بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1891 — حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ حدیث 1891
حدیث نمبر: 1891 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَاصِمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ". قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: كَانَ يَرْفَعُهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنا الله تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہے۔ ابوعاصم نے کہا: وہ مرفوعاً روایت کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1895] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1888] ، [ترمذي 902، وغيرهما]
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (1890) باب پر واپس اگلی حدیث (1892) →