أَبُو نُعَيْمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حسب سابق روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1896] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أحمد 46/6، 139] ، [ابن ابي شيبه 32/4] ، [عبدالرزاق 8961] ، [الحاكم 459/1] ، [البيهقي 145/5]
وضاحت
(تشریح احادیث 1890 سے 1892)
ان احادیث و روایات سے معلوم ہوا کہ طواف، سعی، اور رمی کے دوران ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے، جیسا کہ نماز کے لئے قرآن پاک میں آیا: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: 14] » لہٰذا ان اعمال و ارکانِ حج میں فالتو باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور وقتِ ضرورت بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن