بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2500 — کتنی عمر کا بچہ قتل کیا جا سکتا ہے؟
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل کتنی عمر کا بچہ قتل کیا جا سکتا ہے؟ حدیث 2500
حدیث نمبر: 2500 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قالَ: "عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ، قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ، تُرِكَ"، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ الشَّعْرَ، فَلَمْ يَقْتُلُونِي. يَعْنِي: يَوْمَ قُرَيْظَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطیہ القرظی نے کہا: (جس دن بنی قریظہ کے لوگ مارے گئے) اس دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا تو جس کے بال اگ آئے تھے اس کو قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں نکلے تھے اسے چھوڑ دیا گیا، اور میں بھی ان میں سے تھا جس کے بال نہیں آئے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 2507] »
اس روایت کی سند صحیح على شرط البخاری ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4404] ، [نسائي 3430] ، [ابن ماجه 2541] ، [ابن حبان 4780] ، [الحميدي 912]
وضاحت
(تشریح حدیث 2499)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کو مارنا منع ہے، اور بلوغت کی کئی نشانیاں ہیں: داڑھی، مونچھ اور زیرِ ناف کے بال آنا، احتلام ہونا یا پندرہ سال کی عمر کا ہونا۔
الحكم: إسناده صحيح على شرط البخاري
← پچھلی حدیث (2499) باب پر واپس اگلی حدیث (2501) →