بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1890 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک آدمی میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وقوف کئے ہوئے تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا، یا کہا: اور اونٹ نے انہیں کچل دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو، انہیں نہ خوشبو لگانا نہ ان کا سر ڈھانکنا، کیونکہ قیامت کے دن الله تعالیٰ انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1894] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1266] ، [مسلم 1206] ، [أبوداؤد 3238] ، [ترمذي 951] ، [نسائي 1903] ، [ابن ماجه 3084] ، [أبويعلی 2337] ، [ابن حبان 3957] ، [الحميدي 471]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1891 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ". قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: كَانَ يَرْفَعُهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنا الله تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہے۔ ابوعاصم نے کہا: وہ مرفوعاً روایت کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1895] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1888] ، [ترمذي 902، وغيرهما]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1892 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حسب سابق روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1896] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أحمد 46/6، 139] ، [ابن ابي شيبه 32/4] ، [عبدالرزاق 8961] ، [الحاكم 459/1] ، [البيهقي 145/5]
وضاحت
(تشریح احادیث 1890 سے 1892)
ان احادیث و روایات سے معلوم ہوا کہ طواف، سعی، اور رمی کے دوران ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے، جیسا کہ نماز کے لئے قرآن پاک میں آیا: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [طه: 14] » لہٰذا ان اعمال و ارکانِ حج میں فالتو باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور وقتِ ضرورت بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن