بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2501 — قیدی کو رہائی دلانے کا بیان
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل قیدی کو رہائی دلانے کا بیان حدیث 2501
حدیث نمبر: 2501 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیدی کو چھڑایا کرو، بھوکے کو کھانا کھلایا کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 2508] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3046] ، [أبويعلی 7325] ، [ابن حبان 3324]
وضاحت
(تشریح حدیث 2500)
بخاری شریف میں مزید یہ ہے کہ مریض کی عیادت کرو۔
یہ امور حقوقِ انسانیت اور ایمان و اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں، اور دنیا میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔
مظلوم قیدی کو آزاد کرانا اتنی بڑی نیکی ہے جس کے ثواب کا انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بھوکوں کو کھانا کھلانا وہ عمل ہے جس کی تعریف بہت سی آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ میں ہے، اور عیادتِ مریض حقوقِ مسلم میں مسنون ہے، حقوقِ انساں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ذرا ان تعلیمات پر غور کریں۔
الحكم: إسناده صحيح على شرط البخاري
← پچھلی حدیث (2500) باب پر واپس اگلی حدیث (2502) →