بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حدیث کی عدم کتابت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ حدیث کی عدم کتابت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 36
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 484 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: "كَانَ الْحَسَنُ يَكْتُبُ وَيُكْتِبُ، وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس بن عبید نے کہا: امام حسن بصری رحمہ اللہ لکھتے لکھاتے تھے اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نہ لکھتے اور نہ لکھاتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 484]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 484] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 387، 390]
حدیث نمبر: 485 سنن دارمی
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ عِنْدَ نَاسٍ كِتَابًا يُعْجَبُونَ بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى أَتَوْهُ بِهِ، فَمَحَاهُ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ: أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا عَلَى كُتُبِ عُلَمَائِهِمْ، وَتَرَكُوا كِتَابَ رَبِّهِمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم تیمی نے کہا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر لگی کہ کچھ لوگوں کے پاس کتاب ہے جس پر وہ فخر کرتے ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے مٹا دیا اور پھر فرمایا: تم سے پہلے اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے علماء کی کتابوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور رب کی کتاب کو ترک کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 485]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 485] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 56] و [جامع بيان العلم 319 نحوه]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 486 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، لِعَبِيدَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبِيدَةَ: "أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ كِتَابًا أَقْرَؤُهُ؟، قَالَ: لَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے عبیدہ (بن عمرو السلمانی) سے کہا: میں آپ سے جو سنتا ہوں اسے لکھ لوں؟ فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اگر لکھا ہوا مل جائے تو اسے پڑھ لوں؟ فرمایا: نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 486]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 486] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 45] ، [جامع بيان العلم 360] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6356] ، [العلم لأبي خيثمه 150]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 487 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا تُكْتِبُنَا، فَإِنَّا لَا نَحْفَظُ؟، فَقَالَ: "لَا، إِنَّا لَنْ نُكْتِبَكُمْ، وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا، وَلَكِنْ احْفَظُوا عَنَّا كَمَا حَفِظْنَا نَحْنُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرہ نے کہا: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں لکھائیں گے نہیں؟ ہم حفظ نہیں کر سکتے، انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم تمہیں ہرگز نہیں لکھائیں گے اور اس لکھے ہوئے کو قرآن نہیں بننے دیں گے، ہاں ہم سے احادیث یاد کر لو جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 487]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 487] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابونضرة کا نام منذر بن مالک ہے۔ حوالہ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 37] ، [جامع بيان العلم 338، 340] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6491] ، [المحدث الفاصل 363]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 488 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، أَبَا كَثِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَا يَكْتُبُ، وَلَا يُكْتِبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: میں نے ابوکثیر کو کہتے سنا، کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ابوہریرہ نہ لکھتے ہیں اور نہ لکھاتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 488]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير الصنعاني ولكنه لم ينفرد به بل تابعه عليه المعافى بن عمران وهو ثقة فيصح الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 488] »
اس روایت کی سند محمد بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن المعافیٰ بن عمران سے بھی اسی طرح مروی ہے جو ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 42] ، [العلم 140] ، [جامع بيان العلم 357]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير الصنعاني ولكنه لم ينفرد به بل تابعه عليه المعافى بن عمران وهو ثقة فيصح الإسناد
حدیث نمبر: 489 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ: "أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ حَدِيثَ أَبِيهِ، فَرَآهُ أَبُو مُوسَى، فَمَحَاهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبردہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے والد کی حدیث لکھا لیا کرتے تھے، ابوموسیٰ نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو اس کو مٹا دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 489]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لجهالة أبي موسى، [مكتبه الشامله نمبر: 489] »
اس اثر کی سند ابوموسیٰ کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن [المحدث الفاصل 369] و [تقييد العلم ص: 39، 40] میں صحیح سند سے مروی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6495] ، [العلم 153] و [جامع بيان العلم 347]
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبي موسى
حدیث نمبر: 490 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَوْنٍ: "وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قریش بن انس نے بیان کیا کہ ابن عون نے مجھ سے کہا: قسم اللہ کی میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی، اور ابن عون نے کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی فرمایا: نہیں، قسم الله کی میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 490]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله في الحديث الشريف " ما كتبت حديث قط " أسناده فيه قريش بن أنس وقد اختلط وهو من رجال البخاري في صحيحه. وإلى نهاية الحديث الشريف " هؤلاء وما تقول " إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 490] »
اس روایت کی سند میں قریش بن انس کو اختلاط ہوگیا تھا، اور اس اثر کو رامهرمزی نے [المحدث الفاصل 368] میں ذکر کیا ہے۔
الحكم: إلى قوله في الحديث الشريف " ما كتبت حديث قط " أسناده فيه قريش بن أنس وقد اختلط وهو من رجال البخاري في صحيحه. وإلى نهاية الحديث الشريف " هؤلاء وما تقول " إسناده صحيح
حدیث نمبر: 491 سنن دارمی
قَالَ: وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنْ أُكْتِبَهُ شَيْئًا، قَالَ: فَلَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: فَجَعَلَ سِتْرًا بَيْنَ مَجْلِسِهِ وَبَيْنَ بَقِيَّةِ دَارِهِ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ، وَيَتَحَدَّثُونَ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ، فَأَقْبَلَ مَرْوَانُ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ:"إِنَّا أَمَرْنَا رَجُلًا يَقْعُدُ خَلْفَ هَذَا السِّتْرِ، فَيَكْتُبُ مَا تُفْتِي هَؤُلَاءِ وَمَا تَقُولُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون نے کہا: مجھ سے محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مروان بن الحکم نے جو مدینہ کے گورنر تھے، مجھ سے چاہا کہ میں انہیں کچھ لکھاؤں، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ راوی نے کہا: امیر (محترم) نے اپنے اور باقی زنان خانہ (گھر کے لوگوں) کے درمیان پردہ کرا دیا، پھر گورنر (صاحب) کے مصاحب ان کے پاس اس جگہ آئے اور باتیں کرنے لگے، پھر مروان اپنے مصاحبین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرا خیال ہے ہم نے ان کے ساتھ خیانت کی ہے۔ پھر میری (زید بن ثابت کی) طرف متوجہ ہوئے، میں نے کہا: کیسی خیانت؟ کہا: میرے خیال میں ہم نے آپ کی خیانت کی ہے، کہا بات کیا ہے؟ کہا: ہم نے ایک آدمی کو حکم دیا تھا کہ اس پردے کے پیچھے بیٹھ جائے اور جو کچھ یہ لوگ فتویٰ دیں وہ اور جو کچھ آپ کہیں اس کو لکھ لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 491]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 491] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت [مصنف ابن أبى شيبه 6497] ، [جامع بيان العلم 349] میں صحیح سند سے مروی ہے۔ نیز ابن سعد نے [الطبقات 117/2/2] اور طبری نے [المعجم الكبير 4871] میں بھی اسے ذکر کیا ہے لیکن ان کی سند ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 492 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: إِنَّ سَالِمًا أَتَمُّ مِنْكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: "إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَكْتُبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (بن المعتمر) نے کہا: میں نے ابراہیم سے کہا کہ سالم (ابن ابی الجعد) آپ سے زیادہ حدیث میں کامل ہیں، ابراہیم نے کہا: کیونکہ سالم لکھ لیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 492]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 492] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 203/6] ، [المحدث الفاصل 349] ، [تقييد العلم ص: 108-109] و [جامع بيان العلم 385]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 493 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بِحُوَّارَيْنَ حِينَ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُعَزِّيهِ، وَنُهَنِّيهِ بِالْخِلَافَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ فِي مَسْجِدِهَا، يَقُولُ: "أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ، ويُوضَعُ الْأَخْيَارُ، أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْقَوْلُ وَيُخْزَنَ الْعَمَلُ، أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُتْلَى الْمَثْنَاةُ، فَلَا يُوجَدُ مَنْ يُغَيِّرُهَا، قِيلَ لَهُ: وَمَا الْمَثْنَاةُ؟، قَالَ: مَا اسْتُكْتِبَ مِنْ كِتَابٍ غَيْرِ الْقُرْآنِ، فَعَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَبِهِ هُدِيتُمْ، وَبِهِ تُجْزَوْنَ، وَعَنْهُ تُسْأَلُونَ"، فَلَمْ أَدْرِ مَنْ الرَّجُلُ، فَحَدَّثْتُ هذَا الْحَدِيثِ بَعْدَ ذَلِكَ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ: أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن قیس نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر میں اپنے والد کے ساتھ تعزیت اور خلافت کی مبارکباد دینے کے لئے یزید بن معاویہ کے پاس حوارّین گیا، کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی مسجد میں ایک آدمی کہہ رہا ہے: خبردار دیکھو! قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اشرار سر چڑھائے جائیں گے اور اخیار (اچھے لوگ) گرائے جائیں گے، سنو! قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ قول کا اظہار ہو گا اور عمل محفوظ رہے گا۔ سنو! اشراط ساعۃ میں سے ہے کہ مثناة (ثانوی کتاب) پڑھی جائے گی اور کوئی اس میں تغیر کرنے والا نہ ہو گا، عرض کیا گیا: یہ مثناة کیا ہے، فرمایا: قرآن کے علاوہ کسی کتاب لکھنے کی درخواست کرنا، لہٰذا تم قرآن کو ہی تھامے رکھنا، اسی کے ذریعہ تم کو ہدایت ملی ہے، اور اسی کے ذریعہ تم کو اجر ملے گا، اور اس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔ میں نے نہیں پہچانا کہ یہ کون آدمی ہیں؟ پھر میں نے یہ حدیث حمص میں بیان کی تو جماعت کے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ تم انہیں پہچانتے نہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 493]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 493] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [المستدرك 554/4] ، [غريب الحديث لأبي عبيد 282/4]
وضاحت
(تشریح احادیث 474 سے 493)
حوّارین حمص کے قریب ایک گاؤں کا نام ہے جس میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 494 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، حُصَيْنٌ ، مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: جَاءَ أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ بِكِتَابٍ مِنْ الشَّامِ، فَحَمَلَهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَظَرَ فِيهِ، فَدَعَا بِطَسْتٍ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَمَرَسَهُ فِيهِ، وَقَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاتِّبَاعِهِمْ الْكُتُبَ وَتَرْكِهِمْ كِتَابَهُمْ"، قَالَ حُصَيْنٌ: فَقَالَ مُرَّةُ:"أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ مِنْ الْقُرْآنِ، أَوْ السُّنَّةِ لَمْ يَمْحُهُ، وَلَكِنْ كَانَ مِنْ كُتُبِ أَهْلِ الْكِتَابِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مره ہمدانی نے کہا کہ ابوقره کندی شام سے ایک کتاب لے کر آئے اور اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، انہوں نے اس کتاب کو پڑھا اور ایک تھالی منگائی اور پانی طلب کیا اور اس کو رگڑ رگڑ کر دھو دیا اور فرمایا: تم سے پہلے لوگ ان کی دیگر کتاب کے پیچھے لگنے اور اپنی اصلی کتاب ترک کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ حصین سے مروی ہے: مرہ نے کہا: اگر وہ کتاب و سنت میں سے کچھ ہوتا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے نہ مٹاتے، وہ نوشتہ اہل کتاب کی کتب میں سے تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 494]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 494] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اس میں ابوزبید کا نام عبثر بن قاسم ہے اور حصین: ابن عبدالرحمٰن اور مرة: ابن شرحبیل ہیں۔تخریج کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6355] ، [تقييد العلم ص: 53]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 495 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفٍ فِيهِ كِتَابٌ، فَقَالَ: "كَفَى بِقَوْمٍ ضَلَالًا أَنْ يَرْغَبُوا عَمَّا جَاءَ بِهِ نَبِيُّهُمْ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ نَبِيٌّ غَيْرُ نَبِيِّهِمْ، أَوْ كِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِهِمْ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ سورة العنكبوت آية 51.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن جعدہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لکھی ہوئی کندھے کی ہڈی لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی قوم کی گمراہی کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز سے بےرغبتی کریں اور اپنے نبی کو چھوڑ کر کسی اور نبی کی طرف مائل ہوں یا اپنی کتاب کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کی طرف مائل ہوں۔ اور اس کی تائید میں الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ » [عنكبوت: 51/29] کیا انہیں یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو ان پر پڑھی جارہی ہے اس میں رحمت بھی ہے اور نصیحت بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 495]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 495] »
یہ روایت مرسل صحیح ہے۔ دیکھئے: [مراسيل أبى داؤد 454] ، [تفسير ابن جرير 7/21] و [فتح الباري 68/9]
حدیث نمبر: 496 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ ، أَبِيهِ ، عَبْدَ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ مَعَ رَجُلٍ صَحِيفَةً فِيهَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُلْتُ لَهً: أَنْسِخْنِيهَا، فَكَأَنَّهُ بَخِلَ بِهَا، ثُمَّ وَعَدَنِي أَنْ يُعْطِيَنِيهَا، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِذَا هِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "إِنَّ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِدْعَةٌ، وَفِتْنَةٌ، وَضَلَالَةٌ، وَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ هَذَا وَأَشْبَاهُ هَذَا، إِنَّهُمْ كَتَبُوهَا، فَاسْتَلَذَّتْهَا أَلْسِنَتُهُمْ، وَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُهُمْ، فَأَعْزِمُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ يَعْلَمُ بِمَكَانِ كِتَابٍ إِلَّا دَلَّ عَلَيْهِ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَأَقْسَمَ بِاللَّهِ؟، قَالَ: أَحْسَبُهُ أَقْسَمَ: لَوْ أَنَّهَا ذُكِرَتْ لَهُ بِدَيْرٍ الْهِنْدِ نَرَاهُ يَعْنِي مَكَانًا بِالْكُوفَةِ بَعِيدًا، لآَتَيْتُهُ وَلَوْ مَشْيًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اشعث (ابن ابی الشعثاء) نے اپنے والد سے روایت کیا جو کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے کہ میں نے ایک آدمی کے پاس صحیفہ دیکھا جس میں مکتوب تھا: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»، میں نے کہا: مجھے بھی لکھا دو، اس نے گویا بخل سے کام لیا، پھر مجھ سے وعدہ کیا کہ اس صحیفہ کو مجھے دیدے گا، پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو دیکھا وہی صحیفہ ان کے سامنے ہے۔ فرمانے لگے: اس مکتوب میں بدعت، فتنہ اور گمراہی ہے، تم سے پہلے لوگوں کو یہ اور اسی طرح کی چیزوں نے ہلاک کیا، انہوں نے اسے لکھا اور ان کی زبانوں نے اس کا چٹخارہ لیا اور وہی دلوں میں بیٹھ گیا، پس میں ہر آدمی کو تاکید کرتا ہوں کہ کسی بھی کتاب کی وہ جگہ جانتا ہو تو اسے بتا دے اور اسے قسم دیتا ہوں، شعبہ نے کہا: اور انہوں نے قسم کھلائی۔ راوی نے کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے قسم کھا کر بتایا کہ اگر وہ کتاب ہند کے کسی مقام پر جو کوفہ سے دور ہو گی میں وہاں پہنچوں گا چاہے پیدل چل کر ہی جانا پڑے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 496]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 496] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 55] و [مصنف ابن أبى شيبه 6498]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 497 سنن دارمی
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا، فَتَبِعُوهُ وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنی اسرائیل نے ایک کتاب لکھی، انہوں نے اس کی پیروی کی اور توراۃ کو چھوڑ دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 497]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 497] »
اس روایت کی سند تو صحیح ہے لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 56] و [مجمع الزوائد 676، 940]
حدیث نمبر: 498 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَفَّاقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَفَّاقٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "إِنَّ نَاسًا يَسْمَعُونَ كَلَامِي، ثُمَّ يَنْطَلِقُونَ فَيَكْتُبُونَهُ، وَإِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتُبَ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عفان (بن عبداللہ بن مرداس المحاربی) نے اپنے والد (عبدالله) سے روایت کیا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے: بیشک کچھ لوگ میرا کلام سنتے ہیں پھر جا کر اسے لکھتے ہیں اور میں کسی کے لئے حلال نہیں کرتا کہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کے علاوہ کچھ لکھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 498]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 498] »
اس اثر کی سند جید ہے، اور اس معنی کی روایت اثر رقم (494، 496) پرگذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 493 سے 498)
یہ سب اس خوف کی بنا پر تھا کہ کتاب اللہ اور سنّتِ رسول اللہ خلط ملط نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 499 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: "مَا كَتَبْتُ سَوْدَاءَ فِي بَيْضَاءَ، وَلَا اسْتَعَدْتُ حَدِيثًا مِنْ إِنْسَانٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شبرمہ نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میں نے سوداء کو بیضاء میں کبھی نہیں لکھا، اور نہ کبھی کسی انسان سے دوبارہ کوئی حدیث سننے کی درخواست کی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 499]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 499] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 365] ، [العلم 28] ، [تاريخ بغداد 229/12] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1832] ، [جامع بيان العلم 368] و [الحلية 321/4]
وضاحت
(تشریح حدیث 498)
اس سے ان کی قوّتِ حافظ کا پتہ چلتا ہے، ان تمام آثار سے یہ معلوم ہوا کہ اسلاف کرام کتابتِ حدیث سے زیادہ قوّتِ حافظہ کو ترجیح دیتے تھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے [فتح الباري 208/1] میں لکھا ہے، اسلاف کرام نے کہا ہے: صحابہ کرام کی ایک جماعت کچھ بھی لکھنے کو ناپسند کرتی تھی، وہ یہ چاہتے تھے کہ جس طرح انہوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دلوں میں محفوظ رکھا ہے اسی طرح وہ بھی حفظ کریں، لکھیں نہیں، لیکن جب انہوں نے سستی و کاہلی اور طلابِ علم میں پست ہمتی دیکھی تو علمِ نبوّت کے ضائع ہو جانے سے ڈر گئے اور لکھنے کی اجازت دے دی۔
جیسا کہ اگلے باب میں آ رہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح