أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "يَا شِبَاكُ، أَرُدُّ عَلَيْكَ، يَعْنِي: الْحَدِيثَ؟ مَا أَرَدْتُ أَنْ يُرَدَّ عَلَيَّ حَدِيثٌ قَطُّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: اے شباک! کیا تمہارے لئے کوئی حدیث لوٹائی گئی ہے؟ میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے بھی کوئی حدیث دوبارہ لوٹائی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 466]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 466] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1981] ، [الجامع 461] ، لیکن اس میں ہے: «يقول يا شباك أرد عليك؟ ما قلت لأحد قط رد على (باب) إعاده المحدث الحديث حال الرواية ليحفظ» ۔
الحكم: إسناده صحيح