمبر: 472 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: "رَأَيْتُ حَمَّادًا يَكْتُبُ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَنْهَكَ؟، قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَطْرَافٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون سے مروی ہے کہ میں نے حماد کو امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے پاس لکھتے دیکھا تو امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: کیا میں نے تم کو لکھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ حماد نے جواب دیا کہ بس اطراف لکھے ہیں (یعنی اشارے لکھے ہیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 472]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 472] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6481] ، [العلم 126، 135، 161] ، [جامع بيان العلم 400] ، [حلية الأولياء 225/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 473 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ لِي عَبِيدَةُ: "لَا تُخَلِّدَنَّ عَلَيَّ كِتَابًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے کہ عبیدہ نے مجھ سے کہا: میری طرف سے کوئی کتاب نہ بنانا۔ (یعنی کچھ لکھنا نہیں کہ کتاب بن جائے اور باقی رہے۔) [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 473]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 473] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6494، 6502] ، [جامع بيان العلم 362] و [تقييد العلم ص: 46]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 474 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: "مَا كَتَبْتُ عَنْ مُحَمَّدٍ إِلَّا حَدِيثَ الْأَعْمَاقِ، فَلَمَّا حَفِظْتُهُ، مَحَوْتُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن حسان نے کہا: میں نے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے صرف حدیث الأعماق لکھی تھی، پھر جب یاد کر لی تو اسے مٹا دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 474]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 474] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 373]
وضاحت
(تشریح احادیث 467 سے 474)
حدیث الأعماق سے مراد غالباً امام مسلم کی یہ حدیث ہے: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ.» دیکھئے: [صحيح مسلم 2897] ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 475 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: "مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان بن محمد نے کہا: میں نے سنا: سعید بن عبدالعزیز فرماتے تھے: میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 475]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 475] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 367]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 476 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "مَا كَتَبْتُ شَيْئًا قَطُّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم (بن یزید) نے فرمایا: میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 476]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 476] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 367]
حدیث نمبر: 477 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبِيدَةَ قِطْعَةَ جِلْدٍ أَكْتُبُ فِيهِ، فَقَالَ:"يَا إِبْرَاهِيمُ، لَا تُخَلِّدَنَّ عَنِّي كِتَابًا"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے کہا: میں نے عبیده (ابن عمر السلمانی) سے چمڑے کا ٹکڑا طلب کیا تاکہ اس میں لکھ لوں تو انہوں نے کہا: اے ابراہیم! مجھ سے کوئی کتاب باقی نہ رکھنا (یعنی لکھی ہوئی چیز باقی نہ رکھنا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 477]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 477] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ تخریج کے لئے اثر قم (473) ملاحظہ کیجئے۔
حدیث نمبر: 478 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، مِثْلَهُ..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے عبیدہ سے مذکورہ بالا الفاظ بیان کئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 478]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 478] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 63/6] ۔ نیز مذکورہ بالا اثر ملاحظہ کیجئے۔
حدیث نمبر: 479 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: "أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْتَبَ الْحَدِيثُ فِي الْكَرَارِيسِ، وَيَقُولُ: يُشَبَّهُ بِالْمَصَاحِفِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم کاپیوں میں حدیث لکھنا ناپسند کرتے تھے، اور فرماتے تھے: یہ مصحف کے مانند ہو جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 479]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 479] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6360] ، [جامع بيان العلم 365] و [تقييد العلم ص: 48] ، اس سند میں ابوعوانہ کا نام وضاح بن عبداللہ اور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے۔
حدیث نمبر: 480 سنن دارمی
قَالَ يَحْيَى: وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ زِيَادٍ الْكَاتِبِ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ،"فَاكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں دیکھا کہ زیاد الکاتب نے لکھا: ابومعشر سے مروی ہے جس طرح چاہو لکھو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 480]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله في الحديث الشريف " الحديث في الكراريس " إسناده جيد وإلى نهاية الحديث الشريف " كيف شئت " إسناده صحيح وهو وجادة، [مكتبه الشامله نمبر: 480] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور طرق تحمل حدیث میں یہ «وجادة» کی قسم سے ہے، «و انفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إلى قوله في الحديث الشريف " الحديث في الكراريس " إسناده جيد وإلى نهاية الحديث الشريف " كيف شئت " إسناده صحيح وهو وجادة
حدیث نمبر: 481 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، سُفْيَانَ ، نُعْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَبِيدَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُعْمَانَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عَبِيدَةَ دَعَا بِكُتُبِهِ فَمَحَاهَا عِنْدَ الْمَوْتِ، وَقَالَ: "إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَلِيَهَا قَوْمٌ، فَلَا يَضَعُونَهَا مَوَاضِعَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نعمان بن قیس سے مروی ہے کہ عبیدہ بن عمرو نے وفات سے پہلے اپنی کتابیں منگائیں اور انہیں مٹا دیا، نیز فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کچھ لوگ انہیں پائیں اور انہیں ان کے مناسب مقام پر نہ رکھیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 481]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 481] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6353] ، [طبقات ابن سعد 63/6] ، [العلم لأبي خيثمه 112] ، [تقييد العلم ص: 61، 62] و [جامع بيان العلم 363، 364]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 482 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَزَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ،"أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُكْتَبَ الْعِلْمُ فِي الْكَرَارِيسِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کاپیوں میں علم کی باتیں لکھنے کو ناپسند فرمایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 482]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 482] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن کچھ اسلاف سے بسند صحیح کتابت کی کراہت ثابت ہے۔ یہ اثر دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6359] و [تقييد العلم ص: 47]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 483 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: "مَا زَالَ هَذَا الْعِلْمُ عَزِيزًا يَتَلَاقَاهُ الرِّجَالُ حَتَّى وَقَعَ فِي الصُّحُفِ، فَحَمَلَهُ، أَوْ دَخَلَ فِيهِ غَيْرُ أَهْلِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم جب تک لوگوں سے زبانی حاصل کیا جاتا رہا تو قوی تھا تا آنکہ مصحف میں لکھا جانے لگا، تو پھر نااہل لوگوں نے اسے اٹھانا یا اس میں داخل ہونا شروع کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 483]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 483] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 64] و [جامع بيان العلم 371]
الحكم: إسناده صحيح